میں اپنی تنہائی ڈھونڈتا اور خود اپنے ساتھ رہنا چاہتا ہوں – عامر حسینی

‘میں جب کوئی پینٹنگ دیکھتا ہوں تو میں کینویس پہ گھنچی لائنوں سے اوپر اٹھ کر ان کو دیکھنے لگتا ہوں اور آنکھیں بند کر ان سے کچھ اور امیجز بنانے لگتا ہوں مگر اس دوران میں ‘ حقیقت ‘ کو برباد نہیں کردیتا بلکہ اس میں اپنے تخیل سے اضافہ کردیتا ہوں ‘
بدھادیب گپتا داس

ہمارا سماج کس قدر پستی کا شکار ہوچکا ہے کہ اس کی بڑی سکرین پہ بھی اب ایسے لوگ بیٹھے نظر آتے ہیں جن کے ذہنوں کی گندگی ان کی زبانوں پہ آچکی ہے اور ان کی غلاظت اور تعفن زدہ گفتگو سننے کے بعد ہم تو شرم سے زمین میں گڑے جاتے ہیں مگر وہ ہیں کہ بولنے سے باز ہی نہیں آتے۔اور نجانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ کم از کم ہمارے سیاسی سفر نے تہذیب اور سلیقے کے معاملے میں ترقی معکوس کی ہے۔تبدیلی کی دعوے دار پارٹی کا ترجمان ’24 گھنٹے کی بکواس ‘ کرتا ہے اور ضیاءالحق کی برین چائلڈ پارٹی کا پنجاب کا وزیر قانون ‘پیشہ ورانہ ابتذال’ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا حامل لگتا ہے۔

ایسے میں تنہائی کو ڈھونڈنا اور بس اپنے ساتھ رہنے کی خواہش کرنا بے جا مطالبہ نہیں ہوگا۔کبھی کبھی جب اپنے ہاں بہت گھٹن بڑھ جاتی ہے تو ہمیں چھلانگ لگاکر اپنے تخیل کو کسی اور معاشرے میں لیجانا پڑتا ہے اور وہاں سے کچھ ایسی باتیں ڈھونڈ کر لانا پڑتی ہیں جو تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہوں اور حبس و گھٹن میں کمی لانے کا سبب بن سکیں۔امیت وا ناگ ممبئی میں رہتے ہیں اور بنگالی ہیں شاعر اور فکشن رائٹر ہیں۔وہ گزشتہ دنوں کلکتہ جاپہنچے اور جنوبی علاقے میں بدھادیب گپتا داس سے بات چیت کی۔بدھا دیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ‘ریلئٹی /حقیقت کی توسیع ‘ کرنے والا شاعر اور فلم ساز ہے۔اور اسے ‘اداسی ‘ کو تخلیقی مقاصد کے استعمال میں مہارت رکھنے والا بھی کہا جاتا ہے۔امیت وا ناگ نے کلکتہ تک کا سفر اس لئے کیا تھا کہ بدھادیب کے فلمی دنیا میں آئے چالیس سال پورے ہوگئے ہیں۔وہ آجکل گوشہ نشین ہیں اور بقول ان کے وہ اپنی سالی ٹیوڈ /تنہائی کی تلاش میں ہیں اور خود اپنے ساتھ کچھ وقت بتانا چاہتے ہیں۔

ان کا سفر سینما اور شاعری سے شروع ہوا اور ان کی صحت تو ٹھیک نہیں ہے لیکن ان کا دماغ پوری طرح سے فعال ہے۔ان کے خلاق ذہن کو جلا بخشنے میں موسیقی ، شاعری اور پینٹنگ کا بڑا ہی دخل ہے اور وہ ان کے مقروض خود کو خیال کرتے ہیں۔ان کی والدہ پیانو بجایا کرتی تو یہ سنا کرتے اور اس دوران اپنی والدہ کی جانب دیکھنے لگتے تھے تو ان کی والدہ نے ان کو کہا کہ ‘میری طرف مت دیکھو بلکہ آنکھیں بند کرو اور امیجز بناؤ’۔اور ایسے امیجز ان کے دماغ میں بننے لگے۔اور انھوں نے ٹھیک ہی تو کہا کہ پہلے پہل یہ امیجز بنانے کے لئے کوشش کرنا پڑتی ہے اور پھر بنا کسی کوشش کے یہ خودبخود بننے لگتے ہیں۔اور امیجز جو دوسرے بنائیں ان کو مستعار لیکر نہ تو پینٹنگ ہوتی ہے، نہ فلم بنتی ہے اور نہ ہی موسیقی کمپوز ہوتی ہے۔بلکہ میں تو کہتا ہوں مستعار شدہ خیالات کے سہارے سیاست بھی نہیں ہوتی ہے۔آپ اگر اندر سے بنجر ہیں تو ایک دن بناوٹی بلوغت کا پول کھل ہی جاتا ہے جیسے گلالئی کے معاملے میں کئی جعلی سیاسی بالغوں کا پول کھل گیا ہے۔

