Who is the biggest aggressor, Taliban or US? -by Arshad Mahmood

The greater of the aggressors

Nato choppers present in Afghanistan attacked Pak Army check posts and killed 24 of our soldiers. Presently our security establishment is furious and as a gesture of true patriotism our social, religious and political parties are staging protests against the West.

On the one hand, there are those in Pakistan who look for opportunities to vent their extreme hostility towards India, US Israel and Europe. They view the world as if on the one side are the Muslims whereas the rest of the world is on the other side of the fence. And the only relationship between the two is that of complete hostility. Then there are those who want to see peace, mutual respect and prosperity in this region so that the country can focus on its real issues which are economic in character.

Unfortunately our leadership under various compulsions, most of the times, have been supportive of the former narrative. Hence it has been in line with those who want to keep the state in a perpetual state of conflict. This mindset creates an environment where the whole country appears to be facing security concerns all the time. Hence we are a state, constantly facing the existential threat where neither the country and its frontiers nor the strategic assets are secure.

Initially it was the Eastern frontiers which were insecure and all the defense plans were constructed keeping in view the threat from India. Now the security issues have worsened. Presently a large part of our army is also deployed on the Western borders. Protection of nuclear assets is another project of the national security doctrine. Internal peace is in tatters, sectarianism, terrorist activities of the Taliban, political instability abounds while the economy is facing a meltdown.

The country is being run on a daily basis while the number of our enemies is increasing by the day. Perhaps we have conquered India and are on our way to clash with the sole super power; the US and its European allies. Our Mullahs are challenging the Americans on the roads. Perhaps it would be good to hand over the murderers of Pakistani soldiers to them whom they can sentence according to the shariah. Let us see when the US succumbs to the demands of these Mullahs.

The media shows the entire nation imbued with similar emotions, standing side by side with the army. However there are some questions which owe an answer. Our own military tells us that in the past ten years, 5000 Pakistani soldiers and around 30000 civilians have been killed by the Taliban. In addition GHQ and the naval base at Karachi were attacked while equipment worth billions was destroyed. The Army Chief and some corps commanders were also ambushed and even military convoys were abducted from tribal areas. Can there be a greater aggression than this. I do not think 5000 military personnel were killed in any war with India.

The slaughter of 24 soldiers is significant but why are we not ready to face the stark reality of the murder of 5000 soldiers. Why does the nation, the government and the security establishment do not respond to Taliban hostilities the way they react to American aggression? Nobody came out on the streets, no agitation and no probes ever demanded by the security establishment. Was the five year stay of OBL in Pakistan not an act of aggression? Do we not have foreign terrorists is North Waziristan against the law of the land? On the one hand we have been avoiding a military offensive in North Waziristan on the plea that we do not have the capacity while at the same time we are challenging the military might of the West. We are also talking of war against the US with weapons we purchased from them without realizing that it is not in our interest to clash with the US but to ponder over that dreaded reality that nobody in the comity of nations supports us.

The question is why the Haqqani network and some Taliban groups are dear to us. Are there ideological differences between the good and the bad Taliban? The fact remains that there is no difference in their thought and objectives. How long can we survive with this thinking that if our sweet will is not honored we will not allow peace in this region. So what we have to offer to the world is nothing positive but all negative. So in a way we are almost cut off from the rest of the world and are being weakened.

In our own interest we have to follow a policy of peace and friendship in this region, while spreading militancy in the name of patriotism and national security would never serve us in a positive way. We are not defending our national interests by being irresponsible, rather we are endangering ourselves. On the one hand we are destabilizing the democratic process and on the other we are all geared to take on the whole world. We must abandon the role of a stingy and stubborn child.

Our leadership must realize the political and economic challenges faced by the country. It should also try to come out of the complex self- created problems. This country needs peace and reconciliation and instead of slogan mongering we should face the reality on ground and look for issues of law and order and security within ourselves. A policy of conflict in the name of patriotism and security will leave us nowhere!

