امام حسین – عشرہ محرم کی چوتھی تقریر

IMAM HUSSAIN WALLPAPER IMAGE PICTURE

امام حسین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دور بعد از شہادت امام حسن-عشرہ محرم کی چوتھی تقریر

بسم اللہ الرحمان الرحیم ۔اللہھم صلی علی محمد وآل محمد

میرے دوست احباب کل شب میری گفتگو کا ماحصل بہت اچھے طریقے سے سمجھ گئے جس پر مجھے اطمینان قلب میسر آیا اور میں نے خیال کیا کہ میری محنت وصول ہوگئی-

آج کی شب مجھے ایک ایسے دور پر بات کرنی ہے جس پر ہمارے ہاں بہت کم گفتگو ہوتی ہے-اور وہ دور ہے امام حسین کا امام حسن کی وفات کے بعد 11سال تک مدینہ میں معاویہ کے فوت ہوجانے اور یزید کو اپنا ولی عہد بناۓ جانے مدینہ میں بسر کرنے اور کسی قسم کا قیام نہ کرنے تک مشتمل ہے-اور یہ وہ دور ہے جس میں معاویہ اور ان کے ساتھیوں نے اہل بیت اطہار کے ماننے والوں پر جبر وستم کی انتہا کرڈالی-اور اس زمانے میں یہ بھی ہوا کہ اموی اشراف حاکموں نے امام حسین کے ماننے والوں کو یہ الزام دینا شروع کرڈالا کہ وہ دین علی کے پیروکار ہیں-جبکہ دین علی سوائے دین محمدی کے اور تھا کیا؟

زیادہ نے امیر شام کے حکم پر دو حضرمی باشندوں کو یہ الزام دیکر ہلاک کیا اور ان کی لاشوں کو مثلہ کیا کہ یہ دین علی کے پیرو تھے-پھر حجر بن عدی اور کئی اور اصحاب رسول کا قتل بھی اسی باعث ہوا-زیاد اور ولید بن عتبہ بن ابی سفیان گورنر مدینہ کے پاس ٹاسک ہی یہ تھا کہ وہ مدینہ،مکّہ اور کوفہ سے اہل بیت کے شیعہ کا خاتمہ کرڈالیں-اور کسی طرح سے اس تحریک کی جڑ کاٹیں جس کا آغاز محمد علیہ سلام اور ان کے بھائی علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کیا تھا-

ان 11 سالوں میں اہل بیت اطہار اور ان کے ماننے والوں کو امیر شام کے حکام کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑا-اور امیر شام نے 11 سالوں میں شیعان اہل بیت کی نسل کشی کا سلسلہ شروع کررکھا ہے-اہل بیت اطہار اور خاص کر حضرت علی کے خلاف مذموم پروپیگںڈا کيا جاتا رہا اور اہل بیت اطہار سے محبت کرنے والوں پر گمراہی ،زندقہ اور کفر کے فتوے عام لگائے جاتے رہے-اور ان کومذھبی جنونی احتساب کا نشانہ بننا پڑا-یہ جو تکفیر کی رسم بد خوارج نے شروع کی تھی اس کو کمال اوج ثریا تک اموی دور نے پہنچایا-اور اس دوران صرف اس تکفیر اور قتل وغارت کے خلاف امام نے آواز نہ اٹھائی بلکہ خود غیرجانبدار بلکہ دوسری آوازیں بھی اٹھیں-

اس دوران امام حسین نے پوری کوشش کی کہ اموی ارسٹوکریسی کے خلاف امام حسن کے پیٹرن پر چلاجائے –آپ نے عراق،مکّہ،مدینہ پر خصوصی توجہ دی اور یہاں کے پیروکاروں،دوستوں اور احباب کو یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ اگر وہ متحد نہ ہوئے تو پھر اس سے بھی برے حالات کا سامنا کرنے پر تیار رہیں-

آپ کے معاویہ کے نام خطوط واضح کرتے ہیں کہ کہ آپ امیر شام کو وعدہ شکن خیال کرتے ہیں-اور عدل و انصاف کے منافی کاموں پر اس کی مذمت کرتے ہیں-اور بلازری نے اپنی کتاب تاریخ امیر شام کے نام امام حسین کے خطوط کا متن دیا ہے-اس متن سے امام کی اموی اقتدار سے نفرت اور ان کے اقتدار سے بے گانگی کا اظہار ہوتا ہے-

