کیا وہابیوں اور وہابی شدہ دیوبندیوں کے طرف سے اولیا الله کے مزارات پر حملے جائز ہیں؟

بد قسمتی سے گزشتہ چند عشروں میں پاکستان، افغانستان، ہندوستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں اہلسنت مسلمانوں کے اندر سعودی وہابی نظریات پھیلتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سعودی عرب کی جانب سے دنیا بھر میں ہزاروں کی تعداد میں وہابی مساجد اور مدرسوں کی تعمیر، وہابی کتابوں، ویب سائٹس اور ٹیلی ویژن چینلز کی بھرمار اور وہابی دانشوروں، مبلغین اور صحافیوں کا پراپیگنڈ ہ ہے

مثال کے طور پر پاکستان، عراق، لیبیا، مالی، سعودی عرب اور شام میں وہابی اور وہابی فکر سے متاثر شدہ تکفیری دیوبندی گروہ نے سینکڑوں مزاروں اور درگاہوں پر بم دھماکے اور خودکش حملے کیے ہیں جن میں نہ صرف صحابہ کرم، اہلبیت اور اولیا الله کے مزارات کی بے حرمتی ہوئی بلکہ ہزاروں بے گناہ سنی بریلوی، صوفی اور شیعہ مسلمان بھی وہابی و تکفیری دیوبندوں کے ہاتھوں شہید ہوۓ

اس پوسٹ میں ہم مخلتف دلائل اور تصاویر سے ثابت کریں گے کہ اولیا اللہ کے مزارات پر وہابی اور تکفیری دیوبندی گروہ کے حملے اسلاف کی سنت اور شریعت کے احکام کے مخالف ہیں

اہلسنت کے عقیدہ کے مطابق انبیا، اہلبیت، صحابہ اور اولیا کی قبور کی با قاعدہ نشاندھی اور پختہ تعمیر کی جا سکتی ہے اور ان کی قبروں کی زیارت اور ان کی برکت کے توسط سے الله کے فضل و کرم کی دعا کرنے میں کسی بھی قسم کی دینی ممانعت نہیں –

قبروں پر منظم حملوں کا آغاز سعودی وہابی مسلک کے بانی شیخ محمد ابن عبدالوہاب نے کیا – وہابی اور تکفیری دیوبندی جھوٹا الزام لگاتے ہیں کہ سنی اور شیعہ مسلمانوں کی اکثریت قبور مبارک پر جا کر سجدے کرتی ہے اور صاحب قبر کی عبادت کرتی ہے – یہ بات حقیقت کے خلاف ہے – سنی اور شیعہ مسلمانوں کی غالب تعداد قبروں کی زیارت فقط قرب الہی کی غرض سے کرتی ہے – اگر کسی ایک آدھ بے شعور شخص نے کسی قبر کو سجدہ کر لیا تو اس کا عمومی اطلاق تمام قبور اور ان کی زیارت کرنے والوں پر نہیں ہو سکتا – نہ ہی یہ امر قبور پر پر تشدد حملے کرنے کا جواز بن سکتا ہے

شرک اور بدعت کے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر بناپر وھابیوں نے قبور کی زیارتوں اور غیر خداکو پکارنے کو ممنوع قرار دیا مثلاً کوئی کہے یا محمد اور یا رسول الله – اسی طرح غیر خدا کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ قرار دینا یا قبور کے پاس نمازیں پڑھنایا اس طرح کی دوسری چیزیں ، ان سب کو شرک قرار دیدیا، اس سلسلہ میں وہ سنی اور شیعہ کے درمیان کسی فرق کے قائل نہیں ہیں۔

