Mian Sahab, better to stay quiet – It will only get muddier for you

Main kehray paasay jaawan, mayn manji kithay dhaawan!

The Pakistan Peoples Party which is always reeling under pressure from its arch rival – PML-N and the alliance of Teen Jeem i.e. Jurnail, Journalists and Judges, seems to be relaxed for the first time in the last four years. After the “Memogate” fizzled out and the PPP government showed some character by taking on the “Ghairat Brigade”, it seems that things have taken the turn for the best. For the first time since 1970’s Senate’s Chairman and Deputy Chairman belong to the PPP. Even though the party doesn’t have a simple majority, yet its 41 members will at least play a pivotal role in law making and importantly the election of the President in 2013. This is precisely the reason why PML-N on record wanted the PPP government to go back before the senate elections. But as they say “Izzat denay aur zillat denay wali sirf Allah kee zaat hay”, it is now turn for the PML-N to face its toughest test ever since it existed. Yes- Musharraf’s era was not so difficult compared to the challenges the reopening of Asghar Khan Case after 16 years and revelations of Younis Habib  have created.

And it is only getting worse.

The FIA report that Rehman Malik was talking about, has reached the hands of media, which has been released by none other than Rauf Klasra, a man who has been shown the door from Jang / The News and later on Express because his stories differed from the usual ISI fed narratives (ISI Narratives run in Jang and The News mainly).

The report below by Rauf Klasra is an eye opener. It talks about the Rs 200 million that Younis Habib gave to various corporations owned and controlled by Nawaz Sharif. This is separate to the Rs. 3.5 million that the ISI gave to him in 1990, which were also arranged by Younis Habib at the behest of General Mirza Aslam Beg.

This report reveals how high Nawaz Sharif is on the moral pedestal and all those who talk about “Krupshion” of PPP. PPP gets allegations and then spends years to get them cleared, while these children of Zia literally eat the whole nation and then make a deal and run away, only to come back and teach ethics.

Mian Sahab, a word of advice, take a short cut and do what you do best: run away, claiming your wife is unwell and you need to have your hair fixed. It will only get muddier.

ایف آئی اے فائلز: ’نواز کے ہاتھوں مہران بنک کی لوٹ مار‘

اسلام آباد ( رؤف کلاسرا) سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایف آئی اے کی اٹھارہ سالہ پرانی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ یونس حبیب نے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو بیس کروڑ روپے قرضوں کی شکل میں مہران بنک سے دیے تھے جو کبھی واپس نہیں ہونے اور اتفاق فاؤنڈری کے نام پر جاری کیا گیا قرضہ تو ایک دن میں ہی مہران بنک کے مالک یونس حبیب کو وزیراعظم ہاؤس سے کی گئی ایک فون کال کے بعد دیا گیا تھا۔

ا س سے پہلے سپریم کورٹ میں یونس حبیب کی طرف سے پیش کیے گئے پرانے حلفیہ بیان میں دوسرے سیاستدانوں کو روپوں کی تقسیم میں جہاں دوسروں کا نام تھا وہاں نواز شریف کا نام بھی تھا کہ انہیں پہلے پینتس لاکھ روپے آئی ایس آئی کی طرف سے ادا کیے گئے اور پھر اس فہرست میں بیس کروڑ روپے کا ذکر تھا جو کہ نواز شریف کو ادا کیے گئے تھے۔ ایف آئی اے کی ایک رپورٹ نے اب پردہ اٹھایا ہے کہ یہ بیس کروڑ روپے کیسے شریف فیملی کو مہران بنک سے ادا کیے گئے تھے۔ ایف آئی اے کی یہ رپورٹ سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس میں پیش کیے گئے سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے جس کی سماعت سپریم کورٹ میں بدھ کو دوبارہ شروع ہو گی۔ جنرل اسلم بیگ، جنرل اسد درانی، یونس حبیب بھی عدالت میں پیش ہوں گے۔ اس کیس کے پٹیشنر اصغر خان، ان کے بیٹے علی اصغر خان اور ان کے وکیل سلمان اکرم راجہ بھی پیش ہوں گے۔ جنرل بیگ کے وکیل اکرم شیخ ہیں۔