آپ کے خطوط اور ارشادات کا متن یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کس طرح سے امام حسن نے انصاف کے علم کو جس طرح سے اٹھایا تھا امام حسین بھی اسی طرح بلند سطح پر لیجانے کے لیے کوشاں رہے-

میں نے اس دور میں امام حسین کی کہی گئی باتوں کا سراغ لگانے کی کوشش کی تاکہ ہم واقف ہوسکیں کہ کیسے امام حسین نے ان 11 سالوں میں مذھب اہل بیت کے علم کو بلند رکھا-

اس دور میں امام حسین کے بہت سارے اقوال اور ارشادات خود شناسی ،خوف خدا اور قران و سنت پر عمل پیرا ہونے کے بارے میں ہیں-اور تقوی اور خشیت باری تعالی پر امام حسین کا بہت فوکس نظر آتا ہے-آپ اپنے آپ کو ڈس کلوز کرنے اور آپنے وجود کی حقیقت کو پہچان لینے پر اصرار کرتے دکھائی دیتے ہیں-امام حسن کہتے ہیں کہ اس آدمی کی طرح مت ہوجاؤ جوکہ خالق کو ناراض کرکے لوگوں کو خوش رکھتا ہے-اور اس زمانے میں آپ یہ بھی کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ آخرت کے وقت وہی آدمی سکون اور تحفظ محسوس کرے گا جس نے اس دنیا میں خوف خدا رکھا تھا-آپ کہتے ہیں کہ انسان کی خود شناسی کا پیمانہ یہ ہے کہ وہ خیر کے ساتھ شریک ہو اور شر والوں سے پرے رہے-اور خیر کی پہلی شرط یہ ہے کہ آپ مظلومین کے ساتھ ہوں اور ظالموں کی مخالفت کریں-امام حسین یہ بھی کہتے ہیں کہ مشکل وقت میں خیر کے ساتھ اور ظلم ہوتے وقت مظلوم ساتھ کھڑے ہونے والے کم ہوتے ہیں-آپ کی جانب سے ایسی مذھبیت جوکہ ظالم اور خون خواروں کے ساتھ سمجھوتے بازی پر مبنی ہو منافقت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے-اصل میں دیکھا جائے تو اس زمانے میں جب ملوکیت چاروں طرف چھا چکی تھی تو اس وقت اموی اشرافیہ ایسی مذھبیت اور تقوی کا پرچار کررہی تھی جس کا عدل،انصاف،مساوات اور برابری سے کوئی تعلق نہ تھا-لوٹ مار،استحصال کرنے والے عبادت کرتے ،حج کرتے ،روضے رکھتے اور وہ حقوق العباد کی سنگین خلاف ورزیوں میں مبتلا ہوتے اور یہ بات ان کو تقوی اور پرھیز گاری کے منافی نہیں لگتی تھی-امام منکر کی نھی کو ظلم اور جبر اور استحصال کی نھی سے نتھی کرتے تھے اور پاکیزگی اور تقوی اور دینداری کو مساوات کے ساتھ اور عدل سے جوڑا کرتے تھے لیکن ایسا کچھ بھی تو اموی ارسٹوکریسی کے ہاں نہیں تھا-وہ چاہتے تھے کہ ان کی اشرافیت اور ان کی قبضہ گیری کو نام نہاد مذھبیت کے ساتھ جواز مل جائے-امام اس طرز کو گناہ کے راستے نیکی کرنے کی روش سے تعبیر کرتے اور کہتے تھے کہ ایک نیک مقصد گناہ کے راستے سے کبھی حاصل نہیں ہوسکتا-

اب میں آپ کے سامنے امام حسین کا ایک ایسا قول پیش کرتا ہوں جو ان کی اس دور کی زندگی کی عکاسی کرتا ہے اور ہمیں بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے –امام کہتے ہیں کہ

