پاکستان میں اسلامی نظام کے پولیٹیکل اسلامسٹ داعی – عدنان خان کاکڑ

jinnah-1

آج کل پاکستان میں اسلامی نظام کے داعی پولیٹیکل اسلامسٹ ہیں۔ ان کی ایک ’عملی‘ شاخ ٹی ٹی پی کی شکل میں ہتھیار اٹھا کر اپنی تفہیم کے مطابق شریعت نافذ کر رہی ہے اور جہاد کی دعویدار ہے۔ جبکہ ان کی دوسری شاخ ہتھیار اٹھانے کو فی الحال غلط سمجھتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اقبال اور قائد اعظم کے فرمان کے مطابق ملک میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے۔ لیکن جب اس شریعت کی تفہیم کی بات آتی ہے جس کو نافذ کرنے کے لیے اقبال اور جناح نے کہا تھا، تو یہ داعین، نفاذ شریعت کے لیے قائد اور اقبال کی تفہیم شریعت کی بجائے صوبہ سرحد کے ریفرینڈم تک تحریک پاکستان کی جی جان سے مخالفت کرنے والے سید مودودی کی تفہیم شریعت کی بات کرتے ہیں۔ جو پولیٹیکل اسلامسٹ، تحریک پاکستان کی مخالفت کے دعوے کا انکار کرتے ہیں، ان کو مشورہ ہے کہ جماعت کی اپنی شائع کردہ ’روئداد جماعت اسلامی‘ نیزسید مودودی کی اپنی تصنیف ’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش‘ کا مطالعہ فرما لیں ۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی اب آخرالذکر کتاب کا تحریف شدہ متن ’تحریک آزادی ہند اور مسلمان‘ کے نئے عنوان سے شائع کرتی ہے۔

حضرت کیا یہ وہی سید مودودی نہیں ہیں جنہوں نے خاص طور پر قائد کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ اتاترک کی مانند مرد فاجر ہیں، اور پاکستان کے بارے میں جنت الحمقا کے الفاظ تواتر سے استعمال کیے تھے۔ یعنی قائد اور ان کے ساتھی، سید مودودی اور ان کے رفقا کی نظر میں احمق تھے۔ دوسری طرف وہ یہ بھی لکھتے رہے ہیں کہ اگر یہ جنت الحمقا بن بھی گئی تو اس کے حکمران (سید مودودی کی تفہیم کے مطابق) دین کے حق میں اس سے کہیں زیادہ برے ثابت ہوں گے جتنے کہ غیر مسلم حکمران ہیں۔ اس پر یہ تماشا کیسا کہ اب وہ ’قائد کے فرمان کے مطابق شریعت کے نفاذ‘ کی بات کرتے ہیں؟ حضرت یہ سید مودودی کے مطابق شریعت کے نفاذ کی بات کرتے ہیں، اقبال و قائد کے فرمان کے مطابق جدید پارلیمان کے تحت اسلامی اصولوں کی روشنی میں جدید نظام مملکت کے قیام کی بات نہیں کرتے ہیں۔

ہمارے محدود علم کے مطابق اقبال اور قائد نے کبھی یہ نہیں کہا ہے کہ پاکستان میں شریعت کا نفاذ ہو گا۔ بلکہ انہوں نے ہمیشہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں ریاستی نظام کی بات کی ہے جس میں اقلیتیں محفوظ ہوں گی اور وہ ملائیت پر مبنی نظام نہیں ہو گا۔ بلکہ اقبال تو ملائیت پر مبنی نظام کے اس حد تک خلاف تھے کہ اپنے چھٹے خطبے میں انتہائی واضح الفاظ میں یہ کہہ چکے ہیں:۔

’جدید مسلم اسمبلی کی قانونی کارکردگی کے بارے میں ایک اور سوال بھی پوچھا جا سکتا ہے۔ کم از کم موجودہ صورت حال میں اسمبلی کے زیادہ تر ممبران مسلم فقہ (قانون) کی باریکیوں کے بارے میں مناسب علم نہیں رکھتے۔ ایسی اسمبلی قانون کی تعبیرات میں کوئی بہت بڑی غلطی کر سکتی ہے۔ قانون کی تشریح و تعبیر میں ہونے والی غلطیوں کے امکانات کو ہم کس طرح ختم یا کم سے کم کر سکتے ہیں؟