یونس حبیب پہلے ہی یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ نواز شریف نے اس سے بیس کروڑ روپے لیے تھے۔ شہباز شریف نے بھی ان سے لاکھوں لیے تھے۔ نواز شریف کا نام آئی ایس آئی سے پیسے لینے والے سیاستدانوں کہ فہرست میں بھی شامل تھا۔ تاہم اب ایف آئی اے کی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ بیس کروڑ روپے مہران بنک سے قرضوں کی شکل میں رشوت دی گئی تھی۔ اس رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ کیسے یونس حبیب کی مدد سے جعلی اکاؤنٹس سے یہ سب چکر چلایا گیا تھا اور کیسے یہ کروڑں روپے نواز شریف اور ان کی فمیلی اور دوستوں کی جیبوں میں گئے۔

ٹاپ سٹوری آن لائن کو ملنے والی ایف آئی اے کی اس ٰخفیہ رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے مہران بنک سے بیس کروڑ روپے اپنی ملوں اور اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو دلوائے اور ان سے مفت کا قرضہ دلوانے پر لاکھوں روپے بھتہ بھی وصول کیا۔ اس کے بدلے میں نواز شریف نے مہران بنک کو پھلنے پھولنے اور لوگوں کو لوٹنے کا موقع دیا اور سٹیٹ بنک آف پاکستان کے اعتراض کو رد کیا بلکہ اپنے وزیرخزانہ سرتاج عزیز کے ذریعے سٹیٹ بنک کی طرف سے مہران بنک پر عائد بھاری جرمانوں کع بھی معاف کیا۔ بدلے میں سرتاج عزیز کے بیٹے عدنان کو یونس حیبب نے دس لاکھ روپے بھی ادا کیے جو کہ اس فہرست کا حصہ ہے جو سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ہے۔

ایف آئی اے کی اس رپورٹ کے مطابق مہران بنک کل ساٹھ کروڑ روپے کے سرمائے سے شروع ہوا لیکن حیرانی کی بات ہے کہ اس قلیل سرمائے میں سے نواز شریف کے خاندان کو بیس کروڑ روپے دے دیے گئے اور یہ پیسے اس وقت دیے گئے جب وہ پہلی دفعہ وزیراعظم بنے تھے۔

رپورٹ کے مطابق شریف فیملی کی چوہدری شوگر ملز کو مہران بنک نے اس وقت چار کروڑ پچانوے لاکھ روپے کا قرضہ دیا جب یونس حبیب کو وزیراعظم ہاؤس سے ایک فون کال کی گئی۔ اس قرضے کے لیے کوئی ضمانت اور گارنٹی نہیں دی گئی۔ اس مل کے ڈائریکٹرز میاں شہباز شریف، میاں حیسن نواز اور حمزہ شہباز تھے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چار اپریل انیس سو ترانوے کو مہران بنک کی لاہور میں واقع برانچ میں میں ایک اکاوئنٹ نمبر 10200-001 کھولا گیا۔ اسی دن ہی یہ قرضہ اپلائی کیا گیا اور اس دن ہی اس کی منظوری دی گئی اور سارا قرضہ اس اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔ یہ کام یونس حبیب نے خود کیا تھا۔ یونس حبیب کو وزیراعظم ہاؤس سے باقاعدہ فون پر ہدایت ملی تھی کہ یہ کام آج ہی ہو جانا چاہیے۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی اور اس دن ہی چیک نمبرز 527501 کے ذریعے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے نکال لیے گئے جب کہ دوسرے چیک نمبر 527503 کے ذریعے تین کروڑ روپے دیے گئے اور انہیں اتفاق فاؤنڈری کے نام پر جاری کیا گیا۔

اسی دن چوہدری شوگر ملز نے چونتیس لاکھ روپے اسی اکاؤنٹ سے نکلوا لیے۔ اس رقم میں سے اکتیس لاکھ روپے نکلوا کر اتفاق فاؤنڈری اور برادرز سٹیل ( نواز شریف فیملی کی مل ہے) کو مختلف جعلی ناموں پے آرڈر دیے گئے۔ جن لوگوں کے جعلی نام استعمال کیے گئے ان کے نام بشیر احمد،ِ محمد اکبر بادامی باغ، محمد اسحاق بادامی باغ، خبیر انڈسٹریز بادامی باغ، اور ایم صابر تھے۔

