واقعہ عاشورہ، انسانیت کے لئے ایک عظیم سرمایہ ۔ ابو زین الھاشمی

ایک بار پھر ماہ محرم آگیا اور شور ماتم و گریہ بلند ہوگیا، محرم آتا ہے تو مردہ انسانوں کی رگوں ميں خون دوڑ جاتا ہے ، خشک آنکھوں سے آنسو کا چشمہ جاری ہوجاتا ہے اور عشق حسینی کی حیات آفریں بارشوں کے قطرے انسانوں کے تاریک دلوں پر گرتے اور انہیں زندہ کرتے ہيں۔

محرم آتا ہے تو دنیا کی مختلف سرزمینوں، شہروں اوردیہاتوں میں سکون اور سکوت ٹوٹ جاتا ہے اور ان میں دوبارہ ولولہ پیدا ہوجاتا ہے۔ محرم کے آتے ہی عقلیں حیرت سے انگشت بدنداں ہوجاتی ہيں اور اس فکر میں ڈوب جاتی ہیں کہ آخر یہ کیسا واقعہ ہے جو صدیاں گذر جانے کےبعد ، آج بھی زندہ و پایندہ ہے ۔ جب محرم آتا ہے اور شہر کا شہر سیاہ پوش ہوجاتا ہے تو بہت سے یہ سوچتے ہیں کہ اتنی صدیاں گذر جانے کے بعد بھی یہ عزاداری، لوگوں پر کیا تاثیر رکھتی ہے اور عزاداری امام حسین علیہ السلام کا فلسفہ کیا ہے؟

ہر سماج اور معاشرے کے ماضی کے واقعات، اس معاشرے کی سرنوشت، اور حتی دوسرے معاشروں کے لئے بھی مختلف اثرات کے حامل ہوسکتے ہیں۔ اگر کوئی واقعہ مفید اور موثر ہو، تو اس پر نظر ثانی اور اسے زندہ رکھنے سے بھی، ان آثار کو دوام عطا کیا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف ان اہم واقعات کو فراموش کردینے سے بھی، انسانی معاشرے کو عظیم نقصانات کا متحمل ہونا پڑسکتا ہے اس لئے کہ اس قسم کے واقعات ، چاہے وہ معنوی لحاظ سے ہوں یا مادی لحاظ سے ،قوموں کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔اس بناء پر ایسےعظیم واقعات کہ جو انسانوں کے لئے عبرت ناک اور درس حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں، ہرقوم وملت بلکہ تمام انسانیت کا عظیم سرمایہ شمار ہوتے ہيں۔ اور عقل بھی حکم کرتی ہے کہ ایسے عظیم سرمایوں کا تحفظ کیا جائے انہيں زندہ رکھا جائے اور ان سے استفادہ کیا جائے۔

بلاشبہ متعدد پہلوؤں کا حامل عاشورا کا عظیم سانحہ، انسانیت کے لئے ایک عظیم سرمایہ ہے ۔کیوں کہ یہ سرمایہ فرزند رسول خدا حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب باوفا اور اطفال حسینی کی بے مثال شہادتوں کے ذریعے حاصل ہوا ہے ۔ دوسری طرف واقعۂ کربلا کسی فرد یا گروہ کے ذاتی مفادات اورحتی قومی مفادات کے لئے بھی وقوع پذیر نہيں ہوا بلکہ یہ واقعہ اور امام حسین علیہ السلام اور ان کے دلیر ساتھیوں کی شہادت ایک مکتب ہے کہ جس میں تمام انسانیت کےلئے، توحید، امامت ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر ، حقیقت طلبی ، ظلم کے خلاف جنگ ، انسانی کرامت و عزت اور اس جیسے دیگر دروس اور اہداف ہیں کہ جنہیں حاصل کرنا چاہئے۔ اگر یہ انسان ساز مکتب، نسل در نسل انسانوں میں منتقل ہوتا رہے تو پوری انسانیت کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔

