Salman Taseer’s assassination exposes ‘the cancer of religious fanaticism’

A few days ago, Mgr Lawrence John Saldanha, president of the catholic Bishops’ Conference of Pakistan, said, “it is clear that anyone that opposes the blasphemy law is at risk.”

Mgr Rufin Anthony, bishop of Islamabad-Rawalpindi, told AsiaNews that religious fundamentalism and intolerance are spreading in the country.

Increasingly, Muslim religious leaders are actually offering rewards to anyone willing to carry out attacks and violence against those who criticises the blasphemy law.

Between 1990 and 2011, as many as 35 people accused of blasphemy or opposed to the law were murdered in extrajudicial killings or found dead in dubious circumstances.

Such deaths tend to cause rejoicing among some Muslims, as evinced by the demonstrations in favour of Taseer’s murderer, Malik Mumtaz Hussain Qadri.

When he was arraigned in court last Tuesday, dozens of his fans hugged and kissed him, showering him with rose petals.

More than 2,000 people have also joined a Facebook group that backs the murder. Only 70 people have expressed an opinion against him.

The Pakistani and international media described the assassination of Punjab Governor Salmaan Taseer as it was a reflection of the growing ”cancer of intolerance” in the society.

According to US-based LifeSiteNews, more than 500 Muslim scholars have praised Qadri’s deed.

“It is shocking that the murderer of a governor is being honoured,” said Fr Daniel Habib, a Lahore priest. “Hundreds of lawyers are proudly presenting themselves to save Qadri; this is barbarianism. Instead of condemning such an act, he is being made a hero.”

The Express Tribune newspaper termed the assassination as “utter madness” and said: “…it was heartening to finally see someone speak with the voice of progressiveness and respect for human rights that the PPP had historically been associated with. And now it is revolting to see the same man done to death, so viciously, and that too by a member of his own police guard…”

An editorial in Dawn newspaper excoriated officialdom for standing silently by in recent months as fundamentalists issued threats and fatwas declaring Taseer an apostate for his stance on the blasphemy legislation. “He paid the ultimate price for his rejection of the cancer of intolerance that has aggressively eaten away at this country for over three decades now . . . If Pakistan and Pakistanis do not try and excise the cancer within, the future of this country is very bleak indeed.”

“It appears that in Pakistan if anyone decides to preface their arguments with the flag of Islam, however wrongly or cowardly, the state will stand by and advise ‘tolerance’ and ‘understanding’. But there can be no tolerance for intolerance, no understanding for that which is patently criminal,” it added.

The Express Tribune said in its editorial: “Also, lest we forget, since we all, especially in this country, tend to have very short memories, the blood of Salmaan Taseer is on all our hands. We, each one of us, are to blame for his assassination.

“And this is because, when he was being targeted by the extremists and the religious elements in our society, when some people came on television and hinted that Mr Taseer was, in effect, ‘wajibul qatl’ (fit to be killed) we did nothing to stand up and support him.”

Here is one op-ed on this very subject – this was originally published in RFE/RL.

The Deep Roots Of Pakistan’s Extremism

The cancer of extremism is spreading in Pakistan — from suicide bombings, to religiously motivated murders, to zero tolerance of moderates, and more. Now it is vividly clear that we are not talking about a tiny knot of people hiding in the mountains, but lunatic group whose ideas are daily warping the minds of Pakistan’s youth.

Within hours of Taseer’s death, hundreds of Pakistani Facebook users had welcomed the murder as a blow against those who sought to reform the country’s blasphemy laws. Dozens of groups were formed on the social-media site with more than 2,000 supporters before Facebook removed them.

However, these users have taken to using their Facebook status updates to make comments like: “We salute you, Mumtaz Qadri,” “A solider of Islam,” “Qadri is our hero,” “Mumtaz Hussain Qadri: the national hero of Pakistan.”

By contrast, most Pakistani television channels have not hesitated to denounce Qadri as a killer.

I was not surprised when 500 Islamic scholars issued a fatwa declaring that leading Taseer’s funeral would be against Islam. Nor was it shocking to watch a group of lawyers shower Qadri with rose petals when he was brought in for his initial court appearance on January 6. The attorneys chanted that they would defend the extremist for free.

