پاکستانی بورس اور روستوف : ٹالسٹائی کے ناول “وار اینڈ پیس ” پہ ایک استاد کا نوٹ – تحریر : پروفیسر گولسٹین

“وار اینڈ پیس” ناول میں، ٹالسٹائی کسی بھی ادارے میں دو قسم کی درجہ بندیوں کا ذکر کرتا ہے۔خاص طور پہ آرمی میں۔ بیرونی درجہ بندی: کرنل، جنرل وغیرہ،اور ایک خفیہ درجہ بندی: کمانڈر کے قریب لوگ، سٹاف،سیکرٹری وغیرہ۔

آغاز میں ہم دو طرح کے لوگوں سے متعارف ہوتے ہیں،وہ جو بیرونی درجہ بندی میں خدمات پیش کرنے پہ رضامند ہوتے ہیں،اس طرح،نوجوان کاؤنٹ روستوف،جو تازہ تازہ ہوسارز رجمنٹ میں شامل ہوا ہوتا ہے،اور لڑتا ہے،اور زخمی ہوجاتا ہے،اور حقیقی سروس کی تمام تر امیدوں اور فرسٹریشن کا تجربہ کرتا ہے،بشمول ایک لڑائی میں اپنے بھائی اور اپنے دوست بورس ڈروبیتسکوئی کو کھودینے کا دکھ ۔ بورس کی ماں،اس کے ريکولر آرمی کی بجائے ایلیٹ گارڈ رجمنٹ میں شامل ہونے کو ممکن بناتی ہے۔ وہآں بورس کو اس خفیہ درجہ بندی کا پتا چلتا ہے، اور وہ اس میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے اور ایک حیران کن کرئیر کو ممکن بناتا ہے،شہنشاہ کے نزدیک ہونے کی کوشش کرتا ہے،اور ایسے ظاہر کرتا ہے جیسے وہ ہجوم کا حصّہ ہو تب تک جب وہ اس خفیہ درجہ بندی میں شامل نہیں ہوجاتا۔

وہ ایک ہی وقت میں اپنے کرئیر کا آغاز کرتے ہیں۔اصل میں میزبان اور پرجوش روستوف کا خاندان بورس کو اس کی فینسی یونیفارم وغیرہ کے لئے رقم دیتا ہے۔ناول کی کتاب جیسے آگے بڑھتی ہے،بورس تاہم،اپنے سست اور غیر نفیس دوست کو حقارت سے دیکھنا شروع کردیتا ہے۔

ٹالسٹائی اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہم امن کے زمانے میں، اس خفیہ درجہ بندی کو سمجھیں جو ناگزیر ہوتی ہے۔لیکن جب ایک حقیقی جنگ، ایک حقیقی مشکل شروع ہوتی ہے،تو یہ تمام اندر کے لوگ بے کار ہوجاتے ہیں۔وہ میمو لکھ سکتے ہیں،فریب کن، چھپانے والی سرگرمی پیدا کرسکتے ہیں،لیکن وہ لڑ نہیں سکتے، نہ قصبوں یا عوام کو بچاسکتے ہیں،حقیقی طور پہ وہ کچھ نہیں کرسکتے۔

گزشتہ 30 سال ان بورس جیسوں کو پڑھاتے ہوئے،میں دیکھ سکتا ہوں کہ ملک کدھر جارہا ہے۔تمام بڑے ادارے بورس جیسے لوگوں کے قبضے میں ہیں۔سمارٹ،تیز طرار،چست، وہ جو فوری اندرونی حلقوں کا پتا لگالیتے ہیں،اندرونی درجہ بندیوں کا سراغ پاجاتے ہیں اور اپنی سی بہتریں کوشش ان اداروں میں گھس جانے کی کرتے ہیں۔”بہترین بھیڑ،” جیسا کہ دوسرے اکیڈمیک ان کو کہتے ہیں۔یہ اوبامہ/کلنٹن جیسے لوگ ہیں،جو ییل اور پرنسٹن سے ڈگریاں لینے کے سوا کچھ نہیں جانتے،پھر یہ نیویارک ٹائمز،سی آئی،یا سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی پرآسائش نوکریاں حاصل کرنے نکل پڑتے ہیں،اور پھر وہ کریپ پیدا کرتے ہیں جسے ان کے اوپر بیٹھے سننا چاہتے ہیں۔اور ظاہر ہے یہ بہرحال “ہم” تو نہیں ہیں۔یورپ اس طرح کے سلکوز/چالاک و تیز طرار لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔

تو اب، امریکہ کو حقیقی چیلنچز، معاشی، سیاسی اور ثقافتی زوال کے خطرات کے ساتھ ساتھ،ان کا بھی سامنا ہے جن کو ان کی استطاعت اور استحقاق سے زیادہ مل چکا ہے اور وہ ننگے ہوگئے ہیں۔ان کے پاس دینے کو کچھ نہیں ہے سوائے کلیوز کے لئے اپنے سے اوپر بیٹھے لوگوں کی طرف دیکھنے کے،اور اپنے تعصبات اور خودغرضی کا الزام روس اور چین کو دینے کے۔یہ وہ لوگ ہیں جو سوچتے ہیں کہ ڈرائیور کی احتیاج سے پاک کار بنانا، ایک چالاک قسم کی ایپ ایجاد کرنا یا ایک آلودہ بیٹری کو راکٹ کی دم پہ ٹکانا ایک یتیم کا خیال کرنے،ہجوم کے زریعے سے ناپسندیدہ بنانے یا ڈرائے جانے سے زیادہ اہم ہے۔

مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ میں نکولائی روستوف جیسے ایماندار، نفیس لوگوں کا قحط نہیں ہےجو اپنی نوکریاں کررہے ہیں،اور اپنی رجمنٹ میں ہونے کو گھر میں ہونے جیسا محسوس کرتے ہیں یا کوئی بھی مقام جو وہ خود پاتے ہیں۔اور وہ آئیں گے اور ڈیلیور بھی کریں گے جب ملک کو ان کی حقیقی ضرورت ہوگی۔لیکن تب تک، ہم چرب زبان آقاؤں اور سب ہموار رکھنے والوں کے ہاتھ میں ہیں،جو کہ بہترین گند پھیلارہے ہیں۔

پروفیسر ولادیمیر گولسٹین کا خیال آفریں نوٹ ۔ یہ عالمگیر ہے تو اسے پاکستان پہ بھی منطبق کرسکتے ہیں۔(ملک ریاض)
(مترجم: عامر حسینی )

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*