راولپنڈی عاشورہ سانحہ کی خفیہ ویڈیو منظر عام پر آ گئی

aswj

خفیہ اداروں کی جانب سے راولپنڈی عاشورہ سانحہ کی خفیہ ویڈیوکو منظر عام پر لے آیا گیا ہے – ویڈیو سے صاف ظاہر ہے کہ پر امن عاشورہ جلوس پر دیوبندی مسجد کی چھت سے کالعدم دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ کے لوگوں نے پتھراؤ کیا  جلوس میں شیعہ اور سنی بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والے بچوں، عورتوں اور مردوں کی بڑی تعداد سپاہ صحابہ کے تکفیری خوارج کے پتھراؤ سے شدید زخمی ہوئی جبکہ پنجاب پولیس کے اہلکار خاموش تماشائی بن کر کھڑے رہے – اس سے پہلے خفیہ ادارے اپنی رپورٹ میں بتا چکے ہیں کہ مسجد میں موجود مولوی امان الله اور مولوی اشرف علی نے کافر کافر شیعہ کافر، مشرک مشرک بریلوی مشرک اور یزیدیت زندہ باد کے نعرے لگائے

یاد رہے کہ سوشل میڈیا میں موجود سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں اور ان کے ہمنواؤں جیسا کہ محسن حجازی، احمد لدھیانوی وغیرہ نے الزام لگایا تھا کہ شیعہ دہشت گردوں نے دیوبندی مسجد میں بے گناہ بچوں کو ذبح کر دیا – اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ عاشورہ جلوس پر حملہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا اور مسجد کے سپیکر سے اشتعال انگیز تقریر اور نعروں کے علاوہ جلوس پر شدید پتھر باری کی گئ اور گولیاں بھی چلائی گئیں جس میں کم از کم چار شیعہ اور سنی بریلوی شہید اور متعدد زخمی ہوۓ

اس افسوسناک سانحے کے بعد سپاہ صحابہ کے دیوبندی دہشت گردوں نے راولپنڈی شہر میں آٹھ سے زیادہ شیعہ مساجد پر حملہ کر کے چار کو مکمل طور پر جلا دیا اور سینکڑوں قران بھی جلائے

نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ رانا ثنااللہ اور شہباز شریف کے اشارے پر راولپنڈی شہر میں پانچ سو سے زائد شیعہ مسلمانوں کو گرفتار کر کے ان پر شدید ترین تشدد کیا جا رہا ہے اس تشدد میں آئی ایس آئی کے ساتھ سپاہ صحابہ کے لوگ بذات خود شریک ہیں اور شیعہ اسیروں کو ذہنی اذیت پہنچانے کے لئے انھیں کافر کافر شیعہ کافر کہ کر پکارا جا رہا ہے – لیکن سپاہ صحابہ کے ایک بھی دیوبندی دہشت گرد بشمول مولوی امان الله، مولوی اشرف علی ، اور راولپنڈی و راجہ بازار کے سپاہ صحابہ کے لیڈر گرفتار نہیں ہوۓ

—————

مجلس وحدت مسلمین کا بیان

حقیقتوں کو ضرورت نہیں دلائل کی: سانحہ راولپنڈی۔ کیمرے کی آنکھ سے

روالپنڈی میں 10 محرم الحرام کے مرکزی جلوس میں پیش آنے والا سانحہ ایک ایسا خنجر ہے جو پاکستان دشمن دہشت گرد وں کی خواہشات کے عین مطابق غافل اور لاپرواہ انتظامیہ یا پھر فتح کے نشے میںچور پنجاب حکومت میں موجود دہشت گردوں کے پشت پناہوں کی حوصلہ افزائی نے ہم پاکستاینوں کی پشت میں گھونپا ہے ۔

روز عاشور کا یہ سانحہ اپنے اندر اتنی پرتیں رکھتا ہے کہ جو عشروں ہمارے معاشرے کی نہ صرف تنزلی کا باعث بننے والے رویوں کا اظہار کرتا رہے گا بلکہ منفی رجحانات کا باعث بھی بنے گا ۔ جسکی سادہ سی مثال یہ ہے کہ اس سانحہ کے بعد ہمارے مکتب فکر کو مسلسل یکطرفہ پروپیگنڈہ کاسامنا ہے اور بدقسمتی سے جلوس میں شامل نواسہ رسول (ص) کے عزاداروں کا نکتہ نظرکوئی پیش نہیں کرنا چاہتاجس کو کہ نا معلوم مصلتحوں کی بھینٹ چڑھایاجا رہا ہے، نتیجتاً افواہوں کا طوفان برپا ہے جس میں خطرناک ترین افواہ طالبان کی طرز پر بچوں کو ذبح کرنے کی ہے۔ اس افواہ کو حقیقت ثابت کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تصاویر لگائی گئیں۔ خدا کا شکر ہے کہ جلد ہی وہ تصاویر جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئیں ۔ اور ہم سب یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ کربلا میں اولاد پیغمبر (ص) کو ذبح کرنے والے کون لوگ تھے اور آج پاکستانیوں کو ذبح کرنے والے کون لوگ ہیں؟

