پاک امریکہ تعلقات کا آغاز ہی ایک دوسرے کو نہ سمجھنے سے ہوا- حسین حقانی

      hussaini huqaani pic

پاک-امریکہ تعلقات “عظیم الشان خود فریبوں” کی داستان ہیں-حسین حقانی

گذشتہ دنوں سابق پاکستانی سفیر برائے امریکہ حسین حقانی کی تازہ ترین کتاب “عظیم الشان فریب”چھپ کر سامنے آئی تو اس نے پاک-امریکہ تعلقات بارے نئی بحث کو جنم دیا-پاکستان میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار اور نیشنل سیکورٹی اور فارن پالیسی پر کنٹرول رکھنے والے مقتدر حلقوں میں اس کتاب پر ویسے ہی منفی رد عمل ظاہر کیا گیا جیسے ان کی کتاب “پاکستان:فوج اور ملاّ کے درمیان”پر ظاہر کیا گیا-پاکستان میں روزنامہ جنگ ،روزنامہ ایکسپریس اور روزنامہ خبریں میں اس کتاب کے حوالے سے جو نیوز آئٹم شایع ہوئے ان میں بھی حسین حقانی کی کتاب کو پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ اور انٹیلی جنس اداروں کو بدنام کرنے کی تازہ مہم قرار دیا گیا-حسین حقانی کے نقاد حسین حقانی کے پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات بارے خیالات کو سازشی مفروضوں کی روشنی میں دیکھتے ہیں جبکہ حسین حقانی اس حوالے سے کہتے ہیں کہ وہ جو بھی بات کررہے ہیں وہ مدلل اور دستیاب دستاویزات وشواہد کی روشنی میں بیان کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندر پھیلے شکوک و شبہات اور سازشی مفروضوں نے پاکستانیوں کے اندر امریکہ کے حوالے سے پھیلی نفرت میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے-اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کو عظیم الشان فریب سے باہر آنے کی ضرورت ہے-

پاک-امریکہ تعلقات عظیم الشان خود فریبوں کی داستان افشاء کرنے والی حسین حقانی کی کتاب

پاک-امریکہ تعلقات عظیم الشان خود فریبوں کی داستان افشاء کرنے والی حسین حقانی کی کتاب

اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف امریکی جریدے کے صحافی مارک موئر نے اس کتاب کا موازانہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سابق پالیسی میکر ڈئینل مرکی کی کتاب “نو ایگزسٹ”سے کرتے ہوئے کہا کہ دونوں اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس وقت پاکستان اور امریکہ کے تعلقات گہرے تعاون اور شرکت پر استوار نہیں ہوسکتے لیکن دونوں امریکہ کو پاکستان کی جانب مکمل طور پر پیٹھ کرنے اور اس کو ایک دشمن ملک کے طور پر لینے سے منع بھی کرتے ہیں-ان کے خیال میں ایسا کرنے سے پاکستان کاؤنٹر ٹیررازم اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے حوالے سے جتنا تعاون کررہا ہے وہ بھی ختم ہوجائے گا-حسین حقانی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت ہوئی اور پاکستان میں حکام اور میڈیا کی جانب سے امریکہ کے خلاف سخت ردعمل آنے لگا تو انھیں وہائٹ ہاؤس طلب کیا گیا اور اوبامہ کے پاکستان کے لیے بنائے گئے پوائنٹ میں مسٹر لوئٹے نے بتایا کہ “پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اس دوراہے پر ہیں جہاں پاکستان کو پارٹنرشپ یا علیحدگی دونوں میں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا”انکو مسٹر لوئٹے نے یہ بھی خبر دی تھی کہ اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے ایسی دستاویزات ملی ہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اسامہ بن لادن کو چھپانے میں پاکستان کا ہاتھ بھی ہے-ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کے خلاف الزام تراشی کا سلسلہ بند نہ ہوا تو امریکہ وہ دستاویزات اوپن کردے گا-اور اس کے بعد امریکی عوام اور کانگریس آگے بڑھ کر امداد روکنے سے زیادہ سخت اقدامات کا مطالبہ کریں گے-

