ہچکی لیتا ہوا سرمایہ دارانہ سماج – عامر حسینی

نیوراتی خرابی سے پیدا ہونے والی بیماری ‘ٹوریٹ سینڈروم ‘ کا شکار ایک لڑکی نینا ماتھر کا سپنا استاد بننا ہے۔وہ ایک ماڈرن ہندوستانی مڈل کلاس خاندان کی لڑکی ہے،جو ہندوستان میں نہرو کے ریاستی سرمایہ داری کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے ‘شائننگ انڈیا’ اور پھر نہرو کی لبرل ترقی پسندی پہ مبنی منڈی کی معشیت پہ مبنی پالیسی سے زیادہ ابھرکر سامنے آنے والی جدید مڈل کلاس کا نمونہ ہے۔فرسٹ کلاس ماسٹر ڈگری رکھنے والی نینا ماتھر سے اس کے والد یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ کارپوریٹ سیکٹر کے اندر قسمت آزمائی کرے اور وہ اسے ٹیچنگ کے شعبہ کے لیے مطلوبہ اہلیت کے حامل نہیں سمجھتے۔اور پھر ٹیچنگ کا شعبہ ان کو ایسا شعبہ نہیں لگتا جس میں جاکر خوشحالی اور سکون میسر آسکتا ہو۔

نینا ماتھر: اسکول میں کوئی آپ کا فیورٹ ٹیچر ہوگا؟
والد: آف کورس تھا
نینا ماتھر: تو کیا آپ کو یاد ہے وہ کتنی تنخوا لیتے تھے

نینا ماتھر اسکول ٹیچر بننے کے لیے کئی تعلیمی اداروں میں انٹرویوز دیتی ہے مگر اس کی ‘چک،چک، وا وا ‘ کی آوازیں جو ‘ٹوریٹ سینڈڑوم’ کے سبب وقفے وقفے سے نکلتی ہیں جواب مل جاتا ہے،حالانکہ اس کا سی وی جب بھی کہیں جاتا تو اسے فوری نوکری کے لیے بلایا جاتا۔اور وہ کافی مایوس نظر آتی ہے مگر ہمت نہیں ہارتی۔اس دوران حکومت کی جانب کسی ترقیاتی کام کی زد میں آکر غریبوں کا ایک اسکول ختم کردیتی ہے اور اس اسکول کا ایک حصّہ ایک ایلیٹ اسکول کے گراؤنڈ میں بدل جاتا ہے۔اور پڑوس کی ایک جھونپڑ پٹی کے چودہ کے قریب بچے ‘تعلیم سب کا حق’ کے قانون کے تحت اس ایلیٹ اسکول کا حصّہ بنائے جاتے ہیں۔ان بچوں کو بجائے اس اسکول کے دوسرے بچوں کے ساتھ مختلف کلاسز میں کھپانے کے ان پہ الگ سے ایک سیکشن بنادیا جاتا ہے۔اور اس سیکشن کو پہلے تو پڑھانے کو کوئی تیار نہیں ہوتا اور جب ایک ٹیچر کی ذمہ داری بنتی ہے تو وہ مستقل چھٹی پہ چلی جاتی ہے۔اور پرنسپل کو مجبور ہوکر ایک ٹیچر ہائر کرنا پڑتا ہے جو چھے ماہ کے لیے عارضی طور پہ رکھا جاتا ہے اور یہ آفر نینا ماتھر کو ملتی ہے اور وہ اسے قبول کرلیتی ہے۔اسے سیکشن ایف کو پڑھانا ہوتا ہے۔

