عراق اور شام میں آئی ایس کی سلفی خلافت کے قیام پر پاکستان کے اہلسنت کا موقف – از مولانا اویس محبوب مجددی چوراہی
posted by SK | July 5, 2014 | In Original Articles, Urdu Articlesدجال وقت و شریر من الخلق و رجل من الخوارج فی عصر حاضر نے جمعہ چار جولائی کو موصل میں ایک ایسی مسجد میں پہلا خطاب کیا جو اہل سنت کی مسجد تهی جس پر نام نہاد دولت الاسلام نے قبضہ کیا اور اس قبضہ کو اس نے اہل البدع والشرک پر اہل التوحید والسنہ کی فتح قرار دیا اور موصل وتکریت پر اپنے ظالمانہ و غاصبانہ قبضے کو نصرت ایزدی شمار کیا
میں نے جب اس دجال وقت اور شریر شخص کی تقریر کا فیہ مافیہ سنا اور اسی دوران میرے سامنے دولت اسلامیہ یا آئی ایس کا اعلامیہ خلافت آیا تو اس میں دولت اسلامیہ کے استدلال بابت خلافت ابوبکر البغدادی السلفی کو پڑه کر مجهے اس بات میں کوئی شک نہ رہا کہ آئی ایس کا خود ساختہ خلیفہ ایک خارجی ہے اور اس کا اہل سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے
دولت اسلامیہ کے خودساختہ خلیفہ کا کہنا ہے کہ عراق اور شام میں اس کو جو کامیابیاں ملی ہیں وہ منجانب اللہ ہیں اور اس کو نصرت ایزدی حاصل ہے اور اس یقین کی وجہ اس کے خیال میں یہ ہے کہ آئی ایس کرہ ارض میں وہ واحد مسلم تنظیم ہے جس کا عقیدہ توحید سب سے شفاف اور صاف ستهرا ہے کیونکہ وہ اہل بدع و الشرک یعنی سنی اور اہل تشیع کی طرح نہ تو توسل بالانبیا و باهل بیت محمد رسول اللہ و باالصدیقین و الشهداء کے قائل نہیں ہیں اور نہ ہی طاغین فی الارض یعنی قبور الانبیاء و اہل بیت و الصالحین پر قبے تعمیر کرنے اور ان کی زیارت کے قصد کو ثواب خیال کرتے ہیں بلکہ اس عقیدے کو وہ منافی توحید و سنت خیال کرتے ہیں
دجال وقت ابوبکر البغدادی اور اس کا ترجمان ابو العدنانی اس موقعہ پر قرآن پاک کی بہت سی آیات کو درج کرتا ہے جن کا نفس مضمون یہ بنتا ہے کہ جو اللہ پر ایمان رکهتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹهہراتے تو ان سے اللہ تمکن فی الارض کا وعدہ فرماتا ہے اور ان کو کفارو مشرکین سے قتال کے وقت فتح کی نوید سناتا ہے
ابوبکر البغدادی اس موقعہ پر ان تمام آیات کاذکر کرتا ہے جو مشرکین اور کافر حاربین سے قتال کے موقعہ پر نازل ہوئی تهیں اور اپنے تئیں وہ اپنے آپ کو امت محمدیہ قرار دیتا ہے اور جن سے وہ قتال کررہا ہے ان کو وہ مشرک و بدعتی کفار اور ملحد قرار دیتا ہے
آئی ایس نے اب تک جتنی بهی کاروائیاں قتال و جہاد کے نام پر کی ہیں وہ سب کی سب عراق اور شام کے معصوم سنی اور شیعہ مسلمانوں کے خلاف ہیں اور اس کی خون ریزی و قتال کا نشانہ عام لوگ زیادہ بنے ہیں جن میں عراق اور شام میں رہنے والے مسیحی بھی شامل ہیں- اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آئی ایس کے خودساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی کے نزدیک سواد اعظم اہل سنت اور اہل تشیع کے بارے میں رائے کیا ہے اور وہ کس طرح سے اس اکثریت کے خلاف شرک ،بدعت اور کافر ہونے کا فتوی صادر کرتا ہے اور ان کے خلاف اپنی بربریت کو وہ خدا کی اجازت اور نصرت سے تعبیر کرتا ہے وہ مسلمانوں کی اکثریت کو ذلت و مسکنت کا حقدار ٹهہراتا ہے اور اپنے و اپنے رفقاء کو انعام یافتہ اور مدد رب پروردگار کا مصداق ٹهہراتا ہے
میں نے جب موصل کی مقبوضہ جامع مسجد میں اس خارجی کا یہ استدلال دیکها تو مجهے بے اختیار کوفہ کے دربار میں عبید اللہ ابن زیادہ یاد آیا جس کے سامنے جب سر حسین رضی الله عنہ ایک طشتری میں اس کے سامنے پیش کیا گیا تو اس بدبخت نے اپنی چهڑی سے نواسہ رسول صلی اللہ وآله وسلم کے دندان مبارک پر ضربیں لگانا شروع کی اور یہ آیت بار بار پڑهی تذل من یشا و تعز من تشاء، یعنی تو جسے چاہے زلیل کرے ،جسے چاهے عزت دے
اس طرح کی فتح اور نصرت کے دعوے یزید نے دربار میں پابندسلاسل قافلہ حسین کے سامنے کئے تهے اور یہاں تک کہ نصر من اللہ و فتح قریب جیسے کلمات بهی کہے تهے
