کس نے مارا، کیسے مارا اور کیوں مارا – رضا علی عابدی
خواب،مگر دیوانے کا نہیں… دوسرا رخ
رضا علی عابدی
میں نے ایک روز انٹرنیٹ پر ایک اخبار کھولا۔وہ اخبار ایک نام سے اردو میں اور مختلف نام سے انگریزی میں نکلتا ہے۔ میرے سامنے جو صفحہ کھلا اس کا دایاں حصہ اردو میں اور بایاں حصہ انگریزی میں تھا۔ دونوں میں سب سے اوپر ان کی شہ سرخیاں تھیں۔ اردو حصے کی سب سے بڑی خبر یہ تھی۔’’دشمن نفاق اور انتشار پھیلانے میں سرگرم ہے۔ صدر ممنون حسین‘‘اور اس ادارے کے انگریزی اخبار کی شہ سرخی کچھ یوں تھی۔ ’’کراچی۔ منگھوپیر سے سات لاشیں برآمد ہوئی ہیں‘‘۔ اُس روز مجھے برطانیہ میں صحافت کی تربیت کا اپنا پہلا روز یاد آیا۔ ایوب خان کا زمانہ تھا اور ٹامسن فاؤنڈیشن کے اُس کورس میں پندرہ بیس ترقی پذیر ملکوں کے صحافی شریک تھے۔ تربیت کا پہلا ہی دن اور ہماری پہلی ہی آزمائش تھی۔ ہم سب کو ایک تقریب کی تفصیل دی گئی اور کہا گیا کہ اس روز جو واقعات ہوئے ان میں سب سے اہم کو سب سے اوپر اور غیر اہم کو سب سے نیچے لکھئے۔ واقعات یوں تھے کہ ملکہ برطانیہ ایک سمندری گودی میں بننے والے ایک بڑے بحری جہاز کا افتتاح کرنے گئیں۔ اس موقع پر انہوں نے ایک رسمی تقریر بھی کی۔ اسی دوران یہ ہوا کہ تقریب میں شامل ایک مہمان پھسل کر پانی میں جاگرا۔ اسے بچانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بچ نہ سکا۔ استاد نے یہ پرچہ سارے صحافیوں کو تھما دیا اور پھر ایک دلچسپ بات کہی۔ اس نے کہا کہ جو طالب علم ایسے ملکوں سے آئے ہیں جہاں حاکم ِوقت ہی سب کچھ ہوتا ہے وہ اپنے ماحول کے مطابق اہم اور کم اہم واقعات چنیں اور یہ کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ پھروہی ہوا جو ہونا تھا۔ ڈکٹیٹر شپ کے ماحول سے آئے ہوئے اخبار نویسوں نے ملکہ کی تقریر کو شہ سرخی بنایا اور جمہوری ملکوں کے صحافیوں نے ایک شخص کے ڈوب جانے کے واقعے کو اوپر رکھا۔ ملکۂ عالیہ کا ذکر کہیں نیچے آیا۔ استاد نہ خفا ہوا نہ برہم اور نہ اس نے برا منایامگر کچھ کہے بنا بہت کچھ کہہ بھی دیا، فرنگی جو ہوا۔
یہ سوچنے کا مقام ہے کہ ہمارے نزدیک کون سی بات زیادہ اہم ہے۔ایک سیاستدان کے وہ گھسے پٹے فقرے جو صبح شام کانوں میں ڈالے جاتے ہیں اور وہ بھی کسی اور کے لکھے ہوئے یا پھر آدھے درجن سے زیادہ شہریوں کا قتل اور وہ بھی پراسرار؟ کس نے مارا، کیسے مارا اور کیوں مارا، یہ ہماری ترجیحات میں نیچے آتا ہے اور وہ بھی بہت نیچے۔ اس کے بعد یہ واقعہ کہیں وقت کے غبار میں دب کر رہ گیا اور قاتل ملک کے ہجوم میں نہایت آسانی سے گم ہو گیا۔پکڑا بھی گیا تو کچھ روز بعد ہی شہر کی سڑکوں پر سینہ تان کر گھومتا نظر آیا۔ یہ اندازِ فکر چند افراد کا نہیں، پورے معاشرے کا ہے
تعمیر پاکستان نوٹ: یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں پاکستانی میڈیا، ادب اور پارلیمان میں دیوبندی انتہا پسندوں کے ہاتھوں منظم سنی بریلوی اور شیعہ نسل کشی پر مکمل خاموشی یا ابہام نظر آتا ہے – یہی وجہ ہے کہ آج، معدودے چند افراد کے علاوہ، اکثر سیاستدان، ادیب، صحافی اور دانشور قاتلوں کی تکفیری دیوبندی شناخت اور مقتولوں کی سنی بریلوی اور شیعہ شناخت پر چپ سادھے ہوۓ ہیں – یہی کچھ نازی جرمنی اور یورپ میں ہوا تھا اور یہی پاکستان میں ہو رہا ہے
روزنامہ جنگ
27 June 2014