The only thing that seems surprising to me is why the 97 percent of Pakistanis who are Muslim are so afraid of the 3 percent that isn’t.

Here is also an article about growing extremism especially in Pakistan Youth -originally published in BBC Urdu.

تاثیر کا قتل: نوجوانوں میں شدت پسندی کا بڑھتا رجحان

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آبا

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل نے جہاں وی آئی پی سکیورٹی، قتل کے سیاسی ہونے یا نہ ہونے کی بحث چھیڑ دی ہے، وہیں مبصرین کے مطابق نوجوان نسل میں پائے جانے والے انتہا پسند رجحانات کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔

رابطے اور نیٹ ورکنگ کے فیس بک اور ٹویٹر پر جو ردِ عمل دیکھا جا رہا ہے وہ تجزیہ نگاروں کے بقول حکومت اور معتدل خیالات رکھنے والوں کے لیے کافی حیران اور پریشان کن ہے۔

قتل میں ملوث ممتاز قادری کی غازی اور ہیرو کے طور پر تعریف کی جا رہی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ان پر تنقید والے صفحات بھی بنے ہیں لیکن وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔

نوجوانوں میں شدت پسندی کا بڑھتا رجحان: آڈیو

امریکہ میں نیویارک میں ناکام حملے کی کوشش میں گرفتار پاکستانی نوجوان فیصل شہزاد کی حد تک اکا دکا واقعات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں لیکن پاکستان میں پہلی مرتبہ کسی قتل کی حمایت میں بڑی تعداد میں نوجوان کھل کر اس طرح سامنے آئے ہیں۔

فیس بک نامی مقبول سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ نے جو اب تک دوستی، میل ملاپ اور رابطے کا ذریعہ بنی ہوئی تھی پاکستانی معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کو سامنے رکھ دیا ہے۔

توجہ طلب بات یہ ہے کہ فیس بک پاکستان کے کسی غریب پسماندہ علاقے میں قائم کسی مدرسے کا طالب علم کم ہی استعمال کرتا ہے۔ اس کے صارفین کی بڑی تعداد کھاتے پیتے، پڑھے لکھے اور بظاہر معتدل گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں اکثریت بیچلر اور ماسٹر ڈگری کے طالب علم ہیں جبکہ باقی اچھی نوکریوں اور دفاتر میں ملازم ہیں۔

انگریزی روزنامے دی ڈیلی ٹائمز کے مدیر راشد رحمان اس بات سے متفق ہیں کہ اس رحجان میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔ ’نوجوان نسل کو کیوں الزام دیں۔ ہمارے ہاں جو تعلیمی نظام ہے اور سیاسی افق پر دائیں بازو کا نظریہ حاوی ہے۔ اس دائیں بازو میں سینٹر سے لے کر انتہا پسندی تک کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ یہی نوجوان نسل کو ورثے میں مل رہا ہے اور یہیں وہ پڑھ رہے ہیں‘۔

سابق استاد اور باچہ خان فاونڈیشن کے ساتھ منسلک خادم حسین کہتے ہیں کہ مخصوص مقاصد کے لیے ملک میں سرکاری سرپرستی میں جمہوری عمل کو طویل عرصے تک روکنے سے نوجوان نسل تضادات کی شکار ہوگئی۔ ’ایک طرف وہ اسامہ یا ممتاز قادری کو تو دوسری جانب مائیکل جیکسن کو ہیرو بنائیں گے۔ دونوں کا نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان نسل زمین کے ساتھ جڑی ہوئی نہیں ہے‘۔

کسی بھی مہذب معاشرے میں انسان کی موت پر خوشی نہیں منائی جاتی۔ کسی کا قصور کتنا بھی سنگین ہو، قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا اور بغیر کسی ٹرائل کے کسی کو مار دینا بھی ایسے کسی معاشرے کو جائز قرار نہیں دیتا۔

لیکن فیس بک پر سینکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں کی جانب سے ممتاز قادری کی تعریف اور اسے ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس سے اس معاشرے کی سمت اور رحجانات پر تشویش میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

