صدائے اہل سنت: اچھے برے طالبان کی طرح اچھے برے فرقہ پرست کی تقسیم بھی ختم ہونی چاہئیے

10625069_825792994146766_6547061441388373675_n

پارلمینٹ میں فوجی عدالتوں کے قیام اور دھشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ضروری آئینی ترامیم پر مشتمل دو بل پارلمینٹ کے اجلاس میں پیش کردئے گئے ہیں اور امید ہے کہ سوموار کو یہ باقاعدہ منظور ہوجائیں گے اور صدرمملکت کے دستخط سے باقاعدہ قانون بن جائیں گے

اگرچہ پاکستان کے اندر آئین میں ترمیم کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کے قیام پر پاکستان کی سیکولر ،لبرل جماعتوں ماسوائے ایم کیو ایم نے اختلاف کیا لیکن ملٹری قیادت کے زور دینے پر ان جماعتوں نے اپنا اختلاف ختم کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کے قیام سمیت اہم ترامیم کو متعارف کرانے پر اتفاق کرلیا

اس موقعہ دیوبندی مسلک کی نمائندہ سیاسی جماعت جے یو آئی ف کے سربراہ مولوی فضل الرحمان بھی خاصے کھل کر سامنے آئے اور انھوں نے ” فوجی کورٹ ” میں جن ملزموں کے مقدمات جائیں گے کی تعریف ميں لفظ مسلک پر اعتراض کیا اور اس کو نکالنے پر ضدلگالی اور میاں نواز شریف اور ان کی پارٹی جو پہلے ہی دھشت گردوں کی شناخت اور ان کے چہروں کو بے نقاب کرنے سے انکاری تھی اس نے فوری طور پر اس بات پر سرنڈر کردیا اور بل سے سوموار کو لفظ ” مسلک ” نکال دیا جائے گا

سانحہ پشاور کے فوری بعد پارلیمانی جماعتوں کی ایک کانفرنس بلائی گئی تو اس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے دفاع و سیکورٹی ماہر کے امور پر مشتمل ایک ورکنگ کیمٹی سے مدد لیکر 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان دیا جس میں ملٹری کورٹس کے قیام سمیت کئی ایک اقدامات کرنے کی سفارش کی گئی لیکن پھر یوں ہوا کہ کئی ایک جماعتوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کو آئینی ترمیم کے زریعے آئینی تحفظ دینے کی مخالفت کرنی شروع کی اور اس قومی ایکشن پلان میں شہروں اور دیہی علاقوں میں دھشت گردوں کے لاجسٹک سیل کو ختم کرنے کے حوالے مربوط آپریشن کا ارادہ ظاہر کیا گیا جس میں انتہا پسند بیانیہ اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے مدارس کے خلاف کاروائی کا ایجنڈا بھی شامل تھا کو ایک محضوص مکتبہ فکر کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا ہوا اور وفاق المدارس جو دیوبندی مکتبہ فکر کے مدارس کی چھتر تنظیم ہے ، دیوبندی سیاسی جماعت جمعیت العلمائے اسلام ، جماعت اسلامی اور اہل حدیث تنظیم جمعیت اہل حدیث کے سربراہان مولوی فضل الرحمان ، سراج الحق اور پروفیسر ساجد میر نے قومی کانفرنس میں بھی فوجی کورٹس کے قیام کی مخالفت کے دوران بار بار مدارس کے خلاف کوئی اقدام نہ اٹھانے اور کسی مسلک کی سیاسی جماعت پر پابندی نہ لگانے اور مسالک کی نمائندہ سیاسی مذھبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کسی سیاسی کارکن ، دانشور اور صحافی کے خلاف ملٹری کورٹ میں مقدمہ نہ چلانے کی یقین دھانی حاصل کی اور یہ یقین دھانی ٹاپ ملٹری براس اور میاں نواز شریف نے ان کو کرادی

