ایک افسانہ جو حقیقت سے ملا ہوا ہے

 imam_hassan_as-t2

  کنکریاں)افسانہ)

بیٹا!یہ جدہ ہے یہاں سے ہم احرام باندھیں گے اور پھر اپنے مقدس ترین سفر کا آغاز کردیں گے-میرے بابا کی آواز میرے کان میں پڑی تو میں چونک گیا-اس سے قبل جدہ کی دور سے نطر آتی بلند و بالا عمارتین دیکھ کر مجھ پر ایک عجب طرج کب ہیبت طاری تھی-مین سوچ رہا تھا کہ یہ تو وہ حجاز نہیں ہے جس کا تذکرہ فلپ کے ہیٹی نے اپنی کتاب “دی عرب”میں کیا تھا-اور جب میں عدبی ادب میں ڈاکٹریٹ کررہا تھا تھا تو اس دوران عربوں کی متداول کتب مین جس حجاز کا نقشہ کھینچا گیا تھا یہ وہ بھی نہیں تھا-مجھے اب تک یہ بھی سمجھ نہیں آیا تھا کہ میرے بابا نے بحری سفر کیوں اختیار کیا تھا؟مین نے اچانک بابا سے پوچھا کہ بابا جانی! ہم ہوائی سفر اختیار کرتے تو بہت آرام سے پہنچتے -تو بابا جو کہ سفید براق احرام میں لپٹے ہوئے تھے مجھے کہنے لگے بیٹا!تمہارے دادا بھی سفینہ عابد سے حج کرنے آئے تھے-میں نے کہا بابا مجھے تھوڑا تھوڑا تو یار ہے-دادا اور دادی کے حج پر جانے کا واقعہ-بابا نہ جانے کس خیال میں تھے-اچانک ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ جب تمہارے دادا اور دادی نے اچانک حج پن جانے کا اعلان کیا تھا تو پڑوس میں رہنے والے مرزا انور اور ان کی بیگم گھر آکر کہنے لگے کہ

نقی صاحب اور زہرہ جی ! آپ کو اللہ کے گھر جانے کی مبارک باد دینے کو من نہیں کرتا-بھلا دو ناستک وہاں کیا کرنے جارہے ہیں-لیکن آپ کی اشتراکیت کا بھی کیا کہنا-گھر میں ہندؤ جوہری کی باقیات سنبھالتے پھرتے ہو–لکشمی مینشن نام کو مٹنے نہیں دیتے-اور پھر گھر پر عاشور کا اہتمام بھی باقاعدگی سے کرتے ہو-میلاد کے جلوس میں جاتے ہو-ہولی کے تہوار میں تمہارے گھر پر چراغاں ہوتا ہے-اور بے ساکھی منانے پنجاب چلے جاتے ہو-بیٹے کا نام غیر سید جیسا فتح محمد رکھتے ہم اور توتے کا نام مستجاب حیدر رکھکر پھر حیران کردیتے ہو-

میں بابا کو  یہ باتیں کرتے سن رہا تھا اور مجھے اپنے دادا اور دادی کی یاد آرہی تھی-میں تھوڑا سا خود کو کوس بھی رہا    تھاکہ سب لیبیک اللہم لبیک کا ورد کررہے ہیں اور میں کن سوچوں میں گم ہوگیا ہوں-میں پریشان تو اس سفر کے آغاز ہی میں تھا-بحری جہاز میں سوار ہونے سے پہلے ساڑھی میں ملبوس ایک چھریوں بھرے چہرے والی خاتون نے میرا آجانک ہاتھ پگر لیا تھا اور مجھے کہنے لگی-بالکا! تم اپنے محمد کی سمادھی پر جاکر میرا پیغام ضرور دینا اور وہ یہ ہے کہ!ان کے امتی تو ہم ہندؤ عورتوں کو کوڑا پھینکنے والی مشرک عورت سمجھ کر وہ سلوک بھی کرنے کو تیار نہیں ہیں جو تم نے اس کے ساتھ کیا تھا-

