برطانیہ کے ایک ٹیکسی ڈرائیور کی ڈائری – مقدس کاظمی

moqaddus-kazmi

ایک وقت تھا جب کوئی ٹیکسی ڈرائیور دوستوں کی محفل میں ہوتا اور کسی سیاسی ایشو پر بات کرتا تو میں اسے اہمیت نہ دیتا کہ چھوڑو یار اسے سیاست کا کیا پتہ ؟ he is just a taxi driver، اور پھر اس کی بات خواہ وہ کتنے ہی پتے کی ہوتی ہوا میں اڑا دیتا۔ مگر کیا پتہ تھا کہ ایک دن میں خود بھی ٹیکسی ڈرائیوربن جائوں گا۔ اور پھر جب حالات نے واقعی مجھے اس نہج پہ آکھڑا کیا کہ مجھے خود ایک دن  ٹیکسی ڈرائیور بننا پڑا۔ تو تب مجھے احساس ہوا کہ میں شاید ٹھیک ہی کہتا تھا۔

 اس پیشے کو بددلی سے اپنانےسے  پہلے جب کہ میں کسی ایشیئن ٹی وی پر پاکستانی صورت حال پر لال بجھکڑ یا تھرڈ کلاس سیاسی پنڈت بن کر چلا جاتا تھا اور سیاسی حالات کو اپنی خواھشات کے مطابق ڈھالنے کی ناکام کوشش کرتا تھا۔ مگر جب ٹیکسی ڈرائیونگ شروع کی تو وہاں بھی یہ کہہ کر جانا بند کردیا ہے اب میں ایک ٹیکسی ڈرائیور ہوں۔ لہذا اب میں کسی قسم کا سیاسی تبصرہ نہیں کرسکتا۔ اس لیے مجھے معاف ہی رکھیے گا۔

تو کیا ٹیکسی ایک برا پیشہ ہے؟ اگر ہے تو میں کیا کررہا ہوں اس پیشے میں؟کون سی مجبوری مجھے پھر اس پیشے سے باندھے ہوئے ہے اور کیا میں کبھی اس پیشے سے جان چھڑا سکوں گا؟  مجبوری کی تاویل فی الحال یہی ہے جو ایک مداری سےلے کر طوائف کی ہوتی ہے کہ وہ اس پاپی  پیٹ کی خاطر یہ دھندہ کرتا ہے۔ مگر پھر ہم اس کے  عادی کیوں  ہو جاتےہیں؟ اس کی تاویل بھی یہی ہے کہ جس طرح برطانیہ میں منگیتروں کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کو پہلے تین سال اور اب پانچ سال تک، کہ جب تک ان کا غیرمعینہ مدت کے لیے  برطانیہ کا ویزہ نہ لگ جائے ان کو ہر قسم کی ذلت ورسوائی برداشت کرنا پڑتی ہے  اور پھر جیسے ہی اس کا ویزہ لگ جاتا ہے تو اس عرصے میں وہ اپنی عزت افزائی کا عادی بھی ہوجاتا ہے۔ اور اسی طرح ہنسی خوشی رہنا شروع کردیتا ہے۔

میرا خیال ہے  کہ میں بھی اپنی ٹیکسی کہانی کسی سرے سے شروع کروں تو شاید آپ کو زیادہ سمجھ آنے لگے گی۔ اور پھر اس سے زیادہ تر لوگوں کے  چمٹے رہنےکے اسباب بھی۔

ایک برطانوی تحقیق کے مطابق برطانیہ میں ہر چوتھا پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور اور ہر آٹھواں ڈاکٹر پاکستانی ہے۔ ہے ناں حیرت کی بات؟ مگر ٹیکسی ڈرائیور ہی کیوں؟ برطانیہ ہی نہیں یورپ میں امریکہ میں بھی ٹیکسی ڈرائیور پاکستانی ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی کچھ وجوہات تو سمجھ آتی ہیں کہ یہ ٹیکسی ڈرائیور زیادہ ترپاکستان کے دور دراز علاقوں مثلاً کشمیر، پنجاب وغیرہ کے دور افتادہ دیہات سے تعلق رکھتے ہیں۔

اور زیادہ تر ان پڑھ ہوتےہیں، جو غیرقانونی تارکین وطن کی صورت میں یا منگیتر کی صورت میں یہاں وارد ہوتے ہیں تو پھر یا تو کسی ریسٹورینٹ، کسی ٹیک اوے پر شروع شروع میں کام کرتے ہیں جہاں ان کو بارہ سے چودہ گھنٹے کی مزدوری بسیں  پچیس پائونڈ ملتی ہے، اور ایک گندی سی رہائش۔ پھر ان کی کوئی راھنمائی کرتا ہے کہ ٹیکسی کرلو کیونکہ اس میں خود ہی تم اس کے باس ہوتے ہوں جب چاہو، شروع کرو اور جب چاہو کام ختم کرکے گھر واپس آجائو۔ یہ سن کر کس کے منہ میں پانی نہیں آئےگا۔ لہذا اب وہ منگیتر یا غیر قانونی تارک وطن کسی طرح اپنےکاغذ درست کرنے کے بعد اس پیشے کی طرف راغب ہوجائے گا۔ منگیتر کےسسرال والوں میں  اگر پہلے سے ٹیکسی ڈرائیور ہیں تو وہ اپنے داماد کو اسی پیشے پر لگا دیں گے۔

