دور جبر تھا کہ طویل ہوتا چلا گیا – عشرہ محرم کی تیسری تقریر

imam-husain-roza-shia-hussain-hazrat-ali-quotes-59682

دور جبر تھا کہ طویل ہوتا گیا۔۔۔۔۔۔عشرہ محرم کی تیسری تقریر

بسم اللہ الرحمان الرحیم والصلواۃ والسلام علی محمد وآل محمد

السلام علیکم-محترم خواتین و حضرات !

میرا ارداہ تھا کہ میں آج براہ راست امام حسین علیہ السلام کی حیات طیبہ اور مذھب اہل بیعت کی تشکیل میں ان کے کردار پر گفتگو کرتا لیکن کل “معاہدہ امام حسن و امیر شام “پر دوست احباب نے اتنے سوالات داغ دئے کہ یہ ممکن نہ رہا کہ براہ راست اس موضوع کی طرف آیا جائے-

اکثر احباب نے مجھ سے کہا کہ میں اس حوالے سے مزید روشنی ڈالوں کہ امام حسن کی صلح ایک سٹریٹجی کے طور پر پیچھے ہٹنا تھا نہ کہ اس کا مقصد بنو امیہ کے حق حکمرانی کو مان لینا تھا-اور یہ بھی کہ پیغام صلح معاویہ کی طرف سے آیا نہ کہ امام حسن کی جانب سے-

مجھے یہ اندازہ تھا کہ ایسے سوال میری جانب آئیں گے تو میں نے اپنے نوٹس بناتے ہوئے اس بات کا دھیان رکھا تھا اور کتب اہل سنت کا مطالعہ اور ان کے فٹ نوٹس بھی لئے تھے-

ابن عساکر کی تاریخ کی جلد 3 اور ص 264 اور مطبوعہ یہ دارالکتب مصر کی ہے اس میں لکھا ہوا کہ امام حسن نے کہا

“الا ان معاویۃ دعانا الی امر لیس فیہ عز ولا صفۃ فان اردتم الموت رددناہ علیہ و حاکمناہ الی اللہ عزوجل بظباالسیوف وان اردتم الحیاۃ قبلناہ واخذنا لکم الضا فنادہ القوم البقیۃ ،البقیۃ فلما افردوہ الصلح”

اس واقعہ علامہ ذھبی نے لکھا ہے اور دیگر کتب میں بھی اس کا زکر آیا ہے-تو “دعانا “سے صاف ہوگیا کہ دعوت صلح امام حسن نے نہیں دی اور یہ دعوت معاویہ نے دی تھی-اور اس میں اہل عراق کی مرضی شامل تھی-

دوسری بات یہ ہے کہ صحیح بخاری مین کتاب الفتن میں ایک حدیث حذیفہ الیمان نے رسول اللہ سے روائت کیا ہے جس میں وہ ایک جگہ پوچھتے ہیں کہ شر آنے کے بعد خیر ہوگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ہاں خیر ہوگی مگر اس میں دخن ہوگی-

اس دخن بارے علامہ ابن حجر العسقلانی ،علامہ ابن کثیر ملاّ علی قاری ،مولوی عبدالحق محدث دھلوی،شاہ ولی اللہ ،پیر مہر علی شاہ اور ابن تیمیہ نے اتفاق سے لکھا ہے کہ اس دخن سے اشارہ معاہدہ صلح امام حسن و معاویہ ہے-اور سب نے لکھا ہے اس میں دخن سے مراد بددیانتی اور بے ایمانی تھی-

اصل میں حکمت عملی کے اعتبار سے امام حسن نے کامیابی کے ساتھ فریق مخالف کی بے ایمانی اور ہوس اقتدار کو ثابت کردیا تھا-اور امام حسن اموی گروہ کو بے نقاب کرنا چاہتے تھے-اور یہ بات بھی طے ہے کہ معاویہ 640ء میں گورنر شام بنے تھے-اور یہ اس نشست پر 680ء تک یعنی صلح کے بعد حکمران بننے تک فائز رہے-اور حضرت عمر کے دور میں ہی اموی لوگ بہت سے اہم مناصب پر فائز ہوگئے تھے-جبکہ حضرت ‏عثمان کے دور سے لیکر ان کی شہادت تک اموی لوگوں کی اقتدار پر گرفت مضبوط ہوتی جارہی تھی-امام حسن کو ان ساری زمینی حقیقتوں کا علم تھا-اور اس کے مقابلے میں اہل عراق کی پوزیشن میں آپ کے سامنے بہت واضح انداز میں پیش کرچکا ہوں-