یوں تو میڈیا کے یکطرفہ رویے کے ثبوت میں متعدددلائل پیش کیے جا سکتے ہیں لیکن صرف چند پیش خدمت ہیں

مدرسہ/مسجد کی چھت سے ہونے والے پتھراؤ اور فائرنگ کی فوٹیج جو ابتدا میں آن ایئر ہوئیں، ان میں حقیقی صورت حال کو پیش کیا گیا جس کا ثبوت تھانہ گنج منڈی میںپولیس کی جانب سے کاٹی گئی ایف آئی آر ہے جو واقعہ کی اصل بنیاد کو واضح کر رہی ہے لیکن بعد میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر ان کو غائب کر دیا گیا بلکہ حقیقت کے بر عکس مسجد سے اشتعال انگیز تقاریر، پتھراؤ اور فائرنگ کے رد عمل کو دکھا کر یہ تاثر پیدا کیا جاتا رہا ہے کہ شاید یہ کام ہمارے مکتب فکر کے لوگوں کا ہے۔

میڈیا پر کوئی بھی یہ حقیقت نہیں بتا رہا کہ جلوس کے شرکاء نے اس اشتعال انگیزی کے باوجود موقع کے علاوہ کسی دوسری جگہ پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا اور جلوس حسب روایت اپنے مقررہ راستوںسے ہوتا ہوا ہمیشہ کی طرح پرسکون انداز میں رواں دواں رہا اور اپنی سابقہ روایات کے مطابق کسی قسم کی جوابی کاروائی کے بغیر اختتام پذیر ہوا۔

 میڈیا پر ابتدائی ٹیلی ویژن فوٹیج میں بہت واضح ہے کہ آگ مارکیٹ کے پچھلی جانب سے لگتی ہے جہاں پر پولیس کا قبضہ تھا جب کہ شرکاء جلوس مارکیٹ کے سامنے کی جانب تھے، تو پھر یہ سوال کیوں نہیں پوچھا جا رہا ہے کہ یہ آگ مولانا کی اشتعالی تقریر کے علاوہ کس نے اور کیوں لگائی تھی؟

 پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں کسی بھی اخبار یا چینل کو یہ خیال کیوں نہیں آیا کہ حکومت کے وزیر قانون سے پوچھے کہ آخر کیوں کرفیو کے باوجود جب کہ ہر طرف قانون کا پہرہ تھا، چار امام بارگاہوں کو کیسے جلا دیا گیا؟ اور مزید تین امام بارگاہوں پر مسلح دہشت گردوں نے کس کی پشت پناہی اور بھروسے پر حملہ کیا؟ مزید یہ کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان حملہ آوروں میں سے کتنے لوگوں کو گرفتار کیا؟ اور جن لوگوں کے نام ایف آئی آر میں درج تھے وہ ابھی تک آزاد کیوں پھر رہے ہیں؟

 ہمیں انتہائی افسوس سے یہ بھی بتانا پڑ رہا ہے کہ جب ہم نے اس صورت حال کی وضاحت کے لیے روزنامہ ’’جنگ‘‘ سے رابطہ کرتے ہوئے اشتہار شائع کرنے کی درخواست کی جو دراصل ہمارے مکتب فکر کی جانب سے تاریخی حقائق اور امن کی اپیل پر مشتمل تھا، تو اسے(اشتہار) انہوں نے شائع کرنے سے انکار کر دیا۔ شکریہ اس اخبار کا جس نے ہمارے اور ہمارے اہل سنت بھائیوں کے امن کے اشتہاروں کو شائع کیا جو واضح طور پر بتا رہے تھے کہ اس تمام واقعہ کے ذمہ دار فقط شیعہ اور اہل سنت افراد ہی نہیں ہیں۔ ہم اس اخبار اور ان تمام افراد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس موقع پر امن اور بھائی چارے کے لیے کوششوں میں اپنا کردار اد اکیا۔