کیوں؟ کیونکہ اس کے بڑے فائدے ہیں، ایک تو یہ کہ آپ اپنی آمدن چھپا کر برطانوی benefits یا سادہ الفاظ میں حکومتی زکواۃ لے سکتے ہیں اور پیسے کی کافی بچت کرسکتے ہیں۔ حکومتی زکوۃ زیادہ لینی ہوتو کئی جوڑے جھوٹی موٹی لڑائی ظاہر کرکے، جعلی علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں۔ جس میں دونوں کے benefits  میں اضافہ ہو جاتا ہےکہ دونوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہوتا ہے۔ پھر ٹیکس کی بچت اور فیملی ٹیکس کریڈٹ وغیرہ مل ملا کر کافی پیسہ بغیر محنت کےمل جاتا ہے۔

اسی لیے تو کہا جاتاہے کہ پاکستانی لوگ ان پڑھ بھی ہوں گے مگر ان کو اپنے سارے benefits  کا علم ہوتا ہے۔ کہ کہاں سے اور کیسے لینے ہیں، اور اگر گھر میں اولاد معذو ر پیدا ہوجائے جیسے کہ ہماری کشمیری برادری میں فرسٹ کزن میرج کا زیادہ رواج ہے تو benefits میں اور زیادہ اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ اب آپ تصور کرلیں کہ جب آپ حکومتِ برطانیہ کو یہ بآور کروانے میں کامیاب ہوجائیں کہ آپ کی آمدنی کم ہے تو وہ ہمدردی کے طور پر آپ کےبچوں کی تعداد کو سامنے رکھتے ہوئے، نہ صرف ان کو رہائش فری دے گی بلکہ  دیگر سہولیات کے علاوہ بس تک کا کرایہ بھی دے گی۔

تو پھر کون پاگل ہوگا جو ھڈ حرام ہونا پسند نہ کرے گا۔ اس ضمن میں یہ بھی یاد رہے کہ یہ ٹیکس فراڈ صرف ہم لوگ ہی نہیں بلکہ گورے، کالے جس جس کا دائو لگتا ہے وہ  بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے گریز نہیں کرتا۔ یہ الگ بات ہے کہ اگر پکڑا جائے تو پھر اگلا پچھلا بھی واپس کرنا پڑتا ہے جیل کے علاوہ۔ مگر یہ کہ جرم ہمشہ اسی خواھش پر یا یقین پر کیا جاتا ہے کہ میں نے کونسا پکڑا جانا ہے، مگر جس طرح قانوں روز بروز سخت ہوتے جا رہے ہیں، اس صورت میں بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی۔

ٹیکسی سے متعلق بے شمار واقعات ہوتے رہتےہیں جو ڈرائیور آپس میں شیئر کرتے ہیں اور کچھ سنگین قسم کے واقعات اخبار کی زینت بھی بن جاتے ہیں۔

برطانیہ میں ٹیکسی ڈرائیور تین قسم کے ہیں، پرائیویٹ ھائر، منی بس  اور بلیک کیب ڈرائیور

پرائیویٹ ھائر اور منی بس و ہ ٹیکسی کی قسم ہے جسے بلیک کیب ٹیکسی ڈرائیور، بطور ٹیکسی ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ اسے بھاڑے پر لی گئی کار تصور کرتے ہیں کیونکہ پرائیویٹ ھائر یا منی بس صرف وہی سواری اٹھا سکتی ہے جو کسی بسیں  کے اپریٹر کے ذریعے بُک کی گئی ہو، یہ بسیں  دراصل مختلف رجسٹرڈ کمپنیاں ہوتی ہیں جو پرائیویٹ ھائر کو کام یا جابز دیتی ہیں۔ لہذا پرائیویٹ ھائر کے ڈرائیورز کو ان کمپنیوں کے ساتھ کچھ معاوضے کے عوض منسلک ہونا پڑتا ہے اور یہ انہی اپریٹیرز کے ذریعے کام حاصل کرتی ہیں، مِنی بس اور پرائیوٹ ھائر میں فرق صرف سیٹوں کا ہوتا ہے، پرائیویٹ ھائر میں زیادہ سے زیادہ چار مسافر جبکہ مِنی بس میں زیادہ سے زیادہ آٹھ مسافر سفر کر سکتے ہیں، منی بس کا فی میل کرایہ، پرائیویٹ ھائر سے کچھ زیادہ ہوتا ہے۔

