مڈل ایسٹ بدل رہا ہے

مڈل ایسٹ بدل رہا ہے

ایرانی صدر حسن روحانی نے مذاکرات اور صلح جوئی کو پھر سے اہم تر ثابت کردکھایا ہے اور اس میں روسی صدر پیوٹن،چین کی قیادت اور امریکی صدر اوبامہ کا کردار بھی اہم ہے
ایرانی صدر حسن روحانی نے مذاکرات اور صلح جوئی کو پھر سے اہم تر ثابت کردکھایا ہے اور اس میں روسی صدر پیوٹن،چین کی قیادت اور امریکی صدر اوبامہ کا کردار بھی اہم ہے

ایران-امریکہ ڈیل،مڈل ایسٹ بدلنے لگا

لیل و نہار/عامر حسینی

ایران اور دنیا کی چھے عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے نیو کلئیر ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ایک عبوری معاہدہ طے پاگیا ہے-ایران نے عالمی طاقتوں کی بات مان کر اپنی یورونیم افزدگی کے حق کو 5 فیصد کرنے اور اس سے زائد یورونیم کو تباہ کرنے کی حامی بھر لی ہے-جبکہ یو این او کے انسپکٹرز کو ایران کی ایٹمی تنصیباتکے معائنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے-اس ڈیل کو ممکن بنانے میں ایک طرف ایران کے اتحادیوں چین،روس کا بہت اہم کردار ہے تو دوسری طرف اس ڈیل کو ممکن بنانے میں امریکہ نے بہت ہی بڑا کردار ادا کیا ہے-

ایران کے ماضی قریب میں ہونے والے انتخابات میں جب اصلاح پسند،معتدل رجحان رکھنے والے حسن روحانی کامیاب ہوئے تو انہوں نے امریکہ اور یورپ کو کہا کہ وہ عالمی برادری سے ایران کے ایٹمی پروگرام پر بامقصد مذاکرات کرنا چاہتے ہیں-ایران کے نومنتخب صدر حسن روحانی نے ایران کی آئینی طور پر سب سے طاقتور کونسل شوری نگہبان کے صدر آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ بھی اس معاملے پر ڈسکس کیا اور آیت اللہ خامنہ ای نے حسن روحانی کو اپنی حمائت کا پورا یقین دلایا-حسن روحانی نے جب ایران کے وجودہ ولی العصر کی حمائت جیت لی تو یہ ایران میں سخت گیر ،انتہا پسند حلقوں کے لیے ایک شدید صدمہ تھا جو امریکہ سے کسی بھی صورت مذاکرات کرنے کے حامی نہ تھے-لیکن ایران میں خود قدامت پرستوں کو علم تھا کہ ایران آئل انڈسٹری اور بینکنگ سیکٹر کی تباہی افورڑ نہیں کرسکتا اور یہ کھلی خود کشی ہوگی-ایران میں افراط زر 40 فیصد اور ایرانی کرنسی کی ویلیو ڈالر کے مقابلے میں 50 فی صد سے زیادہ گراوٹ کا شکار ہوسکتی تھی-ایران میں غربت تیزی سے بڑھ رہی تھی اور مڈل کلاس کی بے چینی میں اضافہ عروج پر تھا-ایران یورپ اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے کٹ کر صرف روس،چین کے سہارے اپنی معشیت کو بچا نہیں سکتا تھا-یہ سارے حقائق نہ صرف اصلاح پسندوں کو معلوم تھے بلکہ ان سے خود ایرانی بنیاد پرست حلقے جو فوج،انٹیلی جنس ایجنسیوں،پریس،عدلیہ پر اب بھی بہت گرفت رکھتے ہیں بھی بخوبی واقف تھے-اس لیے ایرانی سرکار کے عقابوں نے بھی اس ڈیل میں روڑے اٹکانے سے گریز کیا-

