آلو انڈے اور بے غیرت برگیڈ

کھڑے پانی میں پتھر پھینکیں تو ایک چھپاکا سا ہوتا ہے، تھوڑا سا تلاطم پیدا ہوتا ہے اور پانی میں گول گول سے دائرے بنتے چلے جاتے ہیں، مگر تھوڑی دیر میں پھر وہی سکوت طاری ہو جاتا ہے، پھر وہی خاموشی، پھر کسی پتھر کا انتظار. ہمارا معاشرہ بھی ایسے ہی جمود اور تعطل کا شکار ہے،  تبدیلی سے انکاری، ارد گرد سے خوف زدہ، اکا دکّا پتھر پڑتے ہیں کوئی زبان کھولتا ہے تو کچھ تلاطم پیدا ہوتا ہے، مگر ایسے سارے پتھر خاموشی سے تہ میں جا بیٹھتے ہیں اور سطح پر پھر وہی خاموشی. ایسا ہی ایک پتھر بے غیرت برگیڈ کا گانا ‘آلو انڈے’ بھی ہے، جس نے کئی اونگھتے ہووں کو چونکا دیا ہے، ہمیں ان نو جوانوں کی ہمّت پر رشک آتا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ کئی شبہات و ممکنات بھی ذھن میں ہیں، ان نو جوانوں سے ازحد معزرت کے ساتھ ان کا ذکر کیا جاتا ہے.

سب سے پہلے تو ہمیں ان کے نام ‘بے غیرت برگیڈ’ نے بلکل متاثر نہیں کیا، ہمارے معاشرے میں بے غیرتی اتنی عام ہو چکی ہے اور بے غیرت اتنا پھل پھول چکے ہیں کہ  یہ نام نہ تو ہٹ کر نظر آتا نہ کوئی انفرادیت رکھتا ہے. یہاں تو ہر طرف بے غیرتی کا دور دورہ ہے، رشوت ستانی، منافع خوری، چوری چکاری، اقربا پروری، فرائض سے غفلت، قانون کی خلاف ورزی، اختیارات کا نا جائز استعمال وغیرہ وغیرہ، ایسا کونسا بے غیرتی کا مظاہرہ ہے جو عام نہ ہو، عام آدمی ہو کہ صاحبان اختیار و اقتدار سب ایک سے بڑھ کر ایک، سب کسی نہ کسی مجازی خدا کے آگے سجدہ ریز ہیں، کہیں کوئی غیرت مند نظر آتا ہے؟ مسلح درندے معصوم نہتے لوگوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں، مذہب جو سلامتی کی نشانی ہے اس کو دہشت گردی کی وجہ بنایا جاتا ہے, اکثریت اقلیت سے زیادتی پر اخلاقی ذمّہ داری بھی نہیں محسوس کر پاتی، بیٹیاں دن دہاڑے اغوا ہو جاتی ہیں، نکاح میں لائی جاتی ہیں، مجبور کی جاتی ہیں کہ مذہب بدل دیں، چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بھوک کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں، اور نہ جانے کیا کیا ہو رہا ہے اس  معاشرے میں، کسی غیرت مند کے کان پر جوں بھی رینگی؟ تو ہم کو سب سے پہلے تو نام پر اعتراض ہے، تین افراد لاکھوں کروڑوں کی ہمسری کیسے کر سکتے ہیں؟ مگر ہو سکتا ہے کہ یہ نام رکھ کر یہ احساس دلا رہے ہوں کہ ہم آپ ہی میں سے ہیں، ہمیں اپنا ہی جانیے.

ویسے آلو انڈے بھی خوب گانا ہے، کہنے کو تو گانا مگر ایک گانے میں اتنے متفرق موضوعات کو سما دینا آسان بات نہیں، ویسے بھی ہمارے برصغیر میں روایت یہ رہی ہے کہ گیت کی صنف عموماً عشق و محبت کے جذبات کی عکّاسی کے لئے ہی استعمال ہوتی ہے، تو آلو انڈے ہمارے مشاہرین اور روایت پسندوں کے لئے تو ایک بڑا دھچکا ہوگا، امید ہے کہ ہرگز کسی خاطر میں نہیں لایا جاے گا، بلکہ ہمارا تو خیال ہے کہ بڑے سے بڑا نقاد بھی سواے حقارت کے اور ایک ‘اوہنہ’ کے اور کچھ نہیں کہہ سکے گا، یہ بھی ہماری روایت ہے کہ عوام میں جگہ بنانے والے تخلیقی جدّت پسندوں کو شرفا (ٹھیکیدار کہنا کچھ اچھا نہیں لگتا ) کسی کھاتے میں نہیں لاتے اور ایسی تخلیقات کو عامیانہ اور رذیل قرار دے کر ‘اوہنہ’ کہہ کر گزر جاتے ہیں. مثال کے طور پر کسی ستم ظریف نے کہا ہے

لباس ہے مقّدم تو حفظ ما تقدم لمبے پتوں والے درخت لگا لو صاحب
آنے والا بجٹ عوامی، چھوڑے گا نا پینٹ پجامی 
پھر باندھ کے پتے میری جان، جھینگا لا لا پاکستان

