ہندوستان میں صوفی سنّی مسلمان اور تکفیریت – رپورٹ صدآئے اہل سنت

 

 

d985d8a7d984d985-d9bed988d8b1-d8a7d8a8d988d8a8daa9d8b1-d985d8b3d984db8cd8a7d8b1-daa9d8a7-d8aed8b7d8a7d8a8d8acd8b9d985db8cd8aa-d8b9d984

ہندوستان میں تقسیم سے پہلے ہی سے مسلمانوں کی کل آبادی میں صوفی سنّی مسلمانوں کی تعداد 80 فیصد ہے اور ہندوستان میں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگوں کی اکثریت کا تعلق درگاہوں ، سمادھیوں ، مزارات سے ہے اور ایک اندازے کے مطابق ہندوستان میں صوفی سنّی مزارات اور درگاہوں کی تعداد 60 لاکھ سے زیادہ ہے جن کی آمدنی 100 کروڑ روپے ماہانہ سے زیادہ ہے
صوفی سنّی مسلمانوں کی شناخت اور ان کی مختلف سرکاری اور مسلم اداروں میں نمائندگی کا سوال ان دنوں پورے ہندوستان کے اندر بہت گرم ایشو بنا ہوا ہے
صوفی سنّی مسلمانوں کا خیال یہ ہے کہ ہندوستان کے اندر دیوبندی اور اہل حدیث مکتبہ فکر کے لوگوں کو سرکاری اداروں ، مسلم وقف بورڈ ، مسلم پرسنل لاءبورڈ ، مولانا آزاد تعلمی فاؤنڈیشن ، غالب اکیڈیمی ، مرکزی کابینہ ، راجیہ سبھا اور ریاستی حکومتوں میں ان کی آبادی کے تناسب سے کہيں زیادہ نمآئندگی دی جاتی ہے اور وقف بورڈ میں ان کو غلبہ دیا گيا ہے اور یہ دیوبندی ، وہابی وقف بورڈ میں قابض ہونے کی وجہ سے صوفی سنّی درگاہوں سے ملحق جائيدادوں کو غیرقانونی طور پر فروخت کردیتے ہیں اور ان جائیدادوں کے بورڈ آف ٹرسٹی میں دیوبندی ،وہابی ڈائریکٹر بٹھائے جاتے ہیں جس سے ان مزارات کی بقا ہی خطرے میں پڑ گئی ہے اور مسلم تعلیمی اداروں میں دیوبندیت اور وہابیت کے بڑھتے ہوئے غلبے نے ہندوستان کی تکثیریت اور صوفیانہ روادار کلچر کو بھی سخت نقصان پہنچایا ہے
ہندوستان میں تقسیم سے قبل انگریز کے خلاف آزادی کی تحریک کے دوران کانگریس کے دیوبندی و وہابی تںظیموں سے بہت گہرے تعلقات پیدا ہوئے اور آزادی کے فوی بعد کانگریس جب برسراقتدار آئی تو یہ دیوبندی جمعیت العلمائے ہند ، جماعت اسلامی اور دیگر دیوبندی تنظیمیں تھیں جن پر سرکاری مراعات کی بارش کی گئی اور مسلم پرسنل لاء بورڈ ، وقف بورڑ میں بھی دارالعلوم دیوبند اور ان سے ملحقہ مدارس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نمائندگی دی گئی ،جس سے صوفی سنّی مسلمانوں کی احساس محرومی میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا

