پوسٹ ماڈرن لبرل دانشور بڑے صاحب کی خدمت میں – عامر حسینی

کبھی کبھی زبان کا چٹخارہ بدلنا چاہئیے اور جب پوسٹ ماڈرن لبرل بہت چخ چخ کرنے لگیں اور ان کا زعم علم بہت ہی بڑھ جائے اور غلط طور پہ معاشرے میں اپنے آپ کو انسانی حقوق ، جمہوریت اور سب سے بڑھ کر عقلیت پسندی کے مدار المہام بتلانے لگیں اور آسمان پہ سنگھاسن جمالیں تو ان کو زمین پہ لانے کے لئے کچھ خاص قسم کی تحریروں کی ضرورت ہوتی ہے۔پوسٹ ماڈرن ازم پہ ایک جگہ بحث چل رہی تھی وہاں ایک صاحب نے یہ پوسٹ ڈال دی۔مجھے اپنے معاشرے کے اندر بہت سے دانشوروں پہ یہ ایک جامع تنقید معلوم ہوئی۔پوسٹ ماڈرن انٹلیکچوئل باقی ساری دنیا پہ فتوے دیتے ہیں اور ان کی نظر میں سوائے ان کے اور کوئی نہ تو روشن خیال ہوسکتا ہے،نہ جمہوریت پسند ، نہ انسانی حقوق کا پاسدار نہ ہی وہ ریاست کے اداروں میں بیٹھے بدمعاشوں کو پہچان سکتا ہے۔ بس یہی ہیں وہ ناخدا جن کے پاس لبرل کشتی ہے جسے یہ چلاسکتے ہیں۔ان کی انائیں بہت بڑی ہیں۔اپنے سے اختلاف ان کو توہین، گالی لگتا ہے۔

ٹی وی چینل پہ آئیں تو بھی ان کی بد دماغی عروج پہ ہوتی ہے اور ٹوئٹر و فیس بک پہ تو یہ مطلق العنان خدا بنے بیٹھے ہوتے ہیں۔اوقات ان کی کیا ہے؟ ان کا سارا علم و بصیرت اور فہم اور ان کا اپنا قد کاٹھ بس کرونی کیپٹل ازم کے کسی بڑے مافیا اور عالمی سامراجی سرمایہ داری کے کسی ایک کیمپ کی خدمت کررہا ہوتا ہے۔بہت ہی سلیکٹو قسم کی سیاپا فروشی کرتے ہیں۔ان کی ساری روشن خیالی ، ترقی پسندی ، فیمنزم ، انسانی حقوق کی رضاکاری کسی بڑے سرمایہ دار کے مفادات کو براہ راست یا بالواسطہ فائدہ پہنچارہی ہوتی ہے۔اس طرح کے سیاپا فروش کچھ زیادہ ہی ہوگئے ہیں۔حال مذہبی رجعت پرستوں، دائیں بازو کی لائن سے دانش کی الٹیاں کرنے والوں کا بھی کم مضحکہ خیز نہیں ہے لیکن اپنے ‘مربی، سرپرست ، پیسہ بانٹنے، مراعات دینے اور ان کو خوشحال کرنے ‘ والے صاحب کی یہ خدمت میں شیر وشکر ہوکر رہتے ہیں۔ان کے افکار ‘طبقاتی سطح’ سے کبھی اوپر نہیں اٹھتے اور رہتے یہ اشراف کی خدمت میں ہی ہیں۔مضمون پڑھ لیں۔

ہمارے ہاں لبرل ازم کے نام پہ اکثر دانشور پوسٹ ماڈرنسٹ دانشور ہیں اور ان کے خیالات بھی پوسٹ ماڈرن دنیا کی عکاسی کرتے ہیں۔یہ ایک ایسا نکتہ نظر ہے جو اپنے خیال کے مطابق سماجی اور ثقافتی اداروں کی بہتر تنقید پیش کرتا ہے۔لیکن سمندر کی جھاگ کی طرح جس پہ یہ اکثر سوار ہوتا ہے۔یہ صرف ظاہر ہے اور اسی ظاہر کو یہ بلبلہ کی شکل میں سامنے لاتا ہے جبکہ اس بلبلے کی سواری لبرل ازم کے نمکین ٹینگ پہ ہے۔