جبکہ بلیک کیب کہیں سے بھی سواری اٹھا سکتے ہیں، اور ان کو بس لین میں بھی گاڑی چلانے کی اجاز ت ہوتی ہے جو کہ پرائیویٹ ھائرکو نہیں ہوتی اسی لیے ٹیکسی ڈرائیور ہوتے ہوئے بھی اس فرق سے بعض بلیک کیب ڈرائیور بے حد مغرور ہوجاتےہیں اور وہ پرائیویٹ ھائر ڈرائیور کو ایک فوج کے سپاھی کے برابر ، مِنی بس والے کو لانس نائیک جبکہ اپنے آپ کو حوالدار سمجھتےہیں۔ بلیک کیب والے ڈرائیور کی آکڑ ہی مان نہیں ہوتی جبکہ پرائیوٹ ھائر ڈرائیور، بلیک کیب والوں کو کسی خاطر میں نہیں لاتے اور خود کو اپنا باس قرار دے کر خود پر ہی رعب ڈال کر اپنے من کو تسلی دے لیتے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام لوگ اپنے تئیں جو مرضی سمجھتے پھریں مگر افسوس کہ مسافروں کے لیے یہ برابر کا درجہ ہی رکھتے ہیں۔

ان کے لیے سب ٹیکسیاں ہی ہیں۔ اور عزت بھی سب کی برابر ہی ہوتی ہے بشرطیکہ، مسافر سے کرائے پر جھگڑا  نہ ہوجائے۔ ورنہ جیسے ہی کرائے پر جھگڑا شروع ہوجائے تو برطانیہ کے لوگ جتنی ہماری عزت کرتےہیں وہ سچ سارا باہر آجاتا ہے۔ اور جس طرح ہم جاہلوں کے آگے کوئی عربی بدو صلواتیں بھی سنا رہا ہوں تو ہم احتراماً اس کے آگے ہاتھ باندھ کر، سر جھکا کر اسے تعظیم سے ہلانا شروع کر دیتے ہیں اسی طرح جب تک گورا ہمیں ’’پاکی‘‘  ’’پاکی‘‘ کہے ہم برا نہیں مناتے کہ وہ ہمیں پاک صاف ہونے کی سند عطا کررہا ہے۔

مگر جیسے ہی وہ کوئی  نامناسب لفظ آگے لگاتا ہے جس کی ہمیں سمجھ ہوتی ہے تو یا تو ہم جیسوں کو پارہ چڑھ جاتا ہے اوراگر ایک آدھ گورا  ہوتو  اسے پھینٹا بھی لگا دیا جاتا ہے یا اسے اس کی منزل سے کہیں دور لے جا کر لات مار کر پرانے ٹیپ ریکارڈ کی کیسٹ کی طرح eject کر  دیا جاتا ہے اور اگر گورے تعداد میں زیادہ ہوں تو ایمان کے کمزور درجے پر عمل کرتے ہوئے یا قسمت کا لکھا سمجھ کر  درگزر کردیا جاتا ہے۔ کیونکہ اقبال سے ہی ہم نے اپنے تئیں یہ درویشی سیکھی ہے کہ

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

کمزور مخالف ہوتو فولاد ہے مومن

Source:

http://humsub.com.pk/11726/moqqadus-kazmi/

(2)

 اگر آپ برطانیہ کے ٹیکسی ڈرائیوروں کا بغور جائزہ لیں تو ان میں ایک چیز مشترکہ نظر آئے گی کہ انکےکانوں میں بلیو ٹوتھ یا ہینڈز فری لازمی ٹھنسا ہو گا۔ کیونکہ یہ ہر وقت اپنے کسی ایک، دو یا دو سے زائد ساتھیوں سے محو گفتگو ہوتے ہیں۔ اور مسلسل اپنے محل وقوع، اردگرد کے حالات پر رننگ کمنٹری کر رہے ہوتے ہیں کہ آج ٹاون کتنا  مصروف ہے؟ سواریاں کتنی ملنے کا امکان ہے، کونسا پلاٹ چل رہا ہے؟ کہاں سے اچھی اور لمبی سواریاں مل سکتی ہیں۔

جس طرح حجام کی دوکان میں، کسی دیوار پر لکھی ہوئی اس تنبیہہ کے باوجود کہ ”سیاسی گفتگو کرنا منع ہے” وہاں نہ صرف سیاسی گفتگو شدّومد سے ہو رہی ہوتی ہے بلکہ حجام خود بھی اینکر کے فرائض، قینچی چلاتے چلاتے بار بار روک کر سرانجام دے رہا ہوتا ہے، اسی طرح ٹیکسی ڈرائیور بھی آپس میں برطانیہ کے رہن سہن، طرز معاشرت، روزمرّہ کے مسائل پر بات کرنے کی بجائے،پاکستانی سیاسی حالات پر بات کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ کیونکہ اس میں وہ کسی بھی سیاسی لیڈر کو اپنی پسند ناپسند کے مطابق فرشتہ یا شیطان قرار دے کر دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ اور بار بار یہی بآور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کاش ان سے مشورہ لے لیا جائے تو پاکستان کی حالت یہ نہ ہو جو آج ہو چکی ہے۔