ابن حجر عسقلانی ،حافظ ابن کثیر نے لکھا کہ امام حسن نے واضح طور پر کہا کہ

مجھ سے امیر شام کا وعدہ ہے کہ وہ امر خلافت مجھے دے گا-

لیکن اس معاہدے کی پاسداری نہ ہوسکی-اور امام حسن کو راستے سے ہٹا دیا گیا-امام حسن اور اہل بیت اطہار کے دیگر سرکردہ لوگوں کے ساتھ اموی اشراف جو مدینہ میں موجود تھے برا سلوک کرتے تھے-ان اشراف میں اس وقت مروان بن حکم سب سے آگے آگے تھا-وہ جو کچھ مدینہ میں اہل بیت کے ساتھ ہورہا تھا اس سے کم شدت کے ساتھ معاویہ کا یہ مخلص بندہ مدینہ میں موجود اصحاب رسول سے بھی کم برا نہیں کررہا تھا-اور اہل مدینہ مروان سے بہت سخت ناراض تھے-اور مہاجر و انصار اصحاب رسول کی اولاد کے اندر اموی اشراف کے خلاف یہ نفرت باقاعدہ منظم ہوتی نظر آتی تھی-

جنگ جمل میں قصاص ‏عثمان کے نعرے کے تحت جو لوگ بصرہ میں اکٹھے ہوئے تھے ان میں زبیر بن عوام اور طلحہ کی شہادت میں مروان کے کردار نے ان کی باقیات کو بھی خاصا ناراض کیا ہوا تھا-زبیر بن عوام کے بیٹے عبداللہ بن زبیر کے خروج تک آنے میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا-پرانی ارسٹو کریسی کا ایک بہت بڑا حصّہ اب اموی ارسٹو کریسی سے نالاں نظر آتا تھا-یہ اس ارسٹوکریسی میں تقسیم اور دھڑے بندی تھی جس نے امام علی اور خانوادہ رسول کے خلاف اتحاد کرلیا تھا-اور ایک وقت تک حکومت سے اہل بیت اطہار کو دور کردیا تھا-لیکن حکمران طبقے کی اس تقسیم سے فائدہ اٹھانے کی کوئی سوچ امام حسن کے ہاں ہمیں نظر نہیں آتی-بلکہ وہ اہل بیت اطہار کے مسلک انکار اور ظلم کے خلاف اپنی جدوجہد کو چلانے کے حق میں رہے-امام حسن نے اس دور میں بنو امیہ کی اشتعال انگیزی کا جواب صبر اور تحمل سے دیا-اور اس سارے عرصے میں بنو امیہ کی مدینہ میں کمان کرنے والے مروان کی کوشش یہ رہی کہ کسی طرح سے وہ امام حسن کو اشتعال پر آمادہ کرلے اور معاہدے کے ٹوٹنے کا الزام ان پر آجائے اور ان کی بددیانتی بے نقاب ہونے سے بچ جائے-

مروان کی اشتعال انگیزی اس قدر زیادہ تھی کہ کئی اصحاب رسول نے اس سے علانیہ اعلان نفرت کیا-روایات موجود ہیں اہل سنت کی کتب احادیث میں کہ رسول اللہ نے اپنے منبر پر بنو امیہ کے لوگوں کو بندروں کی طرح اچھل کود کرتے دیکھا اور ان پر لعنت کی-

ایک مرتبہ امام حسین سے مروان کی بہت زبردست جھڑپ ہوئی جس میں مروان نے یہاں تک آپ کو ملعون کہہ ڈالا تو امام حسین نے کہا کہ

