منّو بھائی کی یادیں: اپنے آپ سے زیادہ مایوسی نہیں

 

نوٹ : بائیں بازو کے معرو صحافی،ادیب،ڈرامہ نگار اور شاعر منّو بھائی کا 19 جنوری،2018 بروز جمعہ لاہور میں انتقال ہوگیا۔وہ 1933ء کو وزیرآباد میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا اصل نام منیر احمد قریشی تھا لیکن وہ منّو بھائی کے نام سے مشہور ہوئے۔

ادب،شاعری،ڈرامہ نویسی اور صحافت کا ایک باب اپنے اختتام کو پہنچا۔ادارہ تعمیر پاکستان منّو بھائی کی وفات پہ ان کے اہل خانہ اور ان کے چاہنے والوں سے تعزیت کرتا ہے اور گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے۔بی بی سی اردو کی آفیشل ویب سائٹ پہ ان کا ایک مختصر مگر بہت جامع انٹرویو شایع ہوا تھا۔ہم ان کے شکریہ کے ساتھ اسے یہاں دوبارہ پوسٹ کررہے ہیں۔

Rest In Peace Munnu Bahi

سوال: کیسے؟ کیسے بنے آپ ایسے، چاروں طرف تو کچھ اور تھا؟ لوگ بن رہے تھے، ترقی کر رہے تھے تو ایسا کیا ہوا کہ جس نے آپ کو الگ اور ’وکھرا‘ کیے رکھا؟

منو بھائی: کچھ ایسی باتیں ہیں، جن سے میری سوچ کی یہ نہج بدلی یا طے ہوئی۔ وہ یہ ہوا کہ ایک صاحب میرے پاس انیس سو پچاس کے قریب آئے۔ جب میں صحافت میں نیا نیا آیا تھا، ففٹی فور میں، ففٹی فائیو میں، تو انہوں نے مجھ سے پوچھا میرا پاکستان کب بنے گا؟ میں نے ان سے کہا کہ پاکستان تو بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میرا پاکستان‘۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بڑی بیٹی انیس سو سینتالیس میں اغواء ہوئی تھی۔ چھوٹی بیٹی اب اغواء ہوئی ہے۔ تو مجھے بتاؤ کے میرا پاکستان کب بنے گا، جب میری بیٹیاں محفوظ ہوں گی، ہماری عزتیں محفوظ ہوں گی اور ہماری زندگیاں بھی محفوظ ہوں گی۔ تو اس بات نے مجھے یہ احساس دلایا کے ابھی ہم نے آزادی حاصل نہیں کی۔ ابھی ہم نے اپنا ملک بھی نہیں بنایا۔ ابھی ہم شہری بھی نہیں بنے اور قوم بھی نہیں بنے۔ تو ایک تو یہ بات رہی میری ذہن میں اور دوسرے یہ کہ ایک عورت میرے پاس آئی جس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں بے چاری روتی رہی ہو گی۔ اس نے کہا کہ ایک بچے کی گم شدگی کی خبر دینی ہے۔ اس نے کہا: چھ سال کا ہے، سات سال کا، محمد انور نام ہے اس کا۔ میں نے کہا کپڑے کیسے پہنے ہوئے ہیں؟ اس نہ بتایا کہ نیلے رنگ کی قمیض ہے، ہوائی چپل ہے۔ میں کہا شلوار؟ اس نہ کہا کہ سفید، مگر اب تو میلی ہو گئی ہو گی۔ اُس عورت کی اس بات سے میرے دہن میں ایک عجیب سی بات آئی کہ اگر اس بچے کا باپ ہوتا اور خبر لکھواتا تو اس نے سفید شلوار ہی لکھوانی تھی۔ لیکن ماں کیوں کہ اُسے روزنہ دُھلی ہوئی شلوار پہناتی ہوگی تو اسے اس بات کا احساس ہے۔ اس لیے اگر بہن بھی ہوتی تو یہی کہتی کہ اب تو میلی ہو چکی ہو گی۔ اس سے مجھے یہ احساس ہوا کہ عورت اور طرح سوچتی ہے مرد اور طرح سوچتا ہے۔ ماں اور طرح سوچتی ہے بہن اور طرح سوچتی ہے باپ اور بھائی اور طرح سوچتے ہیں۔