چاہے دوسری طرف اپنے بچے کنڑول میں نہ ہوں۔ دلچسپ بات ہے کہ  benefits یا ٹیکس کے متعلق فون پر کوئی بات نہیں کرتے کہ مبادا کوئی  MI5(برطانوی جاسوسی ادارہ) کا بندہ ان کی ٹیکس بچانے والی ترکیبیں خفیہ طور پر نہ سن لے۔ لہذا ایسی باتیں وہ سی سی ٹی وی کیمرہ کے سامنے بھی کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

اگر آپ پرائیویٹ ہائیر کے ڈرائیور ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ جس کمپنی کے ساتھ منسلک ہیں وہ آپ کو یونیفارم بھی پہنوا دے جو شائد کبھی ہم نے اسکول کے بعد ہی پہنا ہوگا۔ اسی یونیفارم کی پابندی سے تنگ آکر مجھے ایک ٹیکسی آپریٹنگ کمپنی کے منیجر سے کہنا پڑا کہ ”قبلہ جانے دیں چلانیاں ٹیکسیاں تے لانیاں ٹائیاں”(چلانی ٹیکسی ہے اور اوپر سے ٹائی لگانی ہے) ۔ ہم نے کونسا کسی دفتر میں بیٹھ کر کمپیوٹر چلانا ہے یا ڈی پی او بن کر ضلع میں امن و امان پیدا کرنا ہے۔ مگر کیا کریں ان کمپنیوں کااصرار ہوتا ہے کہ اس سے سواری اچھا اثر لیتی ہے۔

اس کے برعکس بلیک کیب میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ ہر لحاظ سے آزاد ہوتا ہےاور صحیح معنوں میں اپنا باس خود ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلیک کیب کے ڈرائیور،آپ کو نہ صرف شلوار قمیض میں ملیں گے بلکہ چہرے کی ریش مبارک، شلوار کی لمبائی، پین کی جگہ مسواک، ٹوپی کے انواع و اقسام کے رنگ اور ڈیزائین سے آپ بخوبی اندازہ لگا لیں گے کہ یہ حاجی صاحب الحمداللہ مسلمان تو ہیں ہی مگر کس فرقے، جماعت یا پیرِ طریقت سے ان کا بلاواسطہ یا بالواسطہ روحانی تعلق ہے۔ مگر وضع قطع چاہے جو کوئی بھی ہو، کرایہ یہ پورا ہی لیتے ہیں۔

اس معاملہ میں کسی قسم کی رعایت کو صریحاً حرام سمجھتے ہیں تا آنکہ کوئی ناہنجار ٹیکسی سے اتر کر بھاگ جانے کا گناہ کبیرہ نہ کرلے۔اب  اس بھاگتے ہوئے گناہ گار کو وہ نیکی کی تبلیغ تو کرنے سے رہے لہذا یہ شارٹ کٹ میں،پاکستانی سب و شتم کا طریقہ اپناتے ہوئے اسے کوسنے یا بدعاؤں کی بجائے انگریزی، اور مادری زبان کو مکس کر کے وہ صلواتیں سنواتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔ کیونکہ کوئی سواری کرایہ نہ دے اور بھاگ جائے؟ یہ ایک ایسا فعل شنیع  سمجھا جاتا ہے جسے ٹیکسی ڈرائیور کبھی معاف نہیں کرتا اور اس وقت تک اپنے ساتھی ٹیکسی ڈرائیوروں کو اس سانحہ کے بارے بتاتا رہتا ہے جب تک کوئی اور گناہ گار سواری یہ فعل قبیح دوبارہ سرزد نہ کرلے۔

یہ کرایہ نہ دے کر بھاگنے والے جسے ہم مختصر زبان میں ”رنر” کہتے ہیں، پرائیویٹ ہائر میں زیادہ پائے جاتے ہیں جبکہ بلیک کیب میں جب تک کرایہ نہ دیں ٹیکسی لاک رہتی ہے لہذا اگر کوئی کرایہ نہ دے تو بلیک کیب والا اسے قریبی تھانے بھی لے جاتا ہے۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ کہ بلیک کیب میں سے بھی اتنے حفاظتی انتظامات کے باوجود، سواریاں بھاگ جانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ ایسی پھُرتیلی مفت خور سواریوں کو یقیناً داد دینا پڑے گی۔