بعض لوگوں کے خیال میں پاکستانی معاشرہ پہلے سے ہی انتہا پسندی کی لپیٹ میں تھا۔ اگر یہ واقعہ دو چار سال پہلے ہوتا تو شاید انٹرنیٹ اور خصوصا فیس بک جیسی ویب سائٹس کی عدم موجودگی میں یہ ردِ عمل سامنے نہ آتا۔ ہمیں معلوم نہ ہوتا کہ انتہا پسندی کس حد تک معاشرے میں رچ بس گئی ہے۔

لیکن بعض ماہرین کے خیال میں افغان جنگ کے بعد اس خطے میں آنے والے شدت پسندی کے سیلاب نے نوجوان نسل کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان کے مطابق شدت پسندی میں ان حالات سے اضافہ ہوا ہے۔

ایسا نہیں کہ ممتاز قادری کے عمل کے خلاف فیس بک پر صفحات نہیں بنے۔ بنے ضرور ہیں لیکن ان کی تعداد، ممتاز قادری کی حمایت میں بننے والے صفحات سے کافی کم ہے۔

جن لوگوں نے ممتاز قادری کی تعریف کی ہے ان کے پروفائل (تفصیلات) دیکھیں تو ہر کوئی بظاہر پڑھا لکھا، کے ایل ایم جیسی مغربی فضائی کمپنی میں ماضی میں کام کرچکے ہیں۔ ایک شخص گیند سے کھیلتی ایک بچی کو اٹھائے ہوئے ہیں، ایک حامی نے کراچی اور برطانیہ میں اپنی رہائش ظاہر کی ہے۔ لاہور کے ایک فیس بک صارف جہاں ممتاز قادری کے مداح ہیں وہیں شکیرا بھی ان کی پسند ہے۔ کئی مشکوک صارفین نے اپنی جگہ اپنی پروفائل تصویر بھی ممتاز قادری کی ڈال دی ہے۔

ان سب افراد نے ایسا نادانی میں کیا یا جان بوجھ کر لیکن ان میں اکثر کے یہ خیالات یقینًا اس معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں کہ کیسے کسی انسان کے قتل کا دفاع کیا جاسکتا ہے۔ لیکن بعض لوگوں کے خیال میں فیس بک قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

بات فیس بک اور ٹویٹر تک محدود نہیں بلکہ ای میل گروپس کے بھی بعض منتظمین اپنی سوچ نہیں چھپا سکے۔ پشاور کے ایک ایسے ہی صحافی کی جاری ای میل میں بھی انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔

ہم کس سمت میں جا رہے ہیں یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ تاثر کہ افغان جنگ کے دوران پلی بڑھی نسل ہی شدت پسندی سے متاثر ہے لیکن نئی نسل کے ان بعض اراکین کی یہ حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ انتہا پسندی کا دیمک ہر کسی کو متاثر کر رہا ہے۔ یا پھر ہر کوئی ریڈ لائن کے اردگرد بیھٹا ہے۔ جب جی چاہتا ہے اس ریڈ لائن کو پار کرکے ممتاز قادری کے حامی بن جاتے ہیں اور جب چاہیں شکیرا کے دالداہ۔

Another Op-Ed on the same issue:

معاشرہ شدت پسندی کے شکنجے میں؟

ایم الیاس خان
بی بی سی نیوز، اسلام آباد

پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے پولیس اہلکار کی پیشی کے موقع بعض مذہبی تنظیموں کے کارکنوں اور وکلاء کے ایک گروپ کی جانب سے راولپنڈی کی عدالت کے گھیراؤ اور ملزم پر گل پاشی نے دنیا بھر میں لوگوں کے ذہنوں میں ایک نیا سوال جنم دیا ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی معاشرہ مذہبی شدت پسندی کی آخری حد بھی پار کرگیا ہے۔

اور یہ بھی کہ کیا اب پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی کے سامنے انسانیت، رواداری اور ملکی آئین و قانون کی کوئی اہمیت نہیں رہی جو تمام شہریوں کو برابری اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کی یقین دہانی کراتا ہے خواہ ان کا کسی بھی مذہب، فرقے، نسل یا علاقے سے تعلق ہو۔ ایسا کیوں ہے اور اسکے اثرات کیا ہوسکتے ہیں۔