اس بات نے مجھے ایک نیا احساس دیا کہ چیزوں کو اور حالات کو عورت کی نگاہ سے دیکھنا بھی بہت اہم ہے۔ یہ شاید ٹراٹسکی نے کہیں لکھا ہے کہ ’اِف یو وانٹ ٹو چینج دی سچوئشن لُک ایٹ دی سچوئشن ود دی آئی آف اے وومن‘۔ (’اگر تم حالات کو تبدیل کرنا چاہتے ہو تو حالات کو ایک عورت کی نظر سے دیکھو‘۔) پھر میں نے اس بارے میں ایک صاحب سے پوچھا کہ عورت کی سوچ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ بڑا فرق ہے ہمارے لیے ایک ہفتہ ہوتا ہے عورت کے لیے سات دن ہوتے ہیں۔ ہمارے لیے مہینہ ہوتا ہے اس کے لیے تیس دن ہوتے ہیں۔ ہمارے لیے ایک دن ہوتا ہے اس کے لیے چار پہر ہوتے ہیں۔ اور اس نے کیوں کہ ایک ایک پہر کی زندگی گزارنی ہوتی ہے اس لیے اس کی سوچ کا انداز بھی اور ہے۔ اس کے بارہ ماہ، اس کا ستوار، اس کے موسم سب کچھ الگ ہوتے ہیں کیوں کہ اس نے انہیں بسر کرنا ہوتا ہے۔ اور عورت کی نظر سے دیکھنے کا مطلب، میں جنس کی بات نہیں کر رہا بلکہ ایک کمزور کی نظر سے حالات کو دیکھنا، عورت کمزوری کی، لاغری کی، محرومی کی علامت بنتی ہے۔ اس کے لحاظ سے چیزوں کو، بابائے اردو نے ایک بار کہا تھا کہ ہم درخت کو اس کے سائے میں لیٹنے والے مسافر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن درخت کو دیکھنے کے بہت سے طریقے ہیں لکڑ ہارا درخت کو اور طرح دیکھتا ہے۔ ترکھان اور طرح، لکڑی کا کاروباری اور طرح دیکھے گا لیکن کبھی درخت کو چڑیا کے گھونسلے میں بیٹھ کر بھی دیکھنا چاہیے اور اس سانپ کے اندیشے کے ساتھ جو انڈے پینے کے لیے آتا ہے تو درخت کی اہمیت تبدیل ہو جائے گی۔ تو مختلف زاویے ہیں دیکھنے کے اور عورت کی آنکھ سے حالات کو دیکھنا اور اس کے زاویے سے بچے کی شلوار کے رنگ کو طے کرنا، اس کے بعد سے میرے کالموں میں یہ بات آئی۔

سوال: آپ جب نوجوان ہوئے تو اس وقت اور بھی آپ کے ساتھی ہوں گے، تو آپ لوگ کیا کیا سوچتے تھے وہ اور کیا کیا بننا چاہتے اور کیا کیا بن سکے؟

منو بھائی: دیکھیں میرا تعلق جس طبقے سے ہے، غریب طبقے سے۔ وہ کوئی پلاننگ تو نہیں کرتا ہے کہ اسے کیا بننا ہے۔ اس کی تو صرف اتنی کوشش ہوتی ہے کہ زندگی کی محرومیوں پر قابو پایا جائے اور محرومیوں پر قابو پاتے پاتے ہی اس کی ساری زندگی گزر جاتی ہے۔ ویسے بھی آئیڈیل کنڈیشنز تو کبھی بھی کسی کو نہیں ملتیں۔ کنڈیشن ہمیشہ گیوّن ہوتی ہے (حالات ہمیشہ متعین ملتے ہیں) اور اسے آئیڈل بنانے میں (اسے اپنے مطابق بنانے میں) ہی ساری عمر گزر جاتی ہے۔ تو ہماری طرح کے غریب تو اس پانی کی طرح ہوتے ہیں جو نشیب ہی میں جاتا ہے۔ تو ہمیں نشیب یہ ملا کہ کالج سے فارغ ہوئے تو جاب اخبار میں دکھائی دی۔ تو میں اخبار میں ٹرانسلیٹر (مترجم) چلا گیا۔