مگر وہ ٹیکسی ڈرائیور جو برسوں سے ٹیکسی ڈرائیور ہیں اور جدی پشتی یہی کام کررہے ہیں اور وہ بلا معاوضہ، پرانے خلیفہ پہلوان کی طرح میرے جیسے نو آموز ٹیکسی ڈرائیوروں کی سر پرستی بھی فرماتے ہیں، ان کو پتہ ہوتا ہے کہ کون کون سے محلوں کے لوگ زیادہ تر بھاگنے والے ہوتے ہیں۔ لہذا ان کے بقول، مسافر سے اسکی منزل پوچھ کر اور جائزہ لے کر کہ بندہ کتنی دور جا رہا ہے اندازہ کر لیا کرو کہ اگر بھاگ جائے گا تو کتنے پیسوں کا نقصان پہنچائے گا۔ پھر یہ کہ وہ شکل سے کتنا معزز لگ رہا ہے؟ یا چہرے ہی سے چھٹا ہوا بدمعاش، یا کنگلا دکھتا ہے۔

اسکی مارفولوجی یا ہیئت دیکھ کر فوری اندازہ لگا لیں کہ یہ کرایہ دے گا یا معاشی نقصان کرے گا۔۔ یہ اسی طرح ہے کہ جب میں پاکستان میں شعبہ تدریس میں ‘ملوث’ تھا تو ایک پرائمری اسکول میں اپنے ایک پڑھے لکھے دوست استاد کو ملنے گیا۔ اس وقت دیہاتی اسکولوں میں قلم دوات کا رواج تھا۔ اچانک میرے دوست استاد کے پاس غالباً پہلی جماعت کا ایک طالب علم دوڑتا ہوا آیا اور اس طرح شکایت لگائی ”ماسٹر جی ماسٹر جی، جیدا میری دوات وچوں ڈوبے لین نوں پھر دا جے”( کہ ماسٹر صاحب جیدا (اسکا کلاس فیلو) اسکی دوات میں سے اپنی قلم ڈبو کر لکھنے کی سازش کر رہا ہے)۔

بالکل اسی طرح میرے ٹیکسی کے اساتذہ نے بھی رنر سے بچنے کے لیے کچھ خصوصیات بتائیں کہ کیسے چہرہ شناسی کرنی ہے اور جیسے ہی بندہ مشکوک لگے تو کرایہ پہلے وصول کر لینا ہے۔ نیز یہ کہ  اگر وہ کہے کہ آگے جا کر یا گھر جا کر پیسے دے دوں گا تو اس کو وہیں اتار دینا ہے۔ اگر نہ اترے تو زبردستی اتارنا ہے، اگر زیادہ سواریاں ہوں تو رونق والی جگہ ہی رہنا ہے تا کہ آپ کی حفاظت بھی ہو سکے۔

میں نے بھی یہ ہدایات بغور سنیں اور پھر اس پر عمل کرنے کی کوشش شروع کردی۔ مگر کیا کریں کسی سے مانگنے کی عادت تو تھی نہیں اسی وجہ سے مجھے کرایہ مانگتے ایسے ہی شرم آتی جیسے سواری سے قرض مانگ رہا ہوں۔ اسی شرم کے چکر میں، مجھے ہر ہفتے ایک آدھ رنر کا سامنا کرنا پڑتا۔ مگر دوستوں کے اصرار پر کہ “کاظمی صاحب کچھ ٹھیٹ ہو جائیں ورنہ یہ شعبہ آپ کے لیے ٹھیک نہیں کوئی اور کام کریں”۔ تو مرتا کیا نہ کرتا کہ میں نے تو لیکچر دینا ہی سیکھا تھا اور ماسٹری کا کام تو پاکستان میں کوئی ماننے کو تیار نہیں تو یہاں کون ہمیں استاد تسلیم کرے۔ جس طرح ہمارے ایک دوست ہیڈماسٹر صاحب تھے وہ کہا کرتے تھے کہ جب بھی میں چھٹیوں میں گھر جاتا ہوں تو گاؤں کا ایک بزرگ ہر دفعہ مجھ سے ضرور پوچھتا ہے کہ ملک صاحب کوئی نوکری ملی ہے کہ ابھی تک ماسٹر ہی ہیں۔

اب جبکہ ٹیکسی میں بیٹھی سواری کی میں نے خلیفہ ٹیکسی کی ہدایات کے تناظر میں  فیس ریڈنگ کرنا شروع کی کہ آیا یہ کرایہ دے گا یا بھاگ جائے گا تو ایفریقن برطانوی اور اپنے ایشیائی باشندوں کے علاوہ تمام گورے معزز ہی لگتے۔ ویسے بھی ہمارے اندر گوروں کی عزت کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے کیونکہ آخر کو یہ ہمارے حکمران بھی رہے ہیں۔ ویسے بھی ہم تو جس سر زمین کے باسی ہیں ہم نے ہمیشہ حملہ آوروں، غاصبوں کی زیادہ تر مہمانداری کے ساتھ ساتھ وفاداری ہی کی ہے۔

