امام کعبہ ہمارے پاوں کب چومیں گے

pope-kissing-feet-Laaltain-890x395_c
کیا کبھی امام کعبہ بھی اپنے خطبہ حج میں ابن رشد کے ساتھ کیے گئے سلوک پر اسی طرح معافی مانگیں گے جس طرح پوپ اور چرچ نے ماضی میں گلیلیو اور دیگر سائنس دانوں کے خلاف روا رکھے جانے والے سلوک پر مانگی تھی؟
پوپ فرانسس کی جانب سے مہاجرین کی قدم بوسی مذہب کے اس حقیقی مقصد و منتہا کا عملی اظہار ہے جو ہر تعصب سے بالاتر ہو کر انسانوں کی خدمت اور ان سے محبت کے ذریعے خدا تک پہنچنے اور اس کی خوشنودی کا راستہ ہے۔ یہ مذہبی رواداری کی ایک عظیم مثال ہے، ویسی ہی جیسی محمد اور عیسی کے ہاں موجود ہیں اور جن کا مظاہرہ ہم روز دیکھتے ہیں۔ مگر ہمیں ان چند مثالوں سے بڑھ کر اب انسانی محبت، اخوت اور رواداری کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی ضروت ہے۔ لیکن میں سوچتا ہوں کہ عیسائیت کے روحانی پیشوا اور چرچ کا ادارہ جو قرون وسطیٰ میں خونریزی، علم دشمنی اور سماجی جمود کا مبلغ و حامی رہا ہے وہ اس درجہ عاجزی، انکساری اور انسان دوستی کی روش اپنانے پر کیسے مجبور ہوا؟ یہ بھی سوچنا ضوروی ہے کہ کیا کبھی دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ہاں بھی اس قدر فراخدلی اور کشادہ ظرفی دیکھنے کو مل سکے گی جس کا اظہار پوپ فرانسس کر رہے ہیں؟ کیا کبھی امام کعبہ بھی اپنے خطبہ حج میں ابن رشد کے ساتھ کیے گئے سلوک پر اسی طرح معافی مانگیں گے جس طرح پوپ اور چرچ نے ماضی میں گلیلیو اور دیگر سائنس دانوں کے خلاف روا رکھے جانے والے سلوک پر مانگی تھی؟ یہ سوال تب زیادہ وسعت اختیار کر لیتا ہے جب ہم مسلم دنیا میں عورتوں، مذہبی اقلیتوں، ہم جنس پرستوں اور بچوں کی حالت زار دیکھتے ہیں۔ ہم کسی پاکستانی مسجد میں ایک عورت یا کسی ہم جنس پرست کی امامت کا تصور بھی نہیں کر سکتے لیکن عیسائیت کا عمومی بیانیہ کم زور اور ماضی میں دھتکارے ہوئے طبقات سے نفرت کی بجائے انسانی مساوات اور باہمی اخوت کا روادار ہو چکا ہے۔
یہ درست ہے کہ دنیا کے سب عیسائی پوپ فرانسس کی طرح نہیں سوچتے اور یورپ میں حالیہ حملوں کے بعد مہاجرین کی آمد اور مسلمانوں کی موجودگی کے خلاف نفرت موجود ہے، بہت سی عیسائی گروہ اب بھی انتہائی دائیں بازو کے متشدد نظریات کے حامی ہیں،وہاں بھی اقلیتوں کے خلاف تعصب موجود ہے، گھریلو تشدد ہے، کم سن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ہیں لیکن کم سے کم وہاں یہ احساس اجتماعی معاشرتی ضمیر کا حصہ ہے کہ یہ سب غلط ہے اور نہیں ہونا چاہیئے۔
یہ دنیا ناانصافی پر مبنی ہے اور اسے جہنم بنانے والوں میں مغرب والوں کا پلڑا شاید ہم سے بھاری ہے، لیکن اس دنیا کو منصفانہ بنانے والوں کے ناموں میں بھی سب سے زیادہ نام مغرب والوں کے ہی ہیں۔