سوال: کس اخبار میں اور اس وقت کون کون تھے آپ کے ساتھ؟

منو بھائی: تعمیر اخبار تھا پنڈی میں۔ اس کے ایڈیٹر تھے بشیرالاسلام عثمانی اور اچھے صحافیوں میں شمار ہوتے تھے۔ پھر فاضل تھے، سابق فوجی تھے تو اس وقت انہوں نے ترجمہ کروایا دو تین خبروں کا اور مجھے جاب دے دی۔ تو شفقت تنویر مرزا بھی اسی اخبار میں تھے اور بعد میں فتح محمد ملک بھی اسی اخبار میں آ گئے تو یہی میرے ساتھی تھے۔ تو یہ ہمارا چھوٹا ساقافلہ تھا اور بعد میں اس میں اور لوگ آتے گئے۔ پھر وہیں سے جنگ اخبار شروع ہو گیا۔ نوائے وقت بھی تھا، پاکستان ٹائمز آگیا تو سارے اخبار پنڈی سے شروع ہو گئے۔ اس طرح ایک ماحول بنا اور پھر لاہور سے، کراچی سے بھی لوگ آ گئے۔ اس کےساتھ ہی ہم صحافیوں کی سیاست میں بھی حصہ لینے لگے اور میں راولپنڈی میں صحافیوں کی یونین کا سیکریٹری بنا۔ پھر پریس کلب کا صدر بھی رہا میں۔ پھر امروز، جس کے ایڈیٹر احمد ندیم قاسمی تھے انہوں نے مجھے امروز کا رپورٹر مقرر کر دیا۔ اس طرح میں امروز کی نمائندگی بھی کرتا رہا اور تعمیر اخبار میں بھی کام کرتا رہا۔ پھر میں تعمیر سے الگ ہو گیا۔ اس دوران میں صحافیوں کے پہلے ویج ایوارڈ میں صحافیوں کا نمائندہ تھا۔ دوسرے ویج بورڈ میں بھی میں تھا۔ پھر پی ایف یو جے فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کا رکن ہوا۔ پھر میں امروز لاہور میں آ گیا اور جب ’مساوات‘ نکلا تو بھٹو صاحب نے کہا کہ ’استعفیٰ دو‘ اور میں ’مساوات‘ میں آگیا۔ جو پیپلز پارٹی کی حکومت بن گئی تو میں واپس امروز میں چلا گیا۔ پھر اسی دوران جب جنگ لاہور سے نکلا تو میر خلیل الرحمٰن نے مجھے اس میں بلا لیا۔ میں ’امروز‘ نہیں چھوڑ رہا تھا لیکن جب سرکاری اخبار ہونے کی وجہ سے امروز کا حالت خراب ہونے لگی تو میں نے ’امروز‘ چھوڑ دیا۔

سوال: کیسے دیکھتے ہیں اس نیشنلائزیشن کو، اخباروں کو سرکاری ملکیت میں لیے جانے کو اور کیا اس کا اثر پڑا اس اخباروں پر؟

منو بھائی: اچھا ادارہ تھا پروگریسیو پیپرز لیمیٹڈ، کافی معیاری تھا لیکن جب ٹیک اوور ہو گیا تو اس میں سارا معاملہ سرکاری دفتروں والا ہو گیا۔ اس میں جب حکومت کی تعریف والی چیزیں چھپنے لگیں تو ظاہر ہے اس کے سرکولیشن پھر وہ نہیں رہی۔ کیونکہ اس میں لوگوں کی اور ان کے مسائل کی بات کم ہوتی تھی۔ حکومت کی کامیابیوں کی بات ہوتی تھی اور حکومت کی کامیابیاں تھیں ہی نہیں۔

سوال: لیکن کیوں نیشنلائزیشن کی گئی، کچھ اداروں کو کر لیا گیا اور کچھ کو چھوڑ دیا گیا؟

منو بھائی: ایک تو یہ تھا کہ اس میں لبرل لیفٹ کے زیادہ نظریات تھے۔ کیوں کہ میاں افتخارالدین کی وجہ سے لیفٹ کی پالیسی تھی۔ پھر اس میں مظہر علی خان اور فیض احمد فیض، ندیم قاسمی، یہ سارے لوگ پروگریسو رائٹرز کے تھے اور ان سب کی ہمدردیاں روس کے ساتھ تھیں اور حکومت کیونکہ دوسری طرف جا رہی تھی اور ان اخباروں میں حکومت اور اس کی پالیسیوں پر تنقید بھی ہوتی تھی۔ اس کے نتیجے میں یہ ایک موثر ادارہ بن رہا تھا اور اس سے باقی اخباروں کو تکلیف بھی تھی خاص طور پر نوائے وقت اس کے خلاف مہم بھی چلاتا تھا۔ ’سرخے‘ اور پتہ نہیں کیا ’لادینیت پھیلا رہے ہیں‘ سیکولر ازم کی باتیں کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے ایک اچھا ادارہ جو تھا اس کو ختم کیا گیا۔ اس کا فائدہ جرنلزم کو تو نہیں ہوا لیکن اس کا فائدہ دائیں بازو کے دوسرے اخباروں کو ہوا ہو گا اور انہوں نے تھوڑی سی سرکولیشن بھی حاصل کی ہو گی۔

