فلسطین تحریک آزادی: مزاحمت سامراجیت و صہیونیت کو شکست دے گی – محمد عامر حسینی

کل جب وائٹ ہاؤس میں روسٹرم پہ کھڑے ہوئے امریکہ کے جوکر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور امریکی حکام کو امریکی سفارت خانے کے تل ابیب کی بجائے یروشلم منتقل کرنے کے انتظامات کرنے کو کہا تو پی ایل او کے جنرل سیکرٹری صاحب ارکات نے اس پہ اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا

‘آج کے بعد امریکہ کا اسرائیل۔فلسطین امن پروسس سے کردار ختم ہوگیا اور ٹرمپ اس حوالے سے نااہل ہوگئے ہیں۔’
تو مجھے فلسطین کاز کے بہت بڑے علمبردار ایڈورڈ سعید یاد آگئے جنھوں نے اوسلو معاہدے پہ سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا:

“The sickness of Oslo is an infection spread by the Israelis. We had already been infiltrated by their intellectuals and policy elites. Pragmatic’ is a nauseating word. An end to idealism and vision. Arafat has not negotiated, but surrendered.”

‘اوسلو کی بیماری ایک وبا ہے،جسے اسرائیلیوں نے پھیلایا ہے۔ہمارے اندر پہلے سے ہی ان کے دانشور اور پالیسی ساز اشرافیہ گھس پیٹھ کرچکے تھے۔عملیت پسندی بدبو دار لفظ ہے۔یہ آئیڈل ازم اور وژن کے خاتمے کا نام ہے۔عرفات نے مذاکرات نہیں کئے بلکہ ہتھیار ڈالے ہیں۔’

اس زمانے میں ایڈورڈ سعید کو عرب اور فلسطینی بورژوازی و پیٹی بورژوازی دانشور لتاڑ رہے تھے۔ان کو خوابوں کی دنیا میں زندگی بسر کرنے والا خبطی دانشور قرار دیا جارہا تھا۔پاکستان کا لبرل اشراف اور این جی او نائزڈ ایک بڑا سیکشن بھی اسرائیل-فلسطین امن پروسس کو انقلابی اقدام بناکر دکھانے میں مصروف تھا۔جیسے آج لبرل اشراف کی سردارانی عاصمہ جہانگیر نے اپنے ایک ٹوئٹ میں ‘دو ریاستی۔حل اور امن پروسس’ کی تباہی کا ماتم کیا۔جبکہ یہ تباہی تو بہت پہلے آگئی تھی۔کیونکہ ایڈورڈ سعید نے اوسلو معاہدے کے کچھ سالوں بعد ہی لکھا تھا:

“انیس سو نوے میں امن پروسس بزدلی اور غلامی میں لتھڑی فلسطینی قیادت کا اپنے ماضی سے غداری ہے۔اس معاہدے کا حاصل بدعنوانی،پولیس گردی،بے روزگاری میں اضافہ،انسانی حقوق کی غیرموجودگی اور جمہوریت کا فقدان ہے۔فلسطینی اتھارٹی اس معاہدے کے نتيجے میں ایک گانڈو مافیا بنکر سامنے آئی ہے۔”

اقبال احمد اوسلو معاہدے کی تشکیل کے بعد سے اٹھتے بیٹھتے کہتے رہے کہ اوسلو معاہدہ فلسطینیوں کے لئے غارت گر ثابت ہوگا۔اور ایسے میں تاریخ کی مارکس واد تعبیروں کی موت کا اعلان کرنے والے لبرل دانشور ہمیں یہ بتاتے رہے ایڈورڈ سعید،اقبال احمد اور بائیں بازو کے دانشور فلسطین سمیت دنیا بھر میں قومی آزادی کی تحریکوں بارے اپنے نظریات کے ازکار رفتہ ہوجانے کا ماتم کررہے ہیں۔وہ ہمیں یقین دلارہے تھے کہ اب کوئی سامراج اور سامراجیت نہیں ہے۔اور بہت ہی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے بہت پہلے جب سوویت یونین کا انہدام ہوا تھا تو حماس ،حزب اللہ سمیت ہمیں کئی اسلامی مقاومت کی حامی تنظیموں نے قومی سوال اور قومی تضادات کے مٹ جانے کا اعلان کیا تھا اور بائیں بازو کے نظریات کی موت کا اعلان کیا تھا۔