میری پوسٹ ماڈرن ازم کی وہ تعریف کرنے کی خواہش نہیں ہے جس پہ پوسٹ ماڈرنسٹ چیخنے لگیں گے اور ان کو یہ چھوٹی سی مڈل کلاس پچھواڑے کے خلاف وائلنس لگنے لگے گی۔مجھے اسے تشدد کہنے پہ اعتراض ہے اور میں یہاں یہ اضافہ کروں گا کہ یہ جو ‘تعریف نہ متعین کرنے والی فطرت’ ہے پوسٹ ماڈرن ازم کی یہ اس کا مرکزی نکتہ ہے اور اس کی لبرل ازم کے ساتھ جو ملی بھگت ہے اس سے جڑی ہوئی بھی ہے۔ہمارے پوسٹ ماڈرنسٹ دانشوروں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کا پوسٹ ماڈرن ازم چند ایسی مشترکہ خصوصیات کا حامل ہے جس کو تنقید کے قابل سمجھا جاسکتا ہے۔

پوسٹ ماڈرن ازم مزاحمت کی ایک انفعالی جگہ ہے۔اس سے میری مراد کیا ہے؟،آئیں ہم اس کا موازانہ مارکس ازم اور سوشلزم سے کرتے ہیں ( کسی نظریاتی تعصب کے ساتھ نہيں )۔آئیں اس تنقید کا سامنا کرتے ہیں کہ مارکسزم اور سوشلزم اپنے آغاز سے ہی موجودہ لبرل اداروں کے لئے بڑا خطرہ تھے اور اس خطرے کو مبالغہ آرائک میں نہیں لیا جاسکتا۔اور اس خطرے نے یونیورسٹی کی تعلیم اور اس سے ملتے جلتے اداروں کے اندر نقب لگائی۔اس نے لبرل اداروں اور مغربی افکار کو دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا۔سوشلسٹ حکومتیں خود بھی جبر کی طرف مڑگئیں ، بطور ایک فکری تحریک کے تاہم اور پہلے سے قائم ایک نظم کے خلاف مزاحمت کی جگہ کے طور پہ یہ ایک موثر فصیل ثابت ہوئی۔لیکن پوسٹ ماڈرن ازم کو ابھی یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ مزاحمت کی ایک انفعالی جگہ کے علاوہ بھی کچھ اور چیز ہے۔

لبرل ادارے اس کے زریعے جس قسم کی مزاحمت کرتے ہیں وہ انفعالی ، فاعلیت سے دور ہے۔جب میں یہ کہتا ہوں کہ یہ بے کار قسم کی مزاحمت ہے تو اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں پہلی وجہ تو پوسٹ ماڈرن ازم کا بہت ہی بلند سطح کی انفرادیت پسندانہ آئیڈیالوجی ہونا ہے۔تھیوری میں تو یہ ہے ‘انفرادیت پسندی ‘ کی توہین ہے، بہت سارے ایسے طریقہ کار فراہم کرتی ہے کہ جس کے زریعے سے ‘سیلف/ذات’ کی رد تشکیل ہوجاتی ہے اور یہ ایک متھ /اسطور بن کر رہ جاتی ہے۔اور عمل میں تاہم یہ بہت ہی بلند طور پہ ‘فرد پسند