ایف آئی اے رپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ ساری رقم غیر قانونی طور پر اتفاق اور برادرز سٹیل ملز کو ٹرانسفر کی گئی تھی۔ دراصل یہ سیاسی رشوت تھی جو کہ یونس حبیب نے نواز شریف اور شہباز شریف کو اتفاق فاؤنڈری اور برادرز سٹیل ملز کے لیے دی تھی۔ اسی طرح ایف آئی اے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے اپنے رشتہ داروں کو بھی مہران بنک سے کروڑوں روپے کا قرضہ لے کر دیا اور اپنا حصہ وصول کیا۔ تفصیلا ت کے مطابق حسیب وقاص شوگر ملز کو پانچ کروڑ روپے کا قرضہ دیا گیا۔ اس مل کے ڈائریکٹرز میاں الیاس معراج، میاں محمد ریاض معراج،میاں محمد اعجاز معراج اور دیگر چار خواتین تھیں۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ مل نواز شریف کے برادرنسبتی کی تھی۔ یہ قرضہ رننگ فنانس کے نام پر دیا گیا اور اسے بعد مین قرضہ میں بدل دیا گیا اور کوئی گارنٹی نہیں لی گئی۔

نواز شریف نے اپنے دوست اور انتخابی مہم کے انچارج اور پاک پنجاب کارپٹس کے مالک طلحہ زبیر کو بھی دو کروڑ پچاسی لاکھ روپے کا مہران بنک سے قرضۃ لے کر دیا۔ اس یونٹ کے ڈائریکٹرز خواجہ زبیر احمد، خواجہ طلہ زیبر، خواجہ عدنان زبیر، خواجہ عمران زببر

خواجہ احسن زبیر اور فیملی کی خواتین بھی تھیں۔ ایف آئی اے کی رپورٹ کا کہنا ہے کہ اس کے لیے بھی نواز شریف نے وزیراعظم ہاؤس سے فون کیا تھا۔ یہ قرضہ ایکسپورٹ فنانسنگ سکیم کے تحت دیا گیا۔ اس پارٹی نے کہا تھا کہ انہوں نے ایک سو پچاس دنوں کے اندر شپمنٹ کرنی تھی لیکن چھ میں سے پانچ شپمنٹ نہیں کی گئیں جب کہ باقی ایک شپمنٹ ہوئی لیکن دستاویزات بغیر پے منٹ کے واپس کر دی گئیں۔

اس رقم کو استعمال کرنے کی بجائے جس کے لیے یہ منظور کی گئی تھی، اس میں سے ستتر لاکھ روپے نکال کر انہیں چوہدری شوگر مل ( نواز شریف فمیلی) کو ایک پے آڈر نمبر 002508 اور 002510 کے ذریعے شفٹ کیا گیا۔ رپورٹ کہتی ہے کہ 77 لاکھ روپے نواز شریف کو یہ پیسے مہران بنک سے مفت کا قرضہ دلوانے کے لیے رشوت دی گئی تھی۔ ایف آئی اے نے اس رقم کے بارے میں کہا ہے کہ یہ دراصل بھتہ تھا جو نواز شریف نے لیا تھا۔

اس طرح پاک پنجاب کارپٹ مینوفیکچرنگ جو نواز شریف کے الیکشن مہم کے انچارج طلحہ زیبر کے گروپ کو ایک اور قرضہ یونس حیبب سے دلوایا گیا۔ اس گروپ کو نواز شریف کے کہنے پر انیس سو بیانوے میں مہران بنک نے اس گروپ کو دو کروڑ پینتالیس لاکھ روپے دیے جو انہوں نے نیویارک میں اپنی چیزین ایکپسورٹ کرنے کے نام پر لیے۔ یہ قرضہ بھی یونس حیب نے وزیراعظم ہاؤس سے ایک فون کال پر دیااور یہ قرضہ بھی واپس نہ کیا گیا۔ ظہور ٹیکسٹائل کو بھی کروڑوں روپے کا قرضہ نواز شریف کے کہنے پر مہران بنک سے دیا گیا جو کبھی واپس نہ ہوا۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ بیس کروڑ روپے کا قرضہ دراصل مہران بنک کی طرف سے نواز شریف کے لیے رشوت تھی کیونکہ یونس حبیب کو علم تھا کہ یہ قرضے بغیر کسی ضمانت کے دیے جارہے ہیں لہذا ایک دن میں ہی اکاؤنٹس کھلوا کر یہ پیسے جعلی ناموں سے ٹرانسفر کراکے آخر کار اتفاق فاونڈری کے اکاؤنٹس میں جع کرائے گئے تھے۔


Rauf Klasra disclosing the report on Dunya News:




Latest Comments
  1. Abdul Nishapuri
  2. jameel jawed
  3. khalid humayun
  4. Gulzar Birhmani
  5. Ahmed Iqbalabadi
  6. Tariq Shafi