دوسری جانب امریکہ کے پالیسی ساز اداروں اور سرکار کے قریب سمجھے جانے والے تھنک ٹینکس نے بھی مڈل ایسٹ میں اب تک کی پالیسیوں میں تبدلیلی لانے بارے سوچ و بچار کرنا شروع کردی تھی-امریکہ نے شام کے مسئلے پر جس طرح سے روس اور چین کی ڈپلومیسی کو وقعت دی اور مڈل ایسٹ میں اپنے روائتی اتحادیوں یعنی سعودیہ عرب اور گلف ریاستوں کی مرضی اور منشاء کے خلاف رمیانی راہ نکالی وہ امریکہ کی جانب سے مڈل ایسٹ میں پالیسی شفٹ کا ایک آظہار ہی ہے-امریکہ کو اس پر ایک طرف تو سعودیہ عرب کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا-سعودیہ عرب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی عارضی نشست کو رد کردیا-جبکہ سعودیہ عرب نے شام میں اپنی خواہشات کے مطابق نتائج لینے کے لیے ایک شیڈو وار کا منصوبہ بھی بنالیا-سعودیہ عرب نے ایران سے ایٹمی پروگرام پر معاہدے کے امکان پر سخت ردعمل دیا اور اس معاہدے کو روکنے کے لیے پہلے امریکہ پر دباؤ ڈالا اور پھر فرانس سے اسلحے کی خریداری کے معاہدے کرکے فرانس کو راضی کیا کہ وہ اس ممکنہ ڈیل کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے-اور جب جنیوا میں ایران اور جی فائیو پلس کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہورہا تھا اور معاہدے کو آحری شکل دی جارہی تھی تو فرانسیسی وزیر خارجہ آخری لمحات میں شریک ہوئے اور انہوں نے یہ معاہدہ ہونے نہ دیا-اسی دوران اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکہ میں اپنی لابی اس معاہدے کے خلاف امریکی کانگریس اور سینٹ میں کرنے کی کوشش کی-جبکہ صدر اوبامہ اور جان کیری کو بھی اسرائیل کی طرف سے سخت دباؤ کا سامنا تھا-لیکن اس مرتبہ امریکہ نے سعودیہ عرب اور اسرائیل کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایران کے ساتھ عالمی برادری کے معاہدے کو ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کیا-

اسرائیلی وزیراعظم کی عقابی کوششیں ایران امریکہ ڈیل کو ہونے سے نہ روک سکیں
اسرائیلی وزیراعظم کی عقابی کوششیں ایران امریکہ ڈیل کو ہونے سے نہ روک سکیں

131105175019-parsi-iran-talks-sitting-at-table-story-top

ایرانی وزیر خارجہ جاوید ظریف،جان کیری اور کتھرائن آشٹن ایران کو مین سٹریم میں لانے میں کامیاب رہے

امریکہ مڈل ایسٹ میں اپنے پرانے اتحادی سعودی عرب اور اسرائیل کو یکسر نظر انداز نہیں کررہا ہے-اس نے سیکرٹری خارجہ جان کیری کو مڈل ایسٹ کے خصوصی مشن پر روانہ کیا-جان کیری نے گلف ریاستوں اور اسرائیل کے ریاستی سربراہوں اور دوسرے اہم حکام کو ایران کے حوالے سے امریکی پیش رفت پر اعتماد میں لیا اور ان کو مڈل ایسٹ کی بدلتی ہوئی صورت حال کا ادراک کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کی-لیکن ایک بات طے ہے کہ مصر میں فوجی حکومت،شام کا ایشو اور ایران سے تعلقات پر سعودیہ عرب اور امریکہ کی سوچ میں اور پالیسی میں اختلاف پایا جاتا ہے-

تم دونوں بھی بدلو ورنہ عالمی برادری میں تنہا رہ جانے والے ناعاقبت اندیش حکمراون کے طور پر یاد رکھے جاؤ گے
تم دونوں بھی بدلو ورنہ عالمی برادری میں تنہا رہ جانے والے ناعاقبت اندیش حکمراون کے طور پر یاد رکھے جاؤ گے

امریکہ اور یورپ ایران کو اپنے لیے سیکورٹی رسک اور روگ سٹیٹ خیال کرنے کی پرانی پالیسی سے باہر آتے دکھائی دے رہے ہیں-اور ایران کے حکومتی ایوانوں اور ایران کی گلیوں میں اب “مرگ بر امریکہ،شیطان بزرگ”جیسے نعرے اور القاب کشش کھوتے جارہے ہیں-جب اس معاہدے کی خبر تہران پہنچی تو تہران کی گلیوں اور بازاروں میں ایرانیوں نے باہر نکل کر جشن منایا اور اس ڈیل پر امریکہ اور یورپ میں بھی عام آدمی کے اندر خوشی کی لہر دوڑتی نظر آئی-

میں نے گذشتہ دو ماہ سے امریکہ کے معروف اخبارات اور پولیٹکل سائینس و جیو پالٹیکس پر فوکس کرنے والے جریدوں میں مڈل ایسٹ کے بارے میں چھپنے والے آرٹیکلز اور رپورٹس کا بغور مطالعہ کیا تو مجھے یہ پتہ چلا کہ ان جریدوں میں ایران کے حوالے سے سافٹ کارنر بہت نمایاں تھا-تنقید کی شدت کم ہورہی تھی-حسن روحانی اور جاوید ظریف کے لیے پسندیدگی کا احساس ان میں ہوتا تھا-امریکی خارجہ پالیسی کی ترجمانی کرنے والے امریکہ کے معروف جریدے “فارن پالیسی” کی روش بھی یہی نظر آئی-بلکہ بعض مضمون نگاروں نے تو یہاں تک کہا کہ امریکہ کو مڈل ایسٹ میں اپنے تعلقات کی پالیسی 70ء کے زمانے کی ہونی چاہئیں جب سعودیہ عرب امریکہ کا جونئیر اور ایران سینئر پارٹنر ہوا کرتا تھا-