urdu-sunni-news-from-sahafat

پھر صوفی سنّی مسلمان اور شیعہ آبادی جوکہ آج کے مہاراشٹر اور اس وقت کے بنگال ، مدھیہ پردیش ، اتر پردیش ، پنجاب کے انبالہ ڈویژن ، حیدرآباد دکن میں رہتی تھی اس نے آل اںڈیا مسلم لیگ کا ساتھ دیا تھا اور پھر جب تقسیم ہوئی تو صوفی سنّی اور شیعہ کی اکثر لیڈر شپ اور مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی قیادت پاکستان ہجرت کرگئی اور صوفی سنّی اپنی آواز سے محروم ہوگئے اور ان کو اس حمائت کی وجہ سے ایک طرف تو حکمران کانگریس کی مخالفت کا سامنا تھا تو دوسری طرف ان کو دیوبندی کانگریسی اور جمعیت علمآئے ہند و دارالعلوم دیوبند کی جانب سے شدید مخالفت اور عناد کا سامنا تھا ، اس کے ساتھ ساتھ ہندؤ مہا سبھائی بھی صوفی مسلمانوں کی شدید مخالفت کررہے تھے ، یہ وہ حالات تھی جن کی وجہ سے صوفی سنّی مسلمانوں کو ہندوستان میں سیاسی طور پر لوپروفائل میں رہ کر کام کرنا پڑا اور سںّی اسلام کا ترجمان بھی دارالعلوم دیوبند اور مدرسہ ندوۃ العلماء اور اس سے منسلک تنظیموں کو خیال کیا جاتا رہا اور اس ہی راستے سے ہندوستان میں سعودی برانڈ وہابی اسلام کا راستہ بھی ہموار ہوتا رہا جس نے ہندوستان کے اندر تکفیریت کو بھی پروان چڑھایا
دارالعلوم دیوبند کے زیر اثر ہندوستان کے اندر دیوبندی وہابی تکفیری دھشت گردتنظیموں کے ساتھ ہمدردی میں اضافہ ہوا اور ہندوستان کے صوفی سنّی مسلمانوں کے صدیوں کے شعائر کے خلاف بھی مہم میں تیزی آگئی اور اسی تکفیری اثر میں اضافے کا نتیجہ یہ نکلا کہ دارالعلوم دیوبند کے چانسلر اور صدر الشریعہ مفتی قاسم نعمانی نے اپنے دستخطوں سے عید میلادالنبی منانے اور اس دن جلوس نکالنے کو بدعت قرار دیکر اسے غیر شرعی اور غیر اسلامی عمل قرار دے ڈالا ، جس کے خلاف انتہائی سخت ردعمل سامنے آیا اور صوفی سنّی علماء نے دارالعلوم دیوبند کے اس فتوے کو گراہ کن قرار دے دیا
دارالعلوم دیوبند اور ان کے زیر اثر دیوبندی وہابی تںظیموں نے جب صوفی اسلام کے خلاف باقاعدہ ایک مہم شروع کی اور مڈل ایسٹ ، جنوبی ایشیا ، شمالی افریقہ اور مشرق بعید میں وہابی تکفیری دھشت گرد اور انتہا پسند تںظیموں کی نام نہاد توحیدی و جہادی تحریک کو جواز فراہم کرنا شروع کیا اور تصوف کے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا تو ہندوستان میں صوفی سنّی مسلمانوں نے بھی اپنی شیرازہ بندی کرنا ضروری خیال کیا اور سنّی اسلام کے چہرے کو مسخ ہونے سے بچانے کا اعلان کردیا
اس سلسلے میں سب سے زیادہ متحرک حضرت ںطام الدین اولیآء کے سجادہ نشین شاہد میاں ، انچارج درگاہ حضرت خواجہ غریب نوآز معین الدین چشتی اجمیر شریف ، درگاہ کچھوچھہ شریف ، دار العلوم بریلی اور مہاراشٹر ممبئی ، مغربی بنگال کے مفتی اعظم ںطر آئے اور ان کی کوششوں سے آل انڈیا علماءو مشآئخ بورڑ کا قیام عمل میں آیا ، اس کے ساتھ ساتھ مولانا غلام قادر ، مولانا توقیر رضا خان ، مفتی مکرم رضوی وغیرہ کی کوششوں سے مہاراشٹر میں مسلم علماء فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا جس کے جنرل سیکرٹری غلام عبدالقادر ہیں ، اسی طرح صوفی سنّی مسلمان طلباء کی تنظیم مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ آل انڈیا علماء کونسل تںظیم بھی قائم کی گئی
صوفی سنّی تںطیموں کے اتحاد اور طاقت کا آظہار کرنے کے لیے مراد آباد میں 2011ء میں پہلی آل انڈیا سنّی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اور مراد آباد کا انتخاب اس لیے کیا گیا تھا کہ اسی مراد آباد ميں ہندوستان کی تقسیم سے پہلے بھی آل اںڈیا سنّی کانفرنس منعقد کی گئی تھی
آل اںڈیا علماءو مشآئخ بورڑ ، مسلم علماء فیڈریشن ، ایم آیس او ، آل اںڈیا علماء کونسل کی سرگرمیوں اور سیاسی و سماجی جدوجہد نے صوفی سنّی مسلمانوں کی سیاسی و سماجی قوت کو ہندوستان کی قومی و علاقائی سیاسی جماعتوں اور ہندوستانی میڈیا کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا اور ہندوستانی میڈیا کے طاقتور میڈیا گروپوں کے ٹی وی چینلز اور اخبارات نے دھشت گردی ، انتہا پسندی اور تکفیریت کی وہابی دیوبندی بنیادوں کو پہچاننا اور اسے سنّی اسلام سے الگ کرکے دیکھنا شروع کردیا