میرے نزدیک حق کے ساتھ مرجانا مسرت عظیم ہے اور اور ظالموں کے عہد میں جینا ایسے ہے جیسے کسی جہنم میں جیا جائے-اہل مدینہ ہوں کہ اہل مکّہ یا اہل عراق وہاں کی اکثریت جابروں اور ظالموں کے عہد کو آسانی سے گزار رہے تھے اور سوائے چند ایک کہ کوئی اس جہنم کا ادراک کرنے کے قابل نہ تھا جو اموی ارسٹوکریسی پیدا کرچکی تھی-اور امام حسین اسی جہنم کا احساس کرانے کی کوشش کررہے تھے-

امام حسین عوام سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ ان کی مشکلات زیادہ بدترین ہوچکی ہیں اس لیے کہ وہ اہل حق کی رہنمائی سے محروم ہوچکے ہیں-اور انقلاب کا راستہ بدل چکا ہے-امام حسین کہتے ہیں کہ عوام کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے مذھبیت اور دین دونوں کو باطل اور ظالموں کے ہاتھ میں دے ڈالا ہے-اور ان کی مشکلات کا سب سے بڑا سبب یہی بنا ہوا ہے-

امام حسین کہتے ہیں کہ اہل بیت کا مقصد اقتدار اور بہترین مناصب کا حصول نہ تھا اور نہ ہے وہ تو بس اس انحراف کو دور کرنا چاہتے تھے جو اس انقلابی سماج کے اندر رونماء ہوا ہے-

امام حسین ایک جگہ کہتے ہيں کہ وہ تو بس انقلابی روائت کے احیاء کے لیے کام کررہے ہیں-

امام حسین علیہ السلام نے ان 11 سالوں میں غیر سیاسی زندگی ہرگز نہیں گزاری تھی-بلکہ آپ کے افکار اور ارشادات ایک انقلابی اور باغیانہ زندگی کی جانب اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں-اور آپ نے اموی اشراف کی نام نہاد مذھبیت اور پرھیزگاری کو بے نقاب کرنے کا فریضہ سرانجام دیا-اور انحراف کے سنگین ترین مرحلے میں آپ نے اپنے نظریات نہیں چھپائے اور ان کا برملا اظہار کرتے رہے-یہی وجہ ہے کہ اموی اشراف سب سے بڑا خطرہ اپنی حکمرانی کو امام حسین علیہ السلام سے دیکھ رہے تھے-اور امیر شام اسی لیے یزید کو امام حسین کو قابو کرنے کی ہدائت کرتا ہے-

امام حسن کی شہادت کے بعد جب امیر شام نے اپنی زندگی میں مدینہ آکر یزید کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی تھی تو اس وقت بھی اسے یزید کے لیے امام حسین اور بنو ہاشم کے سامنے اس منصوبے کو افشاء کرنے کی ہمت نہیں ہوئی-

امام حسین علیہ السلام نے ایک پیمانہ بنایا تھا-آپ نے کہا تھا کہ جو بدعنوان  کے ساتھ شریک ہو وہ مشکوک ہے-اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے-تو آپ اموی ارسٹوکریسی کو بدعنوان خیال کرتے تھے تو ان کو غیو معتبر بھی اور پھر یزید جیسا شخص تو اس نام نہاد مذھبیت سے بھی دور تھا جس کی ملمع کاری اور دوسرے اموی اشراف خوب کرتے تھے-

امام حسین نے ان 11 سالوں میں حجاز کے اندر ،یمن میں اور عراق میں اپنے شیعہ کی تربیت اور ان کے شعور میں بڑھوتری کا سامان کرنے میں بہت مدد کی-اور آپ نے زیر زمین شیعہ تحریک کو منظم کرنے کی کوشش کی-اور آپ نے اس تحریک کو نسلی ،قبائلی اور گروہی مفادات کا تنازعہ نہیں بننے دیا-امام نے اپنےدو پیش رو آئمہ کی طرح اس کو عدل ،انصاف اور برابری کی تحریک ثابت کرنے پر زور رکھا-اور یہ امام حسین کی بہت بڑی جیت تھی کہ آپ نے مذھب اہل بیت کے تصور انکار کو مسخ نہیں ہونے دیا-امام حسین کا ایک اور قول پیش کرکے آج کی شب محرم کی اس مجلس کو اب تمام کرتے ہیں کہ امام حسین نے کہا