قدرتی ماحول ، آوازیں ، پینٹنگ اور لٹریچر یہ آپ کو انسپائر نہیں کرتے تو سمجھ لیں کہ آپ کے اندر کوئی خرابی ہے اور کثافت کے سوا کچھ بھی نہیں آپ کا وجود اور اگر فلم آپ کو اکسائے نا تو بھی معاملہ گڑبڑ ہے ۔

امیت وا نے ان سے پوچھا کہ آپ نے چالیس سال میں جتنی فلمیں بنائیں اگر چار عشروں پہ ان کو تقسیم کریں تو ہر دسال میں پانچ فلم بنتی ہیں تو اس کا مطلب ہوا کہ دو سال لگائے آپ نے نئی فلم بنانے میں ۔تو اتنا لمبا عرصہ کیوں؟ تو بدھا دیب کا جواب بھی خلاقی تھا

‘میں بہت تیزی نہیں پکڑسکتا۔مجھے اپنی سالی ٹیوڈ /تنہائی چاہئیے ہوتی ہے۔مجھے کچھ وقت اپنے ساتھ گزارنا پڑتا ہے۔انسانی دماغ زمینی سرنگوں کی طرح ہوتا ہے جس میں پانی سٹور کیا جاتا ہے۔اور ان سے پینے کے لئے پانی کی فراہمی کے لئے آپ کو پہلے اچھے سے ان کو بھرنا ہوتا ہے۔

اور اگر اس کے بھرنے سے پہلے ہی آپ پانی انڈیلنا شروع کردیں گے تو یہ خالی ہوجائے گا۔

بدھادیب کہتے ہیں تخلیقیت پسند ذہنوں نے آج کل خود کو سیاسی جماعتوں سے باقاعدہ وابستہ کرلیا ہے اور یہ بہت خطرناک رجحان ہے اور اس سے سچائی پارٹی مفاد اور پالیسی کے تابع ہوجاتی ہے اور خلاقیت متاثر ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تخلیقی لوگوں نے جب تک سیاسی پارٹیوں اور ازموں سے اوپر اٹھ کر دیکھنا ترک نہیں کیا تھا تب تک ان کے ہاں سچ بنا کسی مصلحت کے بولنے کا رجحان باقی تھا اور یہاں تک کہ اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کے دوران بھی سچائی کا اظہار ہوا۔مغربی بنگال میں تخلیق کاروں نے اپنی روحوں کو ریاست کے ہاتھوں بیچ دیا ہے اور ایسا چند مفادات کے لئے کیا گیا ہے۔بدھادیب کہتے ہیں کہ سمجھوتے آپ کی تخلیقیت کو برباد کردیتے ہیں اور اگر آپ سمجھوتے نہیں کرتے تو آپ کو دھمکیاں ملتی ہیں اور مین سٹریم سے آپ باہر کر دئے جاتے ہیں اور تنہائی مقدر بن جاتی ہے۔