سیکشن ایف جھونپڑ پٹی کے چند بچوں پہ مشتمل سیکشن ہوتا ہے۔

میٹرو پولٹن شہروں جہاں سرمایہ دارانہ ترقی ایک طرف تو بلند و بالا عمارتیں، ہائی کلاس کے بڑے بڑے بنگلے اور عالیشان کوٹھیاں رکھنے والی کالونیاں ، ایسے ہی مڈل کلاس اشرافیہ کے لیے بہتر فلیٹس اور اپارٹمنٹس اور پھر ورکنگ کلاس کی تھوڑی سی بچت یا اقساط پہ عام سے فلیٹس بناتی ہے اور ساتھ ہی کرایوں پہ زندہ رہنے والی ایک چھوٹی سی بے کار کلاس پیدا کرتی ہے وہیں اس ناہموار ترقی کا لازمی حصّہ کچی آبادیاں، سلمز، جھونپڑ پٹیاں ہوتی ہیں جن میں معاشرے کے سب سے زیادہ پسے ہوئے طبقات رہتے ہیں۔خاکروب،سینٹی ٹیشن سے وابستہ لوگ، عام سے پلمبر، مستری، میکنک، ٹھیلے لگانے والے، کھوکھا لگانے والے، سیکورٹی گارڈز، چھوٹے شہروں اور قصبوں سے روزی کی تلاش میں آنے والے نئے اور سستے مزدور رہتے ہیں۔یہ کارپوریٹ سرمایہ داری کی بائی پروڈکٹ ہے اگرچہ فلم یہ تاثر نہیں دیتی کہ ایسی جھونپڑ پٹیوں میں کتنوں کو ایسے ایلیٹ اسکولوں میں جانے یا عام اسکول میں جانے کا یہ سسٹم موقعہ فراہم کرتا ہے اور جن کی قسمت میں نینا ماتھر جیسی کوئی استاد لکھی ہوتی ہے۔کیونکہ اگر یہ بتایا جائے تو پورا سسٹم خطرے میں پڑجائے گا۔

اصل میں دیکھا جائے تو کارپوریٹ سیکٹر میں ایک کانسپٹ ہے ‘ سماجی ذمہ داری/سوشل ریسپانبلٹی’ کا ۔اس کے تحت کچھ رقم غریبوں پہ خرچ کی جاتی ہے، کچھ نشستیں اشراف کے اسکولوں میں رکھ دی جاتی ہیں غریب لوگوں کے لیے اور اس طرح سے یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ سب کے لیے برابر مواقع دستیاب ہیں۔

ہچکی بھی کارپوریٹ سرمایہ داری نظام کے اندر ایک خوش کن اور یوٹوپیائی کہانی سے لوگوں کو بہلانے کی کوشش ہے۔اور سرمایہ دارانہ نظام میں منڈی کے ماڈل سے جو ذلت، گندگي، تکلیفیں اور مصائب معاشرے کو مٹھی بھر سرمایہ داروں اور چھوٹی سی اشرافیہ کی خدمت کرنے کے لیے برداشت کرنا پڑتے ہیں اسے چھپانے کی ایک کوشش ہے۔

مڈل کلاس کی کتنی عورتوں کی زندگی نینا ماتھر کی طرح ایک سیٹلڈ لائف کو حاصل کرپاتی ہے؟ ذرا سا غور فکر ہمیں بتاتا ہے کہ اکثر مڈل اور لوئر مڈل کلاس کی عورتیں اور مرد اس نظام کی جانب سے محنت نچوڑ لینے کی فطرت کے سبب آخرکار ایسی لیبر میں بدل جاتے ہیں جن کو اپنی قوت محنت بیچ کر بس زندگی کی سانسوں کی ڈور باقی رکھنے جتنی اجرت میسر آتی ہے۔ڈائریکٹر سدھارتھ پی ملہوترا ، پروڈیوسر ادیتا چوپڑا اور منیش شرما نے ایک خوبصورت اور دلفریب خواب کی ڈرامائی تشکیل کی ہے۔یہ فیری ٹیل /پریوں کی کہانی جیسی فلم ہے جو کافی پیسے کمارہی ہے۔

رانی مکھر جی جو میری بھی پسندیدہ ادکارہ ہیں نے اس فلم میں زبردست اداکاری کی ہے۔انھوں نے ٹوریٹ سنڈروم بیمار کو اپنی ‘چک چک، وا وا’ کی ادا سے امر کردیا ہے۔اور اس فلم میں کسی حد تک ایک عام مڈل کلاس گھرانے کی سرمایہ دارانہ نظام کے اندر جو کچی بنیادیں ہوتی ہیں ان کو بھی بے نقاب کیا ہے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*