ویسے امریکہ پولٹیکل اسلام کی ان دو بڑی روائتوں کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرچکا ہے جس سے یہ اب تک ٹکراؤ میں تھا-امریکی صدر اوبامہ نے مصر میں اخوان المسلمون کی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر کئے تو دوسری جانب اس کے ترکی کے اسلام پسند طیب اردوگان سے تعلقات بہت گہرے ہوچکے ہیں-امریکہ نے مصری جنرل السیسی کے کودتا کو اب تک کلین چٹ نہیں دی اور اس کی فوجی امداد میں کٹوتی کررکھی ہے-اب شیعہ پولٹیکل اسلام کی علمبراد ایرانی حکمران اشرافیہ سے بھی اس کے تعلقات بہتری کی جانب رواں دواں ہیں-تیونس کی حکومت سے بھی اس کے تعلقات اچھے ہیں-اور پولٹیکل اسلام پسندوں کی وہ فورسز جن کو عوام میں جمہوری طور پر جڑیں بنانے کا موقعہ ملا ہے تو انہوں نے بھی اپنے اندر بہت زیادہ تبدیلیاں لانے کی طرف قدم بڑھایا ہے-پولٹیکل اسلام کے اندر مغرب اور امریکہ سے تصادم یا لڑآئی کی بجائے ان سے ہم آہنگ ہونے کی روش نمودار ہورہی ہے-یہ روش القائدہ،عالمی جہادیوں اور تشدد و دھشت گردی کو اپنا ماٹو بنانےوالوں سے دوری کی علامت بھی ہے-

موجودہ ایرانی صدر اور وزیر خارجہ جب یہودیوں کے نئے سال کے آغاز پر اپنے ٹیوٹر وال پر سب یہودیوں کو مبارکباد کا پیغام دیتے اور ہالوکاسٹ کو ایک حقیقت قرار دیتے ہیں اور اس کی مذمت کرتے ہیں تو یہ پولیٹکل اسلام پسندی میں ہمارے بیان کردہ روش کا ہی ایک اظہار ہے-

ایران اور امریکہ کے درمیان  ریاضیاتی مساوات کی تبدیلی نے پاکستان پر بھی اثر ڈالا ہے-پاکستان کے وزیر اعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان پاک-ایران گیس پائپ لائن کے حوالے سے ملاقات میں ڈیڈ لاک دور کرنے پر اتفاق اسی کی عکاسی ہے-پاکستان اب ایران سے اپنے تعلقات کو پوری طرح سے بروئے کار لاسکتا ہے –لیکن اس کے لیے پاکستان کو ایسے تمام عناصر کا قلع قمع کرنے کی ضرورت ہے جو ایران کی سرحد پر پاکستان کے لیے مسائل پیدا کررہے ہیں-

پاکستان کے پولٹیکل اسلام پسند جیسے جماعت اسلامی ہے اسے مڈل ایسٹ اور افریفہ کے اندر اپنی جیسی جماعتوں سے سیکھنے کی اشد ضرورت ہے جن کے اقتدار میں آنے کو وہ اپنی آئیڈیالوجی کی فتح کہتی رہی ہے-اسے مذھب کے نام پر دھشت گردی کرنے والے اور فرقہ واریت کی دلدل میں دھنسی جماعتوں سے اپنا اتحاد فوری طور پر ختم کردینا چاہئیے،وہ دفاع پاکستان کونسل میں جن جماعتوں کے ساتھ بیٹھی ہے وہ پاکستان کو مذھبی سول وار میں جھونکنے کے سوا کچھ بھی نہیں کرسکتے-لیکن مجھے جماعت اسلامی کے موجودہ امیر کے ہوتے ہوئے یہ سب مشکل لگتا ہے کہ وہ اپنی روش تبدیل کریں گے-جماعت اسلامی ضیاء دور میں آمریت کی بی ٹیم تھی اور اب یہ دھشت گردوں اور انتہا پسندوں کی بی ٹیم بن چکی ہے-

Fazlul Khalil (Al Queda) and Lidhanvi (Sipah Sahaba)  with Munnaver Hassan
امیر جماعت اسلامی  نہ جانے کون سی دنیا میں رہتے ہیں-کہتے ہیں کہ اسلام پسندوں کو مڈل ایسٹ میں کامیابی ملی ہے اب وہ اسلام پسند تو امریکہ کو پیارے ہورہے ہیں اور امیر جماعت اسلامی ہیں کہ تورا بارا جانے پر مصر ہیں