سوال: جب نیشنلائیزیشن ہوئی تو اس وقت کیا سرکولیشن تھی امروز کی؟

منو بھائی: اس وقت ساٹھ ہزار سے زیادہ تھی اور یہ خاصی سرکولیشن سمجھی جاتی تھی۔ یہ مشرق وغیرہ بعد میں آئے ہیں۔ لیکن ٹیک اوور ہوا تو ظاہر ہے اس کی سرکولیشن نیچے چلی گئی۔ اس کے علاوہ ان اداروں میں بہت اچھی ٹیمیں تھیں جن کو نقصان پہنچا۔

سوال: تو اس وقت کبھی پالیسی کے امور پر اختلاف ہوتے تھے اور اگر ہوتے تھے تو انہیں کیسے حل کیا جاتا تھا مثلاً آپ نے کالم لکھا ایڈیٹر کو آپ کی رائے پسند نہیں آئی، تو؟

منو بھائی: نہیں نہیں اس میں زمانے میں، خاص طور پر امروز اور پاکستان ٹائمز میں بڑا ’کری ایٹو لیچیٹیوڈز‘ (تخلیقی روادی یا آزادی) ہوتے تھے، اس میں پھر کام کرنے کا مزا آتا ہے۔ یعنی جب آپ پر اعتبار کیا جا رہا ہے اور آپ کو ڈھیل بھی دی جا رہی ہے اور تخلیقی کام کے سلسلے میں تھوڑی بہت زیادتی بھی ہو جاتی ہے تو برداشت کی جاتی ہے۔ کیوں کہ بندھے لگے طریقے سے ہٹ کر ہی کوئی بات بنتی ہے۔

سوال: یہ جو آپ کو بائیں بازو کا تصور کیا جاتا ہے۔ آپ ان تصورات سے کیسے متعارف ہوئے؟

منو بھائی: یہ ایک ذہنی روّیہ ہوتا ہے۔ ایک تو میرا طبقے ایسا تھا جس نے دکھ دیکھے ہوئے تھے، بھوک بھی دیکھی ہوئی تھی، راتوں کو بھوکا سویا ہوا بھی تھا تو مجھے معلوم تھا کہ کمزور ہونا اور غریب ہونا کتنا تکلیف دہ ہے۔ جو اس طرح چیزوں کو دیکھیں گے تو پھر اسی نہج پر سوچیں گے اور اسی طرح کی چیزیں پڑھیں گے۔ اسی طرح کے آپ کے ریفلیکسز یا مظاہر بھی بنیں گے۔

سوال: تو آپ کے والد کا آپ کی دلچسپیوں پر کیا ردِ عمل تھا اور سنا ہے کہ وہ آپ کو روکتے تھے؟

منو بھائی: نہیں کوئی اس طرح کا نہیں تھا۔ کوئی نظریاتی اختلاف جیسا ہوتا ہے لیکن انہیں یہ اچھا نہیں لگتا تھا کہ ہر وقت ادبی رسالے لے کر بیٹھا رہتا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ تعلیم کی طرف زیادہ توجہ دے اور ظاہر ہے سب والدین کو یہ تشویش ہوتی ہے۔

سوال: میں نے کہیں پڑھا ہے کہ آپ کی والدہ آپ کی شاعری سنبھال سنبھال کر رکھتی تھیں؟