یہ وہی دور تھا جب پاکستان میں محترمہ بےنظیر بھٹو نے پاکستان کے اندر لیفٹ سوشلسٹ سیکشن کو پرانے خیالات کے مالک کہہ کر رد کردیا تھا اور انھوں نے بھی ‘عملیت پسندی’ کے نام پہ اپنے اور اپنی پارٹی کے لئے ایک قبرستان کھودنے کی شروعات کردی تھی۔جیسے امریکی سامراج ،اس کے پٹھو عرب بادشاہتیں اور اسرائیلی یاسر عرفات پہ ہنس رہی تھیں، ایسے یقینی بات تھی کہ امریکی سامراج اور اس کے اتحادی بے نظیر بھٹو پہ ہنس رہی تھیں۔اور بہت جلد لوگوں نے دیکھ لیا کہ یاسر عرفات ایسے وقت مارے گئے جب ان کے لوگوں کو اسرائیلی بمبار طیارے قیامت ڈھارہے تھے اور نئی یہودی بستیاں بسائی جارہی تھیں اور بے نظیر بھٹو ایک سڑک پہ ماری گئیں جب ان کی مفاہمت کا ایک ڈکٹیٹر کھلے عام مذاق اڑا رہا تھا۔

یاسر عرفات عالم بالا میں بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے جن عرب بادشاہتوں خصوصی طور پہ سعودی عرب پہ انحصار کرکے اور امریکیوں کی چال میں آکر انہوں نے اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیکے تھے وہ کیسے باہم ملکر مزاحمت کے محوروں کو تباہ کرنے کے لئے منصوبہ سازی کررہے ہیں۔ایران،حزب اللہ ،حماس نے وقت گزرنے کے ساتھ کافی سبق سیکھا ہے۔اور حزب اللہ لبنان میں بائیں بازو، کرسچن، صوفی سنّی ،دیروزیوں کے ساتھ کھڑی ہیں جبکہ فلسطین میں حماس اور پاپولر فرنٹ کے درمیان دوریاں ختم ہوئی ہیں۔

اگرچہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی اب بھی خطے کے اندر عرب عوام کی خواہشوں کے برخلاف فرقہ پرستانہ پالیسیوں پہ عمل پیرا ہیں اور اپنی اقلیتی آمرانہ حکمرانی کا تحفظ کرنے کے لئے آگ و خون کا بازار گرم رکھنا چاہتی ہیں اور تکفیری فاشزم کے درندوں کو پال رہی ہیں۔پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں خود مذہبی عسکریت پسندوں میں ایک بھی تنظیم حزب اللہ جیسا وژن نہیں رکھتی۔یہاں تک کہ حماس جو کسی زمانے میں اسرائیل اور سعودی پراکسی سے زیادہ کچھ نہیں تھی مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس نے کافی سبق سیکھا اور آج یہ بہرحال محض دم چھلا نہیں ہے اور فلسطین میں یہ مزاحمت کا ایک حصّہ ہے چاہے ہمیں اس کے دائیں جانب رجحان رکھنے والے نظریات سے کتنا ہی اختلاف ہو۔اور یہ بھی درست ہے کہ حماس ابتک اخوان المسلمون کے اندر موجود سعودی-قطری سلفی تکفیری و فرقہ پرستانہ رجعت پرستی سے اپنے آپ کو مکمل طور پہ الگ نہیں کرسکی ہے۔

ٹرمپ کے اعلان سے کچھ دن پہلے یکم دسمبر کو ایک اور واقعہ رونما ہوا تھا۔تحریک آزادی فلسطین کی مجاہدہ لیلی خالد کو اٹلی کے ائرپورٹ سے ہی واپس بھیج دیا گیا۔وہ وہاں پہ فلسطین کی تحریک آزادی پہ بات کرنے کے لئے ایک کانگریس میں شرکت کرنے گئی تھیں۔اور یہ خبر انٹرنیشنل و پاکستانی مین سٹریم نے سنسر کردی تھی۔اور اس پہ ردعمل دیتے ہوئے پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پہ لکھا تھا کہ یہ اقدام امریکی سامراجیت-صہونیت اور عرب آمریتوں کے درمیان مزاحمت فلسطین کو کچلنے کے لئے اشتراک کا نتیجہ ہے۔

لیلی خالد کو ماضی میں بہت آئیڈیلائز کرنے والے کئی پاکستانی لبرل اشراف اب بھول چکے کیونکہ وہ ان کے مطابق بات نہیں کرتی۔وہ آج بھی مزاحمت کو آزادی کی طرف جانے کا واحد دستیاب حصّہ خیال کرتی ہے اور اس کے خیال میں محکوموں اور حاکموں میں مذاکرات کا مطلب سرنڈر کرنا ہوتا ہے۔اس سے آزادی نہیں زنجیریں اور سخت ہوجاتی ہیں۔

فلسطینی نمائندہ تنظیموں کے پاس ٹرمپ کے فیصلے نے ایک موقعہ فراہم کردیا ہے اس سفر کی طرف پھر سے روانہ ہونے کا جو 90ء کی دہائی میں عملیت پسندی اور امن کے جھوٹے خوابوں کے بدلے ترک کردیا گیا تھا۔مزاحمت اور لڑائی سے ہی فلسطین کی تحریک آزادی سامراجیت اور صہیونیت کے خلاف جنگ جیت سکتی ہے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*