Individualistic

ہے۔جب بھی پوسٹ ماڈرن ازم کی تعریف متعین کرنے کو اس کے حامیوں کو کہا گیا تو وہ اس سوال کو دہشت گردی کہہ کر خوفناکی کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں پوسٹ ماڈرن ازم کی تعریف متعین نہیں کی جاسکتی۔یاد رہے کہ مجھے اس بات میں دلچسپی نہیں ہے کہ تھیوری میں وہ اس بارے کیا کہتے ہیں لیکن مجھے دلچسپی ان کا اس تھیوری کی عملی شکل میں ملوث ہونے سے ہے کہ وہ عمل میں کیسے اپنے آپ کو پوسٹ ماڈرنسٹ کے طور پہ سامنے لاتے ہیں۔کہتے ہیں کہ پوسٹ ماڈرن ازم کی متعین تعریف نہیں کی جاسکتی ، پوسٹ ماڈرنسٹ متنوع ہیں، بکھرے ہوئے ہیں اور ایسا منتشر ،بے ترتییب ، بے ڈھنگا گروپ ہیں جس کے لوگ اپنے آپ کو کیٹگری میں رکھنا پسند نہیں کرتے( حالانکہ وہ خود ہر ایک شخص کی درجہ بندی کرکے بہت خوش ہوتے ہیں)وہ ایک مشترکہ عقائد کا نظام رکھنے سے انکاری ہيں،کمیونٹی اور گروپ شناخت سے انکاری ہیں اور ایک ایسا متحد خیال رکھنے سے انکاری ہیں جو لوگوں کو ایک جگہ پہ اکٹھا کرتا ہو۔

بلکہ یہ تو ہر ایک یونٹی کی رد تشکیل کرتے ہیں اور اپنے آپ کو کسی بھی مزاحمت کو متحرک کرنے سے باز رکھتے ہيں۔پوسٹ ماڈرن ازم کے کیس میں مزاحمت صرف ایک شخص کے دماغ میں ہی واقع ہوسکتی ہے۔مزاحمت کا صرف مطلب سوچنا، بولنا یا لکھنا ہی ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔پوسٹ ماڈرنسٹ سوچتے ہیں،اس لئے وہ ہیں اور اس سے زیادہ وہ کچھ کرتے بھی نہیں۔اسی وقت جب یہ دماغی مشت زنی پہ مصر ہوتے ہیں تب یہ دوسری آئیڈیالوجیز/نظریات جن میں فعال مزاحمت کرنے کا پوٹینشل ہوتا ہے یہ ان سے یہ ہتھیار چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔اور ان کو اسی لئے پوسٹ ماڈرن تنقید کے میدان میں لایا جاتا ہے اور پھر ان کا تیا پائنچا کردیا جاتا ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے ایک خراب چھوکرا ایک بھرے ہوئے کھلونے کی چیرپھاڑ کردیتا ہے کیونکہ اس کا آئی بی ایم حاصل نہیں کرپاتا۔

لبرل ازم انسانی رويے کی انتہائی شدید ریشنلائزیشن کا نام ہے۔ہر شئے کو ریزن،انٹلیکٹ /عقل و یک خطی منظق سے سمجھا جاسکتا ہے۔لبرل تھیوری میں عقیدہ،خواہش اور لاشعور غیر عقلی / ار ریشنل ہوسکتے ہیں۔پوسٹ ماڈرن ازم اس کے جرم میں شریک ہونے کے کارن انسانی رویے کو ریشنلائز کرنے،انسانی رویے کو جاننےعاس کے ہر ایک پہلو کا ادراک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جبکہ اصل میں ریشنلائزیشن کی مہا تاریخ /گرینڈ ہسٹری میں ،پوسٹ ماڈرن ازم بہت زیادہ رجعتی /گندا جوہڑ بن چکا ہے اور اس کا موقف بھی انتہائی بدبو دار ہے۔یہ انسانی اعمال کو ریشنلائز کرنے پہ بس نہیں کرتا اور یہی اس کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ یہ ان چیزوں کو بھی ریشنلائز کرنے کا سودا دماغ میں سمائے ہوئے ہے جسے یہ خود مانتا ہے کہ وہ ارریشنل/کنٹراڈکٹری تعقل سے پرے اور تضاد سے بھری ہوتی ہیں۔پوسٹ ماڈرن ازم کے پاس پیش کرنے کو کوئی نئی چیز نہیں ہے اور حقیقت میں ہماری زندگی کا ہر ایک پہو اس مقام اور پوآئنٹ تک ریشنل کردیا گیا ہے جہاں اب ہم جو بھی کہیں گے وہ بس فٹ نوٹ /حاشیہ کے طور پہ ہی ہوگا۔وہاں پہ بس ایک ہی جذبہ ہے اور وہ ہے ریزن ، ایک ہی وفور شوق ہے اور وہ ہے انٹلیکٹ ۔ریزن ۔تعقل۔پوسٹ ماڈرن ازم کی انفعالیت پسندانہ مزاحمت کا ایک آخری پہو اس پہ گہرا طبقاتی رنگ چڑھا ہونا ہے۔