منو بھائی: ماؤں کو تو اپنے بچوں میں کوئی نہ کوئی فخر کی بات مل ہی جاتی ہے۔ والد صاحب ذرا سخت طبعیت کے تھے لیکن والدہ بہت ہی رحم دل اور پیار کرنے والی عورت تھیں۔ ان کا اثر مجھ پر اثر بہت زیادہ رہا ہے۔ میرے ساتھ یہ بھی ہوا تھا کہ میں پانچ چھ سال تک بول نہیں سکا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب میری سب سے پہچان ہوگئی اور میں چیزوں کسی حد تک سمجھنے لگا تو ایک دن میرے والد نے میری امّی کو تھپڑ مارا۔ وہ ایک بچے کے طور پر میرے لیے اتنا شاکنگ اور دھچکہ دینے والا تھا کہ میں کئی سال تک بول نہیں سکا۔ اس کے بعد جب میں نے بولنا شروع کیا تو میری زبان میں بہت لکنت تھی اور مجھے پوری طرح بات کرنی بھی نہیں آتی تھی۔ پھر لڑکے میرے ساتھ مذاق کرتے تھے، میری نکلیں اتارتے تھے۔ تو میں لڑکیوں ہی میں زیادہ کھیلتا تھا۔ ان باتوں کے انسان کی ساری زندگی پر اثر پڑتے ہیں۔ پتہ نہیں اس ڈیفیکٹ نے کہاں کہاں مجھے متاثر کیا۔ میرے ہکلانے نے میری شخصیت کو بڑی حد تک ڈیمج کیا۔ اس کا کون ذمہ دار ہے؟ اگر ان سب باتوں پر سوچیں تو بات بڑی دور تک چلی جاتی ہے۔

سوال: تو اس پر کیسے قابو پایا آپ نے؟

منو بھائی: ایک تو یہ ہوا کہ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو میں کھبّے (بائیں) ہاتھ سے لکھتا تھا تو اس پر بھی میری پٹائی ہوئی۔ تو بعد میں جب شعیب ہاشمی کے بھائی جو سائیکاٹرسٹ ہیں، ان کا خیال تھا کے اس وجہ سے ہکلاہٹ پیدا ہوئی لیکن بعد میں جب انہوں نے میری تفصیلی ہسٹری لی تو یہ نتیجہ نکالا کہ والدہ کے ساتھ جو ہوا تھا اس کا نتیجہ تھا۔ ایسی باتیں بچوں کے دماغ پر بہت اثر کرتی ہیں اور اگر زبان پر ہی اثر ہو تو غنیمت ہوتا ہے۔

سوال: آپ کے ساتھ جن لوگوں نے زندگی شروع کی، وہ کیا کیا سوچتے تھے اور کیا لگتا تھا آپ کو ان کے بارے میں اس وقت؟ اور ان میں کتنے پار اترے کتنے بیچ میں کہیں رہ گئے؟

منو بھائی: نہیں ہمارا مسئلہ یہ نہیں ہوتا۔ ہمارا مسئلہ تو بچنے کا راستے ڈھونڈنے کام ہوتا ہے۔ چارلی چپلن کو دنیا کا سب سے بڑا فلم ساز کہا جاتا ہے۔ بلاشبہ چپلن دنیا کے سب سے بڑے فلم ساز ہیں بھی اور ان کا یہ کہنا تھا، میں نے ان کا ایک انٹرویو پڑھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی تمام فلموں میں کسی کمزور کو کسی طاقتور پر فتح پاتے نہیں دکھایا بلکہ میں نے کمزور آدمی کو اپنی بقا کی کوشش میں کامیاب ہوتے ہوئے دکھایا ہے‘۔ ان کی ہر فلم یہ ہوتا تھا کہ کمزر آدمی کیسے حالات کا مقابلہ کرتا ہے اور بچتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے لیے میرے فلم بین میرے بچوں اور دوستوں کی طرح ہیں تو میں انہیں یہ نہیں بتاؤں گا کہ اگر بیس منزلہ عمارت میں آگ لگ جائے اور تم بیسویں منزل سے کودو تو نیچے صحیح سلامت پہنچ جاؤ گے۔ میں انہیں بتاؤں گا کہ بچنے کے راستے کیا کیا ہو سکتے ہیں۔ تو اصل مسئلہ بچنا ہے طاقتور پر فاتح ہونا نہیں۔ تو ہمارا مسئلہ بھی بقا تھا اور یہ کہ ہمیں معاشرے میں قبول کیا جائے اور اس کے ساتھ اگر کچھ عزت بھی مل جائے تو یہ اس کی بڑی مہربانی ہے۔

سوال: منو بھائی پنجابی کا کوئی اخبار کیوں نہیں نکلا اور کیا وجہ ہے کہ پنجابی اردو لکھنے ہی کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں؟

