Flood relief funds misused by ‘civil’ society NGOs: USAID files complaint to NAB

While we are keen to know the exact identity of the corrupt NGOs and their owners / managers, we already knew that these civil society types (the same who keep reciting an incessant corruption mantra against elected politicians) are themselves corrupt to the core. (Abdul Nishapuri)

ISLAMABAD: The United States Agency for International Development (USAID) on Thursday formally approached the National Accountability Bureau (NAB), filing complaints of misappropriation of funds by non-governmental organisations (NGOs).

According to officials, a delegation of USAID called upon the NAB chairman Justice (retd) Syed Deedar Hussain Shah and sought his help in investigating corruption, as the number of complaints aboutmisuse of funds by the NGOs is on the rise. These organisations are being funded under the Kerry Lugar Aid Programme this fiscal year.

A spokesperson for the NAB told The Express Tribune that USAID officials expressed their concerns over mismanagement in the distribution of funds in areas hit by natural disasters.

The delegation was headed by Daniel P Altman and Charles D Zimmerman, who provided preliminary details about irregularities in the distribution of funds in different social sectors, he said.

The NAB chief has decided to take prompt action against NGOs dealing with US funds for social welfare. Officials from the NAB said that the delegation requested an order for an inquiry against NGOs whose names were mentioned in the complaint.

NAB officials assured the visiting delegation that the bureau will play its due role and ensure transparent use of aid coming into Pakistan. They underscored the need to check acts of corruption and the initiation of strict action against those who cheat the public for personal gains.

Interestingly, the delegation in its complaint also mentioned the involvement of US nationals in the improper and dishonest use of such funds, according to the official statement.

It was also decided that a meeting between NAB chairman and USAID inspector general will take place next month to further strengthen the cooperation between the two organisations and to further probe the matter.

International donors have expressed their concerns in the past as well over the mechanism of distribution of money to NGOs who were reportedly involved in irregularities involving delivery of funds to the target areas.

Published in The Express Tribune, November 26th, 2010.

یو ایس ایڈ کا نیب سے تفتیش کا مطالبہ

پاکستان میں امریکی امداد کی تقسیم کے ادارے یو ایس ایڈ نے قومی احتساب بیورو کے سربراہ سے سیلاب زدگان کی امداد میں کی خورد برد کرنے کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

یو ایس ایڈ کے وفد نے نیب کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ سید دیدار حسین شاہ سے ملاقات میں ان غیر سرکاری تنظیموں سے تحقیقات کے لائحہ عمل پر بات چیت ہوئی۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کہ مطابق یو ایس ایڈ کے عہدیداروں ڈینیئل پی ایلٹ مین اور چارلز ڈی زِمرمن پر مشتمل دو رکنی وفد نے جمعرات کو نیب کے چیئرمین سے ملاقات کی۔

ان عہدیداروں نے امریکہ کے کیری لوگر بِل کے تحت، غیر سرکاری تنظیموں کے توسط سے پاکستان کے سیلاب زدگان کو ملنے والی امداد کے صحیح معنوں میں استعمال کے لائحہ عمل پر تبادلۂ خیال کیا۔

اے پی پی کے مطابق یو ایس ایڈ کے عہدیداروں نے قومی احتساب بیورو کے سربراہ کو مطلع کیا کہ انہیں غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے امداد رقوم میں خرد برد اور ان کے غلط استعمال کے بارے میں قابلِ ذکر شکایات موصول ہوئی ہیں۔ نیب کے چیئرمین نے امریکی عہدیداروں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اے پی پی کے مطابق امریکی حکومت نے پاکستان کے قومی احتساب بیورو کو چند ایک ایسی غیر سرکاری تنظیموں کے بارے میں بھی شکایت درج کرائی ہے جن میں امریکی شہری بھی شامل ہیں اور جو سیلاب زدگان کی امداد میں بدعنوانی میں ملوث بتائی گئی ہیں۔

نیب نے اس سلسلے میں فوری کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے رابطہ کاری کے ادارے اوچا کی جانب سے جاری ہونے والے تازہ بیان کے مطابق سیلاب زدگان کی بڑی تعداد، بنیادی ضروریاتِ زندگی کے لیے تاحال امداد پر انحصار کر رہی ہے۔

ادارے نے صوبہ سندھ کی صورتحال کو سب سے تشویشناک قرار دیا ہے جہاں بظاہر امدادی کیمپوں میں واضح کمی کے بعد تقریباً ساڑھے تین لاکھ پناہ گزین کیمپوں میں مقیم بتائے گئے ہیں۔ تاہم حتمی اعداد و شمار آئندہ ہفتے متوقع ہیں۔

خیبر پختونخوا اور پنجاب کے متاثرین اپنے علاقوں میں لوٹ چکے ہیں جبکہ بلوچستان میں تاحال ساٹھ ہزار متاثرین بے سر و سامانی کا شکار ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب زدگان کی امداد کے لیے شروع کیے گئے منصوبوں کے سلسلے میں تاحال انچاس فیصد امداد وصول ہوئی ہے اور ان منصوبوں کو جاری رکھنے کے لیے نناوے کروڑ چھبیس لاکھ ڈالر کی ضرورت ہے۔

Source: BBC Urdu



Latest Comments
  1. Bebus