دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیم اہل سنت والجماعت کی ابلیسیت کی مظہر ایک اور ویڈیو منظر عام پر آگئی

db

انگریزی ادب میں جے ڈی سیلنگر نے 1915ء میں دی کیچر ان دی رائی نام کے ناول میں ایک سولہ سالہ کم عمر لڑکے کی شراب نوشی اور کج روئی کو دکھاکر نوجوان،کم عمر لڑکے کے بارے میں بنی متھ یعنی اسطور کو توڑ ڈالا تھا

1936ء میں سلویا پلاتھ نے “دی بیل جار “میں سلویا نام کی ایک کم سن لڑکی کی جنونیت کو موضوع بنایا گیا تھا اور آئن بینکس نے دی واسپ فیکٹری میں اس سے بھی کم عمر کے بچوں کو تخریب کاری پر مائل دکھایا

یہ سب سید کاشف رضوی نے اردو ادب کے کراچی سے آصف فرخی کی ادارت میں شایع ہونے والے ایک معروف جریدے دنیا زاد میں ائین بینکس ایک تعارف نامی مضمون میں تحریر کیا اور یہ لکھا کہ
اینگری ینگ چائلڈ کا یہ مظہر پیش کرکے یہ ادیب کوئی دور کی کوڑی نہیں لائے – زرا پاکستان کے خودکش بمباروں کی اوسط عمروں کو جاننے کی کشش کیجئے ،ان میں سے کئی ایک کی عمریں بارہ، تیرہ اور چودہ برس کی ہوتی ہیں “

سید کاشف رضوی بتاتے ہیں کہ کروایشیا کے ایک ادیب جوسپ نواکوچ نے ایک کہانی میں ایسے بچے کا زکر کیا جو اپنے ہی اسکول پر توپ کا گولہ داغتا ہے

لیکن دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان جو اب اہل سنت والجماعت کے نام سے کام کررہی ہےاینگری کڈ تیار کرنے میں سب سے سبقت لیتی جارہی ہے

اہل سنت والجماعت جوکہ دیوبندی مکتبہ فکر میں تکفیری خارجیت کا سب سے بلند آہنگ اظہار اور علامت ہے اور پاکستان میں شیعہ،اہل سنت بریلوی،ہندؤ، عیسائی اور احمدیوں کے خلاف نفرت، تشدد، دھشت گردی اور ان کی نسل کشی میں سب سے آگے ہے وہ ننھے منے اور ابھی ابھی گھٹنوں کے بل سے سیدھے پیر چلنے والے بچوں میں بھی نفرت، تشدد اور دھشت گردی کے جراثیم پیدا کرنے میں لگی ہوئی ہے اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اہل سنت والجماعت دیوبندی مسلک کا کس قدر خطرناک اور فسطائیت پر مبنی ایک فتنہ ہے جس کے شر سے معصوم بچے بھی محفوظ نہیں ہیں

مجھے یہ الفاظ اس لیے تحریر کرنے پڑے کہ حال ہی میں ایک بہت ڈسٹرب کرنے والی اور درد دل رکھنے والوں کا سکون لوٹ لینے والی ویڈیو سامنے آئی ہے

یہ وڈیو ایک ننھے منّے بچے کی ہے جس کے ہاتھ میں ایک خنجر ہے اور وہ “کافر،کافر شیعہ کافر”کے نعروں کی گردان کررہا ہے اور اپنے ہاتھ میں خنجر کو جرکت دیتا ہے گویا اس کو قدرت حاصل ہو تو یہ اہل تشیع کو ذبح کردے

یہ بچّہ اہل سنت والجماعت کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی کا بھتیجا/بھانجا ہے اور یہ محمد احمد لدھیانوی وہ ہے جو پورے پاکستان میں شیعہ،اہل سنت بریلوی کے محرم اور عید میلاد النبی کے جلوسوں،مجالس عزا اور محافل میلاد کے انعقاد کو پبلک مقامات پر اجازت دینے کا سخت مخالف ہے اور شیعہ مذھب اور اس کے ماننے والوں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا جاری رکھے ہوئے

