میں شام پہ غیر جانبدار نہیں ہوں – عامر حسینی

کچھ دوستوں کی جانب سے مجھ پہ ‘شام اور بشار الاسد’ کے معاملے پہ جانبداری برتنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ میں ایران نواز ہوں۔

میں اس تنقید کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ اس لیے کہ اس کی وجہ سے مجھے ایک بار پھر اپنا موقف شام پہ واضح کرنے کا موقعہ مل گیا ہے۔

شام کے ایشو پہ میں غیر جانبدار واقعی نہیں ہوں کیونکہ میں اعلانیہ امریکہ،برطانیہ،فرانس، ترکی، سعودی عرب،قطر، اخوان المسلمون،داعش، القاعدہ، جیش الاسلام وغیرہ کے خلاف کھڑا ہوں۔اور میں شام کا حال ہرگز لیبیا جیسا ہوتا دیکھنا نہیں چاہتا۔

میں شام کے معاملے میں عالمی سطح پہ بائیں بازو کے ان دوستوں کے موقف کے خود کو قریب خیال کرتا ہوں جو ایک طویل عرصے سے شام میں عوامی جمہوریت، سوشلزم کے قیام کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔جو یہ چاہتے ہیں کہ شام میں ایک پارٹی اور اس پارٹی کے اوپر ایک خاندان کی اجارہ داری کا جو سلسلہ ہے وہ ختم ہو اور شام کے اندر آزاد پارلیمنٹ، آزاد پریس اور زیادہ سیاسی آزادیوں کا موقعہ میسر آئے۔یہ کم از کم پروگرام ہے جو شام کے اندر بائیں بازو کے کئی ایک گروپوں اور جماعتوں کا موقف رہا ہے۔اور ان میں شام کی کمیونسٹ پارٹی اور شام کی شوسلسٹ پارٹی کا موقف مجھے اپنے موقف کے قریب معلوم ہوتا ہے۔

شام کے اندر کمیونسٹ، سوشلسٹ اور لیفٹ کے بہت سارے گروپ موجودہ بعث پارٹی کے رجیم کی سخت گیر اور اقربا پرور سیاسی و معاشی سسٹم کی ایک لمبے عرصے سے اپوزیشن کرتے آئے ہیں اور جس وقت شام کے اندر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا اور زیادا پارلیمانی جمہوریت اور سماجی انصاف کی مانگ کی گئی اور عوام مظاہرے بڑھنے لگے تو ان مظاہروں اور تحریکوں کا بائیں بازو کے لوگ حصّہ تھے۔اسے بہار شام بھی کہا گیا اور اسے انقلاب شام کی لہر سے بھی تعبیر کیا گیا۔

یہ بات درست ہے بشار الاسد کے خلاف اٹھنے والی عوامی تحریک کے اندر امریکہ، برطانیہ، فرانس،سعودی عرب، ترکی، قطر جیسے ممالک کی حکومتوں اور ان ممالک کے لبرل اور وہابی اداروں سے جڑی این جی اوز اور بورژوا و پیٹی بورژوا سیاسی و مذہبی جماعتیں اور گروہ بھی موجود تھے۔ان میں بشار الاسد کی فوج، بعث پارٹی اور نوکر شاہی سے منحرف ہوکر آنے والی اشرافیہ بھی تھی۔ان سب سے ‘بہار شام’ کو اپنے تئیں ‘انقلاب’ میں بدلنے کے لیے مڈل ایسٹ کی وہابی اور پین اسلام ازم کی حامی ریاستوں اور فوجی مداخلتوں اور پراکسی وارز پہ یقین رکھنے والی امریکہ و فرانس و برطانیہ کی حکومتوں سے مدد لینا شروع کردی تھی۔

سعودی عرب کے اس وقت کے انٹیلی جنس چیف بندر بن سلطان نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے ملکر ‘بشار ہٹاؤ’ ایک پراکسی جنگ ترتیب دی۔اور اسی کے نتیجے میں القاعدہ اور داعش نے شام کی انقلابی تحریک کو ردانقلاب میں بدل ڈالا۔میں نے درجنوں آرٹیکل شام کے نامور لیفٹ رہنماؤں کے ترجمہ کیے۔ غیاث نسائی، جوزف دھر کے طویل مضامین جبکہ ایسے ہی اس موضوع پہ پوزیشن بنانے کے لیے گلبرٹ اشقر، سمیر امین سمیت کئی ایک عرب سوشلسٹ اور لیفٹ کے لوگوں کے آرٹیکل کی تلخیص کی اور اصل لنکس شئیر کیے۔