 ٹی وی پر ایک فوٹیج بار بار دکھائی جا رہی ہے جس میں کچھ لوگ پولیس سے اسلحہ چھین رہے ہیں اور کچھ لوگ منع کررہے ہیں جو بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ کہ جلوس عزاء میں شریک لوگ اسلحہ اپنے ساتھ نہیں لائے تھے بلکہ رد عمل کے طور پر یہ سب کچھ ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طالبان کے خود کش حملوں کو ’’ڈرون حملوں‘‘ کے رد عمل کے طور پر جائز قرار دینے والوں کی زبانیں اس رد عمل کو حملہ، دہشت گردی اور نہ جانے کیا کیا قرار دے رہی ہیں اور میڈیا جس کو سوال اٹھانے اور خود کو غیر جانب دار قرار دینے کا شوقین ہے، گنگ بیٹھا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد تحقیقات کے نام پر جو یکطرفہ انتقامی کاروائیاں کی گئیں وہ نہ صرف جانبدارانہ بلکہ غیر قانونی بھی ہیں ۔ شریف اور عزت دار لوگوں کو صرف اس بنیاد پر کہ وہ جلوس میں موجود تھے ( جنہیں ہونا بھی چاہیے تھا اور ان کا حق بھی ہے) گھروں کے دروازے توڑ کر بغیر کسی وارنٹ کے جس طرح سے اٹھایا جا رہا ہے اس نے مارشل لاء ادوار کی یاد تازہ کر دی ہے۔ چادر اور چاردیواری کی تکریم کے قانون کی دھجیاں بکھیر دی گئیں لیکن آزاد میڈیا ’’خاموش رہنے کی آذادی‘‘ سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ اگر میڈیا جاننا چا ہے تو اسے معلوم ہو گا کہ ایسے نوجوان اور بزرگ بھی اس غیر قانونی گرفتاریوں کا شکار ہو رہے ہیں جو سرے سے وہاں موجود ہی نہیں تھے بلکہ دوسری جگہ عزاداری میں مصروف تھے۔ ایسے ہی ایک فرد نے رہائی کے بعد غیر قانونی طور پر گرفتار ہونے والوں پر ذہنی اور جسمانی تشدد کی جو تصویر کشی ہے وہ جمہوری اور جمہوریت کے علمبردار میڈیا پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ کاش! وہ سمجھ سکے کہ اگر اس نے وقت پر ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ رد عمل کے طور پر لوگ منفی راستے کی دیکھنا شروع کر دیں خاص طور پر اس وقت جبکہ بے شمار گروہ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنے جال بچھائے بیٹھے ہیں۔

نہ قابل فہم بات یہ بھی ہے کہ اس سانحہ میں جو لوگ ہلاک ہوئے وہ راولپنڈی کے بیان کے مطابق نہ تو متعلقہ مدرسے کے طالب علم تھے اور نہ ہی ان لوگوں کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ سوال یہ ہے کہ ان افراد کو وہاں کون اور کیوں لایا؟

ایک انتہائی اہم بات یہ بھی ہے کہ جن لوگوں نے اوپر سے پتھر برسائے اور فائرنگ کر کے اس واقعہ کی ابتدا کی ان پر معمولی دفعات لگائی گئیں تاکہ ان کو ضمانت کی سہولت دی جا سکے جب کہ رد عمل کے طور پر اپنا بچاؤ کرنے والوںپر دہشت گردی کی دفعات لگائی جا رہی ہیں اور وہ بھی بلا امتیاز ہر اس شخص پر جو ویڈیو میں نظر آ رہا ہے، یہاں تک کہ جو لوگ وہاں موجود نہیں تھے وہ بھی ان دفعات کا شکار ہیں۔

یہ سانحہ کیوں ہوا؟ اس کی تفصیلات کیا ہیں؟ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے لیکن حیرت انگیز طور پر اس واقعہ کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی بھی سوچنے والے ذہن میں بے شمار سوالات کھڑے کر دیتا ہے۔ اہل دانش اور میڈیا یہ سوال کیوں نہیں پوچھ رہے کہ

 کیا دکانیں جلانے کی وجہ دوکانداروں سے انخلاء کے مقدمات کا شاخسانہ تو نہیں؟ کیوں کہ اگر شرکائے جلوس رد عمل کے طور پر ایسا کرتے تو پھر دکانیں سامنے سے جلنا چاہئیں تھیں۔

 اس مدرسہ سے متعلقہ مارکیٹ جو کہ اوقاف کی ملکیت تھی، ضیاء الحق کے دور میں اس مدرسہ کو کیوں عنایت کی گئی؟ ان دوکانوں کی پگڑی پہلے کس نے وصول کی تھی اور اب کون وصول کرے گا؟

 مساجد کے نام پر قبضہ مافیا اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے جس طرح مذہب کو استعمال کر رہا ہے کیا وہ خود ایک بڑا مسئلہ نہیں؟

 اس مدرسے سے ہی ہمیشہ مذہبی منافرت اور اشتعال انگیز تقاریر کیوں کی جاتیں ہیں؟ اور ایسا کیوں ہوتا ہے کہ محرم الحرام یا ربیع الاول کے جلوسوں پر اعتراض کرنے والے ان تکفیریوں پر کوئی قدغن نہیں لگائی جاتی؟