Source: View Point

طالبان بڑے جارح یا امریکہ

افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے ہیلی کاپٹروں نے پاک آرمی کی ایک پوسٹ پر رات کے وقت حملہ کر کے ہمارے 24 فوجی شہید کر دیے۔ اس واقعہ پر ہماری دفاعی ہیئت مقتدرہ سیخ پا ہے اور حب الوطنی کے اظہار کے طور پر سیاسی، سماجی، مذہبی اور پیشہ ورانہ تنظیمیں امریکہ اور یورپ کے خلاف احتجاج کررہی ہیں۔ پاکستان میں ایک وہ لوگ ہیں، جو ہر وقت بھارت، امریکہ ، اسرائیل اور یورپ کے خلاف شدید منفی جذبات کے اظہار کا موقع ڈھونڈتے رہتے ہیںاور دنیا کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ ایک طرف مسلمان ہیں اور دوسری طرف باقی سب اقوام۔ اور ان کے دونوں کے درمیان دشمنی کا رشتہ ہے۔ دوسری طرح کے لوگ اس خطے میں امن اور باہمی دوستی کے ماحول کو دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہمارا ملک اپنے حقیقی مسائل جو مالیاتی اور معاشی ہیں، پر توجہ دے سکے۔ ہماری قیادت بھی مجموعی طور پر اول الذکر بیانیے کی پیروکار رہی ہے اور ان لوگوں کی پشت پناہی کرتی ہے جو پاکستان کو مسلسل ایک تصادم کی فضا میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں۔

اس طرح ایسا ماحول پیدا ہوجاتا ہے جس سے پاکستان ہر وقت سلامتی کے مسائل سے دوچار دکھائی دیتا ہے۔ ایک ایسا ملک جس کے وجود کو ہر وقت اور ہر طرف سے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ نہ ملک سلامت نہ سرحدیں محفوظ اور نہ سڑٹیجک اثاثے محفوظ۔ پہلے پہلے ہماری مشرقی سرحدیں ٟبھارت کی طرف اشارہٞ غیر محفوظ تھیں۔

تمام فوج، اس کی ذہنیت، اور چھائونیوں کی تعمیر بھارت کے حوالے سے کی گئی۔ اب پاکستان سلامتی کے مسائل میں مزید گھر گیا ہے۔ اب ہماری اچھی خاصی فوج مغربی سرحد ٟافغانستانٞ کی طرف بھی مصروف کار ہے۔ ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کرنا قومی سلامتی کا ایک علیحدہ پراجیکٹ ہے۔ داخلی سلامتی اپنی جگہ تار تار ہو چکی ہے۔ فرقہ وارانہ شدت پسندی، طالبان کی دہشت گرد کارروائیاں، سیاسی عدم استحکام، لولا لنگڑا جمہوری نظام چل رہا ہے۔ انتشار کی اس فضا میںمعیشت برباد ہو چکی ہے۔ ملک ایک ایک دن کی وقت گزاری کے ساتھ چل رہا ہے لیکن ہمارے قومی دشمنوں کی فہرست میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

ہندوستان کو ہم نے اپنے خیال میں زیر کر لیا ہے۔ اب ہم واحد عالمی طاقت امریکہ اور یورپ کی فوجی مشینری کے ساتھ ٹکرانے کے ارادوں کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہمارے مولوی سٹرکوں پر امریکہ کو للکار رہے ہیںپاکستانی فوجیوں کو مارنے والوں کو ان مولویوں کے حوالے کیا جائے ، تاکہ وہ ان کو شریعت کے مطابق سزا دی سکیںà اب دیکھتے ہیں ، امریکہ کب ہاتھ باندھ کر ان مولویوں کی درخواست پر عمل کرتا ہے۔ میڈیا میں دکھایا جارہا ہے کہ پوری قوم اسی طرح کے جذبات سے لبریز ہے۔ اور اپنے وطن کی سلامتی کے لئے پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔

لیکن اس سارے تناظر میں ہمارے کچھ سوالات ہیں۔ ہماری خود اپنی افواج کی جانب سے بتایا جاتا ہے، کہ طالبان کے ہاتھوں پچھلے دس سال میں پاک آرمی کے پانچ ہزار جوان اپنی زندگیاں کھو بیٹھے ہیں اور تیس ہزار پاکستانی سویلین مر چکے ہیں۔ ہمارے جی ایچ کیو پر حملہ ہو چکا ہے۔ نیوی کے اڈے پر حملہ ہوا، انتہائی قیمتی دفاعی جہاز تباہ کر دیئے گے۔ آرمی چیف اور کور کمانڈروں پر حملے ہو چکا ہے۔ آرمی کے پورے کے پورے قافلے اغوا کئے جا چکے ہیں۔ کیا اس سے بڑی جارحیت کوئی اور ہو سکتی ہے۔ ہمارا نہیں خیال کہ پانچ ہزار جوان کبھی انڈیا پاکستان کی کسی جنگ میں کام آئے ہوں۔

کیا اس سے بڑی غداری اور جارحیت کوئی اور ہو سکتی ہے۔ 24 فوجی شہید کر دیے جانے کا واقعہ اہم ہے لیکن پانچ ہزار فوجی مارے جانے کی حقیقت سے چشم پوشی کیوں؟