عراق اور شام سمیت مڈل ایسٹ پہ بہترین اور بائیں بازو کی شہرت رکھنے والے ٹاپ کے رپورٹرز جیسے رابرٹ فسک، جان پلجر ہیں کے تجزیاتی اور تحقیقی رپورٹنگ کے مضامین بھی پیش کیے۔اور ایسے ہی شام میں موجود الٹرنیٹو میڈیا کے طور پہ سامنے آنے والی ویب سائٹ جیسے منٹ پریس، نیوز وائڑ،کنسوریشم اور دیگر سے متعارف بھی کرایا۔ایسے ہی وینسیا بیلے، ولادیمر گولسٹین جیسے انتھک محنت کرنے والے تجزیہ کاروں کا اردو میں حتی الامکان ترجمہ پیش کیا۔اس کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے موقعہ ملا میں نے بہت تفصیل سے شام پہ بائیں بازو کے نکتہ نظر سے کی جانے والی کمنٹری اپنے دوستوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔انٹرنیشنل سوشلسٹ جرنل سے کئی مفید مضامین ترجمہ کیے۔

اس دوران ہم نے شعوری طور پہ پریس ٹی وی، تسنیم نیوز ایجنسی،شفقنا،المدثر،مڈل ایسٹ آئی اور ان جیسی درجنوں دوسری نیوز ویب سائٹس وغیرہ سے کوئی چيز مستعار نہیں لی حالانکہ ایسا کرنا گناہ تو نہیں ہے۔ہم نے بی بی سی ، واشنگٹن پوسٹ، نیویارک ٹائمز، گاڑدین جیسے میڈیا آؤٹ لیٹس کی طرف سے فیک نیوز، پراپیگنڈا کرنے کو بھی بے نقاب کیا۔

ہم نے شام میں بشار الاسد کو نہیں بلکہ شام کی عوام کی اکثریت کو سپورٹ کرنا شروع کیا جو شام کو نہ تو سعودی عرب،نہ ہی قطر نہ ہی ترکی کی باج گذار ریاست بنانے پہ راضی تھے اور نہ ہی وہ اسے امریکی، برطانوی یا فرانسیسی باج گزار ریاست بنانے کے حق میں تھے۔شام میں انقلاب رد انقلاب میں بدل گیا اور حقیقت میں اس رد انقلاب میں بدل جانے کے بعد امریکی بلاک جو اپنے آپ کو لبرل ڈیموکریسی کا علمبردار کہتا ہے وہ سوائے جہادیوں اور تکفیریوں کے سپورٹ کرنے کے اور کچھ بھی نہیں کررہا تھا۔شام میں جو نام نہاد آزاد شامی فوج تھی اس نے داعش، نصرہ جو آج کل جیش الاسلام کے سامنے خود کو سرنڈر کردیا اور ایک طرح سے اپنے لبرل نصب العین سے بھی دست بردار ہوگئی۔یہی وجہ ہے کہ آہستہ آہستہ شامی عوام کے سامنے انقلاب سے بھی فوری طور پہ کہیں زیادہ شام کو بطور ریاست کے بچانا اور اسے خانہ جنگی سے نکالنا ضروری ہوگیا تھا۔امریکی کیمپ شام کو نسلی بنیادوں پہ تقسیم کرنے اور حقیقی طور پہ شام میں ایک سلفی اور دوسری کردوں کے نام پہ امریکی باج گزار ریاست بنانے کے ایجنڈے پہ عمل پیرا تھا۔یہ دونوں مقاصد تو اس صورت میں بھی پورے نہیں ہونے تھے اگر شامی رجیم گرجاتا۔ہاں اس صورت میں شام کا حال لیبیا سے بھی برا ہونا تھا اور بات شام تک نہ رکتی بلکہ لبنان کی بھی یہی قسمت ہوتی۔

اگر شام کی عوام کی اکثریت دوبارہ وطن کے لیے کھڑی نہ ہوتی ،روس، ایران، حزب اللہ اور فلسطینی القدس بریگیڈ شام کی امداد کو نہ آتے تو شام کے اندر یہ حقیقت بات تھی کہ غیر سلفی صوفی سنّی، کرسچن، دیروزی سمیت تمام شیعہ فرقے، یزیدی اور کردوں کو صفحہ ہستی سے مٹادیا جاتا۔اتنے بڑے پیمانے پہ خون ریزی ہوتی کہ موجودہ سول وار کے دوران ہونے والی خون ریزی کو لوگ بھول جاتے۔

اس لیے شام کی کمیونسٹ، سوشلسٹ، لبرل ڈیموکریٹس سمیت اکثریت شام کے دفاع کے لیے متحد ہوگئی اور انہوں نے سعودی-قطری-ترکی-امریکی فنڈڈ مداخلت کاروں کے خلاف لڑنا شروع کردیا اور شام کی سرزمین کو افغانستان، صومالیہ و روانڈا بنانے کی طرف جانے والا راستا بند کردیا۔

ہم نے جھوٹی غیرجانبداری کا ڈھونگ نہیں رچایا اور امریکی کیمپ اور مڈل ایسٹ کی حکومتوں کی جہادی تکفیری پراکسیز کو واک اوور نہیں دیا۔

ہم آج بھی سمجھتے ہیں کہ شام کے اندر جہادی تکفیری پراکسیز اور امریکی کیمپ کی رجیم ہٹاؤ کے نام پہ مداخلت کاری کا مکمل خاتمہ کیا جانا بہت ضروری ہے۔اور اس سول وار کے نام پہ ہوئی سازش کے خاتمے کے بعد شامی عوام کو موقع ملے کہ وہ اپنا فیصلہ سنائیں۔

