حقیقت داعش ، داعش کا مدلل رد – سمیر خان

isis-army-700x430

بسمہ اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ اور جب اُنہیں کہا جاتا ہے کہ ملک میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں کہ ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں (سورہ بقرہ 11) نوٹ: یہ داعشی خوارج جہنم کے کتے ھیں مسلمانوں کے قاتل ۔۔ یہ تحریر ان کے گھناؤنے عزائم کو بے نقاب کرنے کے لئے ھی لکھی جا رھی ھے اس لئے برائے مہربانی اسے مکمل پڑھیں اور آگے بھی پہنچائیں حسب توفیق ۔ مسلمانوں آج یہ جہنم کے کتے داعش دولتہ الاسلامیہ عراق و شام کے نام سے عراق سے اٹھ کھڑے ھونے کے بعد ملک شام میں فساد پھیلا رھے ھیں اور بقول ان کے سارے شامی اسلام میں داخل ھی کب ھوئے ھیں اس لئے ھم ان کو دائرہ اسلام میں لانے کے لئے ادھر اپنی خلافت کا نفاذ کر رھے ھیں ۔۔ یہ اپنے مفتوحہ علاقوں میں مخالف مسلمانوں کا قتال کرنے کے بعد اور مجاھدین کو قتل کرنے کے بعد کہتے ھیں کہ ھم نے اس شہر کو مرتدین اور خنزیروں سے پاک کردیا ھے استغفراللہ کیا اسے خلافت کہتے ھیں؟
داعش کے ترجمان عدنانی کا بیان ھے کہ ” جو تمہاری صفوں سے نکلنے کی کوشش کرے اس کی کھوپڑی گولیوں سے بھون دو ۔۔ کیا یہ اسلام کی تعلیمات ھیں؟ یہود و نصارٰی کے آلہء کار آج افغانستان میں افغان مجاھدین طالبان کو بھی مرتد کافر کہھ کر قتل کر رھے ھیں یہ فتنہ صرف عراق اور شام تک ھی محدود نہی رھا داعش کے لیڈر مفتی التیونسی کے مطابق جو افغان طالبان ان کی بیعت نہی کرتے وہ مرتد کافر اور واجب القتل ھیں ۔
اے جہنم کے کتوں تم کس شریعت کی بات کرتے ھو جب ایک طرف تمہارا یہ دعوٰی ھے کہ ھم اصلی کفار اھل کتاب کے ساتھ مل کر مرتدین یعنی مجاھدین کے خلاف بھی لڑنے کو تیار ھیں اور پھر بعد میں ھم اصل کفار کے ساتھ اپنا معاملہ طے کرلیں گے ۔۔ لعنت ھو تم پر اور تمہاری اس نام نہاد شریعت پر ۔۔ تم اسلام کے دشمن مسلمانوں کے قاتل تم لوگوں کے ترجمان عدنانی نے مصر کے اسلام پسند صدر مرسی کی تکفیر تک کا دعوٰی کردیا جو مصر میں اخوان المسلمین کا نمائندہ اور اسلامی نظام نافذ کرنے کا داعی ھے ۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ھے کہ ” الخوارج کلاب النار ” یہ خوارج جہنم کے کتے ھیں صرف کتے ھی نہی بلکہ کلاب اھل النار یعنی جہنمیوں کے کتے ھیں ۔۔۔ یہ لوگ یہود و نصارٰی کہ آلہ کار اور ایجنٹ ھیں یہ امت کے بدترین لوگ ھیں یہ کافروں کے مہرے مسلمانوں کے قاتل اسلام کے دشمن اور اللہ اور اس کے رسول کے مجرم ھیں ، ھر دور میں ان کے نکلنے والے سینگ کو کاٹ ڈالو یہ علی المرتضٰی کے دور سے آج تک مسلمانوں کے خون سے ھاتھ رنگتے آئے ھیں جنت کے نام پر جہنم کے سوداگر یہ خوارج آج داعش کی شکل میں مسلمانوں کو کافروں سے بڑھ کر رلا رھے ھیں ،