گوروں سےاس اندھی محبت کی پٹی اسی وقت اتری جب یہ عقدہ کھلا کہ بھاگنے والوں کا تناسب تمام رنگ و نسل میں تقریباً ایک جیسا ہے سوائے چینیوں کے جو کم کم ہی بھاگتے ہیں۔جبکہ پھر بھی، ایفریقن برطانوی باشندے یا دیسی اپنے رنگ و نسل اور حرکات کی وجہ سے جلد ہی مشکوک ہو جاتے ہیں۔۔ اب آپ اسے نسلی تعصب نہ سمجھیے گا مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمیں دیسی سے زیادہ گوروں کی قربت کی خواہش ہوتی ہے اور اگر گوری مل جائے تو سونے پر سہاگہ۔ لیکن حقیقت ہے کہ محفوظ ہم پھر بھی اپنوں میں ہی زیادہ ہوتے ہیں یا محسوس کرتے ہیں۔

اگرچہ اب ہمیں دو تین سال کا ٹیکسی کا تجربہ بھی ہو چلا ہے مگر آپ خود ہی بتائیے گا کہ ایک بندہ تھری پیس سوٹ میں ہو اور گورا بھی ہو، شکل سے بھی معزز لگے تو ظاہر ہے کہ اس سے تو کرایہ نہیں مانگا جاسکتا ناں۔ اور اگر وہ بھی اپنی منزل کے قریب رکے اور کہے کہ ذرا ٹھہریے گا میں کرایہ لے کر آتا ہوں اور پھر اسی تھری پیس سوٹ سمیت بھاگ کھڑا ہو تو کیا کیا جائے؟ جی ہاں! میرے ساتھ ایسا ہوچکا ہے۔

جس سے ثابت ہوا کہ لباس، چہرے کی تراش خراش سے انسان معزز اور بے ضرر نہیں ہوسکتا بلکہ اندر سے وہ کیا ہے، اسکی تربیت کیسی ہوئی ہے، اسکا وہ مجموعی عمل ہی اسکی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس کے بعد کیا کیا جائے کیا بھاگنے والے کو کوسا جائے؟ گالیاں دی جائیں؟ کیا اس سے کرایہ واپس مل جائے گا؟  ہاں بھاگنے والے کی کم از کم دل میں تو بھاری بھرکم مذمت کرنے کے علاوہ ساتھی ٹیکسی ڈرائیوروں کو تو بتا سکتے ہیں جو اس غم میں برابر شریک ہو کر نہ صرف اس بھاگنے والے کے شجرہ نسب کے پنجابی زبان میں وہ قلابے ملاتے ہی کہ اگر وہ ”رنر ” اپنی یہ تعریف سن لے تو آئندہ یہ گناہ کبیرہ کرنے کا سوچے بھی نہ۔

جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ چونکہ ہم اکثر ایک دوسرے کے ساتھ بذریعہ موبائل فون محو گفتگو بھی رہتے ہیں مگر کوشش کرتے ہیں جب سواری ساتھ ہو تو سلسلہ گفتگو منقطع کر دیا جائے کہ یہاں یہ ادب و آداب کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ مگر پھر بھی اگر گفتگو اپنے تئیں اہم ہو تو سواری سے اخلاقاََ اجازت لے کر پہلے تو یہ بتاتے ہیں کہ جا کہاں رہے ہیں اور پھر کسے لے کر جارہے ہیں۔ ظاہر ہے کسے لے جا رہے ہیں کے لئے ہم سواری کی شکل و شباہت اور انداز گفتگو سے اندازہ لگا کر ہم بھی ‘ہم سب’ کی طرح خط نسخ کی جگہ پنجابی خطِ منسوخ مگر یونیکوڈ میں،مختلف اصطلاحیں استعمال کر کے اگلے کو بتا دیتے ہیں کہ کون ہمارے ساتھ ہے۔

مثال کے طور پر افریقی برطانوی  بیٹھے ہوں تو کہتے ہیں کہ بٹ صاحب ساتھ بیٹھے ہیں، چینی بیٹھے ہوں تو کہتے ہیں کہ میٹھے بٹھائے ہوئے ہیں، کسی غریب یورپی ملک کا باشندہ ہو جسے انگریزی بھی عموماً اتنی ہی آتی ہے جتنی ہمارے ملک میں ایک نوجوان کو بی اے پاس کرنے کے بعد آتی ہے تو دوست کو بتایا جاتاہے کہ یورپی کمیّ بٹھائے ہوئے ہیں۔ کوئی عربی ہو تو اسے بدو تو کہنے سے رہے لہذا اس کو تیل کی مناسبت سے تیلی کا نام دیا جاتا ہے اور اگر کوئی اپنا دیسی ہوں تو کوئی بات نہیں کرتے صرف اتنا کہتے ہیں کہ راجہ صاحب ایک منٹ بعد بات کرتا ہوں۔ نشے میں دھت شرابی ٹیکسی میں بیٹھے ہوں تو کہتے ہیں کہ ملنگ یا ملنگنی (انکی صنف کے لحاظ سے) لے کر جارہا ہوں۔ ایسے ہی سیکس ورکر ہو تو طوائف وغیرہ وغیرہ۔ ان القابات کے جواب میں ساتھی ٹیکسی ڈرائیور ہر رنگ و نسل اور پیشے کے اعتبار سے اس پر پھبتی کستا ہے یا ہجو کرتا ہے۔