مجهے اس موقعہ پر بخاری ، مسلم، سنن ابن ماجہ ، سنن نسائی ، ترمذی ،سنن ابی داود ، مصنف عبدالرزاق و مصنف ابن ابی شیبہ ، سنن دارمی سمیت کئی کتب احادیث میں فتنہ کے حوالے سے وارد ہونے والی احادیث کا متن یاد آیا جس میں یہ بیان کیا گیا تها کہ اواخر زمانوں میں فتنے ایسے رونما ہوں گے جیسے موج پر موج چڑهتی ہے اور ایسے گروہ پیدا ہوں گے جو عام مسلمانوں کو اپنے عقائد و اعمال کے مقابلے میں حقیر خیال کریں گے اور ان کے خون ،جان ،مال،عزت ،آبرو کو قرآن کی آیات کی باطل تاویل کے زریعے مباح ٹهہرالیں گے ،حارب مشرکین اور قاتلین کے بارے میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق مسلمانوں ہر کریں گے ،خوب قران پڑهیں گے لیکن قرآن ان کے حلق کے نیچے سے نہیں اترے گا اور وہ شرار الخلق یعنی شریر ترین مخلوق ہوں گے ،شیطان کا سینگ ہوں گے اور کتاب اللہ و ارشادت نبوی کے ظاہر کو ایسے لیں گے جیسے کوئی چهلکے پر اکتفا کرے اور مغز کو پہینک دے ،یہی نہیں کہ وہ سواد اعظم سے لڑیں گے بلکہ ان کے آپس کے درمیان بهی جب بهی اختکاف رونما ہوا تو ایک دوسرے کو مرتد و کافر ٹهہراکر قتل کریں گے ایسے لوگ دین سے اسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے تو تم ان کو جہاں پاو پکڑ کر قتل کردینا ،وہ فتنہ گر و فتنہ انگیز ہوں گے
میں نے یہ خلاصہ درج کیا ہے ان احادیث کا جو درجنوں کتب احادیث میں مختلف طرق و اسناد اور راویوں کے سلسلے کے ساته روایت ہوئیں
توحید کا تشدد پسندانہ تصور اور جنون فرقہ خارجیہ و تکفیریہ کے ہاں پاگل پن کی سطح کو چهونے لگتا ہے اور یہ جنون اس حد تک شدید ہوتا ہے کہ خود قرآن ، سنت نبوی ، تعامل اصحاب رسول و اجماع امت کو بهی خاطر میں نہیں لاتا اور یہ اپنی توحید اور اپنا تصور سنت ایجاد کرتا ہے اور اسی لئے توحید کے نام پر خون ریزی اور فساد برپا کرنا خوارج کی نشانی ہے اور اجماع امت سے انحراف بهی ان کے ہاں بہت ہی معروف عمل ہے
عراق اور شام میں اس بدبخت گروہ نے اہلسنت اور اہل تشیع کی درجنوں مساجد اور صوفی خانقاہوں اور مزاروں کو منہدم کیا ہے جن میں اللہ کے پیارے نبی حضرت یونس علیہ السلام کا مزار، صحابہ کرام حضرت عمار بن یاسر اور حضرت اویس قرنی رضی الله عنہم کے مزارات بھی شامل ہیں – اس تکفیری خارجی گروہ کی خون آشامی کا اہلسنت سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی ان اقدامات سے یہ گروہ اسلام یا اہلسنت کی کوئی خدمت کر رہا ہے
آئی ایس کی خارجیت اور اور تکفیری سوچ بہت واضح ہے اور اگر آپ اہل سنت کی کتب فقہ و عقائد پر ایک نظر ڈالیں تو وہاں پر سنی ہونے کی نشانی یہ لکهی گئی کہ لا نکفر اہل القبلہ یعنی وہ کعبہ اللہ کی طرف منہ کرکے نماز ہڑهنے والوں کی تکفیر نہیں کرتے – یہی مذھب امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ الله کا ہے – یہ قول تمام امت مسلمہ بشمول سنی و شیعہ میں وحدت کے لیے ایک مضبوط بنیاد ہے
جبکہ آئی ایس سمیت عالمی دیوبندی اور وہابی دہشت گردوں کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ اہل قبلہ کی تکفیر کرتے ہیں اور ان کو مرتد قرار دیتے ہیں – مولائے کائنات ، باب مدینہ العلم نے خوارج کی سب سے بڑی نشانی ان کا ظاہر پرست ہونا اور مغز و معانی سے جاہل ہونا بتائی تهیں اور ہمیشہ مراد و مطلب آیات و احادیث کو غلط و مسخ شدہ حثیت میں اختیار کرنا بتائی اور یہ نشانیاں ہر دور کے خوارج میں پائی گئیں
آئی ایس ہو کہ نصرہ فرنٹ ہو یا دوسرے وہابی دیوبندی دہشت گرد گروپ جو مڈل ایسٹ میں اہل سنت کے نام سے سرگرم ہیں یا پهر پاکستان میں طالبان و سپاہ صحابہ وغیرہ کے نام سے سرگرم ہوں سب کے درمیان اشتراک مثل خوارج ہونا ہے اور اہل قبلہ کی تکفیر کرنا ہے
تدوین: عامر حسینی
http://pietervanostaeyen.wordpress.com/2014/07/05/abu-bakr-al-baghdadi-first-public-appearance/
From Iraq, two reports about Sunnis vs ISIS Salafi terrorists:
Islamic State rounds up ex-Baathists to eliminate potential rivals in Iraq’s Mosul
BY MAGGIE FICK AND AHMED RASHEED
BAGHDAD/MOSUL Iraq Tue Jul 8, 2014
http://in.reuters.com/article/2014/07/08/iraq-islamic-state-mosul-idINKBN0FD19Z20140708
and
Iraqi Baathists wage ‘campaign of assassinations’ against Islamic State #IraqatWar Fighting is said to have erupted among the armed Sunni groups who have routed government forces in a swift military offensive across Iraq – See more at: http://www.middleeasteye.net/news/baathists-wage-campaign-assassinations-against-islamic-state-iraq-198083419