مسلمان کو ازیت ناک موت دے کر جشن منانے والے یہ خوارج اللہ کی قسم جنت کے سوداگر نہی بلکہ جہنم کے کتے ھیں ، عراق سے اٹھنے والے خوارج کے سینگ کو خلافت سمجھنے والوں یہ وھی عراق ھے جس کے بارے میں میرے نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ شیطان کا سینگ ادھر ھی سے نکلے گا اور ادھر سے زلزلے اور فتنے اٹھی گے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ!۔ ان سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو مستقبل المشرق یقول الاان الفتنہ ھھنا من حیث یطلع قرن الشیطان (بخاری صفحہ١٠٥٠) یعنی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرق کی طرف منہ کر کے یہ کہتے ہوئے سنا کہ خبردار بیشک فتنہ یہاں سے نکلے گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کہ میں نے نبیﷺ کو عراق کی طرف اشارہ کرتے ھوئے دیکھا،آپﷺ فرما رھے تھے،فتنہ یہاں سے،فتنہ یہاں سےنمودار ھو گا،اور وھاں سے اشیطان کا سینگ نکلتا ھے۔(مسند احمد،حدیث نمبر،6020 ) (2) عمر رضی اللہ عنہ کے پوتے سالم رحمتہ اللہ علیہ فرماتتے ھیں! اے اھلِ عراق تم چھوٹی چھوٹی باتوں کے بارے میں کتنا سوال کرتے ھو اور کتنے بڑے بڑے گناھوں کا ارتکاب کرتے ھو،میں نے اپنے والد عبد اللہ بن عمر رضی اللہ کو یہ کہتے ھوے سنا،وہ فرما رھے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:فتنے یہاں سے اٹھیں گے اور اپنے ھاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا،وھی سے شیطان کا سینگ نمو دار ھو تا ھے۔(مسلم ،کتاب الفتن) تاریخ اٹھا کر دیکھ لومسلمانوں کہ فتنوں کی سرزمین کونسی رھی ھے؟ (1) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والا ابو لولو فیروز مجوسی عراقی تھا (2) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد کا فتنہ عراق ھی سے اٹھ کر مصر تک پھیلا (3) جنگِ جمل اور جنگِ صفین اسی سرزمین عراق پر ھوئی (4) حضرت علی رضی اللہ عنہ یہیں شہید ھوئے (5) اسلام کا پہلا گمراہ کن فرقہ خوارج یہیں سے نکلا (6) جگر گوشہ رسولﷺ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا قافلہ یہی فرات کے کنارے لٹا۔(7) حجاج بن یوسف کی تمام تر بدمعاشیاں اسی سر زمین پر ھوئیں۔
(8) مختار بن ابو عبید ثقفی نبوت کا دعوی کرنے والا بھی عراق سے ھی تھا (9) گمراہ فرقہ معتزلہ بھی یہیں سے نکلا حوالہ جات ملاحظہ ھوں: کرمانی شرح بخاری،24/ 168،سیرت النبی جلد سوم صفحہ،389،وتا ریخ الاسلام،مؤ لف معین الدین ندوی) سو آج ان جہنم کے کتوں نے فتنوں کی سرزمین سے اٹھ کر خلافت کا دعوٰی کیا اور تم میں سے بہت سوں نے اسے قبول کرلیا اور اسے خلافت سمجھ لیا؟ یاد رکھو عراق سے کبھی خلافت کا قیام نہی بلکہ اللہ کے نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق فتنے ھی نکلیں گے شیطان کے سینگ نکلیں گے اور آخر میں دجال بھی ادھر سے ھی نمودار ھوگا ۔۔۔ داعش والوں آؤ میں آج تمہیں تمہاری تاریخ سناتا ھوں ۔۔ 1999 میں تم نے جماعت التوحید والجہاد بنائی 2004 میں تم نے القاعدہ سے الحاق کیا 2006 میں ابو عمر البغدادی کی قیادت میں تم نے اپنی شورٰی کونسل بنا کر عراق میں اپنی ریاست کا اعلان کیا اور پھر جب 2011 میں شام میں جہاد شروع ھوا تو تم نے ادھر اپنے غلیط قدم رکھے 2014 میں جب شامی مجاھدین کی فتوحات جاری تھیں تو تم نے خلافت کا ڈرامہ رچا کر ھزاروں مجاھدین اور مسلمانوں کو قتل کیا اور لاکھوں کو بے گھر کردیا ۔