اسی طرح، بلیک کیب کو پرائیویٹ ٹیکسی والے لگڑ بگڑ بھی کہتے ہیں کیونکہ ان کی ٹیکسی کا پچھلا حصہ ایسے ہی پچکا ہوتا ہےجیسے لگڑ بھگڑ کی کمر ٹوٹی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ براہ مہربانی کوئی بلیک کیب کا ٹیکسی ڈرائیور یہ نہ سمجھے کہ ہم ان کو لگڑ بگڑ کہتے ہیں۔ توبہ توبہ جناب ایسی بات نہیں، بلکہ یہ خطاب صرف ٹیکسی کے لیے ہے نہ کہ ڈرائیور کے لئے۔

اب جو بات میں آگے کرنا چاہ رہا ہوں اسے آپ نسلی تعصب پر مبنی مت سمجھیے گا مگر یہ حقیقت ہے کہ اگر کوئی  افریقی برطانوی باشندہ یا کوئی اپنا دیسی ہم وطن نوجوان خاص طور پر ٹین ایجر آپ کے ساتھ بطور سواری بیٹھ جائے، پھر چاہے وہ مرد ہو یا عورت، وہ آپ کو لمبے راستے سے گھر لے جانے والا چور یا لٹیرا ٹیکسی ڈرائیور ضرور سمجھے گا۔ اور جیسے ہی آپ آدھا سفر طے کریں گے وہ آپ پر الزام لگا دے گا کہ Ay Taxi man, you are taking us too long way  (اوے ٹیکسی والے، تم لمبے راستے سے لے جا رہے ہو) اس بات کے باوجود کہ اس نے آپ کو خود ہی اپنی منزل کی راہنمائی کی ہو۔

اب بتائیں کہ جب آپ ایمانداری سے اسے مختصر راستے سے ہی اس کی منزل پر لے جا رہے ہوں تو یہ جملہ سن کر آپ کی کیا حالت ہوگی؟۔ یقیناً بندہ اپنے آپ کو چور ہی محسوس کرے گا ناں۔ شروع میں تو میں غصےمیں گاڑی روک لیتا اور کہتاکہ  تم بتاو کہاں سے جانا ہے؟ یا پھر اگر غصہ زیادہ آتا تو میڑ بند کر کے کہتا کہ اوکے میں واپس وہیں پر جا رہا ہوں جہاں سے تمہیں اٹھایا تھا اور پھر تم بتاو گے کہ کیسے جانا ہے۔ اس صور تحال میں یا تو وہ مزید سیخ پا ہو جاتا یا پھر میرے تیور دیکھ کر کہتا سوری یار غلطی ہو گئی تم چلتے رہو۔ اب بات نہیں کروں گا۔

مگر اس دفعہ میں پھر اسے کہتا کہ منزل کی ہدایات اب صرف تم ہی دو گے۔ اس کے بعد ان ناگوار لمحات سے نمٹنے کے لیے تو میں ایسا ہی کرتا کہ جب کوئی افریقی برطانوی یا دیسی دیکھتا ہوں تو اسے کہتا ہوں کہ منزل کی ہدایات بھی وہی دے گا۔ کیونکہ ذہن میں یہی ہوتا کہ ایک آدھ پاؤنڈ سے میں کون سا امیر ہوجاؤں گا۔ اسی لیے وقت گزرنے کے ساتھ یہ سیکھا ہے کہ ہر سواری سے سفر شروع کرنے سے پہلے پوچھ لیتا ہوں کہ اگر انکی نظر میں کوئی پسندیدہ یا ترجیحی رستہ ہے تو بتا دیجیے گا میں اسی راستے سے لے کر جاوں گا۔ مگر اتنی اختیاط کے باوجود اگر کوئی پھر بھی کہے کہ اے مین! تم لمبے راستے سے لے کر آئے ہو تو پھر آپ کا کیا کرنے کو جی چاہے گا؟

یہ سوال تو پھر بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا کرایہ زیادہ بھی لیا جاتا ہے؟ جی ! لیا جاتا ہے اور یہ حرکت اکثر ٹیکسی ڈرائیور انجان مسافروں یا نشے میں دھت مسافروں سے کر جاتے ہیں۔ ایسے ہی جیسے اکثر لاہور کے رکشہ ڈرائیور، باہر کے مسافروں سے ہاتھ کر جاتے ہیں۔ اسے ہم مقامی زبان میں Rip Off کہتے ہیں۔ مثلاً نشے میں دُھت مسافر سے، سفر شروع کرنے سے پہلے کرایہ مانگا جاتا ہےجو وہ دے دے تو جب وہ منزل پر پہنچ جاتا ہے تو ایک دفعہ پھر کرایہ مانگ لیا جاتا ہے جو عموماً گورا مسافر یہ سمجھ کر کہ اس نے ابھی کرایہ دینا ہے، ایک دفعہ پھر شکریے کے ساتھ شرافت و ایمانداری سے کرایہ دے کر ٹیکسی سے اتر کر چلا جاتا ہے۔