میں اس بوڑھی ہندؤ عورت کی بات سنکر کانپ گیا تھا اور مجھے لگا کہ یہ سفر مجھ سے نہیں ہوگا-اب مجھے اپنے دادا اور دادی کا سفر حج سے واپسی پر مسلسل اداس رہنا اور بات بے بات گم ہوجانا بری طرح ستارہا تھا-میں اور بابا جانی کیسے جدہ سے مکّہ پہنچے مجھے معلوم نہیں-سارا راستہ سوچوں میں کٹ گیا–کبھی اسلام کے ظہور کے وقت کا ناقشہ آنکھوں مین گھومنے لگتا تھا-اور اس دوران تلخیاں ہی تلخیاں گھلتی چلی جاتی تھیں-میں اور بابا مکّہ میں ایک ایسے گھر میں ٹھہرے تھے جو ابا کے کسی عربی نژاد دوست کا تھا-یہ ہاشم علی تھے-جوکہ بنو ہاشم میں سے تھے اور ابن ابی طالب کی اولاد تھے-بابا نے بتایا کہ محلہ بنو ہاشم میں یہ واحد گھر ہے جو اب باقی ہے–

ہاشم علی ڈھلتی عمر کے آدمی تھے -آدھی رات کا وقت ہوگا جب ہاشم نے مجھے جگایا تو میں نے دیکھا کہ بابا اور ہاشم دونوں کہیں جانے کے لیے تیار تھے-میں نے بھی فریش ہونے میں دیر نہ لگائی-اور باہر آگیا-ہاشم کی رہنمائی میں ہم نے بنو ہشم کے محلے میں اپنا سفر کرنا شروع کردیا-ہاشم ایک چگہ آکر ٹھہر کیا-یہ بیپ الخلاء بنے ہوئے تھے-میں سمجھا کہ ہاشم کو حاجت محسوس ہورہی ہے-لیکن ہاشم یک دم کہنے لگا کہ جانتے ہو یہ کون سی جگہ ہے؟میں نے یہ سوال کرتے ہوئے ہاشم کی آنکھوں میں آنسو دیکھے-اور دیکھا میرے بابا بھی روہانسےسے ہوئے جاتے تھے-میں نے کہا یا سیدی!میں نہیں جانتا-تو جواب میں کہنے لگے بیٹا! یہ مومینین کی سب سے پہلی ماں،تماری ماں فاطمہ کی ماں اور محبوب محمد خدیجۃ الکبری کا گھر تھا جس کو توحید والوں نے لیٹرینوں میں بدل ڈالا ہے-میں یہ سب سنکر زرا سکتہ میں آگیا-اور پھر کہنے لگے کہ بنو ہاشم کے محلے کی تمام نشانیاں مٹا دی گئں-ابی طالب کا گھر،جعفر طیار کا گھر اور عمار یاسر کا گھر،حمزہ کا گھر کسی کا کوئی نشان باقی نہیں رہا-محمد علیہ السلام جہاں پیدا ہوئے وہاں ایک کتاب گھر بنا دیا گیا-کہیں مال پلازہ بنا دیا گیا-ہاشم مکّہ کے اندر تاریح کے قتل کو بیان کرتا ہوا ایک دم مکّہ کے قبرستان میں پہنچ گیا تھا اور مجھے خاص طور پر کہنے لگا ایک قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے-(یہ قبر کیا تھی کنکریوں کا ایک ڈھیر تھا-ایک اعرابی ابھی کچھ دیر پہلے اس ڈھیر پر اپنے جوتوں سمیت چڑھ کر گذرا تھا-ہاشم کے دل سے ایک درد بھری سسکاری نکلی اور میں سمجھا کہ اعرابی نے قبر پر پیر نہ رکھا ہو بلکہ اس کے دل پر رکھ دیا ہو-ہاشم کہنے لگا کہ “وائے سیدی  حمزۃ ،وائے سیدی حمزۃ،کیا ہے تیرا نصیب کل ایک ہندہ تھی جو تیرا کلیجہ چباتی جاتی تھی  اور آج ایک سعود کا بیٹا تیری قبر کو اپنے پیروں سے روندتا ہے-تجھے ایک انقلاب صداقت کا ساتھ دینے کی اتنی بڑی سزا ملی ہے-مجھے ہاشم علی عدبی زبان کا جید مرثیہ خواں نظر آرہا تھا-اور میں سمجھ گیا تھا کہ کس کی قبر ہے اور کیوں اس قدر بے چین ہے ہاشم-اس نصف رات کو ہاشم نے مجھے سمیّہ کی قبرکی نشاندہی کی اور پھر چند اور قبریں دکھائیں-جن پر کوئی نشانی نہیں تھی-ہاشم کہنے لگا کہ ان قبروں کی علامتیں بنو ہاشم کے لوگوں کی گٹھی میں پڑی ہیں-سینہ بسینہ یہ علامتیں محفوظ چلی آتی ہیں اور ہم دور دراز سے آنے والوں کو تاریخ کو سعود کے بیٹوں کی عینک ہٹاکر دیکھنے کی ترغیب دیتے ہیں-