اور تم وھی ھو نہ جس نے مسلمانوں کی مسجد میں مسلمانوں کے امام کو زبح کر کے اس ھی کے منبر پر کھڑے ھوکر خلافت کا اعلان کیا تھا انا الیہ و انا الیہ راجعون کیا اسے خلافت کہتے ھیں جس کی بنیاد ھی مسلمانوں کے خون اور تڑپتی لاشوں پر رکھی گئی ھو ۔۔ او خلافت کا ڈھونگ رچا کر پوری دنیا کا ٹھیکے دار بننے والوں خلافت کی بنیادی شرط ھے کہ امت کے خاص و عام کا خلیفہ پر اتفاق ھو ، امام حنبل نے فرمایا ھے کہ امام وھی ھوتا ھے جسے ھر ذی رائے یہی کہ رھا ھو کہ وہ امام ھے ( الاحکام السلطانیہ صفحہ 22 ) تمہاری درندگی و سفاکی کی بنیاد پر قائم کی گئی خلافت کو القاعدہ کے خوارج بھی تسلیم نہ کرسکے القاعدہ کے ابو بکر المقدسی ، ابو قتادہ فلسطینی جیسے مفتی بھی داعش کو خارجی کہنے پر مجبور ھوگئے ،
داعش کی خلافت کے دھوکے کا شکار ھونے والوں یہ کیسی خلافت ھے جس کے قائم ھوتے ھی عراق کے ھزاروں اھل سنت کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا جس کے قائم ھوتے ھی شام کے بخارہ الثوری اور احرار الشام کے رھنما حسن عبود اور عبدالرحمان صالقین جیسے مجاھدوں کو زبح کیا جانے لگا جس کے قائم ھوتے ھی حماس کے مجاھدین کو شہید اور ان کے معسکرات فوجی تنصیبات تباہ کئے جانے لگے ؟ اور یہ کیسی خلافت ھے جس کے قائم ھوتے ھی دمشق میں بے گھر سنی مسلمانوں کے یرموک کیمپ میں انہیں شہید کیا جانے لگا جس کے قائم ھوتے ھی داعش کے مفتی ابو مصعب التیونسی نے روس اور امریکہ کا بیڑہ غرق کرنے والے افغان مجاھدین کو مرتد قرار دیا جس کے قائم ھوتے ھی ھزاروں افغان مسلمانوں کو صوبہ ننگر ھار سے ھجرت کرنے پر مجبور کردیا گیا جس کے قائم ھوتے ھی داعش کے ترجمان عدنانی نے اعلان کیا کہ جو بھی عالم دین ھماری مخالفت کرے گا وہ مرتد ھوگا ۔۔ کیا یہ ھے وہ خلافت جیسے میرے نبی ﷺ نے رحمت قرار دیا تھا ؟
کیا اس خلافت کے لئے مسلمان برسوں سے ترس رھے تھے ؟ نہی بخدا جو آج اسے خلافت کہے اسے دجال کو رب ماننے پر بھی کوئی تامل و جھجک نہی ھوگی ، اے ظالموں تمہاری درندگی سفاکیت اور بربریت کی وجہ سے آج مسلمان اور غیر مسلمان دونوں اسلام کے نظریہ جہاد سے متنفر ھورھے ھیں تم نے کفار کو یہ موقع دیا کہ وہ اسلام کو ایک بھیانک مزھب کے طور پر پیش کر کے اس کی دعوت کو روکیں ۔۔۔ اور میرے نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ یہ خوارج قیامت تک نکلتے رھیں گے اور ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا ، سیدنا عثمان و علی کے دور سے یہ اب تک یونہی نکلتے آرھے ھیں اور آج ان خوارج کے کرتوت نے یہ بات بھی سمجھا دی کہ دن بہ دن کیسے ان میں دجالی صفات آرھی ھیں ۔
اے داعش والوں آؤ میں تمہیں سیدنا علی کے دور میں لئے چلتا ھوں جس طرح حضرت علی نے اپنے دور میں حضرت حارث المرہ العبدی کو خوارج سے مزاکرات کرنے کے لئے بھیجا تو اس دور کے خوارج نے ان کو شہید کردیا بالکل ویسے ھی مزاکرات کے لئے آنے والے احرار الشام کے سرکردہ لیڈر شامی مجاھد ابو ریان (ڈاکٹر حسین سلیمان) کو بھی داعش والوں تم نے دھوکے و بے دردی سے شہید کردیا ۔ وہ خارجی ابن الملجم تھا جس نے ایک عورت سے شادی کرنے کے انعام کے لالچ میں حضرت علی کو شہید کیا بالکل ویسے ھی آج تم بھی اپنے خوارج اکابرین کے نقش قدم پر چلتے ھوئے ان کو یہی لالچ دیتے ھیں اپنے ماننے والوں کو مفتوح عورتوں کی عصمت دری کرنے پر للچاتے ھیں اور اگر تم نے فلاں جہادی جماعت کے لیڈر کو قتل کردیا تو تمہیں اتنے پیسے انعام میں ملیں گے ۔۔۔ اور جیسے علی المرتضٰی کے دور کے خوارج نے زید بن حسن کے گھر پر جمع ھوکر بنا کسی مشورے کے عبداللہ بن مہب کو اپنا خلیفہ بنا کر مسلمانوں کے خلاف اکھٹے ھوئے بالکل ویسے ھی داعش نے بھی اپنے خوارجین کو جمع کر کے اپنی خود ساختہ خلافت کا اعلان کردیا اور مسلمانوں سے قتل عام شروع کردیا ۔