حسین حقانی نے اپنی اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ پاکستان ہمیشہ امریکی امداد اور اسلحہ کو ہندوستان کے خلاف جنگ کی تیاری کے لیے استعمال کرتا رہا ہے-اور حقانی نے یہ بتایا کہ بابائے قوم سے لیکر جنرل مشرف تک پاکستانی حکام امریکیوں سے تعاون کے بدلے رقم اور ہتھیار کی ڈیمانڈ کرتے رہے-یہاں تک کہ مشرقی پاکستآن کے بنگلہ دیش بن جانے کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو نے امریکہ کا دورہ کیا تو انہوں نے بھی ہتھیار اور ایڈ مانگے جس پر امریکی حکام حیران ہوئے-امریکیوں نے سرد جنگ کے زمانے اور پوسٹ کولڈ وار پاکستان کو جو بھی امداد دی اور اسلحہ دیا اس کا ہدف انڈیا ہرگز نہیں تھا بلکہ کمیونسٹ بلاک تھا-اور امریکی اپنے ہتھیاروں کا انڈیا کے خلاف استعمال نہیں چاہتے تھے-اس سوچ کے فرق نے دونوں ملکوں کے درمیان عدم اعتماد اور شکوک پیدا کئے-حسین حقانی کہتے ہیں کہ امریکی حکام پاکستانیوں نے غلط توقعات وابستہ کیں-پاکستانی قیادت نے اسلامو نیشنلسٹ جس پالیسی کو اپنایا اس نے انہیں مقامی غلطیوں اور عالمی حقائق بارے ادراک کرنے سے روکے رکھا-

“عظیم الشان فریب”کے نام سے شایع ہونے والی اس کتاب کے آخری باب میں حسین حقانی نے بتایا کہ پاکستان نے القائدہ کے لوگوں کو تو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا لیکن جو دھشت گرد ان کو انڈیا اور افغانستان میں فائدہ پہنچاسکتے تھے ان کی حفاظت کی-اور یہ پالیسی امریکہ اور پاکستان کے درمیان شکوک کو پیدا کرنے کا سبب بنی-ان کا کہنا ہے رچرڈ ہالبروک نے امریکی انتظامیہ اور کانگریس کو راضی کرلیا تھا کہ اگر پاکستان آرمڈ فورسز کو سویلین کے کنٹرول میں لے آتا ہے تو اس کی سویلین امداد فوجی امداد سے تین گنا زیادہ ہوجائے گی-لیکن پاکستان ایک طرف تو نجی جہادی پراکسی سے اپنی جان نہ بچاسکا اور دوسری طرف آرمڈ فورسز کو بھی انڈر کنٹرول سول حکومت لانے سے قاصر رہا-حسین حقانی کے خیال میں افغانستان سے انخلاء کا بہت پہلے اعلان بھی فاش غلطی تھا-اور پھر پاکستان کا امریکہ کو لمبی شراکت داری کا وعدہ کرکے جلد ہی اس کے مخالف سمت چل پڑا-

ان کی کتاب کے حوالے سے معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ان سے ایک انٹرویو کیا جس کا ترجمہ “تعمیر پاکستان”کے قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے-

http://www.husainhaqqani.com/2013/interview-with-new-york-times-about-magnificent-delusions

سوال:آپ نے اپنی حال ہی میں شایع ہونے والی کتاب “عظیم الشان فریب”میں پاک-امریکہ تعلقات “کا جائزہ 1947ء سے لیا ہے جب پاکستان بناتھا-کس طرح سے پاک-امریکہ تعلقات میں باہمی شکوک کی جڑیں تاریخ میں اتنی دور تک جاتی ہیں؟

حسین حقانی:پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے کو سمجھ نہ سکے اور ایک دوسرے کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہوئے اور یہ عمل 1947ء سے شروع ہوگیا تھا-جبکہ شکوک کی منزل بعد میں آئی-پاکستان کو آغاز کار سے یہ غلط فہمی تھی کہ امریکہ کمیونزم کو روکنے کے لیے ان کو ریاست کی تعمیر میں مدد دے گا اور اس مدد کی وجہ سے پاکستان اپنے حریف بھارت کی برابری کرنے کے قابل ہوجائے گا-لیکن امریکہ کا ایسا کچھ کرنے کا ارادہ نہ تھا-(یہ غلط فہمی بعد میں شک میں بدل گئی)میری رائے میں یہ وہ شکوک تھے جو بعد میں پاکستان کے اندر امریکہ کے خلاف نفرت کو پھیلانے میں بطور زرایع کے استعمال کئے گئے-

سوال:امریکہ کے بارے میں پاکستانیوں کی سب سے بڑی غلط فہمی کیا ہے؟

حسین حقانی:پاکستان میں یہ شک پایا جاتا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو غیر فعال کردینا چاہتا ہے-وہ پاکستان کو ایک مضبوط فوج کا حامل مسلم ملک نہیں دیکھنا چاہتا اور وہ پاکستان کو ایسے ہی ہندوستان کا محکوم ملک بنانا چاہتا ہے جیسے اس نے عرب مسلم ملکوں کو اسرائیل کے آگے جھکایا ہے-فکر مندی کی بات یہ ہے کہ ایسی کہانیوں کی تمام تر بنیاد فنتاسی پر ہے جو سازشی مفروضوں سے بنی جاتی ہیں-حال ہی پاکستان کی ایک معروف یونیورسٹی کے وائس جانسلر نے ایک کتاب لکھی جس میں اس نے ایسی ہی سازشی مفروضوں اور فنتاسی سے کام لیکر امریکہ اور مغرب کی پاکستان دشمنی اور شکوک کو پھیلانے کی کوشش کی ہے-