 جلوسوں پر پابندی کا مطالبہ کرنے والے اپنے احتجاجی جلوسوں پر خود پابندی کیوں نہیں لگاتے؟
کیا یہ معلوم نہیں کیا جانا چاہیے کہ ان حضرات کے قائم کردہ مدارس جو جگہ جگہ پھیلے ہوئے ہیں، ان میں مقامی بچوں کی تعداد زیادہ ہے یا غیر مقامی بچوں کی؟

 کیا یہ بچے پاکستانی ہی ہیں یا افغانستان سے ہزاروں یتیم بچوں کو لایا جا رہا ہے؟نیزکہیں ان بچوں کو خود کش حملوں کے لیے تو تیار نہیں کیا جا رہا؟

 اگر ایسا ہے تو پھر کیا ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ دہشت گردی کا یہ طوفان ہمارے اپنے معاشرے کی علمی، تہذیبی، مذہبی اور معاشرتی روایات کو کس طرح متاثر کر رہا ہے؟

۔ یہ سب کچھ اس ملک میں ہو رہا ہے جہاں مشرقی پاکستان میں آباد پاکستانیوں کو آبادی میں اضافے سے ہونے والے عدم توازن کی بنیاد پر قبول کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔

سوال یہ بھی ہے کہ:

۔ سانحہ عاشورہ روالپنڈی کی بنیاد ڈالنے والے مولوی کی اشتعال انگیز تقریر کے باوجود ( جس کی ابتدائی تحریری رپورٹ پولیس نے دی تھی)اس کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟

۔ متعلقہ مسجد سے پتھراؤ اور فائرنگ کرنے والے افراد( جن کو ابتدائی ٹیلی ویژن فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے) کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟

۔ جن پر امن تاجروں کی دکانیں جلائی گئیں ان کو مذہب کے نام پر مشتعل کس نے کیا؟

۔ کیا یہ سب کچھ دکانیں خالی کرانے کی سازش تو نہیں؟

ضرور غور کیجئے

یہی جگہ ہمیشہ حساس کیوں رہی ہے؟ (ماضی کی پولیس/ایجنسیوں کی رپورٹس اور اخبارات کے صفحات اس بات کے گواہ ہیں)۔

 اس جگہ سے جلوس کے وقت اشتعال انگیز تقریر کیوں کی گئی اور مدرسے کی جانب سے پتھراؤ کے بعد موقع پر موجود پولیس لوگوں کی حفاظت کی بجائے وہاں سے کیوں بھاگی؟ ( جس کی وجہ سے ایک طرف شرکائے جلوس میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا تو دوسری طرف دہشت گردوں کو دہشت گردی کا موقع بھی ملا)۔

 جلوس کے شرکاء بار بار درخواست کرتے رہے لیکن پولیس نے جلوس کے بچاؤ کے لیے کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا؟

۔ مسجد کے سامنے والی بلڈنگ کی چھت پر ڈیوٹی پر موجود دو پولیس والوں کو فساد کی ابتداء کرنے والوں پر ہوائی فائرنگ کا حکم کیوںنہیں دیا گیا؟

 سٹرک پر اتنی بڑی بڑی انٹیں کیا شرکائے جلوس (تمام تلاشی کے مراحل سے گزر کر) اپنی جیبوں میں بھر کر لائے تھے؟ یا پھر دہشت گرد اوپر سے پھینک رہے تھے؟

سچ تو یہ ہے کہ سنی اور شیعہ حضرات یہاں صدیوں سے باہم مل کر رہتے چلے آ رہے ہیں اور رہتے رہیں گے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ہمارا ملک مذہبی منافرت کے لیے نہیں بلکہ بھائی چارے کی بنیاد پر قائم ہوا تھا اور ہم سب نے باہم مل کر اس ملک کو بنایا تھا۔ تحریک پاکستان میں دونوں شانہ بشانہ شامل تھے اور آئندہ بھی یک جاں دو قالب کی عملی تصویر بن کے رہیں گے۔ انشاء اللہ

جن حضرات نے کیپٹل ٹیلی ویژن پرامام بارگاہ حفاظت علی شاہ کی فوٹیج دیکھی ہے وہ ان اہل سنت بھائیوں کی گفتگو دیکھ سکتے ہیں جو انہوں نے اس موقع پر ٹی وی کیمرے کے سامنے کی اور انہوں نے بتایا کہ ہم 65سال سے مل جل کر رہ رہے ہیں، آج تک ہمارے درمیان کسی قسم کی بدمزگی پیدا نہیں ہوئی اور ہم عزاداری میں برابر کے شریک ہیں۔

Comments

comments

Latest Comments
  1. hurriyat abbaas
    Reply -
  2. umar maaviya
    Reply -
    • asad-e-ali(as)
      Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*