ائمہ اطہار علیھم السلام نے امام حسین علیہ السلام کی عزاداری منانے پر تاکید کرتے ہوئے ان مراسم کو عوام میں اتحاد و وحدت اور اسلام کی اعلی اقدار کی ترویج کا محور قرار دیا ہے ۔ اس طرح سے کہ آج ایام محرم میں لاکھوں بلکہ کروڑوں انسان ، نسلی امتیاز اور طبقہ بندی اور مذہبی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر سید الشھداء مظلوم کربلا کی عزاداری مناتے ہيں اور حسینی پرچم تلے جمع ہوتے ہيں۔ ایران کے لاکھوں ولولہ انگيز اور پرجوش عوام نے اسلامی انقلاب کی عظیم الشان تحریک کے دوران محرم و صفر میں خاص طور پر نو اور دس محرم کوایک عظیم طاقت کا مظاہرہ کیا جس نے طاغوتوں کو لرزہ بر اندام کردیا اور جس نے امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کو محور قرار دینے کی ائمہ اطہار علیھم السلام کی تاکید کو واضح اور روشن کردیا ۔

جرمنی کے ماہر مشرقیات “ماربین” اپنے ایک مقالے ميں لکھتے ہيں کہ “ہمارے بعض مورخین کی بے خبری اس بات کا باعث بنی ہے کہ شیعہ مسلمانوں کی عزاداری کو، جنون اور دیوانگی کی نسبت دی جائے۔ لیکن یہ باتیں بیہودہ اور خرافات ہیں اور شیعوں پر تہمت ہے ۔ وہ لکھتے ہیں ہم نے قوموں کے درمیان شیعہ جیسی ولولہ انگيز اور زندہ دل قوم نہیں دیکھی، کیوں کہ شیعوں نے عزاداری امام حسین (ع) برپا کرنے کے لئے عاقلانہ پالیسیاں انجام دی ہیں اور وہ نتیجہ بخش مذہبی تحریکیں وجود میں لائے ہيں۔”

عزاداری، ایک عظیم انقلاب برپا کرنے والے مظلوم کے ساتھ جذبات کے بندھن کو مضبوط کرنا اور ستمگرو ظالم کےخلاف احتجاج کرناہے ۔ اور استاد شہید مرتضی مطہری کے بقول ” شیہد پر گریہ اس کے ساتھ رزم ميں شرکت کے مترادف ہے” اس بناء پر عزاداری کے جلسوں اور جلوسوں ميں شرکت کرنے والوں میں جو معنوی تبدیلی رونما ہوتی ہے اس سے سماجی تبدیلیوں کے لئےحالات سازگار ہوتے ہیں اور در حقیقت امام حسین علیہ السلام کے اہداف و مقاصد کے تحفظ کے لئے حالات فراہم ہوتے ہیں ۔ شہیدوں کا غم اور خاص طور پر سید الشہدا حضرت امام حسین کا غم ، کربلا کے عظیم واقعے کو زندہ جاوید بنانے کا ذریعہ ہے اس غم سے عزاداروں اور حق کے پیشواؤں کے درمیان باطنی بندھن قائم ہوتاہے اور ساتھ ہی عوام میں ظلم و ستم سے مقابلے کی روح زندہ ہوتی ہے۔
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) فرماتے ہيں:اس گریہ و زاری اور نوحہ و ماتم کے ذریعے ہم حسینی مکتب کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ اب تک کرتےآئے ہيں۔

مکتب اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات کا تحفظ، اہل بیت کی ثقافت کو زندہ رکھنے کے ذریعے کیا گیا ہےاور اس لحاظ سے کہ ظالم حکمرانوں نے پیہم اس ثقافت کومحو اور نیست ونابود کرنے کی کوشش کی ہے اس لئے مظلوم کربلا کی عزاداری نے خود بہ خود سیاسی اور جہادی رنگ اختیار کرلیا ہے۔عزاداری اور گریہ ميں سیاسی پہلو، ظلم و ستم مخالف جذبے کو زندہ رکھنا ہے۔

