اتر پردیش کے خمینی کا صوفیانہ شعور اور سیاسی فکر -راکیش بھٹ

روح اللہ خمینی کے دادا تقریباً 40 برس کی عمر میں اودھ کے نواب کے ساتھ زیارتوں کے لیے پہلے عراق گئے اور پھر وہاں سے ایران کے مذہبی مقامات کی زیارت کی۔ اسی سفر کے دوران وہ ایران کے خمین نام کے گاؤں میں بس گئے

بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی کا گاؤں كنتور یوں تو ریاست کے دیگر گاؤں کی مانند چپ چاپ سا رہتا ہے لیکن یکم فروری

1979 کی شام کو کنتور میں بھی ایک نیا جوش و خروش ضرور پیدا ہوا ہوگا۔
آخر نیا جذبہ کیوں نہ بیدار ہو، اسی گاؤں کا پوتا آیت اللہ روح اللہ خمینی 14 برس کی جلا وطنی کے بعد اپنے وطن واپس جو آ رہے تھے۔ لیکن یہ وطن ہندوستان نہیں بلکہ ایران تھا۔

بارہ بنکی کے كنتور گاؤں کی دھڑکنوں کو تیز ہونا شاید اس لیے بھی واجب تھا کیونکہ ایران کے اسلامی انقلاب کے رہنما روح اللہ خمینی کے دادا سیّد احمد موسوي ہندی سنہ 1790 میں كنتور میں ہی پیدا ہوئے تھے۔
روح اللہ خمینی کے دادا تقریباً 40 برس کی عمر میں اودھ کے نواب کے ساتھ زیارتوں کے لیے پہلے عراق گئے اور پھر وہاں سے ایران کے مذہبی مقامات کی زیارت کی۔ اسی سفر کے دوران وہ ایران کے خمین نام کے گاؤں میں بس گئے۔
سیّد موسوی نے ایران میں بھی اپنا لقب ’ہندی‘ ہی اپنائے رکھا۔ ان کے بیٹے آیت اللّہ مصطفیٰ ہندی کا شمار بڑے علما میں ہوتا ہے۔ ان کے دو بیٹوں میں چھوٹے بیٹے روح اللہ کی پیدائش سنہ 1902 میں ہوئي، جو آگے چل کر آیت اللّہ خمینی یا امام خمینی کے نام سے مشہور ہوئے۔
روح اللہ کی پیدائش کے پانچ ماہ بعد ان کے والد سیّد مصطفیٰ ہندی قتل کر دیے گئے تھے۔ والد کی موت کے بعد روح اللہ کی پرورش ان کی ماں اور خالہ نے کی۔ انھوں نے اپنے بڑے بھائی مرتضیٰ کی نگرانی میں اسلامی تعلیم حاصل کی۔
روح اللہ خمینی کو اسلامی فقہ اور شرعی علوم میں خاص دلچسپی تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے مغربی فلسفے کا بھی مطالعہ کیا۔ ارسطو کو تو وہ فلسفے کا بانی مانتے تھے۔