دیوبندی مکتبہ فکر کے اندر سے جنم لینے والا تکفیری خارجیت کا یہ فتنہ جو اس وقت اہل سنت والجماعت/تحریک طالبان پاکستان،جنودالحفصہ،لشکر جھنگوی،احرار الہند،انصار المجاہدین،جیش العدل ،جیش محمد وغیرہ کے نام سے شیعہ،اہل سنت بریلوی،احمدی،ہندؤ،عیسائی،سیکولر بلوچ و سیکولر پشتونوں کے خلاف دھشت گردی پھیلا رہا ہے کم سن بچوں اور بچیوں کے اندر تکفیری خارجیت پر مبنی نفرت اور تشدد سے بھری آئیڈیالوجی کو انجیکٹ کررہا ہے اور ان کی برین واشنگ کرکے انھیں پاکستان کی مذھبی اور نسلی برادریوں کی نسل کشی کرنے کے لیے تیار کررہا ہے

یہ دیوبندی دھشت گرد تنظیمیں بچوں کے اندر انتہا درجے کا غصّہ،تناؤ،نفرت اور ان سے ملنے والی دھشت گردی کو نمو دینے کا کام کررہی ہیں

اس گھناؤنے کاروبار کو پاکستان کا مین سٹریم میڈیا چھپاتا ہے اور پاکستان کی اس وقت کی منتخب قیادت بھی دیوبندی تکفیری خارجیت کے اس کردار کو چھپانے کی پوری پوری کوشش کررہی ہے

یہ وڈیو جو نفرت،غصّے ،شدید تناؤ پر پھیلی ہے جب سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر آئی تو اس پر تبصرے کرنے والوں نے بچے میں نفرت کا زہر گھولنے والوں کی مذمت کرنے کی بجائے اس اقدام کو سراہا اور ایسے مزید بچے تیار کرنے کی تجویز بھی دی گئی

زرا اس ویڈیو کو دیکھئیے اور پھر اس ملک کے وزیر داخلہ جوہدری نثار کا پارلیمنٹ میں خطاب اور پھر پارلیمنٹ کیفے ٹیریا میں صحافیوں کے سامنے دیوبندی دھشت گردوں کو محب وطن قرار دینے اور صحافیوں سے وزیرستان کا راستہ دریافت کرنے اور ان پر طنزیہ جملے کسنے کی روش کا جائزہ لیں تو تنظیم المدارس کے مرکزی رہنماء اور بریلوی مکتبہ فکر کے عالم باعمل مفتی منیب الرحمان کا یہ بیان دیکھیں کہ چوہدری نثار کو طالبان کا سیکٹری لگ جانا چاہئیے تو معاملہ سمجھ میں آجاتا ہے

دیوبندی دھشت گردوں کی نفرت انگیز آئیڈیالوجی کے انجکشن صرف بڑی عمر کے لڑکوں،لڑکیوں کو ہی نہیں لگائے جارہے بلکہ یہ انجکشن تو انتہائی کم سن بچوں کو لگائیں جارہے ہیں اور جیسا کہ علم طب کے ماہرین کا اتفاق ہے کہ کم سن بچوں کو اینٹی بائیوٹک ہائی پوٹنسی کے انجیکشن ان کی گروتھ پر ناقابل تلافی نقصان مرتب کرتے ہیں تو یہ جو دیوبندی تکفیری آئیڈیالوجی کے انجیکشن ہیں یہ کم سن بچوں کو لگائے جارہے ہیں جن کے انتہا پسند اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں اور حکومت ہے کہ اہل سنت والجماعت کو کھلے عام کام کی اجازت دئے ہوئے ہے اور بچوں کو مذھبی جنونیت کی طرف مائل کررہی ہے

com

1

2

3

4

5

Comments

comments

Latest Comments
  1. Sabir khan
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*