ہم فسادیوں، دہشت گردوں، کرائے کے سپاہیوں اور پوری دنیا سے شام میں جمع ہونے والے دہشت گردوں اور ان دہشت گردوں کے جرائم پہ پردہ ڈالنے والے وائٹ ہلیمٹ جیسے گروہوں کو لبرل ہونے، جمہوریت پسند ہونے اور انسانی حقوق کا احترام کرنے والوں کا خطاب نہیں دے سکتے۔

ہماری کمٹمنٹ شام کے عوام کے ساتھ ہیں جو اپنے وطن کو بچانے کی جنگ لڑرہے ہیں۔اور اس موقعہ پہ ہم شام میں فرقہ پرستوں، نسل پرستوں، مذہبی جنونیوں کے خلاف لڑنے والوں کے ساتھ ہیں۔ہم نام نہاد انقلاب کے نام پہ شام کو لیبیا جیسی صورت حال کا شکار ہونے نہیں دینا چاہتے۔

اس موقعہ پہ اگر شام میں عوام کے موقف سے ایران، روس ، بشار الاسد کی حکومت ، حزب اللہ اور فلسطینی القدس بریگیڈ کا موقف بھی مل جاتا ہے تو اس سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ ہم روس نواز/ایران نواز/ حزب اللہ نواز/ القدس بریگیڈ نواز ہیں۔

جیسے بشار الاسد کی حمایت وینزویلا، بولیویا،کیوبا بھی کررہے ہیں۔ان تینوں ممالک میں لیفٹ کی حکومتیں ہیں اور یہ عوامی مقبولیت کی حکومتیں امریکہ کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں ہیں۔

شام پہ امریکی-سعودی رجیم ہٹاؤ ایجنڈے کے خلاف ہمارے موقف کا ایران کی حکومت کے موقف سے مل جانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم ایران کی مذہبی پیشوائیت کے حامی ہیں یا روس کے کسی موقف سے ہمارے موقف کے مل جانے کا مطلب پیوٹن کی شخصی جمہوریت کے نظام کی حمایت کرنا ہے۔

کچھ بلوچ دوست یہ چاہتے ہیں کہ ایران میں بلوچ قوم کو درپیش مسائل پہ ایرانی بلوچستان میں بلوچ عوام کی آرزؤں اور امنگوں کا ساتھ دینے کا مطلب ہم یہ بھی کرلیں کہ دنیا بھر میں ایران کا مسائل پہ جو موقف ہو اسے ہم ایرانی موقف کہہ کر رد کردیں اور اس میں معیار رائے کا بس یہ بنائیں کہ جہاں ایران کھڑا ہو ہم وہاں نہ کھڑے ہوں۔اب ایران تو فلسطین کی آزادی کی سپورٹ کرتا ہے۔وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا تو ہم فلسطینیوں کے ساتھ نہ کھڑے ہوں۔

ہم بلوچ قوم کے حقوق کی بازیابی کی تحریک کی حمایت کرتے ہیں اور قوموں کے حق خودارادیت کی مانگ کو غداری نہیں سمجھتے اور پاکستانی حکومت کی جانب سے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل و غارت گری، فوجی آپریشنوں کی مذمت کرتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے ہم کشمیریوں کے حقوق کی تحریک کی حمایت کرتے ہیں۔اب پاکستان کی حکومت بھی بہت بڑی علمبردار ہے کشمیری حقوق کی تو کیا ہم اس حمایت سے دستبردار ہوجائیں؟

ہم کردوں کے الگ وطن اور ان کی آزادی کی تحریک کے بھی حامی ہیں۔اب کئی کرد گروہ ایسے ہیں جو امریکی بوٹ پالش کررہے ہیں اور امریکی سامراجی ایجنڈے کے پیرو ہیں۔ ایسے ہی امریکی شامی کردوں کو فضائی کور فراہم کرتے رہے داعش کے خلاف لڑائی کے دوران تو کیا ہم کردوں کی حمایت سے دست بردار ہوجائيں؟

اس لیے ہم نہیں سمجھتے کہ ہم جب شام کی خودمختاری اور اس ریاست کے خلاف تکفیری جہادی فسطائیت کی یلغار کی مخالفت کرتے ہیں تو اس کا قطعی مطلب بشار نوازی یا ایران نوازی نہیں ہے۔

اور آخری بات جو لوگ شام،عراق،یمن میں چل رہی لڑائی کو شیعہ-سنّی خانوں میں تقسیم کرتے ہیں اور اس جھوٹی بائنری کے زریعے چیزوں کو سمجھنے اور سمجھانے پہ اصرار کرتے ہیں،ان کو ہم فرقہ پرست اور بددیانت سامراج کے شعوری یا لاشعوری حامی خیال کرتے ہیں۔اور ان کو سلفی-دیوبندی مکاتب فکر کے اندر سے نکلنے والی تکفیری فسطائیت کے انسانیت کے خلاف جرائم چھپانے کی کوشش کرنے والے خیال کرتے ہیں۔اور اس پہ اگر کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو ہوتی رہے۔ہمیں کسی کی پرواہ نہیں ہے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*