محرم میں دکانیں بند لیکن معیشت چلتی ہے – گل زہرا

کراچی کے عہد ساز شاعر ڈاکٹر ریحان اعظمی کا شعر ہے :
یہ غم_حسین ع کیا ہے ، غم_قلب_ مصطفے ص ہے
اسے تم بھی گر مناتے ، تو کچھ اور بات ہوتی

آج کل تکفیری کالعدم سپہ صحابہ کا جو حال ہے ، اسکے تناظر میں یہ شعر خوب لطف دے گیا ۔ انہیں شیعہ دشمنی کے کیڑے نے کچھ ایسا کاٹا ہے کہ یہ اپنی تاریخ کے ہی منکر ہو گئے ہیں ، اپنی باتوں کی ہی نفی کرنے لگے ہیں ۔ 26 ذی الحج کو وفات پانے والے حضرت عمر کا یوم_وفات یکم محرم بنا ڈالا ، شیعہ دشمنی میں ایسے بائولے ہوئے کہ عقل کا تختہ ہی ہو گیا ۔ تاریخی حقائق مسخ کرنے کی تو انکی عادت پرانی ہے ، لیکن اب کچھ سالوں سے بغض_اہلیبیت انکے اندر کچھ ایسا رچا بسا ہے کہ یہ صحابہ کی نسبت جھوٹ باندھنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ سچ کہتے ہیں کہ جھوٹے کا حافظہ نہیں ہوتا جب ہی یہ اپنے کئے دعووں کے منکر ہو گئے ہیں ۔

آج سے کچھ سال پہلے تک کہتے تھے کہ نو ، دس محرم اور بارہ ربیع الاول کی چھٹیاں منسوخ کرو ۔ اب خود یکم کی چھٹی کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ پہلے کہتے تھے نو دس محرم کا جلوس بند کرو ، اب خود اپنی چھوٹی چھوٹی ریلیاں نکال رہے ہیں (اللہ ایک ہی بار انکا جلوس نکال دے) ۔ پہلے کہتے تھے ان ایام میں چھٹی دینے سے تجارت کا نقصان ہوتا ہے کروڑوں کا خسارہ ہوتا ہے اب خود ہی چھٹی کا شور مچا رہے ہیں۔

یہاں یہ بھی بتا دوں کہ ان ایام میں کروڑوں روپے کا خسارہ نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کا فائدہ اور اربوں روپے کی تجارت ہوتی ہے ۔ لوگوں کا فائدہ یوں کہ ان ایام میں جتنا غریب آدمی عزت کی روٹی بنام_حسین کھاتا ہے ، وہ اسے سارا سال نصیب نہیں ہوتی کہ نیاز وہ واحد دعوت ہے جس میں لینے والا فخر سے لیتا ہے اور دینے والا سر جھکا کر دیتا ہے ۔ اربوں روپے کی تجارت یوں کہ یکم محرم تا 8 ربیع الاول کئی شعبوں مثلا کیٹرنگ ، پرنٹنگ ، ملبوسات ، امامبارگاہوں کی آرائش و تعمیر کیلئے سمینٹ، چونا ، تعزیوں کی تیاری ، نوحوں و مراثی کی ریکارڈنگ ، آڈیو ویڈیو انڈسٹری ، پرائیوٹ سیکیورٹی کمپنیوں وغیرہا میں ریکارڈ منافع ہوتا ہے ۔

یہ تمام باتیں میرے دعوے نہیں ہیں ۔ 2011 میں جیو ٹی وی کے کامران خان نے اپنے پروگرام “آج کامران خان کیساتھ” میں بتایا کہ محرم میں مندرجہ بالا انڈسٹریوں کو 126 بلین روپے کا فائدہ ہوتا ہے ، جی ہاں آپ نے صحیح پڑھا “126 بلین روپے” یہ پاکستان کی سالانہ معاشی ترقی کا 22 فیصد ہے ! کہتے ہیں کہ محرم میں دکانیں تو بند ہوتی ہیں لیکن معیشت چلتی رہتی ہے ۔


تو صاحبو ، تکفیری لونڈوں سمیت اگر کسی اور کو بھی تکلیف ہو رہی ہو دکانیں بند اور کاروبار ٹھپ ہونے کی ، وہ ان اعداد و شمار کو دیکھے ۔ بجائے عزاداری میں رخنہ ڈالنے کی کوششیں کرنے کے ، ہمیں اپنے شیعہ و بریلوی سنی بھائیوں کا شکر گزار ہونا چاہئے جو نواسہء رسول ص کی محبت میں دل کھول کر پیسے خرچ کرتے ہیں اور نتیجتا پیارے پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*