سوال:امریکیوں کی پاکستان کے بارے میں سب سے بڑی کیا غلط فہمی ہے؟

حسین حقانی:امریکیوں کی پاکستان کے بارے میں سب سے بڑی غلط فہمی یہ تھی کہ وہ یہ خیال کرتے تھے کہ پاکستان کو صرف امداد دیکر جس طرف چلائیں گے وہ چل پڑے گا-لیکن امداد کے راستے سے امریکی پاکستان سے وہ کبھی حاصل نہ کرسکے جس کی انھیں توقع تھی-جہاں تک امریکی عوام کا تعلق ہے تو وہ پاکستانیوں کے ساتھ کبھی سنجیدگی کے ساتھ مشغول نہ ہوئے-اکثر وہ پاکستان کو ایک ایشو کی عکاسی کرنے والی عینک سے دیکھتے رہے-کبھی وہ پاکستانیوں کو ایٹمی پروگرام کے ایشو کو منعکس کرنے والے انعطاف نما سے دیکھتے رہے اور کبھی دھشت گردی کو منعکس کرنے والے انعطاف نما سے-پاکستان کے 180 ملین لوگوں کو سمجھنے اور ان کی تمناؤں کا ادراک کرنے کی کوشش نہیں کی گئی-

سوال:امریکہ پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ پاکستانی یہ محسوس کرتے ہیں کہ امریکہ کو جب پاکستان کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے استعمال کیا جاتا ہے اور جب ملب نکل جاتا ہے تو اسے تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے-کیا یہ تنقید ٹھیک ہے؟

حسین حقانی :جزوی طور پر یہ تنقید ٹھیک ہے-ہر مرتبہ امریکہ نے پاکستان سے جو وعدے کئے ان کو پورا کرنے میں ناکام ہوا-اور پاکستان نے بھی جو وعدے کئے وہ سارے پورے نہیں ہوئے لیکن پاکستانی امریکیوں سے زیادہ اونچا شکوہ کرتے ہیں-تو کس نے کس کو چھوڑا اس سلسلے کو ہمیشہ پوری طرح سے سمجھا نہیں گیا-اپنی کتاب میں ،میں نے جن نکات پر بات کی ہے ان میں ایک نکتہ تو یہ ہے کہ پاکستان کی اشرافیہ نے ہمیشہ اپنی عوام کو گمراہ کیا ہے-انہوں نے خفیہ طور پر تنہائی میں امریکیوں سے جو وعدے کئے ان کی تفصیل کبھی اپنی عوام کو نہیں بتائی-

سوال:مرحوم رچرڈ ہالبروک امریکی ایلچی برائے پاکستان و افغانستان ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے پاک-امریکہ تعلقات کو انسداد دھشت گردی اور فوجی امداد سے آگے لیجانے کی کوشش کی-وہ کوشش ان کی وفات کے ساتھ ہی تو دفن نہیں ہوگئیں؟کیا ان کا یہ ماڈل پاک-امریکہ تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے ک لیے بہتر نہیں ہے؟

حسین حقانی:رچرڈ ہالبروک نے ایک بڑے سودے کا تصور دیا تھا-اس سودے کا ایک اہم جزو پاکستان کے اںڈیا کے حوالے سے جو خدشات اور عدم تحفظات تھے ان کو دور کرنا تھا-افغانستان میں پاکستان کے عزائم کو ریشنل کرنا تھا-پاکستان کو یہ بھی یقین دلایا جانا تھا کہ امریکہ طویل عرصے تک پاکستان سے شراکت داری رکھے گا-لیکن ایسی بڑی ڈیل پاکستان اور امریکہ کے درمیان تبھی ہوسکتی تھی جب دونوں ملکوں میں طاقتور قیادت برسراقتدار ہوتیں-رچرڈ ہالبروک صدر اوبامہ کو اپنا پورا وزن اس سودے کے پیچھے ڈالنے پر آمادہ نہ کرسکے اور دوسری جانب پاکستانی صدر آصف علی زرداری بھی پاکستانی مقامی سیاست کی پیچیدگیوں سے خود کو الگ نہ کرسکے-

سوال:اوبامہ انتظامیہ کی جانب سے ڈرون پروگرام میں وسعت پاک-امریکہ تعلقات پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟

حسین حقانی:مشرف حکومت نے ڈرون پروگرام کو اس لیے قبول کیا تھا کہ وہ اس کو خفیہ رکھنا چاہتے تھے-اوبامہ انتظامیہ نے جب پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں دھشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے اس پروگرام کا دآئرہ بڑھایا تو پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے اس پروگرام کو خفیہ رکھنے کے قابل نہیں رہے-یہ پھیلاؤ ہی سیکریسی کو ختم کرنے کے لیے کافی تھا-پاکستانی قیادت ایسے پروگرام سے نالاں تھی جو اس قدر اوتن ہوجائے-ان کے لیے اوپن پروگرام تبھی ممکن تھا جب یہ مشترکہ ہو جو امریکیوں کو منظور نہیں تھا کیونکہ امریکیوں کو یہ یقین ہے کہ پاکستان کے خفیہ اداروں میں دھشت گردوں کے ہمدرد بہت اندر تک جڑ پکڑ چکے ہیں-

سوال:آپ نے اپنی گذشتہ کتاب”پاکستان:ملاّ اور فوج کے درمیان “میں اسلام پسند تحریکوں اور پاکستان اور امریکی فوج و انٹیلی جنس اداروں کے درمیان تعاون بارےلکھا تھا-پاکستان میں مذھبی انتہا پسندی پیدا کرنے میں امریکیوں کا کردار کس حد تک ہے؟

حسین حقانی:امریکیوں نے بہت زیادہ کردار ادا کیا-مذھبی انتہا پسندی کے پھیلاؤ میں امریکہ کا بڑا ہاتھ رہا ہے-لیکن پاکستان کی تاریخ میں مذھبی انتہا پسندی تو اس وقت بھی موجود تھی جب ابھی امریکیوں نے افغان مجاہدین کی مدد کے لیے پروگرام شروع نہیں کیا تھا-پاکستان میں مذھبی انتہا پسند گروپ 1947 ء سے موجود ہیں-ان میں بعض گروپوں کو نیشن-سٹیٹ تعمیر کرنے کے لیے ساتھ پاکستانی ریاست کی مقتدد طاقتوں نے ملالیا-

سوال:آپ نے پاکستانی چیف آف آرمی سٹاف اشفاق پرویز کیانی کا پاکستانی ریاست کو درپیش خطرات بارے ایک میمو لکھا ہوا کے بارے میں بتایا-اور اس کو ایوب خان کے 1959ء میں لکھے ایک میمو سے مشابہت دی-کیا پاکستان کی نگاہ میں جو مفادات اس کے بنتے ہیں وہ خستہ و ازکار رفتہ ہوگئے ہیں؟

حسین حقانی:ایسا ہی ہے-پاکستان بس اک یک وحدانی معاملے پر فوکس کرنے والی ریاست میں بدل چکا ہے-اور یہ فوکس اس بات پر ہے کہ انڈیا سے کشمیر کو چھینا کیسے جائے-حالانکہ پاکستانی اس روش پر چین کے سابق صدر جیان زیمن نے پاکستان کو مشورہ دیا کہ کشمیر کے معاملے وہ چین کے تائیوان پر موقف کی پیروی کریں-چین تائیوان کو اپنا حصّہ کہتا ہے مگر اس کو واپس لینے کے لیے ‌فزیکل کوئی اقدام نہیں اٹھاتا-

سوال:پاکستان میں آپ کی زندگی کافی نشیب و فراز سے گزری-آپ پر الزام ہے کہ آپ نے صدر اوبامہ سے پاکستان کو فوجی کودتا سے بچانے کی درخواست کی اس وقت جب اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں مارا گیا-امریکہ –پاکستان تعلقات کے بارے میں آپ کی بصیرت کیا کہتی ہے؟

حسین حقانی:میرے خیال میں پاکستان کے اندر لوگ جب کسی سے نفرت کرنے لگے تو جو ان کے درمیان پل بنے اسے بھی دشمن کہا جاتا ہے-2011ء میں جب اسامہ بن لادن کی ہلاکت ہوئی تو پاکستان میں کسی نے ملٹری کودتا کرنے کی کوشش نہيں کی-اس لیے اسے ناکام کرنے کی ضرورت کیا تھی-اور بطور سفیر  پاکستان واشنگٹن میں مجھے ہر ایک تک رسا‏ئی تھی تو میں کیوں ایک مشکوک بزنس مین کو میمو دیتا-

میمو ایک فنتاسی پر مبنی کہانیوں کی بنت کاری کے سوا کچھ نہیں-لیکن یہ فنتاسی پاکستان میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی-اور مجھے استعفا دینے پر مجبور کردیا-بلکہ اس نے میری زندگی اجیرن بنادی-

مزید پڑھنے کے لیے مندرجہ ذیل لنکس کا وزٹ کریں

http://online.wsj.com/news/articles/SB10001424052702303680404579139812063586246

http://www.bu.edu/ir/2013/11/08/husain-haqqani-on-his-book-magnificent-delusions/

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*