اے مسلمانوں جس طرح زید بن حسن جیسے خوارج علی المرتضٰی سے اپنے موقف کی مخالفت کرنے کی بنا پر قتال کرتے تھے بالکل ویسے ھی آج داعش کے خوارج اپنے موقف کے مخالف مجاھدین کو قتل کرتے ھیں جیسا کہ انہوں نے شام افغانستان اور فلسطین میں کیا ، ان ظالموں نے تو شامی مجاھدین کی تنظیم احرار الشام کو کافر تک کہا اور جب شامی مجاھدین نے قتال سے بچنے کے لئے ان سے صلح کا کہا تو انہوں نے شرط رکھ دی کہ پہلے اپنا مرتد و کافر ھونا قبول کرو اور توبہ کرو پھر مصالحت کی بات ھوگی ۔۔ اسلامی تاریخ گواہ ھے کہ جو بھی کلمہ گو ان خوارج سے لڑے یہ ان کو ھمیشہ سے کافر ھی قرار دیتے آئے ھیں اور جو ان کے گندے نظام کو چھوڑ جائے اسے یہ منافق کہھ کر قتل کرڈالتے ھیں ، حضرت علی کے دور کے خوارج نے کبیسہ بن مالک کے ساتھ ایسا ھی کیا ۔
اے مسلمانوں آج داعش کے ترجمان ابو محمد عدنانی کا بیان غور سے سنو اس نے کہا کہ جو داعش کو چھوڑے اسے قتل کردیا جائے گا ، اس کی مثالیں داعش کو چھوڑنے والے ابو انس کویب پر قاتلانہ حملے قاضی ابو حمام کی شہادت جیسے بے شمار واقعات ھیں ۔۔ یہ داعش کے خوارج اپنے کھڑے ھونے کی وجہ بتاتے ھیں کہ یہ کلمہ پڑھنے والے حکمران شریعت کے مطابق فیصلہ نہی کرتے ھیں کفار کی مدد کرتے ھیں ان کے مفادات کی خاطر جی رھے ھیں یہ قرآن کی وہ آیات پیش کرتے ھیں جو کفار کے بارے میں نازل ھوئی ھیں انہیں یہ کلمہ گو مسلمانوں پر چسپاں کرتے ھیں یہ ان کا سب سے بڑا دھوکہ اور خوارج کی نشانیون میں سے ایک نشانی ھے اکثر یہ آیت پیش کرتے ھیں اور اسے مسلمانوں کے مرتد ھونے پر دلیل بنا کر ان کے ناحق قتل کی راہ ھموار کرتے ھیں ! وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ [ المائدۃ : 44]
” اور جو اللہ نے نازل کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہی لوگ کافر ہیں ۔ “
امام المفسرین محمد بن جریر الطبری اس آیت کریمہ کے شان نزول کے بارے اختلاف ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
وقال آخرون: بل عنی بذلك كفر دون كفر، وظلم دون ظلم، وفسق دون فسق .
” دوسرے مفسرین نے کہا ہے بلکہ اس سے مراد ایک کفر کا ( اپنے درجہ میں ) دوسرے کفر سے کم ہونا ، ایک ظلم کا دوسرے ظلم سے کم ہونا اور ایک فسق کا دوسرے فسق سے کم ہونا مراد لیا گیا ہے ۔ “
پھر اس پر صحابہ کرام ، تابعین عظام وغیرھم کی روایات بیان کیں سب سے پہلے ہم ترجمان القرآن حبر الامۃ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی تفسیر درج کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں :
لیس بالکفر الذی تذهبون إليه
” یہ ہر گز وہ کفر نہیں ہے جس کی طرف تم جا رہے ہو ۔ “
دوسری روایت میں ہے :
إنه لیس بالکفر الذی یذهبون إليه إنه لیس کفر ینقل عن الملة (( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ )) کفر دون کفر .
