مزار بنانا کام صحابی کا اور مزار گرانا کام دیوبندی اور وہابی کا – اہلسنت عالم دین علامہ محمد شریف رضوی حنفی

پاکستان میں اہلسنت کے ممتاز عالم دین علامہ محمد شریف رضوی حنفی نے رسول اللہ صلی الله علیہ وآله وسلم کے والدین حضرت عبداللہ رضی الله عنہ اور حضرت آمنہ رضی الله عنہا کو کافر اور مشرک کہنے والے بد بخت دیوبندی اور سلفی وہابی تکفیریوں کو کافر قرار دیاہے یاد رہے کہ اسلامی شریعت میں مسلمان کو کافر کہنے والے خارجیوں کو تکفیری کہا جاتا ہے 

علامہ محمد شریف رضوی نے دیوبندی اور سلفی وہابی ملاؤں کو چیلنج کیا کہ ثابت کریں کہ رسول الله صلی الله علیہ وآله وسلم کے والدین رضی الله عنہم پر ما جاء ک الرسول کا اطلاق ہوتا ہے یقینی طور پر وہ دین ابراہیم پر قائم تھے 

تکفیری دیوبندی اور سلفی وہابی ملاؤں کو یاد دلایا کہ جس طرح حضرت ہاجرہ کی سنت پر سعی کرنا مقدس ہے اسی طرح کا تقدس رسول اللہ صلی الله علیہ وآله وسلم کے والدین حضرت عبداللہ رضی الله عنہ اور حضرت آمنہ رضی الله عنہا کی قبور مبارک اور مزارات کو بھی حاصل ہے 

یاد رہے کہ تکفیری دیوبندی اور سلفی وہابی حضرت عبداللہ رضی الله عنہ، حضرت آمنہ رضی الله عنہا اور حضرت ابو طالب رضی الله تعالی عنہ کو کافر یا مشرک سمجھتے ہیں اور مکہ، مدینہ اور ابوا میں ان کے مزارات مبارک گرا چکے ہیں 

سعودی عرب، شام، لیبیا، مالی اور پاکستان میں سلفی وہابی اور دیوبندی تکفیریوں نے اہلبیت عظام، صحابہ کرام اور اولیا الله کے مزارات کو شہید کیا ہے تکفیری دہشت گرد سنی اور شیعہ مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں اور ان پر غلط الزام لگاتے ہیں کہ وہ مزاروں کو سجدہ کرتے ہیں – حدیث میں ہے کہ خبردار قبروں کی زیارت کے لیے ضرور جایا کرو 

نبی پاک صلی الله علیہ والہ وسلم جنت البقیع اور جنت المعلا میں حضرت خدیجہ رضی الله عنہا، حضرت ابو طالب رضی الله عنہ اور دیگر اہلبیت اور اصحاب کی قبور کی زیارت کو جاتے تھے رسول الله کا مرقد بنانا بذات خود صحابیوں کی سنت ہے جبکہ روضوں اور مزاروں کو گرانا وہابیوں سلفیوں اور دیوبندیوں کی مکروہ روش ہے موجودہ دور میں اس روش کا آغاز محمد بن عبد الوہاب نجدی نے جنت ال بقیع میں حضرت فاطمہ رضی الله عنہا، حضرت عثمان رضی الله اور حضرت امام حسن رضی الله کے مزارات گرا کر کیا 

کوئی سنی مزاروں اور روضوں پر حملے نہیں کر سکتا یہ تکفیری وہابیوں اور دیوبندیوں کی سازش ہے جو محمد ابن عبد الوہاب نجدی بدبخت کے پروکار اور سعودی عرب کے تنخواہ دار ہیں یہی بدبخت ہیں جنہوں نے شام میں رسول الله صلی الله علیہ والہ وسلم کی نواسی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے مزار پر حملے کیے، انہی تکفیری دیوبندی گروہوں سپاہ صحابہ اور طالبان نے پاکستان میں داتا دربار، عبد الله شاہ غازی اوررحمان با با کے مزاروں پر حملے کیے، اگر دیوبندی اور سلفی وہابی اقلیت اپنی دہشت گردی سے باز نہ آئی تو سنی اکثریت کے شیر جوان ان منافقوں کو اپنے ہاتھوں سے سزا دیں گے

sufisufi1

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*