منو بھائی: اصل میں اردو کی بالا دستی اتنی ہوگئی ہمارے پنجاب پر، اور اردو کی جو سب سے زیادہ خدمت ہوئی ہے وہ پنجاب میں ہوئی ہے۔ ایک تو مسئلہ رسم الخط کا تھا، مثلاً سکھوں نے جیسے تحریک چلائی یہاں کوئی ایسی تحریک نہیں تھی۔ پھر یہاں اس طرح کا کوئی تضاد بھی نہیں تھا۔ پھر اس طرح کا تصادم بھی نہیں تھا جیسا کے سکھوں کا ہندی کے ساتھ پیدا ہوا۔ اور اردو ہماری بہت سی کلچرل ضرورتوں کو بھی پورا کر رہی تھی۔

سوال: آپ نے اردو میں شاعری کی؟

منو بھائی: نہیں۔

سوال: پنجابی میں کی؟

منو بھائی: پنجابی میں اس لیے کی کہ پنجابی میں شاعری بحر سے زیادہ لہر میں ہوتی ہے۔ اور اس میں کوئی اس طرح کا مقابلہ بھی نہیں تھا۔ پھر جو آپ کے مزاج کے مطابق چلے۔ فیض صاحب نے مجھ سے پوچھا: تم نے کبھی اردو میں لکھا؟ میں جواب دیا ’جی کوشش کی تھی لکھ نہیں سکا۔ اردو میں نثر تو لکھی ہے نظم نہیں لکھ سکا‘۔ تو انہوں نے پوچھا کہ تم خواب کس زبان میں دیکھتے ہو؟ میں نے کہا ’جی میں خواب پنجابی میں دیکھتا ہوں‘۔ کہنے لگے ’نظم بھی اسی زبان میں کہنی چاہیے جس میں آدمی خواب دیکھتا ہے‘۔

سوال: کبھی فیض صاحب سے پنجابی لکھنے کے بارے میں بات ہوئی؟

منو بھائی: فیض صاحب نے لکھی ہیں یوں ہی دو تین نظمیں۔ فیض صاحب نے پنجابی کے رائٹروں کو پسند کیا۔ استاد دامن وغیرہ فیض صاحب کے دوستوں میں تھے۔ لیکن کبھی اردو پنجابی کے مقابلے کا خیال نہیں آیا۔

سوال: یہ آپ کو عربی سے کیسے شغف ہوا؟

منو بھائی: فیض صاحب نے جب وہ بیروت میں تھے تو نزار قبانی وغیرہ کی نظمیں بھیجیں۔ نزار قبانی بھی ان دنوں بیروت میں تھے۔ محمود درویش بھی تھے۔ اس وقت ہمارا خیال تھا کہ ہم انگریزی زبان کی بہت سی چیزیں شیلے، شیکسپئر اور ملٹن وغیرہ کی پڑھتے ہیں لیکن ہمارے پڑوسی مثلاً انڈیا کی بہت سی چیزیں ہمیں نہیں معلوم۔ ہندی کی بہت سی شاعری کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم۔ عربی کے بارے میں نہیں معلوم اور فارسی تو کیوں کہ یہاں رہی ہے تو اس لیے سعدی و رومی وغیرہ کے بارے میں کچھ کچھ پتہ ہے لیکن عربی میں جو مزاحمتی شاعری آئی، امریکہ کے خلاف، سامراج کے خلاف اور سرمایہ داری کے خلاف تو اردو میں اس کے ترجمے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ یہ بھی سوچ ہے اور یہ بھی زاویہ ہے۔ اس طرح محمود درویش کا ترجمہ کیا تو پتہ چلا کہ بہت سی چیزیں مشترک ہیں اور بہت خوبصورتی سے بیان کی گئی ہیں اور یہ چیزیں مغربی معاشروں میں نہیں پائی جاتی ہیں۔

سوال: شادی؟ اور بچے؟

منو بھائی: شادی انیس سو انہتر میں کی۔ دو بچے ہیں۔ ایک بیٹا ایک بیٹی۔ بیٹا ایڈور ٹائزنگ میں کام کرتا ہے۔ اور بیٹی اپنے گھر کی ہے۔ ایم اے اکنامکس میں کیا ہے۔ سکول میں بچوں کو پڑھاتی بھی ہے۔

سوال: کیسا لگتا ہے اب تک کی زندگی کو دیکھنا، کیا کرنا چاہا؟ کتنا ہو پایا کتنا نہیں ہو پایا؟

