ہولی کھیلوں گی – عامر حسینی

سماج میں جہاں شناختوں کے تنوع کو یک نوعی بنانے والوں کا غیض و غضب اپنے عروج پہ ہوا کرتا ہے،وہیں شناختوں کے تنوع اور کثرت کے اندر وحدت کو تلاش کرنے والوں کی جانب سے محبت کی بارش چھما چھم برستی رہتی ہے۔کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نسل، مذہب،فرقہ،جات پات جیسی بنیادوں پہ الگ کردئے جانے کا جنون غالب آجاتا ہے اور جو اس الگ کردئے جانے کے برخلاف شناختوں کو برقرار رکھتے ہوئے بھی وحدت و اتحاد کے امکان کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کرے اس پہ کافر،ملیچھ،مرتد، گستاخ، اے پوسٹیٹ کا الزام لگاکر اسے موت کے گھاٹ اتار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔اپنے دور کے ایسے مسیحا کو صلیب پہ چڑھانے کے لئے احتساب کا جنون لئے لوگ اور پاگل ہوجاتے ہیں اور امید سحر کی بات سنانے کو بے تاب امید کی آواز کو خاموش کرادیا جاتا ہے۔

ہم ایک تاریک دور سے گزر رہے ہیں۔ایسی تاریکی جو کثرت کی ثقافت کی دشمن ہے اور ہر ایک کو بس اپنے تاریک رنگ میں رنگنا چاہتی ہے۔اور جو تاریکی کے مقابلے میں رنگوں کے تنوع کو ثقافت کی جان کہتا ہے پھر اسے اس کے اپنے لہو میں رنگا جاتا ہے اور لال و لال کردیا جاتا ہے۔تاریخ پہ کالے مسخ مردے ڈالے جاتے ہیں تاکہ کوئی نہ بتاسکے کہ ‘رنگوں کے تہوار’ کو کبھی پورا برصغیر پاک و ہند ملکر منایا کرتا تھا۔اور مغل حکمرانی کے دور میں اسے ‘ گلابی عید’ یا ‘عید آبپاشی ‘ کہا جاتا تھا۔

رعنا صفوی کہتی ہیں،’جب میں ہولی کا تہوار مناتی ہوں،تو مجھے کہا جاتا ہے کہ ایسا کرنا حرام ہے، اور رنگوں سے کھیلنا بہت بڑا گناہ ہے۔تو کیا واقعی ایسا تھا۔اٹھارویں صدی عیسوی کے عظیم پنجابی صوفی بابا بلھے شاہ تو کہتے ہیں:
ہولی کھیلوں گی ، بسم پڑھ کر
نام نبی کی روشنی میں نہاکر
اور رحمت اللہی کی بوندیں مجھ پہ برسیں گی
بسم اللہ پڑھ کر ہولی کھیلوں گی

رعنا صفوی یہ کہہ کر نتیجہ بھی خوب نکالتی ہیں کہ بلھے شاہ کا ہولی کھیلنا اس انداز میں بتاتا ہے کہ اٹھارویں صدی تک تو اسے معیوب نہیں سمجھا جاسکتا تھا۔پھر وہ مہیشور دیال کی ‘عالم میں انتخاب دلّی’ کی ایک عبارت سے ہمارے ذہنوں کو منور کرتی ہے:
” ہولی ایک قدیم ہندوستانی تہوار ہے۔جسے ہر مرد و عورت مناتے ہیں ،چاہے ان کا مذہب اور جات کوئی بھی ہو۔ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد کے بعد یہاں کے مسلمانوں نے بھی ذوق و شوق سے یہ تہوار منانا شروع کردیا،چاہے وہ بادشاہ ہو کہ فقیر۔’

تیرھویں صدی میں خواجہ امیر خسرو نے یہ اشعار کہے تھے:
کھیلوں گی ہولی،خواجہ گھر آئے
دھن دھن بھاگ ہمارے سجنی
خواجہ آئے آنگن میرے