” بلا شبہ یہ ہر گز وہ کفر نہیں ہے جس کی طرف وہ جاتے ہیں ، بلا شہ یہ ملت اسلامیہ سے خارج کرنے والا کفر نہیں ہے (( اور جس نے اللہ کی نازل کردہ دین کے مطابق فیصلہ نہ کیا تو وہی لوگ کافر ہیں )) یہ کفر دون کفر ہے یعنی یہ کفر دوسرے کفر سے درجے میں کم ہے ۔ “امام حاکم نے اسے صحیح الاسناد کہا اور امام ذھبی نے ان کی موافقت کی ہے ۔۔ میں پوچھتا ھوں اے داعش کے خارجیوں تم کونسی شریعت کے مطابق فیصلے کر رھے ھو ؟
جس کو جب دل کرتا ھے پکڑ کر ویڈیو بنانا شروع کردیتے ھو کہ یہ جاسوس تھا یہ کفار کی مدد کر رھا تھا یہ کفار کا ایجنٹ تھا پھر اسے قتل کرتے ھو اس کو آگ پر بھونتے ھو اسے پانی میں ڈبوتے ھو اس کو بموں سے اڑاتے ھو اس کو ٹینکوں کے نیچے دے کر کچلتے ھو ، تم کس شریعت کی بات کرتے ھو کیا یہی دین اسلام کی تعلیمات ھیں؟؟؟ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ” آگ کا عزاب اللہ کے سوا کسی کو دینے کا اختیار نہی تم اللہ کا اختیار بندوں کو دے کر کونسی شریعت کی بات کر رھے ھو ۔۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ” جو کوئی چڑیا کو بھی زبح کرتے ھوئے رحم کرے گا تو اللہ روز قیامت اس پر رحم کرے گا ” ۔
اے درندوں لوھے کے دلوں والوں تم چڑیا تو دور کی بات انسانوں مسلمانوں اور مجاھدوں تک کو ازیتں دے دے کر مارتے ھو پھر اس پرجشن مناتے ھو ۔۔۔ رسول پاک ﷺ نے ایک صحابی کو جانور زبح کرنے سے قبل اس کے سامنے چھری تیز کرتے دیکھا تو غضبناک ھوکر کہا کہ ” اللہ کے بندے تو اسے دو موتیں مار رھا ھے ” آپ ﷺ نے جانور کے سامنے بھی چھری تیز کرنے سے منع کیا ایک جانور کے سامنے دوسرا جانور زبح کرنے سے منع کیا اور تم انسانوں کے سامنے انسان زبح کرتے ھو چھریاں تیز کرتے ھو انہیں دو دو موتیں مارتے ھو ۔
اللہ کے نبی ﷺ نے لاشوں کو بگاڑنے ان کا مثلہ کرنے سے منع کیا اور تم نے ٹینکوں سے کچل کر زندوں کا مثلہ کیا پانی میں ڈبو کر کیمرے لگا کرمخالفین کو مارا ایسے جشن منا کر کیا ثابت کرنا چاھتے ھو اے درندوں؟ کیا نبی رحمت ﷺ کی یہی تعلیمات تھیں کیا تمہارے یہ سارے اعمال ان کی تعلیمات اور شریعت سے ھٹ کر نہی زرا غور کرو کہیں تم اپنے ھی دئے گئے فتووں کی روشنی میں خود کافر تو نہی بن چکے ھو؟ اے خارجیوں یاد کرو جب حضرت اسامہ بن زید جنگ کے میدان میں ایک کافر کو سینے پر چڑھ کر قتل کرنے لگے تو اس نے کلمہ پڑھ لیا لیکن اسامہ بن زید نے اسے قتل کردیا ، جب نبی پاک ﷺ کو اس واقعے کی خبر ملی تو آپ ﷺ اس بات کو بار بار دھرا رھے تھے کہ اسامہ تو نے اسے کلمہ پڑھنے کے باوجود بھی قتل کردیا ، اے اسامہ تو اس کے کلمے کا سامنا روز قیامت کیسے کرے گا ۔۔ نبی ﷺ کے ھونٹ کانپ رھے تھے اسامہ بن زید رض کے فعل کی ھولناکی امت کو سمجھا رھے تھے اور پھر بھی دل کو تسلی نہ ھوئی تو مالک کائنات کے سامنے گڑگڑاتے ھوئے کہنے لگے کہ ” اے اللہ میں اسامہ کے اس فعل سے برات کا اظہار کرتا ھوں ۔۔ اللہ و اکبر اے خارجیوں تم کلمہ پڑھ کر انسانوں کو زبح کرتے ھو نبی کی تعیلیمات کے الٹ چلتے ھو اور اسے نام دیتے ھو شریعت کا ۔۔۔ استغفراللہ من ذالک ۔