بے شک یہ اظہار بیان نا صرف عامیانہ ہے بلکہ شرفا کی نظر میں انتہائی شرمناک بھی ہے، مگر عوام کے دل کی زبان ہے، اس لئے بڑا مقبول ہوا ہے، اب کسی کو برا لگے تو لگے، عام آدمی جس کو نا تعلیم کی سہولت ہے نا تربیت، جو زندگی کو کھینچنے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے، وہ میر و سودا کی زبان میں تو گفتگو کرنے سے رہا، جسے جنگلوں کے قانون اور طاقتور کی حکومت کی عادت ہو اسے تو جھینگا لا لا ہی سمجھ آ سکتا ہے، تو جناب جب ضرورت ہے تو ایسی تخلیقات تو ہوتی رہیں گی، جن کو برا لگے ان کو ‘اوہنہ’ کہنے کا پورا اختیار حاصل ہے, مگر بسوں اور ٹرکوں پر لکھی جانے والی شاعری ختم نہیں ہوگی، ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنی فہم اور پہنچ کے اعتبار سے اظہار بیان کرے . حالانکہ ‘آلو انڈے’  کا اس جھینگا لا لا سے کوئی مقابلہ نہیں مگر ہمیں یقین ہے کہ نازک مزاج فن شناس ادب پرور اور وہ جو اس کا نشانہ ہیں ہر دو اس کو عامیانہ اور بے کار قرار دینے کی پوری کوشش کریں گے. حالانکہ یہ صرف ایک ایسی تخلیق ہے جس میں مزاحمت کا جذبہ پوری شدت سے کار فرما ہے, اور جو عام افراد نے عام آدمی کے لئے بنائی ہے, ہاں نشانہ اگر کچھ خاص افراد (اور رویے)  ہیں تو اس میں کیا بری بات ہے؟ ہر تخلیق کسی نا کسی موضوع پر ہی ہوتی ہے, خوشی اس بات کی ہے کہ عام آدمی کی سمجھ آئے گی


اور جن حضرات کا  اس گانے میں ذکر آیا ہے، ان کے متعلق کیا کہیں، اور ان کے متعلق بھی کیا کہیں جن کا ذکر خیر ہونے سے رہ گیا ہے، سب ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں، سب ایک ہی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں یا جانے انجانے اسی کے مفادات کی نگہداشت کرتے ہیں ، جیسا کہ غالب نے فرمایا
اصل  شہود  و  شاہد  و  مشہود  ایک   ہے
حیران ہوں  پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں


اور مشاہدہ کسی حساب میں نہیں ہے کہ یہ حضرات جو ایک دوسرے کے گریبان کے درپے نظر آتے ہیں یہ محض دھوکا ہے، مشاہدہ نہیں مغالطہ ہے ، ذرایع ابلاغ نے عوام کی آنکھوں پر جو عینکیں چڑھا رکھی ہیں ان سے ایسا نظر آتا ہے، ویسے ہمارے دوست مجید کہتے ہیں کہ ‘حیران ہوں پھر مشاہد ہے کس حساب میں’, یہ ان کی اردو سے ناواقفیت کا ثبوت ہے. عام آدمی اور اس کا مشاہدہ ، اس کی راءے اور اس کی ضرورتیں کیونکہ کسی حساب میں نہیں اسی لئے کوئی اس کی فکر بھی نہیں کرتا. کسی معاشرے میں طبقاتی وحدت کی ایسی مثالیں آج کے زمانے میں کم ہی رہ گئی ہیں، اسی لئے فیض نے کہا تھا کہ
بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں


بہرحال ان لڑکوں کو دیکھ کر ہمیں بڑا افسوس ہوا کہ کہاں ضایع ہو رہے ہیں، ہمارا مشوره ہے کہ ان کو حضرت جنید جمشید کی تربیت میں دے دینا چاہیے اور ایک سال تک ان کی نگرانی میں رکھا جاوے ، مدد کے لئے نجم شیراز اور علی عظمت کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں، ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ حضرت زائد کے خطبات صبح شام سنائے جائیں، ساتھ ہی ساتھ ایک سال تک ان لڑکوں کو لیز چپس بھی کھلائے جائیں تو سونے پر سہاگہ ہو جائے، ذرا تصّور کریں کہ ایک ہی سال میں یہ حضرات شرعی پاجامے اور جے جے کے کرتے پہنے پر نور داڑھیوں سے چہروں کو رونق بخشے نظر آئیں گے،  عظمت کے خواب دیکھ دیکھ کر اور چپس کھا کھا کر موٹے بھی ہو چکے ہونگے اور اس فضول اچھل کود کے قابل ہی نہیں رہیں گے جو یہ ‘آلو انڈے’ میں کرتے نظر آئے ہیں, یہ تین بلکل بنجمن سسٹرز کا جواب نظر آئیں گے(  اوہ معاف کیجئے گا ہم نے سوچ کے گھوڑے کو بے لگام چھوڑ دیا تھا). اس کے بعد یہ جو تخلیق کریں گے اس سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی، سب خوش رہیں گے، سب سکون میں رہیں گے، نا کوئی بندہ نواز ہوگا نا کوئی بندہ, نہ رہے گا آلو نہ رہے گا انڈا.

 

Comments

comments

Latest Comments
  1. Abdul Nishapuri
    -
  2. umar
    -
  3. Dawood
    -
  4. Ahmed Iqbalabadi
    -
  5. Naveed
    -
  6. Shakeel Arain
    -
  7. Awais
    -