مغلیہ دور میں اکبّر بادشاہ کے دور سے تمام تہوار پورے جوش و جذبے سے منائے جانے لگے اور ہولی کے تہوار میں اکبر بادشاہ کی راجپوت بیوی مان متی کی دلچسپی نے تو رنگ ہی بھر ڈالے اور جہانگیر اکر اور مان متی کی محبت و عشق کی نشانی تھا۔سولہویں صدی عیسوی کا ایک شاعر ابراہیم رسخان اپنے اشعار میں کہتا ہے

آج ھوری رے موہن ہوری
کل ہمارے آنگن گرائی دے آیو ،سو کوڑی
اب کے دور بیٹھے میا ڈھینگ نکاسو کنج بہاری
آج ہولی اے موہن ہولی
کل ہمارے صحن میں کون آیا تھا،بہت کڑوا تھا بھئی
اور اب ماں کے پیچھے چھپ بیٹھا ہے،نکلو باہر کنج بہاری
جہانگیر بادشاہ نے اپنی تزک جہانگیری میں مغلیہ دور کے ہندوستان کے کونے کونے میں ہولی کے تہوار کے منائے جانے اور سب مذاہب کے ماننے والوں کی اس میں شرکت کا احوال درج کیا ہے۔بہادر شاہ ظفر نے جب لال قلعے کے اندر ہولی کے رنگ برستے دیکھے تو اس منظر پہ ایک گیت لکھا
کیوں مو پر رنگ کی ماری پچکاری
دیکھو کنورجی دوں گی گاری
بھاج سکوں میں کیسے،موسو بھاجے نہیں جات
ٹھنڈی اب دیکھوں میں باکو کون جو سن مکھ آت
بہت دناں میں ہاتھ لگے ہو،کیسے جانے دیوں
آج میں پاجوا تاسو کہاں فیتا پکڑ کر لیوں
شوخ رنگ ایسی ڈھیٹ لنگاڑ سو کھیلے اب کون ہوری
مکھ مدائے ، ہاتھ مروزے کرکے وہ برجوری

میراں شاہ جالندھری کہتے ہیں :

کیسر گھول گلال رلاواں،
بھر پچکاری پی پر پاواں،
رنگ بسنت ترانہ گاواں،
میراں شہہ دا شکر مناواں،
چولا رنگیا ہوری ہوری
اور آخر میں بابا بلھے شاہ کی کافی
ھوری کھیلوں گی کہہ کر بسم اللہ

نام نبی کی رتن چڑھی، بوند پڑی الا اللہ

رنگ رنگیلی اوہی کھلاوے جو سکھی ھووے فنا فی اللہ

ھوری کھیلوں گی کہہ کر بسم اللہ

الست بربّکم پیتم بولے سب سکھیاں نے گنگھٹ کھولے

قالو اہلی ہی یون کر بولے، لا الہ الا اللہ

ھوری کھیلوں گی کہہ کر بسم اللہ

نحن اقرب کی بنسی بجائی، من عرف نفسہ کی کوک سنائی

فثم وجہ اللہ کی دھوم مچائی وچ دربار رسول اللہ

ھوری کھیلوں گی کہہ کر بسم اللہ

ہاتھ جوڑ کر پاؤًں پڑوں گی، عاجز ھوکر بنتی کروں گی

جھگڑا کر بھر چھولی لوں گی، نور محمد صلی اللہ

ھوری کھیلوں گی کہہ کر بسم اللہ

فاذ کرونی کی ھوری بناؤں واشکرولی کہ پیا کو رجھاؤں

ایسے پیا کے میں بل بل جاؤں کیسا پیا سبحان اللہ

ھوری کھیلوں گی کہہ کر بسم اللہ

صبغتہ اللہ کی بھر پچکاری، اللہ الصمد پیا منھ پر ماری

نور نبی داحق سے جاری، نور محمد صلی اللہ

بلھا شاہ دی دھوم مچی ہے، لاالہ الا اللہ

ھوری کھیلوں گی کہہ کر بسم اللہ

(بلھے شاہ)

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*