ہندوستان ٹائمز ، ٹائمز آف انڈیا ، دی ہندؤ ، آؤٹ لک اںڈیا ، السریٹڈ ویکلی جیسے اہم اخبارات و جرائد نے صوفی سنّی مسلمانوں کے موقف کو جگہ دی اور دیوبندیت و وہابیت کے تکفیری انتہا پسند آئیڈیالوجی کے ساتھ تعلق کو واضح کیا اور کئی ایک معروف ہندوستانی صحافیوں نے دارالعلوم دیوبند کے وہابی ازم اور تکفیریت کے ساتھ تعلقات اور رشتوں کی تلاش بھی کی
غالب اکیڈمی نے مولانا خوشتر نورانی کی سید احمد بریلوی کی نام نہاد تحریک جہاد کے متعلق تحقیقی کتاب شایع کی جوکہ ایک سرکاری ادارہ ہے جبکہ جامعہ ملیہ کے شعبہ تاریخ کے استاد ارشد عالم نے ٹائمز آف انڈیا کی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا کہ ہندوستان میں دیوبندی ازم کے اندر تکفیری انتہا پسند رجحان بہت پرانا ہے جسے ہندوستان کے سنّی مسلمانوں کی اکثریت نے ہمیشہ سے رد کیا اور یہ تکثریت مخالف رجحان ہے
دھلی کے نوجوان کالمسٹ غلام رسول دھلوی جوکہ علوم شرعیہ کے بھی ماہر ہیں انھوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کی اکثریت کے تصوف سے تعلق کو بہت واضح انداز میں اپنے کئی کالموں میں بیان کیا ہے اور دیوبندی ازم کے اندر پائی جانے والی تکفیریت کی نشاندھی بھی کی ہے
صوفی سنّی مسلمانوں کی سیاسی و سماجی بقا کی جدوجہد کو کافی کامیابی ملتی نظر آرہی ہےاتر پردیش ، دھلی ، مہاراشٹر اور مغربی بنگال کی حکومتوں پر آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ سمیت دیگر صوفی سنّی تنظیموں کا دباؤ بڑھا ہے کہ وہ ریاستی وقف بورڑ میں صوفی سنّی ممبران لیکر آئیں اور مزارات اور صوفی سنّی مساجد کا بورڑ آف ٹرسٹی صوفی سنّی مسلمانوں کو ہی بنائیں جبکہ وہ مرکزی کابینہ ، راجیہ سبھا اور ریاستی حکوتوں کی کابینہ میں بھی صوفی سنّی مسلمانوں کی نمآئندگی ان کی آبادی کے تناسب سے چاہتی ہیں حالیہ الیکشن میں صوفی سنّی تںطیموں نے ایسے تمام امیدواروں کو ہرانے میں اہم کردار ادا کیا جو دیوبندی وہابی پس منظر کے حامل تھے
دارالعلوم دیوبند خاصا بے نقاب ہوا ہے اور اس کے سعودی وہابی حاکموں سے بھی تعلقات پر ہندوستان کے اندر صوفی سنّی مسلمان سخت تنقید کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف دیوبندی ازم کے علمبردار دوسرے مردسہ ندوۃ العلماء لکھنؤ کے صدرالشریعہ سید سلیمان ندوی نے داعش جیسی وہابی دیوبندی تنظیم کے حق میں فتوی بھی دیا ہے ،جس پر صوفی سنّی علماء کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے
دارالعلوم دیوبند اگرچہ ممبئی بم دھماکوں سمیت پوری دنیا میں ہونے والی مذھبی دھشت گردی کی مذمت کے بیانات جاری کرتا رہا ہے لیکن اس نے آج تک تحریک طالبان افغانستان و پاکستان ، لشکر جھنگوی ، سپاہ صحابہ پاکستان ، جیش العدل اور جنداللہ وغیرہ کے خلاف کوئی فتوی جاری نہیں کیا
صوفی سنّی علماء و مشائخ کا کہنا ہے کہ اگر دارالعلوم دیوبند اور جمعیت العلمائے ہند صوفی سنّی ، شیعہ اور دیگر مسالک کے معصوم شہریوں کے خلاف دیوبندی تںطیموں کی دھشت گردی کے خلاف ہیں تو انھوں نے پاکستان اور خبیرپختون خوا جاکر طالبان ، لشکر جھنگوی ، سپاہ صحابہ پاکستان وغیرہ سے اظہار لاتعلقی کا اظہار کیوں نہيں کیا
دارالعلوم دیوبند صوفی سنّی مسلمانوں کے خلاف تو فتوے جاری کرتا ہے لیکن دیوبندی تکفیری تنظیموں کے خلاف کوئی فتوی اس نے جاری نہیں کیا
آل انڈیا علماءو مشآئخ بورڑ ، آل انڈیا علماء اسیوسی ایشن ، مسلم علماء فیڈریشن نے شیعہ علماء بورڑ ، آل انڈیا شیعہ علماء کونسل کے ساتھ ملکر دیوبندی وہابی تکفیریت سے ہندوستان کو بچانے کے لیے جدوجہد شروع کی ہے
جب پاکستان میں لاہور میں مفتی سرفراز نعیمی کو دیوبندی طالبان نے خودکش حملہ کرکے شہید کردیا تو دھلی میں سنّی تںظیموں نے ایک جلوس نکالا جس میں اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی

taliban murdabad

NEW DELHI: Several Muslim organisations on Tuesday came together to protest the “Wahabi Talibani terrorism” in Pakistan which they blamed for the recent killing of India-born Mufti Sarfaraz Naeemi in Lahore and several other scholars. Most of the participants in the protest at Jantar Mantar were Barelvi Muslims or Sunni Muslims with Sufi leanings.
Raza Academy, Muslim Students Organisation of India (MSO), Islamic Education Board of India, All India Qazi Council and New Age Media Centre were some of the organisations which carried out the protest. “We came together to protest the ongoing killings of Sunni scholars by the Wahabi Talibani terrorists in Pakistan. The killing of Mufti Sarfaraz Naeemi of Jamia Naeemia is enough to reveal their agenda against moderate majority Sunni Muslims,” said Shahnawaz Warsi, the chief of MSO.
Other leaders said they refused to acknowledge the Taliban because of its inhuman and unIslamic activities. “We declare them terrorists and a bunch of dacoits,” they said in a statement, adding that the Pakistani government must punish those responsible for these killings.
“We support the Pakistani government in its war against these terrorists. Terrorists are nothing but enemy of Islam and have presented their distorted version of Islam,” said convenor Syed Modi. The leaders also condemned the decision by Taliban to demand religious tax (jiziya) from Sikhs and said Taliban posed a potent threat to India.
“We also want the Indian government to provide adequate security to Ajmer Sharif Urus. These terrorists may cause damage to the place,” said another leader. Times of India 17/06/2009

راجھستان میں صوفی سنّی مسلمانوں کو اہم کامیابی ملی ہے کہ وہآں ریاستی وقف بورڑ اور مزارات کی نگران کمیٹیوں ، نصاب کمیٹیوں اور دیگر سرکاری اداروں میں رام گڈھ فسادات کے بعد صوفی سنّی مسلمانوں کو رکن بنایا گیا ہے اور یہ سب آل اںڈیا علماءو مشآئخ بورڑ کی جدوجہد کی وجہ سے ممکن ہوا ہے
ہندوستانی صوفی سنّی مسلمان وسائل کی کمی اور ان کی اکثریت کا غریب اور نچلے متوسط طبقے سے تعلق ہے اور یہ کسی بھی غیر ملکی امداد پر انحصار نہیں کرتے ، اس لیے ان کے پاس بہت محدود وسائل ہیں لیکن پھر بھی یہ پوری کوشش اپنے مذھبی تشخص کو تکفیریت سے بچانے کے لیے کررہے ہیں
آل انڈیا علماءو مشائخ بورڑ کے جنرل سیکرٹری سید بابر اشرف کا کہنا ہے کہ وہ دن دور نہیں ہے جب صوفی سنّی مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے وسائل اور حقوق میں حصّہ ملے گا اور لوگوں کو دیوبندیت و وہابیت کا اصل چہرہ پتہ چل جائے گا ، ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی ہندوستان میں درگاہ ایکٹ منظور کروائیں گے اور وقف بورڑ ایکٹ میں ترمیم کرواکر اس میں دیوبندی وہابی غلبے کو ختم کردیں گے

Source:

http://unmaskedtakfiri.wordpress.com/2014/12/09/%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C-%D8%B3%D9%86%D9%91%DB%8C-%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AA%DA%A9%D9%81%DB%8C/

Comments

comments