داعش کے دھشت گرد مسلمان بچوں بوڑھوں عورتوں کو قتل کر رھے ھیں ان کو زبح کر رھے ھیں وہ کلمہ پڑھ رھے ھیں اور یہ خوارج ان پر اپنی شریعت نافذ کر رھے ھیں خلافت قائم کرنے کے لئے ان پر چھریاں چلا رھے ھیں ۔۔ میرے نبی ﷺ نے تو عبداللہ ابن ابی جیسے رئیس المنافقین تک سے نرمی برتی لیکن تمہاری سفاکی سے عام مسلمان تو دور بلکہ مجاھدین تک محفوظ نہی جو تمہارے ھاتھوں زبح ھوتے وقت نبی پاک ﷺ کے نام کا کلمہ پڑھ رھے تھے ۔۔ زرا سوچو تو سہی تم روز قیامت ان مجاھدین ان بے گناہ مسلمانوں کے کلمے کا سامنا کیسے کروگے؟ کیا یہی وہ خلافت ھے جسے نبی پاک ﷺ نے رحمت قرار دیا تھا ؟ ۔
آپ ﷺ نے فرمایا ” یہ خوارج مشرکین کو چھوڑیں گے اور مسلمانوں کو قتل کریں گے ” داعش کی خلافت کے گن گانے والے نادانوں دیکھو اسرائیل کی سرحد پر بننے والی داعش کی خلافت نے شام کے مجاھدین کو زبح کیا عراق کے سنیوں کا قتل کیا سعودی عرب کی سرحدوں اور مساجد پر خود کش حملے کئے افغان مجاھدین پر حملے کئے فلسطین کے مظلوم بچوں اور عورتوں کے کیمپوں پر حملے کئے پاکستان کی فوج پر حملے کئے اور ھزاروں میل دور تک مسلمانوں کو قتل کر رھے ھیں ۔۔ داعش سے منسلک تنظیمیں بوکو حرام ھوں یا دیگر وہ لیبیا سے لے کر نائیجیریا تک کفار و مسلمانوں کو بلا تفریق بے دریغ قتل کر رھے ھیں لیکن اے جہنم کے کتوں تم نے سرحد پار اسرائیل کو معاف کیا ھوا ھے ۔
لاکھوں مسلمانوں کے قاتل امریکہ کو معاف کیا ھوا ھے دنیا کی مشرک ترین قوم ھندوؤں کو معاف کیا ھوا ھے ۔۔۔ مسلمان عورتوں مردوں کو قیدی بنانے اور قتل کرنے والے داعش کے خوارجیوں تم نے دو سال قبل عراق میں اپنے مفتوحہ علاقے میں پکڑی جانے والی انڈین ھندو نرسوں کو جزبہ خیر سگالی کے تحت چھوڑ دیا وہ انڈیا جس نے بابری مسجد کو شہید کیا کشمیر میں لاکھوں کشمیری مسلمان مردوں اور عزت ماب کنواری مسلمان لڑکیوں کی جان و مال اور عزت سے کھیلا اور پچھلے 68 سال سے قابض ھے کشمیر پر اس انڈیا کی ھندو نرسوں کو تم نے آزاد کیا اپنی قید سے لیکن تم مسلمان کلمہ گو عورتوں کو لونڈی بناتے ھو مال غنیمت کے نام پر ان کی عصمتیں عزتیں لوٹتے ھو انہیں سگریٹ کپڑوں اور خوراک کے بدلے ایک دوسرے سے تبادلہ کرکے بیچتے ھو ان کی منڈی لگاتے ھو پنجروں میں بند کر کے تزلیل کرتے ھو تمہارا سارا ظلم و ستم کلمہ گو مسلمانوں کے لئے ھے اور یہی تمہاری اصل نام نہاد خلافت اور شریعت ھے ۔
اے مسلمانوں ان داعشی خوارج کی ظاھری عبادات اور حلیہ دیکھ کر کبھی ان سے متاثر نہ ھوجانا یہ بھیڑ کی کھال میں چھپے درندے خون آشام بھیڑئے ھیں کیونکہ خاتم النبین ﷺ نے ان کی یہ نشانی بیان کی کہ ” یہ ایسے قرآن پڑھیں گے کہ ان کے سامنے تمہارے قرآن پڑھنے کی کوئی حیثیت نہ ھوگی ان کی نمازوں کے سامنے تمہاری نمازوں کی کوئی حیثیت نہ ھوگی نہ ان کے روزوں کے سامنے تمہارے روزوں کی کوئی حیثیت ھوگی ” (صحیح بخاری 5058) نبی ﷺ نے مزید فرمایا کہ ” خوارج صرف باتیں بہت اچھی کریں گہ مگر ان کا کردار بھیانک ھوگا ” ( صحیح بخاری 6930) ، آج ان داعشیوں نے خلافت کا خوش نما نعرہ تو لگایا لیکن ان کا کردار انتہائی بھاینک ھے ۔
