Zardari khappay! – by Suleman Akhtar


Such media frenzy over the departure of President Asif Ali Zardari to Dubai owing to medical reasons. Such are the hate speeches and death wishes for the person who, against all odds, has been serving as president of an almost ungovernable state for last three years and has proved successful in cohering the country together on the verge of falling apart for all the wrong reasons. The man who may not be liked, esteemed and recognized by most of us, but the worst of his enemies are of the view that his reconciliation policies have become bases of taking all the stake holders on board leading to the strengthening of federation despite grave ethnic issues and mutual grievances.

There may or may not be political differences but the core question that need to be answered amidst this all the hate delirium against one man is associated with morality. The very morality question that has been orchestrated during his whole term as the president to inflict all the curse upon him. Leaving aside the credibility of corruption charges thrown to him, let’s be little introspective here and dare to ask ourselves, “Is this morally correct to invite death on a person under medical treatment”? Isn’t it morally and ethically improper to exhibit one’s prejudices for someone in need of prayers? Is looking trough blue glasses the only way left to show your differences?

Such is the fury that one is compelled to recall lynch mob mentality that came to fore when lynching of two brothers in Sialkot. Such is the outburst that one recollects brutality of the mob setting ablaze the homes of poor Christians in Gojra. Such is the hysteria that come in mind bloodstained faces of Salman Taseer and Shahbaz Bhatti. Such is the madness that one, under stream of consciousness, is coerced to recollect the panorama of last days of Shaheed Benazir Bhutto. Such is the lunacy that one can smell blood – the blood that has become the integral part of our collective consciousness as a nation.

Honorable and highly educated self-assigned-jack-of-all-trades Junta of Pakistan has come down to the level of beasts losing all sense and sensibility that are emblem of humans. While exhibiting sheer hypocrisy, the self-righteous proponents of religion and morality forget to mention in their discourse sixty of their fellow Shia Muslims who were killed just a day ago in Kabul and Mazar-e-Sharif. There has not been any kind of debate today on electronic and social media that why on earth the innocent were slain brutally. More crucial issue to them has been to play upon the ailment of Zardari. Morals to them are what best suitable to them and religion to them is what in their best interests – everything else comes under the label of heresy and unrighteousness and thus calls for blood.

Many distant observers out there blame the tribal customs of the villages of being violent and unrelenting. Those who have ever been in villages of Pakistan or have some connection with the villages for that matter know that even the worst of foes pay a visit to each other while during distress or calamity. Mian Muhammad Buksh, a Punjabi Sufi poet from Potohar region, has beautifully described it in immortal Saif-ul-Malook: “Dushman Maray te Khushi na kariye, Sajnaa vee mar jana” (We must shy away from celebrating death of our enemies as our own kin is not immortal). Comparing this courteous tradition with blood-thirsty lynch mob mentality widely prevailed among urban middle-class, it’s not difficult to comprehend that our social fabric is on the way of declining in terms of tolerance and acceptance – a deleterious phenomenon that has all the shades of ruining the nations.

If Zardari-bashing is the only criteria of venting your anger for your shortcomings and prove you more patriotic than the millions out there who voted for him, then with all due respect sires, some of us wouldn’t buy that logic. Some of us wouldn’t become a part of spate of hatred for a man who has been portrayed as devil by you. Some of us, who still believe in a tolerant, democratic and multicultural Pakistan, would stand by our president flying in the face of loathsome ad-hominem and conspiracies. Hereby, some of us would show our allegiance to our president by chanting what once he chanted for us.

Zardari Khappay!