میں مانتا ہوں کہ عراق، افغانستان اور شام کے مظلوموں کا خون مغرب کے دامن پر بھی ہے اور ان کی آستینیں بھی خون آلود ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ مسلم معاشروں میں ان دیوبندی وہابی جہادیوں کی حمایت تو موجود ہے جو ان علاقوں میں قتل غارت گری کر رہے ہیں مگر اس قتل و غارت گری سے متاثر ہونے والے شیعہ، صوفی سنی، احمدی ، مسیحی، اور کردوں کے لیے کوئی دروازہ نہیں کھلا؟ شام کے مہاجروں کے لیے طاقت ور عرب ملکوں کے ہاں کوئی کیمپ نہیں، فاٹا سے بے گھر ہونے والوں کے لیے سندھ اور پنجاب میں کوئی جگہ نہیں تھی اور کسی نے بھی بوکو حرام کے ہاتھوں اغوا ہونے والی بچیوں کو چھڑانے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی؟ یہ دنیا ناانصافی پر مبنی ہے اور اسے جہنم بنانے والوں میں مغرب والوں کا پلڑا شاید ہم سے بھاری ہے، لیکن اس دنیا کو منصفانہ بنانے والوں کے ناموں میں بھی سب سے زیادہ نام مغرب والوں کے ہی ہیں۔
پوپ فرانسس نے چند لوگوں کے پیر ہی نہیں دھلائے، چند مہاجروں کے قدم ہی نہیں چومے بلکہ عیسیٰ علیہ سلام اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس سنت کو زندہ کیا ہے کہ لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنے والا اور بے گھروں کا سائبان بننے والا ہی خدا کا مقرب اور محبوب ہے۔ لیکن کیا رحمت عالم کے وارث بھی ہتھیار والون کو چندے دینے اور قاتلوں کے جنازے پڑھنے کی بجائے بندوقوں سے سہمے ہووں کو گلے لگائیں گے؟ کیاہم اسلام کے غلبے اور تمام دنیا کے مسلمان ہونے سے پہلے اس دنیا کو پر امن اور پر سکون بنانے کو تیار نہیں؟ کیا امام کعبہ بھی آبلہ پاوں کے چھالوں پر مرہم لگائیں گے؟ کیا مسجدوں میں بھی ہم جنس پرستوں کے لیے کوئی جگہ ہو گی جہاں وہ اعلانیہ کسی کی نفرت اور تشدد کے خوف کے بغیر خدا کے حضور پیش ہو سکیں گے؟ کیا عورتیں بھی خدا کی کتاب پر برابری کا دعویٰ کر سکیں گی؟ کیا امام کعبہ پاکستان سے جان بچا کر بھاگنے والے ہندووں، احمدیوں اور عیسائیوں کے پاوں دھلائیں گے اور کیا وہ سعودی بمباری سے یمن میں محصور ہونے والوں کے پاوں چومیں گے؟
میں چاہتا ہوں کہ میں بھی فخر سے بتا سکوں کہ میرے مذہب کے سب سے بڑے پیشوا بھی تمام انسانوں سے اسی طرح محبت کرتے ہیں جیسے محمد اور عیسی کرتے تھے یا جیسے پوپ فرانسس کر رہے ہیں۔ لیکن شاید ایسا ہونا اتنا آسان نہیں، یہ مزہبی اصلاحات کی کئی صدیوں کا نتیجہ ہے کہ آج پوپ کسی عورت کو جادوگرنی قرار دینے پر زندہ جلانے یا کسی سائنسدان کو بائبل کی کائناتی تعبیر سے اختلاف پر تعزیری سزا کے حق میں کھڑے ہونے کی بجائے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمیں یہ سفر طے کرنے میں بھی بہت وقت لگے گا۔ ہمیں اس دنیا کو رہنے کے لیے جنت بنانا ہے تو پھر اسے اخروی جنت کے حصول کے لیے جہنم بنانے والوں میں شامل ہونے کی بجائے اسے قابل قبول بنانے والوں کی صفوں میں کحرے ہونا ہو گا۔
Source:

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*