 میں بابا ،ہاشم جب کعبہ کا طواف کررہے تھے جبکہ ابھی رش کم تھا تو حطیم کی جگہ پر میں زرا دیر کو ٹھیر گیا تھا-اور چشم تصور سے وہ منظر دیکھنے لگا جب ابو جہل نے محمد کے سر پر اوجھڑی رکھ دی تھی اور کوئی نہیں آیا تھا یہ بچی فاطمہ کی نرم و نازک چھوٹی چھوٹی انگلیاں تھیں جو روتے روتے ان سے گند کو صاف کرتی جاتی تھیں-آج اس حطیم کے ّپاس انے والوں میں سے کتنوں کو یہ واقعہ یاد ہوگا-مجھے محمد کے آحری خطبے کی یاد بھی آغی ۃھی-

امام کعبہ نے جب خطبہ حج شرو،ع کیا تو مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ اس نے اپنی تقریر میں بھولے سعود کی غلط کاریوں کا ذکر نہین کیا-بلکہ ان کو خادم الحرمین شریفین کہہ کر پکارا-اس نے ان کی سسامراج نوازی اور پوری مسلم دنیا میں فرقہ واریت پر مبنی خون ریزی کے بیج  بونے کی مذمت نہ کی-میں یہ سب برداشت نہ کرپایا-میں حجر ابن عدی تو نہیں بنا مگر میں نے خاموشی سے اّنی چگہ چھوڑی اور آہستہ آہستہ حرم سے نکل آیا-میں نے پہلے بھی غاصب کے پیچھے نمآز ادا نہیں کی-اب چمعہ بھی چھوڑا اور ظہر ادا کی-

یہ ایک اور منظر ہے-ہماری گاڑی مدینہ کی طرف جارہی ہے-رستے میں ابواء کا مقام آیا-یہاں محمد کی والدہ آمنہ کی قبر تھی-اب اس کا نشان تلاش کرنا کارے دارد تھا-ہاشم یہاں بھی کام آیا-ایک چگہ کی نشان دہی کی-یہ وہ مقام ہے جہاں محمد قبر کے پاس واپس مکّہ جاتے ہوئے ٹھہرے تھے اور بلک بلک کر رونے لگے تھے-کچھ آنسو ہم نے بھی بہائے-اور مدینہ چل ّپڑے تھے-مدینہ بھی نقشہ بدلا ہوا تھا-روضۃ الرسول کی سونے کی جالیوں پر کندہ قصیدہ بردہ شریف کے اشعار پگھلے ہوئے تھے-لگتا تھا کسی نے ان کو مٹانے کی کوشش کی تھی-میں مدينۃ الرسول میں ہاشم کی رہنمائی  میں حسن کے گھر پہنچا-یہ وہی جگہ ہے جہاں امام حسن  کے تابوت پر مروان نے تیر برسائے تھے-اور ایک نواسہ اپنے نانے کے پہلو میں مرنے کے بعد بھی آرام نہ کرپایا-جنت البقیع پہنچا تو سامنے ایک ڈھیر کنکریوں کا اور اسی جیسے اور کنکریوں کے ڈھیر ساتھ ساتھ تھے-ہاشم نے زبان سے کچھ نہ کہا-بس اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں تھیں-اس کی آنکھوں میں اس قدر احتجاج تھا اور اس قدر اندرہ کہ مجھے لگا کہ میری ضبط کی ہمت جواب دینے لگی ہے-ایک چھوٹی سی اونچی جگہ پر مین بے دم سا ہوکر بیٹھ گیا-ہاشم کی بیٹی اور بیوی دونوں بھی ہمارے ساتھ تھیں-ہاشم کی بیٹی ابھی بہت چھوٹی تھی-فاطمہ تھا اس کا نام -بہت شریں عربی بولتی تھی-وہ معصومانہ انداز میں ہاشم سے کہنے لگی-بابا یہ ڈھیریاں کیا ہیں؟اور اس ویرانے میں آپ کیا کرنے آئے ہیں؟ہاشم اس قدر غم سے نڈھال تھا کہ اس سے کوئی جواب بن نہیں نہا تھا-تو ہاشم کی بیوی زینب کہنے لگی کہ “میری آنکھوں کی ٹھنڈک یہ ڈھیریاں نہیں ہیں-جہاں تم کھڑی ہو وہاں تمہاری ماں کی جد مان آرام کرتی ہیں-جن کے نام پر تمہارا نام ہے-اور ساتھ تمہارے بابا حسن آرام کیوں کررہے ہیں-فاطمہ معصوم تھی کہنے لگے بابا یہاں تو بہت دھوپ ہے اور بہت گرمی ہے -کوئی سایہ بھی نہیں ہے ان سب کو گھر لے چلیں نا-