18 responses to “Zardari khappay! – by Suleman Akhtar”

  1. yeh article parhnay kay ba’ad meri ghairat jaag uthi hay, meray andar ka insaan baidar ho gaya hay aor mera zameer janjhorr janjhorr kar mujhay galian day raha hay…. kay Abdullah!!! saari qoam zardari kay marnay ki dua kar chuki, tu peechay kiyun reh gaya…. zardari Khappay (punjabi wala khappay)…. jiye bhutto, maray zardari 😀

  2. During NATO strike Generals disappeared, now they trying to use soft target to resurrect!!!

  3. What a wonderful article- Man- Amazing- Yeah Pakistani Qaum sir HUJOOM hay- inko kya pata Democracy kya hotee hay-

    Zardaree Khappay- Pakistan Khappay- Jiyay Zardari- Pakistan Zindabad

  4. Masha allah.. May god bless president of pakistan… I am saying this for the dirst time in my life… Jeyay Zardari

  5. G.aaaaaaaaaaaaeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeey Zardariiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiii !! PAKISTAN KHAPPEY !!

  6. پاکستان کھپے – زرداری جیئے

    صدر مملکت آصف علی زرداری طبی وجوہات کی بنا پر متحدہ عرب امارات میں ہیں اور ان کے ترجمان اور معاونین کے مطابق ان کی صحت تسلی بخش ہے۔ معالجین کے مطابق انہیں ایک طویل عرصے سے عارضہ قلب لاحق ہے۔ تین روز قبل صدر آصف علی زرداری کی دبئی روانگی کے موقع پر ناخوش اندیش ذرائع ابلاغ نے اپنی خواہشات کو خبر کا درجہ دے کر افواہوں کی لین ڈوری باندھ دی تھی۔ امریکی جریدے فارن پالیسی جرنل میں چھپنے والی ایک نیمے دروں نیمے بروں خبر نے گویا بارانی کاشت کاری کے ماہر عناصر کے دھانوں پر بارش کا اثر کیا۔ اس خبر میں کچھ نامعلوم امریکی ذرائع کا حوالہ تھا اور کچھ پاکستانی حکام کے ٴاقوالٴ درج تھے۔ کل ملا کے نتیجہ یہ تھا کہ صدر مملکت میمو گیٹ سے پیدا ہونے والے اسکینڈل کے دبائو میں اعصابی توازن کھو بیٹھے ہیں اور سپریم کورٹ کی کارروائی سے خائف ہو کر دبئی چلے گئے ہیں۔ یہ امر حیران کن ہے کہ ایک شخص اعصابی طور پر اس قدر انتشار کا شکار ہو جائے کہ اپنے امریکی ہم منصب سے بات چیت میں ربط قائم نہ رکھ سکے لیکن اس قدر باخبر ہو کہ ممکنہ عواقب کے پیش نظر پوری منصوبہ بندی کرکے ملک سے فرار ہو۔ امریکی جریدے فارن پالیسی جرنل کی رپورٹ میں ایک معنی خیز جملہ یہ تھا کہ فوجی حکام نے ٴٴاصرارٴٴ کیا کہ صدر مملکت کا معائنہ فوجی ڈاکٹروں سے کروایا جائے گا۔ اگر صدر مملکت اس قدر بے اختیار ہو جائیں کہ وہ اپنے معالج کا انتخاب بھی نہ کرسکیں تو ان کا بیرون ملک سفر کیسے ان کے اختیار میں ہو سکتا ہے۔ اسی خبر میں ایک شوشا پاکستان کے ان سفیروں کے حوالے سے بھی چھوڑا گیا جنہیں وطن واپس بلایا گیا ہے۔ حقیقت یہ تھی کہ ان سفیروں کو پاکستانی خارجہ پالیسی میں آمدہ تبدیلیوں سے آگاہ کرنے کے لیے وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے ملائے خوش نااندیش نے ان سفیروں کو صدر کا قریبی ٴٴحواریٴٴ تو قرار دے دیا لیکن سوئے قسمت کہ ان سفرا میں سے بیشتر وزارت خارجہ کے باقاعدہ اہلکار ہیں اور ان پر صدر زرداری سے قربت کی تہمت نہیں دھری جا سکتی۔ صدر مملکت کے متحدہ عرب امارات جانے کے دو روز بعد ان کی صحت کے بارے میں اطلاعات مثبت ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ صدر آصف علی زرداری پوری طرح صحت یاب ہونے کے بعد اگلے ہفتے کسی روز وطن واپس پہنچ جائیں گے۔ بہت سے غیر محتاط اشاروں کے بعد بالآخر امریکی وزارت خارجہ نے بھی اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور سیکرٹری خارجہ ہلیری کلنٹن نے صدر زرداری کی بیرون ملک موجودگی کو خالصتاً طبی وجوہات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اس سے ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل سے وابستگی رکھنے والوں میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سیاسی خط تنصیف کے دوسری طرف آزردگی کا تاثر صد سالہ زن ناکتخدا کی مایوسی ہے اور قابل فہم ہے۔
    یہ امر قابل تحسین ہے کہ ایم کیو ایم، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام، جو حکمران اتحاد کا حصہ ہیں، کی طرف سے اس ہنگامی صورت حال میں سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ان تمام جماعتوں نے صدر کی صحت یابی کے لیے مخلصانہ تمنائوں کا اظہار کیا ہے۔ اس سے بھی اہم اشارہ یہ ہے کہ حزب اختلاف کے اہم ترین رہنما محترم میاں نواز شریف نے اس دوران کوئی ایسا اشارہ نہیں دیا جس سے باور ہوتا کہ وہ صورت حال سے نامناسب فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں بلکہ انہوں نے لاہور کے سینئر صحافیوں کے ایک وفد سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے صدر کی صحت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اپنے لب و لہجے کو درجہ ثقاہت سے فروتر نہیں ہونے دیا۔ پیپلز پارٹی سے منحرف ہو کر پاکستان تحریک انصاف کا وائس چیئرمین بننے والے شاہ محمود قریشی نے عوامی سطح پر جس بدن بولی کا اظہار کیا وہ ان کی ذہنی قامت اور فکری استطاعت سے مناسبت نہیں رکھتی تھی۔ مناسب ہوتا کہ وہ اپنے سیاسی مقام کا خیال رکھتے۔ بحیثیت مجموعی صدر مملکت کی علالت کے دوران ہماری سیاسی قیادت نے بالغ نظری کا اظہار کیا۔ صدر مملکت ملکی افواج کے سپریم کمانڈر ہیں اور ان کی علالت سے قلیل مدتی سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کسی صورت قابل تحسین قرار نہیں پاسکتی۔ پاکستان کی سیاسی قیادت نے جو رویہ اختیار کیا وہ پاکستان میں سیاسی مکالمے اور جمہوری عمل کے لیے نہایت خوش آئند ہے۔
    صدر مملکت آصف علی زرداری غالباً پاکستان کے واحد سیاست دان ہیں جو ایک سے زیادہ وجوہ کی بنا پر گزشتہ ربع صدی سے میڈیا ٹرائل کا شکار ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو کل ملا کر پانچ برس کے لیے مخاصمانہ اخبارات کا سامنا کرنا پڑا۔ بے نظیر بھٹو کی بے سرو پا کردار کشی قریب پندرہ برس جاری رہی۔ آصف علی زرداری نے کردہ و ناکردہ کوتاہیوں کی پاداش میں برخود غلط صحافیوں اور کوتاہ اندیش سیاسی حریفوں کے ناوک دشنام چوبیس برس تک اپنے سینے پر لیے ہیں۔ گیارہ برس وہ پابند سلاسل رہے۔ مخالفین کہتے ہیں کہ جن مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوا، ان میں آصف علی زرداری کی بے گناہی ثابت نہیں ہوئی۔ تسلیمٝ تاہم یہ بھی تو بتایا جائے کہ وہ کون سا ملزم ہے جسے بغیر ضمانت کے گیارہ برس تک محض الزام کی بنیاد پر قید رکھا جائے۔ اگر ناز و نعم میں پلے آصف زرداری نے عارضہ قلب پال لیا تو اس میں کیا تعجب، دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشتà
    آصف علی زرداری کا یہ جرم تو واضح ہے کہ وہ صدر کے انتخابی ادارے سے اکثریت کے ساتھ کامیاب ہو کر ایوان صدر تک پہنچے ہیں لیکن انہیں غدار قرار دینے والوں کو یاد نہیں کہ جب انہوں نے بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا تو ان کی ایک آنکھ اپنے ذاتی صدمے سے اشکبار تھی اور دوسری آنکھ میں وطن کی بے پناہ محبت موجزن تھی۔ اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد بلوچستان کا زخم رفو نہیں ہوسکا۔ بے نظیر کی موت تو اس سے کہیں بڑا سانحہ تھی۔ آصف علی زرداری نے ذاتی دکھ کو سینے میں رکھ کے وطن کی فکر کی۔ انہوں نے پاکستان کی واحد وفاقی جماعت کو متحد رکھا۔ انہوں نے قومی مالیاتی ایوارڈ کے ذریعے وفاق کی اکائیوں میں اعتماد کے بحران کو دور کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے جسد دستور پر آمریت کے چرکوں پر مرہم رکھا۔ انہوں نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ رضا کارانہ طور پر اپنے اختیارات وزیراعظم کے سپرد کیے بلکہ افواج پاکستان کا سپریم کمانڈر ہوتے ہوئے بھی نیوکلیائی کمانڈ اینڈ کنٹرول وزیراعظم کے ہاتھ میں دے دیا۔ آصف علی زرداری نے بدترین تنقید اور بے جواز بدزبانی کے جواب میں مثالی تحمل اور رواداری کا مظاہرہ کیا ہے۔ آصف علی زرداری کی یہ صلح جوئی اب ان کے لیے ایک طعنے کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ کہنا چاہیے کہ اس طعنے کا مستحق پاکستان کی تاریخ میں کوئی دوسرا سیاسی رہنما نہیں رہا۔ پاکستان کی تاریخ میں سیاست دانوں پر زبان طعن دراز کرنا بہت آسان رہا ہے لیکن کسی بھی فرزند وطن کے لیے غداری سے بڑا کوئی طعنہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک الگ معاملہ ہے کہ پاکستان کے بہترین بیٹوں اور بیٹیوں کو اس گالی کا نشانہ بننا پڑا۔ اگر آصف زرداری اس دشنۂ حساد کا شکار ہوئے تو اس میں تعجب نہیں لیکن پاکستان میں جمہوریت چاہنے والوں اور پاکستان کے عوام کی بھلائی مانگنے والوں کا ایک ہی خیال ہے، پاکستان کھپے، زرداری جیئے۔

  7. this is the worst article i have ever read. I never thought people like the writer existed. with all due respect, i want the president of Pakistan to get well and come back and may he live long to see his fate. May he be punished for whatever he did to our nation and its people. there is nothing good that he has done for this nation.

    “for the person who, against all odds, has been serving as president of an almost ungovernable state for last three years and has proved successful in cohering the country together on the verge of falling apart”

    give me a break! you really think so??? I think you really need to see a doctor!

  8. We already know what’s happening in the country, the writer got this article posted on tribune’s blog, which is being read by “THE WHOLE WORLD” (cheers, you have got a list of fans now! You are famous boyyy!! Happy??)

    He told the World about weakness of our people, to the whole World. Instead of educating those mobs (yes they can’t read your article) He is pin-pointing to his own people.

    Life = Money + Fame – Our People

  9. @me your basing your entire arguement on your perception and opinion. What you have failed to do however is bring up facts

  10. Mr President plz come back to Pakistan.Despite of all the misgovernment out of which most is just media propaganda as a Punjabi you are my president.I am a voter of PML-N but for me you are also a big symbol of democracy.Come back and complete you tenure.Any misadventure by any one will be opposed by us.