منو بھائی: اپنے بارے میں کوئی زیادہ مایوسی تو نہیں ہے۔ جو میں نے کرنا چاہا وہ کرتا بھی رہا اس میں کچھ عزت و پذیرائی بھی ملی۔ جو میری چھوٹی موٹی ضرورتیں تھیں وہ بھی پوری ہوتی رہیں۔

سوال: صحافت کے بارے میں کیا لگتا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ کچھ فرق آیا ہے؟ کچھ آگے گئے ہیں؟ پیچھے چلے گئے ہیں یا کہیں رکے ہوئے ہیں۔

منو بھائی: جہاں تک انفارمیشن ٹیکنالوجی کا تعلق ہے تو اس میں تو ایک ملین ٹائم ترقی ہوئی ہے لیکن جہاں تک کانٹینٹ کا یا موضوع کا تعلق ہے اس میں صحافت کے جو نئے نئے علاقے دریافت کیے جانے تھے یا صحافت کو جہاں پہنچنا تھا وہ کام نہیں ہوئے۔

سوال: طالبان اور امریکہ کی لڑائی میں آپ کس طرف ہیں؟

منو بھائی: ظاہر ہے، میں اسامہ بن لادن کا ساتھ تو نہیں دے سکتا۔ نہ القاعدہ کا دے سکتا ہوں نہ ملا عمر کا۔ انہوں نے افعانستان میں جو کچھ کیا وہ غیرانسانی تھا۔ جو عورتوں اور بچوں کے ساتھ سلوک کیا گیا وہ بہت ہی زیادتی تھا۔ لیکن چاہیے تھا کہ افغانستان کے لوگ انہیں ختم کرتے اور طاقت افغانستان کے لوگوں کو ملنی چاہیے تھی جیسے میں کہتا ہوں کہ صدام حسین ایک ظالم آدمی تھا اسے ختم ہونا چاہیے تھا لیکن یہ کام عراق کے لوگوں کو کرنا چاہیے تھا نہ کہ باہر کی فوجوں کو جا کر۔ عراق کے لوگوں کی مدد کی جانی چاہیے تھی۔ عراق کےلوگوں کو صدام کے ہٹانے میں کامیابی حاصل کرنے چاہیے تھی۔ بس اتنا فرق ہے۔

شاعری

کیہ ہویا اے

_________________
کیہ ہویا اے
کجھ نہیں ہویا

کیہ ہوئے گا
کجھ نہیں ہونا

کیہ ہوسکدا اے
کجھ نہ کجھ تے ہوندا ای رہنداے
جو توں چاہنائیں او نیں ہونا
ہو نیں جاندا
کرنا پینداے
عشق سمندر ترنا پینداے
سکھ لئی دکھ وی جھلنا پینداے
حق دی خاطر لڑنا پینداے
جیون دے لئی مرنا پینداے
٭٭٭

اوہ وی دیہاڑے سن

_________________

او وی خوب دیہاڑے سن
بھک لگدی سی منگ لیندے ساں
مل جاندا سی کھا لیندے ساں
نہیں سی ملدا تے رو پیندے ساں
روندے روندے سوں رہندے ساں

ایہہ وی خوب دیہاڑے نیں
بھک لگدی اے منگ نیں سکدے
ملدا اے تے کھا نیں سکدے
نیں ملدا تے رو نیں سکدے
نہ رویے تے سوں نہیں سکدے
٭٭٭

رب سائیں جے کرم کرے

____________________________

رحمت اُس دی ہسّے
اج دی اکھ چوں سمیا اتھرو
کل دے سون دی بدلی بن کے
پرسوں ویڑے وسّے
رحمت اوہدی ہسّے
رب سائیں جے کرم کرے تے
کھڑن دلاں دے چنبے
وٹیاں وچ پنیری لاواں
بانکے پھل تروڑن لگیاں
میری داہتھ کمبے
کھڑن دلاں دے چمبے

رب سائیں جے کرم کرے تے
سب دی آس پجاوے
تیرا پیار کدیں نہ ویچاں
اپنا پیار جے ویچن نکلاں
کوئی مُل نہ پاوے
سب دی آس پجاوے

رب سائیں جے کرم کرے تے
اوہدے ہتھ وچ واگاں
اج دی رات میں سفنے کتاں
کل دی رات وی اکھ نہ میٹاں
تے پرسوں رات وی جاگاں
اوہدے ہتھ چ واگاں

 

 

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*