اسی ضمن میں میرا ایک دوست ٹیکسی ڈرائیور بتا رہا تھا کہ ایک دفعہ نشے میں دُھت گورا مسافر میری ٹیکسی میں بیٹھا اور کہنے لگا کہ فلاں جگہ جانا ہے کتنے پیسے لو گے؟ تو دوست ْٹیکسی ڈرائیور نے جواب دیا ”یہی کوئی بیس پاونڈ؟” اچھا ٹھیک ہے! اور پھر وہ ٹیکسی میں بیٹھ گیا اور جیب سے بیس پاونڈ کا نوٹ نکال کر میرے دوست کو کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔ ”یہ لو بیس پاونڈ”۔ میرے دوست نے شکریے کے ساتھ وہ پیسے جیب میں ڈال لیے۔

تھوڑی دیر بعد اس گورے نے پھر جیب سے بیس پاونڈ نکالے اور ٹیکسی ڈرائیور دوست کو دئیے کہ یہ لو بیس پاونڈ۔ میرے دوست نے بصد شکریہ پھر جیب میں رکھ لیے، اسی طرح منزل تک پہنچتے پہنچتے وہ گورا اسے تقریباً سو پاونڈ دے چکا تھا اور میرا دوست وہ مال غنیمت بقول انجم چوھدری جہادی فنڈ سمجھتے ہوئےجیب میں ڈالتا رہا۔ اور اپنی منزل پر پہنچ کر اس گورے نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے پوچھا کہ آیا اس نے کرایہ دے دیا ہے؟ پھرمیرے دوست کے جواب سے پہلے ہی پھر سے بیس پاؤنڈ ادا کر کے انتہائی شکریہ کے ساتھ لڑکھڑاتا ہوا سامنے گھر کو چل دیا۔

میرے ساتھ بھی نشے میں دھت ایک خاتون کا واقعہ پیش آیا۔ ہو ا یوں کہ ایک نشے میں دھت عورت کو میں نے کسی ہوٹل سے اٹھایا۔ جسے بڑے پیار سے اس کے چاہنے والے نے میری ٹیکسی میں بٹھایا اور مجھے کہا کہ اس خاتون کو احسن طریقے سے گھر چھوڑ دیجیے گا۔ میں اس حسینہ کی منزل کا پوسٹ کوڈ لے کر اس کی منزل کی طرف چل پڑا۔ کوئی دس میل کا سفر تھا اور دل میں خوش تھا کہ بیس پچیس پاونڈ کرایہ تو بن ہی جائے گا اور اگر بخشش (Tip)بھی مل گئی تو فبہا۔ غرض دل ہی دل میں خوش ہوتا ہوا اس مسافرہ کی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ کیونکہ جب ٹیکسی ڈرائیور کو بیس پاونڈ کی سواری مل جائے تو وہ اسے لمبی سواری سمجھتا ہے۔

 جیسے ہی میں نے اسے منزل پر پہنچایا اور حلیم لہجے میں اس سےکرایہ مانگا25  pounds please” ” (پچیس پاونڈ پلیز)تو وہ کہنے لگی، کہ پیسے تو میرے دوست نے دینے تھے کیا اس نے نہیں دیے؟ میں ایک دم سیٹ سے اچھلا۔ مگر پھر اپنا غصہ پیتے ہوئے بولا ”جی نہیں اس نے نہیں دیئے”، ”تو پھر میرے پاس بھی پیسے نہیں ہیں” وہ بے اعتنائی بولی۔ اب میرا سر پیٹنے کو جی کر رہا تھا۔

ایک تو وہ نشے میں دُھت، دوسرے عورت ذات، کہ اسے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا کہ ہاتھ لگا نہیں اور  ہراساں کرنے کا کیس بنا نہیں۔ ٹیکسی بیج تو کینسل ہوگا ہی ساتھ Ban بھی ہوں گا اور بونس میں جیل الگ۔ یا پھر اس وقت تک جیل کے پیچھے جب تک بے گناہ ثابت نہ ہوجاؤں۔ بس یہ سب سوچ کر تلخ لہجے میں کہا کہ جاؤ میری ٹیکسی چھوڑ دو اور اسے تنبیہی انداز میں کہا کہ خبردار جو آئندہ ایسی حرکت کی۔ وہ یہ سنتی رہی اور پھر شکریہ ادا کر کے ٹیکسی سے نکل کر چلی گئی۔ اور اس کا یہ شکریہ بھی مجھے کسی بھاری بھر کم پتھر کی طرح لگا۔

Source:

http://humsub.com.pk/12109/moqqadas-kazmi/

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*