اگر مذھبی دھشت گردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل کے آگے روڑے اٹکانے والے چہروں کو دیکھا جائے تو ان کا تعلق ان مسالک سے ہے جن سے اس وقت مذھبی بنیادوں پر دھشت گردی اور انتہا پسندی کرنے والی تنظیموں کا تعلق ہے اور ان روڑے اٹکانے والوں نے ان تنظیموں کے حوالے سے اور ان کی آئیڈیالوجی کے حوالے سے مداہنت اور مصلحت کا رویہ اختیار کیا ہوا ہے بلکہ فضل الرحمان ، سراج الحق اور ساجد میر کئی مرتبہ یہ کہنے کی جسارت کرچکے ہیں کہ ” نفاذ شریعت ” کے لیے ہتھیار اٹھانے والوں سے ان کا اختلاف نظریاتی نہيں بلکہ سٹریٹجی کا ہے ، راستے مختلف اور مںزل ایک ہے اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں کے ہاں ” نفاز شریعت “سے مراد ایک خاص قسم کی ضابطہ بند آئیڈیالوجی پر اتفاق ہے اور یہ وہ آئیڈیالوجی ہے جو ایک طرف تو اس ملک کی اکثریت سواد اعظم اہل سنت کے عقائد اور شعائر کے خلاف ہے بلکہ یہ اس ملک کی مذھبی اقلیتوں کی آزادی کو سلب کرنے کے مترادف ہے

ہم واضح طور پر سمجھتے ہیں کہ دیوبندی مسلک ، اہل حدیث اور جماعت اسلامی والے ” مذھبی دھشت گردی ” کی شناخت کے سوال پر چھوئی موئی ہوچکے ہیں اور ان کی نام نہاد اعتدال پسند مذھبی سیاسی جماعتوں کا حال یہ ہے کہ ایک طرف تو یہ دھشت گردی کی تمام تر واقعات کی مذمت ” اگر مگر ” کے ساتھ کرتے ہیں تو دوسری طرف یہ اصرار کرتے ہیں کہ دھشت گرد ،دھشت گرد ہوتا ہے اس کا کوئی مسلک نہیں ہوتا اور کوئی فرقہ وارانہ شناخت نہیں ہوتی لیکن دوسری طرف جب ان سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اگر دھشت گردی اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والوں کا کوئی مسلک یا فرقہ نہیں ہوتا تو جو یہ ٹی ٹی پی ، جند اللہ ، جماعت الاحرار ، لشکر جھنگوی وغیرہ کے نام سے دھشت گردی کی زمہ داری قبول کرتی ہیں اور پھر وہ خود کو دیوبندی وہابی کہتی ہیں تو آپ ان کے بارے میں کیوں اعلان نہیں کرتے اور اخـبارات و ميڈیا اور مساجد ميں نماز جمعہ و عیدین میں ان کے دیوبندی ہونے کا دعوی غلط اور ان کے دیوبندی ،اہل حدیث یا جماعتی نہ ہونے کا فتوی جاری کیوں نہیں کرتے اور تکفیری مہم چلانے والی تنظیم اہل سنت والجماعت کے ساتھ ملکر اتحاد کیوں بنایا جارہا ہے ؟

نیشنل ایکشن پلان میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ نام بدل کر کام کرنے والی کالعدم تںظیموں کے خلاف کاروائی کی جائے گی اور چوہدری نثار علی وفاقی وزیر داخلہ نے تین جنوری 2015ء بروز ہفتہ اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس وقت ملک ميں 60 کے قریب کالعدم تنظیمیں ایسی ہیں جو نام بدل کر کام کررہی ہیں اور وفاقی وزیر داخلہ یہاں یہ بتانا بھول گئے کہ سپاہ صحابہ نے ملت اسلامیہ نام پر پابندی لگنے کے بعد اہل سنت والجماعت کے نام سے کام شروع کیا اور اس پر بھی روزنامہ ڈان کے مطابق فروری 2012ء میں پابندی لگادی گئی لیکن یہ اب بھی کام کررہی ہے ،گویا اس کو تو ایک پابندی لگے نام کو بھی بدلنے کی ضرورت محسوس نہيں ہوئی اور یہ چار صوبوں ، وفاقی دارالحکومت ، گلگت بلستان اور آزاد کشمیر میں دھڑلے سے کام کررہی ہے