میں بدھادیب کی یہ بات پڑھتا ہوا سوچ رہا تھا کہ واقعی ہمارے ہاں بھی خلاق ذہن چاہے وہ ادیب ہوں یا آرٹسٹ یا دانشور یا سول سوسائٹی ایکٹوسٹ یا صحافی /کالم نگار وہ کہیں نہ کہیں ، کسی نہ کسی جگہ کمپرومائز کرنے والے ہوچکے۔ہمارے ماضی کی بڑی باغی دانشور ، سول سوسائٹی کی روحیں سرمایہ دار پارٹیوں ، اسٹبلشمنٹ اور ملائیت کے ہاتھوں اپنی روحیں فروخت کرچکی ہیں اور ان کا سٹیٹس /مقام اب ہے کیا کہ یا تو وہ نواز شریف، زرداری، عمران خان کے لئے بولتے ہیں اور دلائل بھی ان کے لئے گھڑتے ہیں یا پھر وہ اسٹبلشمنٹ کی بولی بولتے ہیں۔ان کی اپنی آوازیں کہیں گم ہوچکی ہیں۔اور جنھوں نے یہ سب نہیں کیا وہ مین سٹریم سے باہر کردئے گئے ہیں،اور ان کا خلا احسان اللہ احسان، لدھیانوی ، حافظ سعید ، طارق جمیل ، مولوی عبدالعزیز ، اورنگ زیب فاروقی ، راجا ناصر وغیرہ کے زریعے سے پورا کیا جارہا ہے۔

بدھا دیب گپتا داس نے حال ہی میں ایک فلم ‘ٹوپے /چال ‘ کے عنوان سے بنائی ہے اور جب امیت وا نے پوچھا کہ ‘چال ‘ کیا ہے؟ تو گپتا داس کا کہنا تھا کہ یہ سسٹم ہی ایک چال ہے جو عام آدمی کو دھوکہ دیتا ہے اور اسے لوٹ لیتا ہے، اس کا استحصال کرتا ہے اور مصلحت کرنے والے خلاق ذہن اس چال کو خوشنما بناکر دکھاتے ہیں تاکہ لوگ پھندے کو پھندا نہ سمجھیں اور خوشی خوشی پھانسی چڑھ جائیں۔ایسی پھانسی جس میں بظاہر آپ سانس لیتے ہیں، گردن بھی سلامت رہتی ہے اور آپ چل پھر رہے ہوتے ہیں اور کام بھی کررہے ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں آپ مرگئے ہوتے ہیں۔بدھادیب کہتے ہیں کہ آج کل اکثر فلموں کے امیجز کھوکھلے ہوتے ہیں اور حقیقت کی خلاقانہ توسیع نہیں کرتے اور سماج میں سٹیٹس کو برقرار رکھتے ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ فلموں ،ڈراموں کے امیجز ہی کھوکھلے نہیں بلکہ سیاست و سماج کے پردے پہ ابھرنے والے امیجز بھی کھوکھلے ہیں۔دیکھ لیں نا کہ معاشرے کی اکثریت کے اندر فواد چودھری ، ثناء اللہ کی بکواسیات اور مرد شاؤنزم کی انتہائی نچلی سطح کے آن دی ریکارڈ سامنے آنے پہ بھی کوئی ہیجان، غصّہ ، رنج ، دکھ نہیں ہوا۔اور دانشور ، آرٹسٹ ، لکھت کار سب ہی تو کیمپوں میں بٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔کوئی زلزلہ نہیں آیا۔

سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے ‘خلاق ذہنوں ‘ کے کاسٹیوم مستعار لیکر اپنے پست جثوں پہ ان کو پہن لیا ہے اور کوئی بھی ایک شاک ہمیں ان کاسٹیوم کو اتار ننگا کردیتا ہے اور اندر سے ہمارا بھدا پن جسے دیکھ کر الٹی ہوجائے سامنے آجاتا ہے۔اور ہم پھر یہی نہیں کہ شاک دینے والی عورت /مرد کی شلوار اتارتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ جڑی اور رہنے والی عورتوں کی شلوار بھی فوری اتار دیتے ہیں۔ہمارے کیمپ میں رہے تو ‘کعبہ و کاشی و متھرا کے مندر اور ویٹی کن ‘ کی طرح پوتر لیکن ہمارا کیمپ چھوڑ دے تو وہ ’24 گھنٹے کے لئے بک ‘ ہونے والی عورتیں یا پیشہ کرنے والی طوائف بن جاتی ہے۔ہمیں خوش رکھے (کسی بھی طرح ) تو ستی ساوتری نہ رکھے تو ویشیا بن جاتی ہے۔بس یہی ہے ہماری اخلاقیات ۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*