بھارت کے سینئر دیوبندی عالم دین مولانا ارشد مدنی کا فتویٰ براۓ سیکولر ازم

بھارت کے سینئر دیوبندی عالم دین مولانا ارشد مدنی کا فتویٰ براۓ سیکولر ازم

 

fatwa 2

شکریہ: ڈان

بھارت کے سینئر دیوبندی رہنما اور جمعیت علما ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے ہندوستان کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ “وہ سیکولرازم کے دشمن اور گنگا جمنی تہذیب کو آگ لگانے والی طاقتوں کے خلاف ووٹ دیں”۔ یاد رہے کہ انہی مولانا ارشد مدنی کے مدرسے دار العلوم دیوبند سے سنی بریلویوں اور شیعوں کے خلاف مشرک اور کافر کے فتوے جاری کیے گئے ہیں جبکہ پاکستان میں ان کے دیوبندی مسلک کے لوگ طالبان اور سپاہ صحابہ (نام نہاد اہلسنت والجماعت) کی شکل میں تکفیر، خارجیت اور دہشت گردی کا بازار گرم کیے بیٹھے ہیں

مولانا ارشد مدنی دیوبندی نے نریندر مودی یا بی جے پی کے خلاف سیدھا فتوی جاری نہیں کیا بلکہ مودی کو ‘سیکولرازم کے لئے خطرہ’ قرار دیتے ہوئے مسلمانوں سے مودی کے مخالفوں کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔ اس طرح مولانا نے متوقع وزیر اعظم کی مخالفت سے بھی بچنے کی ناکام کوشش کی۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دیوبندی مسلک کے مولویوں کا اصلی قبلہ پیسہ اور طاقت ہے پاکستان میں ان کی ڈوریں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں جبکہ ہندوستان میں ان کی باگ ڈور کانگریس کے سپرد ہے – دونوں ممالک میں دیوبندی مولوی اور مدارس سعودی پیسہ وصول کر کے امن پسند، عام سنی بریلوی یا صوفی مسلمانوں کو وہابی اور دیوبندی بنا رہے ہیں اور اس طرح اسامہ بن لادن، یزید اور ملا عمر کی سیرت پر چلنے والے دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں

deobandi fatwa


3 responses to “بھارت کے سینئر دیوبندی عالم دین مولانا ارشد مدنی کا فتویٰ براۓ سیکولر ازم”

  1. اس میں کیا شک ہے کہ بھارتہ میں موجود دیوبندی مکتبہ فکر قیام پاکستان سے قبل ہی سیکولر سوچ کی سیاست کر رہا تھا، اسی لیے مولانا مدنی نے قوموں کے لیے وطنیت کا نظریہ پیش کیا تھا۔ پاکستان میں بھی مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست دیکھ لیں۔ سراسر سیکولر سیاست ہے ان کی۔ برادر، آپ کے مضمون میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