اخلاقی تصورات، شریعت اور اجتہادی اختلافات – عمار خان ناصر

Post Banners

اخلاقی تصورات کے متعلق آخری تجزیے میں یہی بات درست ہے کہ ان کا بنیادی شعور تو فطرت انسانی کا حصہ اور سارے انسانوں میں مشترک ہے، لیکن اطلاقات ’’اضافی’’ ہیں۔ اطلاقات میں قطعیت صرف شریعت کے کسی صریح اور قطعی حکم سے ہی پیدا ہو سکتی ہے۔ فقہی اجتہاد تو کیا، کوئی محتمل نص بھی یہ قوت نہیں رکھتی کہ انسانی ذہن کو اس ’’اضافیت’’ سے بچا سکے اور نہ یہ شریعت کا مطلوب ہی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اخلاقی تصورات کے اطلاق میں اگر شارع کا کوئی فیصلہ کن حکم نہ ہو اور اس میں اہل علم اور فقہا۶ کا اجتہادی اختلاف ہو جائے تو کسی فریق پر بنیادی اخلاقی تصور کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرنا غلط بلکہ بذات خود غیر اخلاقی ہوگا۔ یہ نکتہ فقہا۶ کے مابین اور اسلامی ادب اختلاف میں مسلمہ ہے۔

مثال کے طور پر شوافع ومالکیہ کے ہاں ان بہت سے جانوروں کا گوشت کھانا حلال ہے جو احناف کے فہم کے مطابق ’’خبائث’’ کے ضمن میں آتے ہیں، لیکن کوئی حنفی فقیہ یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ شوافع ’’حرام’’ کھاتے ہیں یا ’’خبائث’’ کو ’’طیبات’’ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ امام شافعی کے نزدیک کسی شخص کے زنا کرنے سے کوئی لڑکی پیدا ہو تو وہ خود ہی اس سے نکاح بھی کر سکتا ہے۔ یہ ’’اطلاق’’ کا اختلاف ہے، کیونکہ امام شافعی حرام نطفے سے پیدا ہونے والی لڑکی کو آدمی کی ’’بیٹی’’ ہی تصور نہیں کرتے۔ اب اگر انھیں اس پر یہ طعنہ دیا جائے کہ وہ نعوذ باللہ بیٹی سے نکاح کی اجازت دے رہے ہیں تو یہ غلط اور غیر اخلاقی الزام ہوگا۔

اہل سنت کا عموماً‌ اس پر اتفاق رائے ہوتا چلا گیا کہ عارضی نکاح (متعہ) جائز نہیں، لیکن فقہی لٹریچر میں اس کو صرف ممانعت کے شرعی دلائل کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے، کبھی یہ طعنہ نہیں دیا جاتا کہ اہل تشیع ’’زنا’’ کی اجازت دے رہے ہیں، بلکہ امام ابن تیمیہ نے تو ایک جگہ سات آٹھ دلائل سے ثابت کیا ہے کہ متعہ، زنا نہیں، بلکہ کئی پہلووں سے زنا سے بہتر ہے۔ اس ضمن میں اسلامی علمی روایت فکری طور پر اتنی روادار ہے کہ مجوسیوں کے ہاں محرمات (ماں بہن اور بیٹی) سے نکاح کو بھی ’’اطلاق’’ ہی کا ایک فرق قرار دے کر ایسے نکاحوں کو قانونی تحفظ دیا گیا، بلکہ امام جعفر صادق رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ان کے سامنے کسی نے ایک مجوسی کو، جس کی ماں اس کی حقیقی بہن تھی، زانیہ کا بیٹا ہونے کی گالی دی تو امام صاحب نے اسے سخت نظروں سے دیکھا اور کہا کہ ’’اولیس ذلک من دینھم نکاحا؟’’ (کیا یہ ان کے دین کے مطابق جائز نکاح نہیں ہے؟

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*