ایران کے 1906 کے آئین میں علما کی ایک الگ کمیٹی کے لیے گنجائش رکھی گئی تھی جنہیں امور دنیا کے بارے میں بھی مناسب علم ہو اور جنہیں آئین سازی کی قانونی سرگرمیوں کی نگرانی کا حق حاصل تھا۔ میری رائے میں یہ خطرناک انتظامات غالباً ایران کے نظریہ قانون کے حوالے سے ناگزیر تھے۔ اس نظریے کے مطابق بادشاہ مملکت کا محض رکھوالا ہے جس کا وارث درحقیت امام غائب ہے۔ علما امام غائب کے نمائندوں کی حیثیت سے اپنے آپ کو معاشرے کے تمام پہلوؤں کی نگرانی کے ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اگرچہ میں یہ جاننے میں ناکام ہوں کہ امامت کے سلسلے کی عدم موجودگی میں علما امام کی نیابت کے دعوے دار کیوں کر ہو سکتے ہیں۔

تاہم ایرانیوں کا نظریہ قانون کچھ بھی ہو، یہ انتظام بڑا خطرناک ہے۔ تاہم اگر سنی ممالک بھی یہ طریق اپنانے کی کوشش کریں تو یہ انتظام عارضی ہونا چاہیے۔ علما مجلس قانون ساز کے طاقتور حصے کی حیثیت سے قانون سے متعلقہ سوالات پر آزادانہ بحث میں مددگار اور رہنما ہو سکتے ہیں۔ غلطیوں سے پاک تعبیرات کے امکانات کی واحد صورت یہ ہے کہ مسلمان ممالک موجودہ تعلیم قانون کے نظام کو بہتر بنائیں، اور میں وسعت پیدا کریں اور اس کو جدید فلسفہ قانون کے گہرے مطالعے کے ساتھ وابستہ رکھا جائے‘۔ اقبال کا چھٹا خطبہ۔

غور کریں کہ وہ ہمارے اسمبلی کے ممبران کو، وکلا کو، شارح دین مانتے ہیں۔ اور ان کا علم دین بڑھانے کی خاطر نظام تعلیم بہتر بنانے اور فلسفہ قانون وغیرہ کی تعلیم عام کرنے کا کہتے ہیں۔

لیکن ہمارے نئے نئے پولیٹیکل اسلامسٹ ہوئے برادران یہ کہنے پر مصر ہیں کہ

نیرنگی سیاست دوراں تو ’دکھائیے‘
منزل انہیں ’ملے‘، جو شریک سفر نہ تھے

تحریک پاکستان کی ریفرینڈم تک مسلسل مخالفت کرنے والے اور مسلم لیگیوں کو الیکشن میں ووٹ ڈالنے سے منع کرنے والے، قیادت سمیت مسلم لیگیوں کو نام کے کاغذی مسلمان کہنے والے، قائد کو اتاترک کی مانند رجل فاجر قرار دینے والے، آج چاہتے ہیں کہ ملک میں ان کی مرضی کی ملائیت نافذ ہو، نہ کہ قائد اور اقبال کے فرمان کے مطابق اسلامی اصولوں کی روشنی میں ایسا نظام حکومت بنایا جائے جو کہ سب شہریوں کو برابر کے حقوق دیتا ہو۔

آپ کو ہماری بات پر یقین نہیں ہے تو جماعت اسلامی کے کسی صالح شخص سے ہی دریافت کر لیں کہ وہ اقبال اور جناح کی تشریح اسلام پر مبنی نظام مملکت کا حامی ہے یا پھر سید مودودی کی فہم اسلام کے مطابق قائم کردہ نظام لانا چاہتا ہے۔ جہاں تک اس ممکنہ اعتراض کی بات ہے کہ قائد اور اقبال اسلام کے مفسرین نہیں تھے، تو پھر ایسی بچگانہ بات کہنے والے کو اقبال کی شاعری کی بجائے نثر پڑھنے پر توجہ دینی چاہیے۔

کیا اسے منافقت کہا جائے یا ناسمجھی؟ پاکستان میں اسلامی نظام کے پولیٹیکل اسلامسٹ داعین سے سوال ہے کہ کیا وہ پاکستان کا بھی افغانستان، دولت اسلامیہ یا ایران جیسا حال کروا کر ہی خوش ہوں گے یا پھر پاکستان کو جدید فلاحی مملکت بننے دیں گے؟

Source:

http://humsub.com.pk/11938/adnan-khan-kakar-81/

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*