سعودی عربیہ سے سلمانی عربیہ تک ۔ گل زہرا رضوی

استاد شہید مرتضیٰ مطہری کہتے ہیں روح کی بزرگی ایک چیز ہے اور بزرگواری ایک اور۔ کچھ لوگوں کی روح بزرگ ہوتی ہے، وہ سرداری چاہتے ہیں ، شہرت ، اثر و رسوخ چاہتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی قوت بن جائیں ۔ (ایسے لوگ مثلا نادر شاہ ، مثلا چنگیز خان) ۔ انکی روح میں بزرگی (یعنی سرداری کی طلب) تو ہے لیکن بزرگواری نہیں ۔ یہ چاہتے ہیں کہ سب بھیڑ بن جائیں اور یہ سو سال تک شیر کیطرح بھیڑوں کا شکار کریں۔ دوسری طرف بزرگوار روحیں چاہتی ہیں کہ سب شیر بن جائیں ، کوئی بھیڑ نہ رہے ۔ سب معزز و سر بلند ہوں ۔ یہ وہی احساس ہے جسے اسلام میں احساسِ عزت ، کرامتِ نفس کا نام دیا گیا ہے ۔ بزرگوار روحیں (مثلا امام علی ع) اپنی ’میں‘ کو ’ہم‘ میں تبدیل کر دیتی ہیں : عزت سب کے لئے ، کرامت سب کے لئے ۔

 

یہ سب لکھتے مجھے سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان کا خیال آرہا ہے ۔ جواں سال شہزادہ ایک جاہ طلب انسان ہے ، وہ چاہتا ہے کہ دنیا کی بڑی قوت بن جائے ، فاتح بن جائے ۔ ایسا شیر جو دوسروں کو پھاڑ کھائے ۔ جب آنکھیں شاہی خاندان میں کھلی ہوں اور بادشاہت باپ سے ورثے میں ملی ہو تو ایسی خواہشات کا پیدا ہونا محال نہیں ۔ حال ہی میں بن سلمان نے 11 سے زیادہ شہزادوں اور کئی تاجروں اور سرکاری افسران کی گرفتاری بدعنوانی کے خاتمے کے نام پر کروائی ہے ، ان شہزادوں میں سے اکثر کا تعلق سابقہ کنگ عبداللہ کے خاندان سے ہے اور بعض ولی عہدی کے مضبوط امیدوار بھی تھے ، انکی یکایک گرفتاری اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ یہ گرفتاریاں کرپشن کے خاتمے کیلئے نہیں بلکہ سلمانی بادشاہت کے تحفظ کیلئے ہیں ۔ محمد بن سلمان کو اپنی خارجہ پالیسیوں بالخصوص یمن وار کا ماسٹر مائنڈ ہونے کی حیثیت سے اندرونِ خانہ کافی تنقید کا سامنا تھا ، ان گرفتاریوں کیبعد شہزادے نے اپنے بڑے ناقدین کو خاموش کروا دیا ہے اور مزید تنقید کرنے والوں کو5 سے 10 سال قید کا نیا قانون بھی جاری کر دیا ہے ۔

 

اگر محمد بن سلمان کی یہ کوششیں صرف اپنی بادشاہت کی جڑیں سعودی عرب میں مضبوط کرنے کے لئے ہوتیں تو ایک جاہ طلب خاندان کیلئے یہ کوشش نئی بات نہ تھی ، لیکن بن سلمان جو ایک جوشیلا، جذباتی اور سیاسی طور پر ناپختہ انسان ہے ، کی ڈوریاں امریکہ سے ہلائی جا رہی ہیں تاکہ اسکے ذریعے ایسی صورتحال قائم کی جائے کہ خطے میں ایران اور اسکے دوست الجھ جائیں، جسکا فائدہ ظاہر ہےسعودی عرب، امریکا اور اسکے اتحادیوں کوہو ۔ داعش کا پتہ شام سے تقریبا صاف ہو ہی گیا تھا ، داعش میں الجھی شامی اور ایرانی حکومتیں اس سے فراغت پا کر ایک مضبوط (ایران / شام / بیروت) بلاک کے طور پر سامنے آتیں ، تہران سے بیروت تک زمینی راستہ کھول دیا جاتا ، جو ظاہر ہے امریکا اور اسکے حامیوں کو کسی طور گوارہ نہیں ۔ اسی لئے یکایک سعد حریری کو ایسے حالات میں ریاض میں استعفیٰ دلوایا گیا (جب انکے قریبی رفقا بھی اس بات سے بے خبر تھے) تاکہ اس سیاسی کارڈ کے ذریعے لبنان میں سیاسی کرائسس پیدا کیا جائے اور یہی ہوا۔ حکومت معطل ہو گئی ہے اور اگلے سال ہونے والے پارلیمانی الیکشن بھی تعطل کا شکار نظر آتے ہیں ۔ حریری کی اچانک روانگی سے لبنان اور خطے میں کشمکش سی پیدا ہو گئی ہے اور وقتی طور پر ہی سہی لیکن سعودی عرب کا لبنان کو الجھائے رکھنے کا پلان کامیاب ہو گیا ہے ۔

سعدحریری کے استعفے والے دن ہی ریاض ایئرپورٹ کے قریب حوثیوں کی طرف سے مبینہ طور پر چلائے گئے بیلسٹک میزائل کا الزام فورا ایران پر عائد کر دینا یہ اس (ایران/ لبنان/ شام) تکون کو کمزور کرنے کا ایک اور حربہ ہے ۔ جہاں ایکطرف سعودی شد و مد سے ایران پر الزام لگا رہے ہیں ، وہیں سعد حریری نے بھی ایران پر شدید تنقید کی ہے ۔ یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں معلوم ہوتی ہیں ۔ یہ تمام پیشرفتیں ظاہر کرتی ہیں کہ ایران اور اس کے دوستوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کا نیا باب شروع ہو گیا ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ بڑی وارفتگی سے بن سلمان کا ساتھ دے رہے ہیں ، اور کھلم کھلا دنیا دو مخالف بلاکس میں تشکیل پا رہی ہے جو ایکدوسرے کے آمنے سامنے ہیں ۔ واضح طور پر امریکہ کو یہ کسی طور گوارہ نہیں کہ خطے میں کوئی غیر امریکی پاور بلاک بنے، اسلئے وہ نہایت خوش اسلوبی کیساتھ سعودی کٹھ پتلی بن سلمان کے ساتھ کھیل رہا ہے ۔

 

محمد بن سلمان کو اپنی جلد بازی میں شاید اس وہابی نظام کا خیال نہیں رہا جو سعودی عرب کی جڑوں میں بیٹھا ہوا ہے ۔ یک جنبشِ قلم وہ اپنے ہی نظام کیخلاف بنامِ اعتدال احکامات جاری کر رہے ہیں ، مستقبل قریب یا بعید میں وہابی ملائوں کی طرف سے بھی کوئی ردِ عمل آسکتاہے ۔ گوکہ اسکے امکانات کم ہیں ، کیونکہ وہابی نظام پیسہ پھینک تماشہ دیکھ کے اصول پر قائم ہے ۔ بہرحال بسا اوقات ایک مچھر بھی آدمی کو ۔۔۔ اگر تو کسی طرح ولی عہد کا بنایا نیا ’معتدل‘ سسٹم بچ گیا ، تو سعودی عربیہ کو سلمان عربیہ دیکھنے اور لکھنے کےلئے تیار رہیں ۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*