محمد بن عبد الوھاب کا نظریہ یہ تھا کہ جو لوگ اہلبیت، صحابہ کرم، اولیا الله عبد القادر،عروف کَرخی ، زید بن الخطاب اور زُبیر کی قبروں سے متوسل هوتے ھیں وہ مشرک ھیں اسی طرح جواھل سنت شیخ عبد القادر کو شفیع قرار دیتے ھیں ان پر بھی بھت سے اعتراضات کئے ۔ وہابیوں اور تکفیری دیوبندیوں کے مطابق جو لوگ حضرات علی، عثمان،، حسین ، موسیٰ کاظم وغیرہ کے روضوں پر اور ا عبدالقادر ،حسنِ بصری اور زبیر وغیرہ کی قبروں پر زیارت کرتے هوئے اور قبور کے نزدیک نماز پڑھتے هوئے اور ان سے حاجت طلب کرتے هوئے دیکھے کہ یہ لوگ سب سے زیادہ گمراہ ھیں اور کفر وشرک کے سب سے بلند درجے پر ھیں۔

اس بات کا مطلب یہ ھے کہ چونکہ شیعہ اور سنی قبروں کی زیارت کے لئے جاتے ھیں اور وھاں پر نمازیں پڑھتے ھیں اور صاحب قبر کو وسیلہ قرار دیتے ھیں لہٰذا کافر ھیں، اسی عقیدہ کے تحت وھابی اور تکفیری دیوبندی اپنے علاوہ تمام سنی، شیعہ مسالک کو کافر یا مشرک قرار دیتے ہیں اور تمام ممالک کو دار الکفر (کافر کے ممالک) کہتے ھیں اور اس ملک کے رہنے والوں کو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں۔

یہی وہ تکفیری فکر ہے جو اکابر اہلسنت ائمہ کے طرز عمل کے خلاف چلتے ہوۓ سنی صوفی بریلوی مسلمانوں کو مشرک اور شیعہ مسلمانوں کو کافر قرار دیتی ہے جبکہ یہ امر واضح ہے کہ امام ابو حنیفہ نے کبھی شیعہ مسلک کی تکفیر نہیں کی اور اسی طرح سنی صوفی مسلک اور مزار بنانے کو شرک قرار دینا بھی وہابیوں اور تکفیری دیوبندیوں کا من گھڑت عقیدہ اور بدعت ہے

اسی طرح وھابی علماء میں سے شیخ حَمَد بن عتیق نے اھل مکہ کے کافر هونے یا نہ هونہ کے بارے میں ایک رسالہ لکھا جس میں بعض استدلال کے بناپر ان کو کافر شمار کیا، یہ اس زمانہ کی بات ھے جب وھابیوں نے مکہ شھر کو فتح نھیں کیا تھا۔ جن شھروں یاعلاقوں کے لوگوں میں جو نجدی حاکموں کے سامنے تسلیم هوجاتے تھے ،ان سے
قبول توحید کے عنوان سے بیعت لی جاتی تھی۔

وہابیوں کے یہاں زیارت نام کا کوئی عمل نھیں ھے، چنانچہ اسی نظریہ کے تحت تمام قبریں مسمار کردی گئیں اور روضہ رسول کو اس کی حالت پر چھوڑ دیا گیا، اور اس وقت اس طرح ھے کہ کوئی بھی آپ کی قبر مطھر کے نزدیک نھیں هوسکتا ھے اور آپ کی قبر مطھر ھر گز دکھا ئی نھیں دیتی ۔روضہ منورہ کے چاروں طرف دیوار ھے اور ھر طرف ایک حصے میں جالی لگی هوئی ھے اور ان جالیوں کے پاس وھاں کے شرطے (محافظ) کھڑے رھتے ھیں او راگر کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روضہ کی جالی کے نزدیک هونا یا ھاتھ لگانا چاھتا ھے تو وہ روک دیتے ھیں، اور اگر کوئی شرطوں کی غفلت کی وجہ سے جالیوں کے اندر سے جھانک کر دیکھتا بھی ھے تو پھلے تو وھاں تاریکی نظر آتی ھے اور جب اس کی آنکھیں کام کرنا شروع کرتی ھیں تواندر دکھائی دیتا ھے کہ ایک ضخیم پردہ ھے جو قبر کے چاروں طرف زمین سے چھت تک موجود ھے لہٰذا قبر مطھر کو بالکل دیکھا نھیں جاسکتا۔

اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ھے کہ قبور کی زیارت، اسی طرح قبروں پر عمارت یا گنبد بنانا شروع ھی سے اسلامی فرقے اپنے بزرگوں کی قبروں پر بھترین عمارتیں بنایا کرتے تھے ان کے لئے بھت سی چیزیں وقف بھی کیا کرتے تھے اور ان کی زیارت کے لئے بھی جایا کرتے تھے اب بھی یہ سلسلہ جاری وساری ھے۔

بغداد میں ابوحنیفہ کی قبر پر ایک قدیمی بڑااور سفید گنبد اب بھی موجود ھے، جس کی ابن جُبیر نے توصیف بھی کی ھے اور آج بھی ابو حنیفہ کی قبر کا گنبد بھت خوبصورت ھے جس کی دور اور نزدیک سے ہزاروں لوگ زیارت کے لئے جاتے ھیں، اسی طرح احمد ابن حنبل کی قبر اوربغداد میں شیخ عبد القادر جیلانی کی قبر ، اسی طرح مصر کے قرافہ شھر میں امام شافعی کی قبرمذاھب اربعہ کے بزرگوں کی بھت سی قبریں مختلف اسلامی ملکوں میں زیارتگاھیں بنی هوئی ھیں۔

ابن خلکان کھتا ھے: ۴۵۹ھ میں شرف الملک ابو سعد خوارزمی ،ملک شاہ سلجوقی کے مستوفی (حساب دار) نے ابو حنیفہ کی قبر پر ایک گنبد بنوایا اور اس کے برابر میں حنفیوں کے لئے ایک مدرسہ بھی بنوایا ، ظاھراً ابو سعد نے مذکورہ عمارت ”آلُپ ارسلان سلجوقی“ کی طرف سے بنوائی ھے

اسی طرح ”ابن عبد البِرّ“ (متوفی ۴۶۳ھ)کی تحریر کے مطابق ، جناب ابو ایوب انصاری کی قبر قسطنطیہ (اسلامبول) کی دیوار کے باھر ظا ھرھے اور لوگوں کی تعظیم کا مر کزھے اور جب بارش نھیں هوتی تو وھاں کے مسلمان ان سے متوسل هوتے ھیں۔

ابن الجوزی ۳۸۹ھ کے واقعات کو قلمبند کرتے هوئے کھتا ھے کہ اھل سنت مُصعب بن الزبیر کی قبر کی زیارت کے لئے جاتے ھیں جس طرح شیعہ حضرات امام حسین کی قبر کی زیارت کے لئے جاتے ھیں۔

ابن جُبیر، چھٹی صدی کا مشهور ومعروف سیاح اس طرح کھتا ھے کہ مالکی فرقہ کے امام، امام مالک کی قبر قبرستان بقیع میں ھے ، جس کی مختصر سی عمارت اور چھوٹا ساگنبد ھے اور اس کے سامنے جناب ابراھیم فرزند رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر ھے جس پر سفید رنگ کا گنبد ھے۔

مذاھب اربعہ کے بزرگوں کی قبروں پر گنبدهونا ، ان پر عمارتیں بنانا،ان کے لئے نذر کرنا ، وھاں پر اعتکاف کرنا ،ان سے توسل کرنا ،صاحب قبر کی تعظیم وتکریم کرنا او روھاں دعا کے قبول هونے کا اعتقاد رکھنا بھت سی تاریخی کتابوں میں موجود ھے اور اس وقت بھی قاھرہ، دمشق اور بغداد اور دوسرے اسلامی علاقوں میں ان کے بھت سے نمونے اور قبروں پر مراسم هوتے ھیں جنھیں آج بھی دیکھا جاسکتا ھے۔

دور حاضر کے معروف اہلسنت عالم دین مولوی علی احمد سلامی المعروف مولوی نذیر احمد کے مطابق اولیا الله کے مزاروں پر حملہ کر نے والے وہابی اور دیوبندی مسلمانوں کے نصی، ظاہری اور جذباتی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں

===================

نصی، ظاہری، جذباتی گروہ: یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کی ایک عبارت یا اسی نص قرآن کو اپنے اعمال کی بنیاد قرار دیتے ہیں اور جذباتی انداز میں عمل کرتے ہیں۔ یعنی وہ قرآنی نصوص اور عبارات کو رسول خدا(ص)، ائمہ اور اصحاب کے عمل کی کسوٹی پر نہیں پرکھتے کہ اس طرح اس سے ایک مشترکہ صورت نکال سکیں۔ یہ لوگ اکثرا جاہل، ناخواندہ اور کم بصیرت ہیں، حتی کہ وہ اپنے منہج و روش کے بھی پابند نہیں ہیں۔ اس طبقے کے افراد علمی لحاظ سے بہت نیچے اور جاہل ہیں۔ جو لوگ دوسروں کی تکفیر کرتے ہیں ان کا تعلق اسی گروپ سے ہے۔ اس گروہ کے بعض افراد سلفی بھی ہیں۔ اس گروہ کے سلفی اپنے آپ کو وہابی نہيں سمجھتے بلکہ سلفی سمجھتے ہیں؛ لیکن ہم انہيں وہابی کہتے ہیں۔ وہ قرآن و سنت کی ظاہری صورت کی طرف توجہ دیتے ہیں اور دوسروں کو مسلمان نہيں سمجھتے۔ ان لوگوں کی روش ان ہی وہابیوں کی مانند ہے جو دوسری صدی ہجری میں گذرے ہیں (جو خارجی تھے)۔

یہ جو مقدس مقامات کو تباہ کرتے ہیں اگر سلفی ہوں تو میں نے عرض کیا کہ یہ نصی، ظاہری اور جذباتی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ قبر کو گنبد و بارگاہ بنانا اور اینٹ اور سیمنٹ سے کام لینا نادرست ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ “ہمارے پاس روایت ہے کہ قبر کے اوپر عمارت اور گنبد تعمیر نہیں کرنا چاہئے۔ لیکن مسلمانوں میں سے ایسے افراد بھی ہیں جو قبور کے اوپر عمارت اور گنبد بنانے کے قائل ہیں۔ پس حکومت شام کے مخالفین کو دوسروں کے اعتقادات کا احترام کرنا چاہئے۔ وہابی مخالفین اگر اس امر کے معتقد نہیں ہیں تو وہ خود قبور پر عمارت اور گنبد و بارگاہ نہ بنائیں۔ دوسروں کے اعتقادات پر حملہ نہيں کرنا چاہئے۔ ان مقابر کا انہدام جرم ہے اور باعث گناہ ہے۔ مراقد کا انہدام ـ نہ صرف اس لحاظ سے کہ رسول اللہ(ص) کے فرزندوں کا مدفن ہیں ـ جائز نہیں ہیں بلکہ مقدسات اور بزرگوں کے مراقد کی تخریب شرعی لحاظ سے بھی جائز نہيں ہے کیونکہ جن لوگوں نے یہ مراقد بنائے ہیں وہ اس پر عقیدہ رکھتے ہیں اور لوگوں کے معتقدات کو محفوظ رہنا چاہئے۔