جلدی بازی سے بڑی بیوقوفی اور کوئی نہیں ہوتی

یہ قول ان سب لوگوں کے لیے ایک مسکت جواب ہے جو یہ رزیل پرچار کرتے ہیں کہ قیام حسین کسی جلد بازی کا نتیجہ تھا یا کم سوچا سمجھا اقدام تھا-امام کا قیام بہت منصوبہ بند تھا-اور امام نے اس کے لیے کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا-صلح کا معاہدہ سے لیکر آپ کے قیام تک کا عرصہ بہت طویل ہے اور اس دوران جو ہوتا رہا اس کا منطقی نتیجہ آپ کا قیام ہی تھا-

ہم اسوہ شبیر کے اس دور سے بہت سی باتیں سیکھ سکتے ہیں-اور سب سے بڑا درس یہ ہے کہ جب مذھبیت،دینداری ،سنت اور دین کے نام پر مساوات،عدل،برابری ،انسانیت اور دیگر اقدار کی سماجی بنیادوں کو ہلایا جارہا ہو تو ایسی مذھبیت اور دینداری کا پردہ چاک کرنا کی حسینت ہے ،یہی علویت ہے اور یہی شیعت ہے-

اللہھم صلی علی محمد وآل محمد

Comments

comments

Latest Comments
  1. Clubmaster Ray Ban Valor
    Reply -
  2. Nike Free Run
    Reply -
  3. outlet christian louboutin
    Reply -
  4. Ray Ban Luxottica Consumer
    Reply -
  5. Nike Free 6.0
    Reply -
  6. Nike Blazer Mid Men
    Reply -
  7. Air Jordan 2011
    Reply -
  8. Air Jordan Melo M5
    Reply -
  9. Nike Zoom Hyperflight PRM
    Reply -
  10. Air Jordan 14
    Reply -
  11. Nike Free
    Reply -
  12. Nike Air Max Wavy
    Reply -
  13. Air Jordan 20
    Reply -
  14. Air Max 2013 Hommes
    Reply -
  15. Jordan Rare Air
    Reply -
  16. Adidas JS Santa Claus
    Reply -
  17. Nike Air Max HYP PRM Hombres
    Reply -
  18. Nike Blazer Low Women
    Reply -
  19. Air Jordan 18
    Reply -
  20. Nike Shox Hombres
    Reply -
  21. Nike Air Max 1
    Reply -
  22. Toms Shoes Men (15)
    Reply -
  23. > Beauty Accessories
    Reply -
  24. New Balance 565 Soldes
    Reply -
  25. Men
    Reply -
  26. Burberry Women
    Reply -
  27. Prada Slippers
    Reply -
  28. Burberry Scarf
    Reply -
  29. ∟Sandales
    Reply -
  30. Marc Jacobs Carteras
    Reply -
  31. Hermes Birkin
    Reply -
  32. T Shirt Gucci
    Reply -
  33. Gucci Trolley
    Reply -
  34. T-Shirts
    Reply -
  35. Bufanda Burberry
    Reply -
  36. ED Hardy Camisas
    Reply -
  37. Sac Céline Luggage
    Reply -
  38. Hommes Burberry Chaussures
    Reply -
  39. Charles Barkley Shoes
    Reply -
  40. Nike Air Max 95 360
    Reply -
  41. Nike?Air?Max?2011
    Reply -
  42. Mens?Nike?Air?Jordan?III
    Reply -
  43. Dior Granville
    Reply -
  44. Nike Shox Turbo 12
    Reply -
  45. Prix D'Un Foulard Longchamp
    Reply -
  46. LV Nomade Leather
    Reply -
  47. Damier Graphite Toile
    Reply -
  48. Louis Vuitton Carteras
    Reply -
  49. Adidas ZX 750
    Reply -
  50. Nike Hyperflight Premium
    Reply -
  51. Jordan Dominate Pro
    Reply -
  52. Louis Vuitton
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*