توہین رسالت کے قانون کے بارہا غلط استعمال کے پیش نظر اسے ملک کے کئی سیاسی، سماجی اور قانونی حلقے متنازعہ قرار دیتے رہے ہیں اور اس میں بہتری لانے کی بات کرتے رہے ہیں لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال کے خلاف بات کرنے پر ایک صوبے کے گورنر کو انہی کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار نے قتل کردیا اور اس پر مستزاد یہ کہ قاتل کی پذیرائی اور حمایت بھی ہورہی ہے۔

جمعرات کو نقص امن کے خدشے کے پیش نظر سرکاری حکام نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے راولپنڈی، اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کو اسلام آباد منتقل کردیا تھا لیکن صبح سویرے ہی وکیلوں اور مذہبی تنظیموں کے درجنوں کارکنوں نے راولپنڈی میں واقع عدالت کو گھیر لیا اور جج کو اسلام آباد جانے نہیں دیا۔ ملزم کے حامیوں کے جلوس کی وجہ سے استغاثہ کے وکلاء بھی عدالت میں پیش نہیں ہوسکے تھے جس کے بعد جج کو مجبوراً راولپنڈی کی عدالت میں ہی سخت دباؤ کے ماحول میں مقدمے کی سماعت کرنا پڑی۔

قانون کی نظر میں سیدھے سادھے اس قتل کے معاملے پر مذہبی حلقوں کے دباؤ کے بعد پاکستان کی لبرل حلقے بھی پریشان نظر آتے ہیں اور کئی افراد اس معاملے پر کھل کر بات کرنے کو اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف تصور کررہے ہیں۔

تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ پاکستانی معاشرہ اب پوری طرح شدت پسندی کے شکنجے میں ہے؟

سیاسی اور دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ اگر ایسا پہلے نہیں تھا تو اب پاکستانی معاشرہ اسکے قریب ضرور پہنچ گیا ہے۔

ان کے بقول ان شدت پسندوں کی تعداد اب بھی کم ہے جو تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن وہ طرز فکر جو شدت پسندی کو فروغ دیتی ہے یا ان کے خلاف کارروائی سے روکتی ہے، وہ خاصی بڑھ گئی ہے۔

ڈاکٹر رضوی کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کی حامی یہ سوچ اب ہمارے تعلیم یافتہ طبقے، سرکاری اداروں، مسلح افواج میں بھی سرایت کرگئی ہے۔

لیکن پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر اعجاز خان کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ شدت پسندی کی حمایت بڑھ رہی ہو لیکن یہ سوچ اب بھی عوام میں مقبول نہیں ہوئی ہے۔

ان کے بقول اگرچہ مذہبی جماعتوں نے مقتول سلمان تاثیر کی نماز جنازہ میں شرکت کو ایک گناہ قرار دیا تھا لیکن اسکے باوجود ہزاروں لوگوں نے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور ملک کے کئی حصوں میں غائبانہ نماز جنازہ بھی کی۔

پروفیسر اعجاز کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذہبی جماعتوں نے کبھی بھی انتخابات میں چھ فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں لیے اور ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے میں ان کی ناکامی اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ ان جماعتوں نے دھونس دھمکی اور قتل جیسے ہتھکنڈوں کا سہارا کیوں لیا ہے۔

پروفیسر اعجاز کہتے ہیں کہ مذہبی شدت پسند اس لیے بھی کامیاب ہوتے نظر آتے ہیں کہ ملک کی سیکیورٹی اسٹیبلشمینٹ اکثر اپنے مفادات کے لیے ان کی حمایت کرتی رہی ہے۔

The Irish Times, writes, THE SLAIN governor of Punjab, Pakistan’s wealthiest and most politically powerful province, was laid to rest in his beloved Lahore this week, his untimely demise shrinking even further the space for debate over the role of religion in the world’s second most populous Muslim-majority country.

Taseer had not committed blasphemy, but had merely called for the repeal of blasphemy laws that have long been used and abused. His killing has left those Pakistanis already nervous about their country’s drift not just towards militancy, but the wider currents of intolerance and extremism in which it flourishes, wondering what comes next.

Religion has made Pakistan a schizophrenic society: Ayaz Amir



Latest Comments
  1. Junaid Qaiser
  2. nadia
  3. Benedict