ایران کے اراك اور قم شہر کی دینی درس گاہوں کے مراکز میں درس و تدریس کے دوران ہی وہ ایران کے شاہی سیاسی نظام کی مخالفت کرنے لگے اور اس کی جگہ اسلامی نظام کی بات کی
ایران کے اراك اور قم شہر کی دینی درس گاہوں کے مراکز میں درس و تدریس کے دوران ہی وہ ایران کے شاہی سیاسی نظام کی مخالفت کرنے لگے اور اس کی جگہ اسلامی نظام کی بات کی۔
پہلوي سلطنت سے اسی بغاوت کے تحت انھیں ایران سے جلا وطن کر دیا گیا۔ جلا وطنی کے دنوں میں بھی ترکی، عراق اور فرانس میں قیام کے دوران آیت اللہ خمینی کی پہلوي حکومت کے خلاف جد و جہد جاری رہی۔
جب پہلوی سلطنت کو اس کا احساس ہوا کہ عوام اور مخالف سیاسی گروپ خمینی کی قیادت میں متحد ہو چکے ہیں تو خمینی کو بھارتی اور برطانوی ایجنٹ کے طور پر پیش کرنے کے لیے سات جنوری 1978 کو ’اطلاعات‘ نامی اخبار میں ایک ایسا بھارتی نژاد ’مُلا‘ کہا گیا، جو اپنی عاشقانہ غزلوں میں مست رہتا ہے۔ امام خمینی کو برطانوی اور بھارتی چال کا مہرہ قرار دیا گيا۔
اس طرح کے مضمون کے شائع ہونے کے بعد تو ایران کے انقلابی مزید بھڑک گئے اور مظالم کے باوجود عوام نے سڑکوں کو اپنا مسکن بنا لیا۔
انقلاب تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا جسے دیکھتے ہوئے پہلوي خاندان کے دوسرے شاہ محمد رضا پہلوي نے 16 جنوری 1979 کو ایران چھوڑ دیا اور بیرون ملک پناہ لی۔ بادشاہ کے ملک چھوڑنے کے 15 روز بعد خمینی تقریباً 14 برس کی جلاوطنی کے بعد یکم فروری 1979 کو ایران واپس آئے اور ایران میں شہنشاہیت کی جگہ اسلامی جمہوریہ قائم کی۔

جب پہلوی سلطنت کو اس کا احساس ہوا کہ عوام اور مخالف سیاسی گروپ خمینی کی قیادت میں متحد ہو چکے ہیں تو خمینی کو بھارتی اور برطانوی ایجنٹ کے طور پر پیش کرنے کے لیے سات جنوری 1978 کو ’اطلاعات‘ نامی اخبار میں خمینی کو ایک ایسا بھارتی نژاد ’ملا‘ کہا گیا، جو اپنی عاشقانہ غزلوں میں مست رہتا ہے۔ امام خمینی کو برطانوی اور بھارتی چال کا مہرہ قرار دیا گيا۔

اپنی سیاسی زندگی میں خمینی ضدی حکمران کے طور پر جانے جاتے رہے جنھوں نے مغربی دنیا کو مسترد کیا اور صرف اسلامی طرز کی جمہوریت کو اپنا کر نیا نظام قائم کیا۔
لیکن روح اللہ خمینی کے ایک اور پہلو سے بہت کم لوگ واقف ہیں اور وہ ہے ان کی صوفیانہ شاعری جس میں ان کو مہارت حاصل تھی۔ وہ اپنی عارفانہ شاعری روح اللہ ہندی کے نام سے لکھتے تھے۔
خمینی کے صوفیانہ شعور اور ان کی سیاسی فکر ان دو ساحلوں کی طرح تھے جن کا وصال ناقابل تصور ہے۔ اپنی شاعری میں جہاں انھوں نے ساقی، شراب، ميخانہ اور بت کو اپنی روحانی منزل بتایا وہیں اپنی سیاسی مہم میں اسی فکر کے خلاف کام کیا۔ ان کی ایک غزل کے دو شعروں کا اردو ترجمہ ان کی شاعری کے عارفانہ پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے:
کھول دے ساقی در ميخانہ کہ رہوں مست شب و روز
مدرسہ و مسجد سے بیزار ہو گیا ہوں میں
تازہ کرنے دو مجھے اس بت كدے کی حسیں یاد
کہ ميكدے کے بت کی نوازش سے زندہ ہوا ہوں میں
27 جولائی 1980 کو ایرانی شہنشاہ محمد رضا پہلوی نے وطن سے دور آخری سانس لی اور نو سال بعد چار جون 1989 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی بھی چل بسے۔
مگر بارہ بنکی میں ان کی یادوں سے وابستہ ان گنت دل اب بھی دھڑک رہے ہیں۔

شاہ محمد رضا پہلوی کے ملک چھوڑنے کے 15 روز بعد خمینی تقریباً 14 برس کی جلاوطنی کے بعد یکم فروری 1979 کو ایران واپس آئے

اور ایران میں شہنشاہیت کی جگہ اسلامی جمہوریہ قائم کی

Comments

comments

Latest Comments
  1. Zahidullah
    Reply -
  2. Sabir Hameed
    Reply -
  3. Imran Hussain
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*