مکتب عاشورا میں عبادت کو اسلامی معاشرے کے معنوی و اخلاقی فضائل اور دینی تعلیمات میں سر فہرست قرار دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی عزت و سربلندی ان کے ایمان اور معنویت کی مرہون منت ہے ۔ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کا قیام، اسلامی معاشرے کو درپیش خطرے یعنی اسلامی اصول و اقدار کا تحفظ کرنا تھا۔ شیعوں کی ثقافت ميں مذہبی پیشواؤں اور خاص طور پر امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب و انصار کی مجالس اور عزاداری کا انعقاد، عبادت ہے ۔ کیوں کہ عزاداری، معنویت میں فروغ کا باعث ہوتی ہے اور انسان کو انسانیت کے اعلی ترین مدارج تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے۔ امام حسین علیہ السلام پر گریہ و زاری اور حزن واندوہ، باطنی تغیر وجود ميں آنے اور اس کے ساتھ ہی انسان کے روحانی کمال کا باعث ہوتا ہے ۔اور اس سے انسان میں تقوی اور انسان کو خدا سے نزدیک کرنے کے مقدمات فراہم ہوتے ہيں۔اسی طرح، عوام بھی اس مظلوم کے ساتھ، جو عقیدے کی راہ میں موت کو سعادت اور ستمگر کے ساتھ سازش کو باعث ننگ و عار قرار دیتا ہے، اپنی وفاداری کا اعلان کرتے ہيں اور ظلم کے خلاف جدو جہد کرنے اور ظالموں سے کوئی ساز باز نہ کرنے کو اپنا شعار بناتے ہيں ۔ اور یہی وفاداریاں ہی ہیں جو قوموں کو، استعمار گروں کے حرص و طمع کے مقابلے میں بیمہ کرتی ہيں اور سامراج کے اثرو رسوخ کی راہیں مسددو کردیتی ہیں۔

تاریخ، عبرت آموز نکات سے بھری پڑی ہے اور اگر ان نصیحتوں پر توجہ نہ کی جائے تو تاریخ کے ان ہی تلخ واقعات کا ایک بار پھر اعادہ ہوگا ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کے حالات زندگی بیان کرنے کے بعد ارشاد ہورہا ہے کہ” ان کی سرنوشت میں صاحبان فکر کے لئے درس عبرت ہے ۔اور حضرت علی علیہ السلام عبرت حاصل کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں “دنیا کے ماضی سے، مستقبل کے لئے عبرت حاصل کرو”۔ اس بناء پر تاریخ کے جملہ واقعات و حوادث ميں سے ایک، کہ جو بہت سی عبرتوں کا سرچشمہ ہے، عاشورا کا جاں گداز واقعہ ہے ۔ عزاداریوں کا انعقاد، واقعات عاشورا کو دوبارہ بیان کرنے کے لئے ہوتا ہے تاکہ حاضرین اور آئندہ نسلوں کے لئے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا ذریعہ قرار پائے۔
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای کے نقطۂ نگاہ سے عزاداری اور مصائب اہل بیت اطہار علیھم السلام ایک خداداد نعمت ہے کہ جو بارگاہ خداوندی میں شکریے کے شایان شان ہے ۔ ان کے نقطۂ نظر سے تحریک عاشورا کا پیغام، اسلامی تحریکوں کا فروغ ہے اور اس نعمت کے حساس ہونے کو ہم اس وقت درک کرتے ہیں جب ہم جان لیں کہ خدا کی نعمتوں کے مقابلے میں بندگان خدا کی ذمہ داری شکر و سپاس اور اس کی بقا کی کوشش کرنا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایک مرتبہ اگر کسی کے پاس نعمت نہ ہوتو اس سے کوئی سوال نہيں کیا جائے گا لیکن جس کے پاس نعمت ہے اس وقت اس سے سوال کیا جائے گا ۔ شیعوں کے لئے ایک عظیم نعمت، محرم ،عاشورا اور مجالس عزا ہے۔ یہ عظیم نعمت، دلوں کو اسلام و ایمان کے ابلتے ہوئے چشمے سے متصل کرتی ہے ۔ اس نعمت نے وہ کام کیا ہے کہ تاریخ کے دوران ظالم حکمرانوں، کو عاشورا اور قبر امام حسین علیہ السلام سے خوف لاحق رہا ہے۔اس نعمت سے فائدہ حاصل کرنا چاہئے ۔ خواہ وہ عوام یا علماء، اس نعمت سے ضرور بہرہ مند ہوں ۔ عوام اس طرح سے بہرہ مند ہوں کہ ان مجالس سے دل وابستہ کرلیں اور مجالس امام حسین علیہ السلام کا انعقاد کریں۔ لوگ عزاداری کا اہتمام مختلف سطح پر زيادہ سے زيادہ کریں ۔کربلا کا واقعہ تاریخ بشریت کے لئے ایک درس ہے اور اس سے وابستگی بھی مسلمانوں حتی حریت پسند غیر مسلموں کے لئے بھی ہر دور میں سعادت رہی ہے ۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*