مخالفین کو ذبح کر کے ان کے سروں سے فٹبال کھیلنا، تکفیری دہشتگردوں کا نیا مشغلہ – از خرم زکی
تحریک طالبان متنی کے کمانڈر جنگریز خان کو کون نہیں جانتا ہو گا. یہ بھیڑیا پاکستانی افواج کے سپاہیوں کو ذبح کر کے ان کے سروں سے فٹبال کھیلنے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد اپنی بربریت و درندگی کے سبب مشہور ہوا تھا. اسی طرح کی ویڈیو شام سے بھی منظر عام پر آئی تھی جہاں عمر فاروق بریگیڈ کے تکفیری کمانڈر ابو سکّر کو شامی فوجی کی لاش کی بیحرمتی کرتے اور اس کا سینہ چاک کر کے شہید فوجی کا دل و کلیجہ چباتے دکھایا گیا تھا. ابتدا میں لوگوں کو یہ شامی حکومت کا پروپیگنڈہ محسوس ہوا مگر جب واقعہ کی تفصیلات منظر عام پر سامنے آئیں اور مغربی میڈیا نے اس تکفیری دہشتگرد کے انٹرویوز شایع کیۓ تب کہیں جا کر ایک آدمی کو احساس ہوا کہ یہ تکفیری گروہ انسانیت کی ساری حدیں عبور کر چکا ہے. ایسے واقعات دیکھ کر ایک مسلمان کو بیساختہ سید الشہدا امیر حمزہ اور خاندان ابو سفیان سے تعلق رکھنے والی ہندہ جو امیر معاویہ کی ماں اور یزید کی دادی تھی کا معاملہ یاد آ جاتا ہے جب جنگ احد میں ہندہ نے اپنے غلام وحشی کو امیر حمزہ کے قتل کا ٹاسک دیا تھا اور جناب امیر حمزہ کی شہادت کے بعد ان کا سینہ چاک کر کے ان کا کلیجہ چبانے کی کوشش کی تھی. ہندہ کے بعد اس کے فرزند ارجمند معاویہ بن ابی سفیان نے حضرت ابو بکر کے صاحبزادے محمد بن ابی بکر کی لاش کے ساتھ بھی ایسا ہی وحشیانہ برتاؤ کیا جن کو قتل کر کے ان کا جسد خاکی ایک گدھے کی لاش میں ڈالکر جلا دیا گیا تھا. اسی طرح رسول اللہ صلی الله علیہ و آلہ و سلم کے چچا زاد بھائی عبیداللہ ابن عباس کے شیر خوار بچے کو اس کی ماں کو دکھاتے ہوئے ذبح کیا گیا ان تمام واقعات کی تفصیل اگر کسی نے پڑھنی ہو تو قدیم تاریخی ماخذ کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا سید ابو الاعلی مودودی کی کتاب “خلافت و ملوکیت” یا جماعت اسلامی ہی سے تعلق رکھنے والے جسٹس ملک غلام علی کی کتاب “خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا علمی جائزہ” کی طرف رجوع کر سکتے ہیں.
زیر نظر تصاویر میں ایک طرف کالعدم تکفیری دہشتگرد تنظیم تحریک طالبان کا کمانڈر پاکستانی فوجی کے سر سے فٹبال کھیل رہا ہے اور دوسری تصویر میں عراقی تکفیری دہشتگرد تنظیم داعش (ISIS) کا کمانڈر عراقی فوجی کے سر سے فٹبال کھیلنے کا دعواہ کر رہا ہے. کوئی مجھے بتاۓ گا کہ ان دونوں گروہوں میں کیا فرق ہے ؟ یہ دونوں گروہ جو بزعم خود سنی ہونے کے دعویدار ہیں کس اسلام، کس رسول اور کس امام کی پیروی کر رہے ہیں. حق تو یہ ہے اور جیسا کہ یہ خود بھی مدعی ہیں، یہ سفیانی، معاویہ اور یزید کے پیروکار اور انہی کی سیرت پر عمل پیرا ہیں. یہی وجہ ہے کہ احادیث میں اس تکفیری خارجی دہشتگرد گروہ کو “سفیانی” کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے.
Comments
Latest Comments
That is centuries-old tradition of these people. History testifies to that.