مارکس کی آئیڈیالوجی نے طبقاتی سرحدوں کو عبور کرلیا تھا۔روسی انقلاب صرف روسی مڈل کلاس انٹلیکچوئل کا انقلاب نہ تھا (ہاں یہ انقلاب مڈل کلاس کی ریڈنگ کا واقعہ ہوسکتا ہے ) بلکہ اس نے روسی ورکنگ کلاس کی حمایت کو حاصل کرلیا تھا۔کیوں؟کیونکہ آئیڈیالوجی کے طور پہ سوشلزم میں صلاحیت تھی کہ اس کے اصولوں اور تنقید کی اکثر اصطلاحوں کو سمجھا گیا۔لیکن پوسٹ ماڈرن ازم دانشوروں کا کھیل ہے۔دریدا،فوکو اور لے کین کا جو کام ہے وہ کبھی طبقاتی حد کو عبور نہ کرسکا اور اسے سوائے یونیورسٹی میں فلسفہ یا کلچرل اسٹڈیز کے طالب علموں کے اور کوئی سمجھ نہ سکا۔اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ باقی سب احمق ہیں بلکہ یہ دوسروں کے لئے بہت کم دلچسپی کے سامان پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک دانشورانہ بکواس کی تشکیل کرتا ہے۔ان کے پاس جذبات کو ابھارنے کی صلاحیت نہ ہے نہ ہوگی کیونکہ رد تشکیلیت اور بہت زیادہ مڈل کلاس متون کے طور پہ وہ اکثر فرسٹریشن ، ایک خاص قسم کی نراجیت،عدمیت /نہل ازم پہ مبنی احساس اور زندگی کے افلاس کو یہ پیش کرتے ہیں۔بطور متون کے وہ ان نکتہ سنج اور بلند سطح کی گفتگو جیسے ہیں جیسے ہم والٹئیر کے ہاں اپنے ساتھی فلسفیوں سے دیکھتے ہیں۔

پوسٹ ماڈرن ازم ایک مذاق ہے۔یہ توہین آور اور بہت زیادہ خود پسند ہے۔اگر ہم اسے جھاگ کہیں تو یہ ایسا سٹف ہے جو فیکٹری پائپ سے باہر نکلتا ہے جو کہ بد رنگ ، گندا اور فضلہ ہے۔اور یہ لبرل ازم کے پانیوں کی وسعت پہ تیرتا ہے۔اور اگر آپ بھیگ جانے یا ڈوب جانے سے خوفزدہ نہیں ہیں تو پھر ایک ڈبکی لگائیں۔تو آپ وہاں ایک پرانے برباد ہونے والے سپینش جنگی جہاز کا ڈھانچہ پائیں گے۔ہمارے پوسٹ ماڈرنسٹ کبھی نہیں جان پائیں گے کیونکہ وہ وہاں کبھی بھی جانے والے نہیں ہیں۔

آخری بات ان کے لئے جن کو یہ شکایت ہے اور جن کا یہ الزام ہے کہ میں ان کی دانش پہ ایک دہشت گردانہ حملہ کررہا ہوں کہ وہ مت بھولیں اس وائلنس کو جسے سخت اور انتہائی سامنے کی حقیقت کو نظر انداز کرکے وہ کرتے ہیں اور اپنی بے مزہ، بے لذت پھیکی اور قدرے اپنے اندر اور اپنے ہی لئے جذب کردہ گھٹیا زندگیوں میں مگن رہتے ہیں۔اور میں ایل سی کی ایک لائن کو تھوڑی تبدیلی کے ساتھ پیش کرتا ہوں:

جاؤ اور آخری درخت کو تھام لو جوکہ ابھی تک کھڑا ہے اور اور اس خلا ميں معلق ہے جو کہ تمہارا منہ ہے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*