اس تنظیم کی طاقت اور حکومت وقت سے ملی بھگت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ دو دن پہلے اسلام آباد ٹول پلازہ کے قریب اسلام آباد پولیس نے اس تنظیم کے ایک مقامی ضلعی عہدے دار کو ناجائز اسلحے کے ساتھ گرفتار کیا تو اسلام آباد پولیس کے اس افسر کو معطل کردیا گيا جس نے یہ ہمت کی تھی ،جبکہ روزنامہ ڈان کے چکوال کے نمائندے نے خبر دی ہے کہ یہ کالعدم تںطیم 12 ربیع الاول کو ایک جلسہ کرنے جارہی ہے اور اس کا صدر جوکہ فورتھ شیڈول شامل ہے نہ صرف بین الاضلاعی نقل و حمل کررہا ہے بلکہ ول اس پبلک ریلی سے خطاب بھی کرے گا

ایک محتاط اندآزے کے مطابق پنجاب میں 2000 افراد فورتھ شیڈول میں ہیں جبکہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق ان سے ہٹ کر مزید 8000 افراد ایسے ہیں جو مختلف سطح پر انتہا پسندی ، فرقہ واریت اور دھشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہیں پنجاب میں اور ان پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور 2000 فورتھ شیڈول میں جو لوگ ہیں ان کو بھی کبھی روک ٹوک نہیں کی گئی اور یہی وجہ ہے کہ آرمی نے تمام صوبوں میں ایپکس کے نام سے انسداد دھشت گرد کمیٹی بنانے اور اس کے اندر شامل ہوکر باقاعدہ نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا اور اس حوالے سے پہلا اجلاس آرمی جیف جنرل راحیل شریف نے پنجاب کے چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ کیا ہے اور اس سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ ملٹری قیادت کالعدم تںطیموں کے خلاف کاروائی میں سویلین اداروں کی ہچکچاہٹ کو دیکھنے کے بعد خود اس عمل کا حصّہ بن گئی ہے

مذھبی دھشت گردی کے خلاف غیرمعمولی اقدامات اور اس کے لیے آئين کے بنیادی دیباچے تک میں ترمیم اور روائتی عدالتی ،ليگل ، انوسٹی گیشن اور پرسیکوشن سے ہٹ کر ضابطے اور ڈھانچہ بنانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا انتظامی اور عدالتی نظام مذھبی دھشت گردی سے نمٹنے میں ناکام رہا اور سیاسی جماعتیں تکفیری ، خارجی لابی کی طاقت کے آگے سرنڈر کرچکی تھی اور یہ ملٹری قیادت ہے جس نے سیاسی جماعتوں کو مذھبی دھشت گردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل پر تیار کیا

ابتک جو اقدامات کئے گئے ہیں وہ اگرچہ ٹی ٹی پی اور ان سے الحاق کرنے والی ان تںطیموں کو جڑ سے اکھاڑنے کے حوالے سے امید افزا ہیں لیکن ان سے ملحقہ فرقہ پرست دھشت گرد نیٹ ورک کو لو پروفائل میں جانے اور ان کی طرف ہاتھ ہولا رکھنے کی طرف رویہ نظر آتا ہے اور نجم سیٹھی نے اس کا الزام حسب سابق ساری ملٹری براس پر لگایا ہے اور وہ مسلم لیگ نواز کو بھول گئے ، ہم سمجھتے ہیں اگر اچھے اور برے طالبان کی تقسیم ختم کی گئی ہے تو اچھے اور برے فرقہ پرست کی تمیز بھی ختم کرنی ہوگی ورنہ پاکستان میں دھشت گردی کے سب سے بڑے متاثرہ سواد اعظم اہل سنت ، شیعہ اور دیگر میں عدم احساس تحفظ کا خاتمہ ممکن نہیں ہوسکے

Banned outfit operates with impunity in Chakwal
Nabeel Anwar Dhakku
http://www.dawn.com/news/1154778

Comments

comments