قرآن مجید نے تو یہ تک فرمایا ہے کہ “َلاَ تَسُبُّواْ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ”، تم ان لوگوں کی بےحرمتی بھی مت کرو جو غیر خدا کی پرستش کرتے ہیں ۔۔۔؛ خلاصہ یہ کہ شرعی لحاظ سے مقامات مقدسہ، مساجد، امام بارگاہوں افراد کے مقابر وغیر کی توہین و تخریب کا حق نہيں پہنچتا۔ وہابی گروہ نے صرف بقیع کو منہدم نہيں کیا بلکہ جہاں بھی گنبد و بارگاہ کو دیکھا، سوائے بارگاہ نبوی کے، سب کو منہدم کیا۔ ان کی دستاویز ایک روایت ہے کہ “لا بناء علی القبر” (قبر پر عمارت نہیں بنانا چاہئے)، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ گنبد و بارگاہ کا انہدام صاحب قبر کی توہین نہیں ہے- عثمانیوں کے زمانے میں شہدائے بدر کے لئے اور مدینہ کے لئے گنبد و بارگاہ بنانے کا اہتمام کیا گیا۔ لیکن جب یہ وہابی برسر اقتدار آئے تو انھوں نے تمام تعمیرات کو ویران کردیا۔ وہابیوں کے اس اقدام پر علمائے اسلام کی ایک بڑی تعداد اور خاص طور پر عثمانی معترض ہوئے جنہوں نے ان گنبدوں کی تعمیر کا اہتمام کیا تھا اور دنیائے اسلام میں تنازعہ کھڑا ہوگیا لیکن انھوں نے کوئی توجہ نہ دی اور چونکہ اقتدار ان کے ہاتھ میں تھا اس لئے گنبد و بارگاہ کو منہدم کیا۔ ہم ان اقدامات کو جائز نہيں سمجھتے۔ آثار کو باقی رہنا چاہئے۔ وہ آثار جو ظاہر کرتے ہيں کہ قبر فلان شخص کی ہے، انہيں رہنا چاہئے۔ قبور ان کتبوں اور آثار سےپہچانی جاتی ہیں جو باقی رہتی ہیں۔ یہ اعمال درست نہیں ہیں۔

=================

یہ بات قابل غور ہے کہ سنی مسلک کے چار عظیم المرتبت ائمہ امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد ابن حنبل کے مزارات آج بھی موجود ہیں جن پر لاکھوں لوگ عقیدت اور برکت کی غرض سے حاضری دیتے ہیں

بر صغیر میں دیوبندی اور بریلوی مسلک کے لیے یکساں قابل احترام بزرگان جیسا کہ شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی، شاہ ولی الله اور دیگر شامل ہیں کے مزارات آج بھی مرجع خلائق ہیں – بد قسمتی سے پاکستان میں وہابی شدہ دیوبندی تکفیری جماعتوں سپاہ صحابہ (نام نہاد اہلسنت والجماعت)، طالبان وغیرہ نے اولیا الله کے مزارات جیسا کہ بری امام، داتا گنج بخش، داتا گنج شکر، عبداللہ شاہ غازی، رحمان بابا وغیرہ پر حملے کر کے ان مزارات کی بے حرمتی کی اور ہزاروں سنی و شیعہ مسلمانوں کو شہید کیا

یہ وہی فکر ہے جس نے سعودی عرب میں حضرت عثمان، حضرت فاطمہ اور حضرت امام حسن کے مزارات منہدم کیے اور شام میں حضرت عمار یاسر اور حضرت حجر ابن عدی جیسے عظیم صحابیوں کے مزارات کو تباہ کیا

http://abna.ir/data.asp?lang=6&Id=475025
http://www.al-shia.org/html/urd/din/0018.htm

1

Sample of Deobandi and Wahhabi propaganda against the graves of the Aulia-Allah.

 prophet 2

prophet

prophet 4

baqi

hajj 1924

 

usman 2

usman

 

Hazrat Usman’s grave in Medina, demolished by Wahhabis

ibrahim

Hazrat Ibrahim’s grave in Palestine

hanif 2

hanif 4

hanif 3

shafi 2

hbanbal

bukhari 2

bukhari 1

 

Maqbara of Imam Shafee

 

shafi

 

hajr

IbnTamiyyah Grave

 

Ibn Taymiyya’s grave

sayuti

muj 8

 

muj 9

 

muj 7

 

muj 6

 

 

muj 5

muj 4

roza muj 3

roza of muj

roza of mujaddid

muj 12

 

 

wali

wali and father

wali 6

wali 5

 

wali 11

wali10

 

 

wali 4

wali 3

 

wali 1

mazaar-of-shah-waliullah

پاکستان میں اولیا الله کے مزاروں پر دیوبندی دہشت گردوں سپاہ صحابہ و طالبان کے حملوں کے کچھ مناظر

a4

a2

a1

a3

Comments

comments

Latest Comments
  1. Sarah Khan
    Reply -
  2. Sarah Khan
    Reply -
  3. umar maaviya
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*