مروان تو جب اپنی ماں کے پیٹ میں تھا تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے تیرے باپ پر لعنت کی تھی-اس موقعہ پر بھی یہ امام حسن تھے جنہوں نے امام حسین کو مروان سے نہ الجھنے کا مشورہ دیا تھا-

امام حسن نے عراق اور کوفہ میں رہنے والے عشاق کو خبردار کیا تھا کہ وہ زیاد کی اشتعال انگیزی والی حرکات اور اقدامات سے مشتعل نہ ہوں اور ایسی حرکات نہ کریں جس سے ان کو قتل کا بہانہ ہاتھ آجائے-اس زمانے میں جب حسن مدینہ میں قیام پذیر تھے تو امیر شام کے حکم پر زیاد نے عراق کے اندر آپ کے شیعہ کے اوپر ظلم و ستم کا سلسلہ شروع کرچکا تھا-یہ بھی معاہدے کی خلاف ورزی تھی-غرض کہ جیسے جیسے معاویہ ابن ابی سفیان کو یہ احساس ہونے لگا کہ یہ معاہدہ اس کے اعتبار اور ساکھ کے لیے تباہ کن ثابت ہورہا ہے تو اس نے اس سے فرار کے راستے تلاش کرنے شروع کرڈالے تھے-لیکن ایک بات طے تھی کہ امام حسن کے حیات ہوتے ہوئے اس کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ اس معاہدے سے ہٹنے کی سوچتا-اس لیے امام حسن کی شہادت کا منصوبہ سوچا گیا اور اس میں دشمنوں کو وار کرنے کا موقعہ مل گیا-

امام کی شہادت کے وقت اور بعد جو واقعات رونماء ہوئے ان پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے-امام حسین نے آپ سے وقت نزع سوال کیا کہ آپ کا قاتل کون ہے؟لیکن امام حسن نے مصلحت کے ساتھ خاموش رہنے کا فیصلہ کیا-آپ کی زبان سے نکلا ایک لفظ بھی امام حسین کو مروان کا گھیراؤ کرنے کے لیے کافی ہوتا لیکن امام حسن وقتی اشتعال کو دبانے پر زور دیا-امام حسن کے جنازے پر جو تیر برسائے گئے اور مروان کا اس موقعہ پر جو کردار رہا وہ سب تاریخ میں درج ہے-یہ امام حسن تھے جنہوں نے جنازے پر ایک مرتبہ پھر بنوہاشم کو امویوں سے لڑانے کی کوشش مروان کامیاب نہ ہوسکیں-

Comments

comments

Latest Comments
  1. Nike Dunk Sky Hi
    Reply -
  2. Air Jordan 5
    Reply -
  3. Air Jordan 7 For Women
    Reply -
  4. New Balance
    Reply -
  5. Air Jordan 4
    Reply -
  6. Hommes 2013 Nike Free 6.0
    Reply -
  7. Nike Air Max 90
    Reply -
  8. Nike Free Run 3 Hommes
    Reply -
  9. Ed Hardy Suéteres
    Reply -
  10. Jordan CP3 VI Men
    Reply -
  11. Michael Kors Glitz Watches
    Reply -
  12. Maillot Bayern Munich
    Reply -
  13. Watch
    Reply -
  14. Celine Clasp bolsos
    Reply -
  15. Supra Thunder Low
    Reply -
  16. Dior handbags
    Reply -
  17. Hermes Shoes
    Reply -
  18. Guess
    Reply -
  19. Miu Miu Totes
    Reply -
  20. Versace Sac
    Reply -
  21. Camisetas Adidas Hombre
    Reply -
  22. Marque Isabel Marant
    Reply -
  23. Air Jordan 5(V) Retro
    Reply -
  24. Air Jordan 20
    Reply -
  25. Nike?Shox?Turbo12
    Reply -
  26. Coach?Poppy?Collection
    Reply -
  27. Nike?Air?Max?90?VT?Tweed
    Reply -
  28. Celine?Trapeze?Bags
    Reply -
  29. chaussure air max
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*