کچھ یاد دلائوں آپ کو؟ – حیدر جاوید سید

 

جناب نواز شریف اثاثوں سے متعلق حقائق چھپانے پر صادق و امین نہیں رہے۔ جھوٹا بیان حلفی عدالت میں جمع کروایا جس کی پاداش میں نا اہل قرار پائے۔ نواز شریف’ اسحاق ڈار’ حسین و حسن نواز’ مریم صفدر’ ان کے شوہر کے خلاف 6ہفتوں میں نیب کو ریفرنس دائر کرنے اور احتساب عدالت کو 6ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم۔ احتساب کے عمل کی سپریم کورٹ کا جج نگرانی کرے گا۔ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے متفقہ فیصلے کے بعد وزیر اعظم کے منصب چھوڑ دینے سے وفاقی کابینہ تحلیل ہوگئی۔

عدالت نے جن لوگوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا ہے ان میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی شامل ہیں۔ ریفرنس دائر کرنے کا حکم بظاہر ان افراد کو اپیل کے حق سے محروم نہ کرنے اور قانون و انصاف کو اپنا راستہ خود بنانے کی سوچ کا مظہر ہے۔ پچھلے 24گھنٹوں سے سیاپا فروشوں کے بین جاری ہیں۔ خواجہ سعد رفیق فرماتے ہیں ” ہمیں یمن فوج نہ بھیجنے اور قطر سے تعلقات ختم نہ کرنے کی سزا دی گئی”۔ کیا ہر دو معاملات پر پوری قوم اور تمام ادارے پارلیمان کے پیچھے نہیں کھڑے تھے؟ سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر فرماتی ہیں ” پی سی او ججز کا فیصلہ ہے” بہت ادب کے ساتھ ان سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ وہ اور دوسرے وکلاء رہنما نواز شریف کے کاندھے سے کاندھا ملا کر پی سی او ججز کو بحال کروانے کی جو تحریک چلا رہے تھے وہ میثاق جمہوریت میں اس حوالے سے موجود شق سے انحراف نہیں تھا؟

جناب نواز شریف کو اگر یاد ہو تو عرض کروں جس دن وہ میمو گیٹ والے تنازعہ میں کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ تشریف لے گئے تھے اس شام راجہ ظفر الحق کی اقامت گاہ پر راجہ صاحب کی دعوت پر چاروں صوبوں کے نصف درجن کے قریب صحافیوں نے ان سے ملاقات کی تھی۔

میاں نواز شریف پورے جوش و جذبہ کے ساتھ تقریباً 20منٹ تک فوج کے خلاف زرداری رجیم کی گھنائونی سازش کے مقابلہ میں اپنی حب الوطنی پر گفتگو کرتے رہے۔ سوال و جواب کے مرحلے میں مجھ طالب علم نے ان کی خدمت میں عرض کیا ” آ پ نے جلا وطنی کے زمانہ میں دئیے گئے متعدد انٹرویوز میں کہا تھا’ پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان کے خلاف مقدمات قائم کرنے کے لئے ان پر بعض ریاستی اداروں( انٹرویوز میں انہوں نے اداروں کا نام بھی لیا تھا) نے مجبور کیا تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آج آپ انہیں اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں؟” سوال کا جواب دینے سے قبل وہ بولے۔

آپ ابھی تک اپنے بھائی کی برطرفی( میرے بڑے بھائی کو ان کے حکم پر پی آئی اے سے نکالا گیا تھا وہ ایک الگ قصہ ہے) کو نہیں بھولے۔ پھر گویا ہوئے ہر غیرت مند اور محب وطن پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے میں سعادت محسوس کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی پرانی عادت ہے فوج کو متنازعہ بنانے کی۔ اس پر کارگل اور چند دوسرے معاملات پر فوج بارے ان کے خیالات کے حوالے سے سوال دریافت کیا تو ان کا جواب تھا۔ نواز شریف کے اس اقدام کی تاریخ بھی تائید کرے گی زرداری ٹولہ ایٹمی پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ کل 28جولائی کی دوپہر سے ان کے بہت سارے لاڈلے اور پیارے عدالتی فیصلے کو فوج کا فیصلہ قرار دے رہے ہیں تو سوچ رہا ہوں وہ غیرت مند پاکستانی کدھر گئے جو فوج کے ساتھ کھڑا ہونے میں سعادت محسوس کرتے تھے؟

تین دفعہ وزیر اعظم بننے والے نواز شریف کو اگر یاد ہو تو انہوں نے پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف پی سی او چیف جسٹس افتخار چودھری کے ساتھ مل کر لولی لنگڑی جمہوریت کے خلاف بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ حالانکہ وہ میثاق جمہوریت میں ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں شریک نہ ہونے کا وعدہ کر چکے تھے۔ آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کئے دیتا ہوں کہ 2013ء کے انتخابات میں نواز شریف فیورٹ نہیں تھے اچانک عمران خان سے کچھ بلنڈر ہوئے۔ میاں صاحب نے ان کا فائدہ اٹھایا اور جناب اشفاق پرویز کیانی کی معرفت ملکی اور عالمی اشرافیہ سے معاملات طے کرلئے اور دو تہائی اکثریت بھی طلب کی۔

طرفین نے ایک دوسرے کی خواہشات اور ضرورتوں کو مد نظر رکھا ۔ یوں مسلم لیگ(ن) تیسری بار نواز شریف کو وزیر اعظم بنوانے میں کامیاب ہوگئی۔ اس کے بعد کی کہانی سب کے سامنے ہے۔ ہمیشہ کی طرح انہوں نے سب سے پہلے طے شدہ امور سے ہٹ کر پھڈے مول لئے۔مثلاً وہ مشرف کے خلاف کارروائی نہ کرنے کاوعدہ کرچکے تھے پھر انہوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو مستقبل کے صدر کا خواب بیچا اور انہیں مشرف کے خلاف کارروائی پر اکسایا۔

چودھری خود بھی بھرے بیٹھے تھے سو فلم چل پڑی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں جمہوریت کا بوجھ اٹھانے کی بجائے طبقاتی نظام کو جمہوریت کے طور پر پیش کرکے کام چلایا جاتا ہو اس میں طبقاتی نظام کے اصل مالکان کے مقابلہ میں مالک بننے کی خواہش کیا دن دکھلا سکتی ہے اس پر لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں۔ یہ طے ہے کہ ان کے ہاتھ صاف ہیں نہ دامن مشرف سے معاہدے کے تحت انہوں نے کچھ کیس معاف کروا لئے تھے مگر جو رہ گئے وہ اب ان کے گلے پڑیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ کل سے یہ ضرور سوچ رہے ہوں گے کہ ” انہیں پیپلز پارٹی کے خلاف ریاستی اشرافیہ کامہرہ بننے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ مالک مہرہ قربان کرتے ہیں خود قربان نہیں ہوتے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*