میں روضۃ الرسول پر کھڑا ہوا تو مجھے اس بوڑھی ہندؤ عورت کی التجاء یاد آئی-لیکن مجھے کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوئی-کیونکہ رسول کی اپنی اولاد جنت البقیع میں انصاف کی منتظر تھی-اور نہ جانے انصاف کی منزل کب آنی تھی-میں مدینہ کے نواح میں گیا تو وہاں ایک کھجور کے درخت سے ٹیک لگائے ایک عمر رسیدہ عورت کیپر نظر پڑی اس عورت کی آنکھوں مین نجانے کیا تھا کہ میں کانپ اٹھا-مجھے لگا کہ یہ عورت بھی انصاف کی متلاشی ہے اور اس تلاش میں اس کی عمر بھی تمام ہونے کو ہے-واپسی کے سفر پر میں نے جنت البقیع سے شرطوں کی نطروں سے بچ کچھ کنکریاں فاطمہ اور حسن کی قبروں سے اٹھا لیں تھیں-

میں اور بابا حج کرکے واپس آگئے اور گھر آئے تو مـبارک باد دینے والوں کا ایک جم غفیر آکٹھا تھا_مرزا صآحب اور ان کی بیوی تو کب کے ّپرلوک سدھار چکے تھے مگر اس کا بڑا بیٹا اور اس کی بیوی ہمیں ےمبارک باد دینے آئے تھے-ہماری آنکھوں میں اداسی اور اضطراب دیکھ کردونوں میاں بیوی کے ہونٹ تعجب سے سکڑ گئے کہنے لگے-مستجاب تمہارے دادا دادی حج  سے آئے تھے تو ایسے ہی مضطرب تھے اور اداس تھے-ہم نے اس کے بعد ان کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا-اب تم بیٹا اور باپ آئے ہو تو وہی حال ہے-بابا اور میں نے ان کي بات سنی اور پھیکی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر کہا نہیں ایسی بات نہیں ہے-

میری بیوی نے رات ہونے پر مجھ سے پوچھا کہ اتنے مبارک سفر سے کیا لیکر آئے ہو-میں نے کہا نیک بخت وہاں سے جو لیکر آیا ہوں آج تک کوئی لیکر نہیں آیا ہوگا-اور میں نے بیگ  کھولا اور اس میں سے دو تھیلیاں نکالیں-اور بیگم کو دیں-اس نے کھولیں-اور کنکریاں دیکھر اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے-میں تھوڑا سا حیران اور پریشان ہوا–مجھے لگا کہ وہ شائد اس کو مذاق خیال کربیٹھی ہے-میں ابھی وضاحت کرنے کو تھا تو کہنے لگی کہ آپ کو پتہ ہے نانا نقی اور نانا زہرہ جب حج کرنے گئے تھے تو ایسی تھیلیاں لآئے تھے اور میرے ہاتھ پر رکھ کر کہنے لگے تھے صائمہ بٹیا !لو ہمیں تو اس سے بڑا تحفہ تمہارے لیا لگا نہین–ایک تھیلی میں تمہاری اماں فاطمہ کی قبر نما ڈھیری کی کنکریاں ہیں-دوسری میں تمہارے بیمار عابد کی قبر کی کنکر ہیں-جب کبھی تمییں اپنے غم بڑے لگنے لگیں اور دکھوں کی پوٹلی بھاری لگے-ان کنکروں کو نکال کر اپنے کی وطن میں غریب الوطن ہونے والی فاطمہ اور خاک و خون میں نہائے ہوئے لاشے کربلا میں چھوڑ کر آنے والے عابد کی قبر میں بے چینی کا تصور کرلینا شائد تمہیں تسلی ہوجآئے-

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*