ہماری حکومت، ہیئت مقتدرہ اور پوری قوم جس طرح امریکہ کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ہمارا ویسا ردعمل کیوں نہیں ہوتا۔ ان کے خلاف تو اس طرح کا واویلا کبھی نہیں ہوا۔ کسی نے طالبان سے انتقام لینے کی بات نہیں کی۔ کوئی جلسے جلوس، شور شرابا اور احتجاج نہیں ہوا۔ سلامتی کی اشرافیہ کی طرف سے کبھی کوئی قابل ذکر ردعمل نہیں ہوا۔ بلکہ ان واقعات کے بارے کوئی تحقیقاتی رپورٹ قوم کے سامنے نہیں لائی گئی۔ ہماری عدالتیں بھی آئے روز کمزور تفتیش اور شہادتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے دہشت گردوں کو رہا کر دیتی ہیں، کسی ریاستی ادارے اور حب الوطنی کے ٹھیکیدواروں کے ماتھے پر بل نہیں آیا۔

کیا اسامہ بن لادن کا پانچ سال سے ایبٹ آباد میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہونا پاکستان کے خلاف جارحیت نہیں تھی۔ کیا شمالی وزیرستان میں پاکستانی آئین اور قانون کے مخالف غیر ملکی دہشت گرد موجود نہیں ہیں۔ ایک طرف ہم دنیا کو پچھلے دس سال سے کہہ رہے ہیں کہ ہماری فوج اس قابل نہیں کہ وہ شمالی وزیر ستان میں کارروائی کر سکے۔ دوسری طرف ہم امریکہ اور نیٹو کے خلاف کمربستہ ہونے کی باتیں کر رہے ہیں۔ امریکہ سے خریدے ہوئے ہتھیاروں سے امریکہ کے خلاف جنگ کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ اس ھقیقت کی طرف کوئی اشارہ نہیں کرتا کہ ہمارا اصل مسئلہ امریکا سے ٹکرانا نہیں بلکہ یہ خوفناک حقیقت ہے کہ دنیا میں کسی ملک سے
ہمارے حق میں آواز بلند نہیں ہو رہی۔

سوال یہ ہے کہ افغانستان کا حقانی نیٹ ورک اور دیگر ٴاچھے طالبانٴ ہمیں پیارے کیوں ہیں۔ کیا اچھے اور برے طالبان میں کوئی فکری اور نظریاتی اختلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں کی فکر اور مقاصد ایک ہیں۔ پاکستان کب تک صرف اس پالیسی سے قائم رہ سکے گا، کہ ہماری مرضی نہ چلی ، تو ہم اس خطے میں امن قائم نہیں ہونے دیں گے۔ گویا ہمارے پاس دنیا کو پیش کرنے کے لئے کچھ مثبت نہیں۔ جو کچھ ہے منفی ہے۔ یوں ہم دنیا سے کٹے جا رہے ہیں۔ خود کو کمزور کر رہے ہیں۔ ہمیں اس خطے میں امن اور دوستی کی پالیسی درکار ہے۔

حب الوطنی اور قومی سلامتی کے نام پر عوام میں جنگجو انہ خیالات پھیلانا ملک و قوم کے حق میں نہیں۔ ہم غیر ذمہ داری کا مطاہرہ کر کے وطن کی حفاظت نہیں کررہے، اسے خطرات میں ڈالتے جارہے ہیں۔ ایک طرف جمہوری عمل کو غیر مستحکم کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف ساری دنیا سے نبردآزما ہو کر تنہا ہو رہے ہیں۔ ہمیں ایک ضدی اور لڑاکا بچے کا کردار چھوڑ دینا چاہئے۔

ہماری قیادت کو ملک کے مالی اور معاشی بحرانوں کا احساس کرنا چاہئے۔ اپنے ہی پیدا کئے ہوئے نہایت پیچیدہ مسائل سے نکلنا چاہئے۔ اس ملک کو امن اور صلح جوئی کی ضرورت ہے۔ ہمیں نعرے بازی کی بجائے حقیقت سے آنکھیں دوچار کرنی چاہیئں۔ بد امنی اور سلامتی کے مسائل کا حل خود اپنے اندر تلاش کرنا چاہئے۔ سلامتی اور حب الوطنی کے نام پر نفرت اور تصادم کو بڑھانے کی پالیسی ہمیں کہیں کا نہ رہنے دے گی۔ تاریخ کا تقاجا یہ ہے کہ ہم اپنی پالیسیوں پر ٹھنڈے دل سے غور و فکر کریں۔

Source: Daily Mashriq