مسلمان حکمرانوں کو کفار کا ساتھ دینے کا طعنہ دے کر کافر کہنے والوں زرا برطانوی خفیہ ایجنسی اور امریکہ کے بیانات سنو کہ انہوں نے کیسے داعش کو ڈالر دے کر انہیں سپورٹ کیا ۔۔ امریکہ کا صدر اوبامہ کہتا ھے اپنے ایک پرانے انٹرویو میں کہ ھم نے داعش کی ٹریننگ کو تیز کردیا ھے دوسری طرف برطانوی کہتے ھیں کہ داعش اور ھم اتحادی ھیں امریکی سیاست دان اور سینٹر پال رینڈ نے شام میں داعش کی امداد کرنے کا اعتراف کیا ھے ۔۔ بتاؤ تو سہی شامی مجاھدین سے لڑ کر تم نے بشار الاسد کا ساتھ دیا یا نہی ۔۔ مجاھدین کے وہ علاقے جو وہ شامی افواج سے چھین چکے تھے وھاں سے ان کے خلاف جنگ کر کے ان شامی مجاھدین کو قتل کرنا اور پسپا ھونے پر مجبور کردینا اور پھر بعد میں وھی علاقے شامی افواج اور کردوں کے خلاف ھار جانا دراصل کس کی امداد کرنا ھے؟ افغان طالبان کے گلے کاٹ کر ان سے قتال کر کے تم نے افغانستان میں عملی طور پر اتحادی افواج کا ساتھ دیا یا نہی ؟ زرا بتاؤ تو سہی کہ فلسطینی مجاھدین کو شہید کر کے تم نے اسرائیل سے کتنے پیسے بٹورے؟ فلسطین کے جھنڈے جلا کر تم نے ان کے تشخص کو پامال کیا اور اسرائیل کےموقف کو مضبوط کیا یا نہی ؟
ظالموں جہنم کے کتوں کفار کا ساتھ خود دیتے ھو اور الزام دوسرے مسلمانوں پر لگاتے ھو کیا اس منافقت کا نام اسلامی خلافت اور شریعت ھے ؟ آج یہی خوارج عراق شام اور افغانستان کے بعد پاکستان میں سر اٹھا رھے ھیں اور ان کی بیعت کر رھے ھیں ( تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی ) یہ وھی ظالم ھیں جو کہ جو داعش میں گھس رھے ھیں اور ایک بدبخت جہیمان عتیبی کے ماننے والے ھیں یہ وھی جہیمان عتیبی ھے جس نے اپنے 500 خوارج ساتھیوں کے ھمراہ 1979 میں خانہ کعبہ پر حملہ کر کے ادھر قبضہ کیا اور حرم شریف کے اندر خون ناحق بہایا آج اسی جہیمان عتیبی کی کتابیں ان خوارج کو نصاب کے طور پر پڑھائی جاتی ھیں ( دفاع ملت ابراھیمی از جہیمان بن محمد عتیبی ) اے مسلمانوں کیا تمہیں ابھی بھی ان کے خوارج ھونے میں کوئی شک ھے ؟ کل تک جو لوگ ملا عمر کو اپنا خلیفہ المومین ماننے کا دعوٰی کرتے تھے آج وھی لوگ داعش کے مجہول خلیفہ کے ھاتھ پر بیعت کر رھے ھیں افغان طالبان سے بغاوت کر کے ۔
اے جاھلوں میرے نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر ایک خلیفہ کے ھوتے ھوئے کوئی دوسرا خلافت کا دعوٰی کردے تو دوسرے کو قتل کردو ( صحیح مسلم کتاب الامارہ ) کل تک ملا عمر کو اپنا خلیفہ کہنے والوں آج تم نے افغان مجاھدین کے امیر و خلیفہ کے موجود ھوتے ھویئ کس مونھ سے بغدادی کی بیعت کی ؟ اللہ کے نبی ﷺ کی حدیث ھے کہ میری امت گمراھی پر جمع نہی ھو سکتی ان داعشی خوارج کے خروج نے نبی پاک ﷺ کے اس فرمان کو بالکل کھول کر واضح کردیا ھے آج امت مسلمہ کے 60 کے قریب ممالک میں سے کوئی بھی ملک داعش اور ابو بکر بغدادی کی خود ساختہ خلافت کو تسلیم نہی کرتا امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر اور مسالک کا اجماع داعش کے گمراہ ھونے پر ھے دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں سے سوائے کچھ لاکھ گمراہ خوارج کے باقی تمام مسلمان داعش کی گمراھی پر متفق ھیں علمائے کرام کے فتوے شام کے علمائے اھل سنت کا مشترکہ فتوٰی داعش کے خلاف ھے ۔
اے مسلمانوں یاد رکھو کہ داعش وہ جماعت ھے جو اپنے مخالفین کو مرتد کہھ کر قتل کرنے کو حق سمجھتی ھے اور ان کے خون کو مباح مانتی ھے یہ فساد در فساد کا ایک نا ختم ھونے والا سلسلہ ھے اگر صرف پاکستان کو ھی مثال لے لیا جائے تو فوج پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کو ملا کر بیس لاکھ سے زائد کلمہ گو مسلمان وہ ھیں جو ھتھیار بند داعش سے لڑنے کو تیار ھیں گویا داعش کے نزدیک سب سے افضل مرتد واجب القتل یہ بیس لاکھ سے زائد مسلمان افواج ھیں پھر ان بیس لاکھ مسلمانوں کے بعد ان تمام لاکھوں مسلمانوں کی باری ھے داعش کی نظر میں جو براہ راست ان محکموں کی حمایت و مدد میں سربستہ ھیں یعنی سرکاری ملازمین پھر وہ تمام علمائے کرام بھی جو داعش کے خلاف فتوے دیتے ھیں ان کے خوارج اور گمراہ ھونے پر متفق ھیں ۔۔ اے میری امت کے غیور مسلمانوں گنتی صرف ان کچھ لاکھ پر ختم نہی ھوگی کروڑوں مسلمانوں کی آبادی والے اس پاکستان میں ھر وہ کلمہ گو جو داعش کو تسلیم نہی کرتا یہ ان کے خون کی ندیاں بہا کر اپنی خلافت کو ھر صورت نافذ کرنے کی کوشش کریں گے جیسے یہ عراق شام اور افغانستان میں کر رھے ھیں ۔
تم اس خلافت جیسی رحمت کے نام پر کتنے لاکھ کتنے کروڑ کلمہ گو مسلمانون کی بھینٹ دینے کو تیار ھو؟ ۔۔۔۔ امت مسلمہ کے غیور مسلمانوں سن لو اگر آج تم نے ان خوارج کو نہ پہچانا تو اللہ کی قسم بہت نقصان اٹھاؤگے بعد میں پشیمانی کے سوا کچھ ھاتھ نہ آئے گا ۔۔ دیکھ لو ان خوارج نے افغانستان اور شام میں کیا گل کھلائے ھیں ، خوارج پر کوئی رحم نہی خوارج سے کوئی نرمی نہی انہیں کاٹ دو ان کی نسل کو ختم کردو اور میرے نبی پاک ﷺ کے فرمان کے مطابق ان کو ” قوم عاد اور ثمود کی طرح قتل کرڈالو ” (صحیح بخاری 7432) ، امت مسلمہ کے غیور جوانوں فتنوں کی اس بارش میں اگر جنت کا راستہ پانا چاھتے ھو تو آؤ محمد عربی ﷺ کے فرامین پڑھو خوارج کے بارے میں اور پہچانوں اپنے دوست اور دشمن کو مجاھدین اور خوارج کے بیچ فرق کرنا سیکھو جنت کے راستے کو پہچانو خاموش بیٹھنے کے بجائے حق و باطل کے فرق کو واضح کرو اپنی قیمتی جانوں کو لاپرواھی لاعلمی اور خوشنما نعروں کی بھینٹ نہ چڑھنے دو نہی تو ۔ نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے تمہاری داستان تک نہ ھوگی داستانوں میں

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*