صحافت یا سعودی دلالی؟ لشکر جھنگوی سپاہ صحابہ کے ترجمان فرقہ پرست صحافی فیض الله خان دیوبندی کو خالد نورانی کا دندان شکن جواب

10525943_1543930889188656_8708287563584166301_n

فیض اللہ خان کے خبث باطن پہ کچھ تبصرہ کرنے سے پہلے زرا دیوبندی دانشوروں اور لکھاریوں کے ممدوح اور محبوب شورش کاشمیری کی جانب چلتے ہیں ، شورش شاہ فیصل کے زمانے میں حج کرنے گئے تھے اور مدینہ و مکّہ میں انھوں نے آل سعود کی تباہ کاریاں دیکھیں اور یہ تباہ کاریاں انہی نظریات و افکار کے تحت تھیں جن کو فیض اللہ خان اہلسنت کا فکری دھارا قرار دیکر آل سعود اور ان کی وہابیت کو زبردستی ” سنّی اسلام ” کے سر تھونپ رہے ہیں

دانشور اور صحافی جناب شورش کاشمیری کی آواز بھی احتجاج کرنے والوں میں شامل ہے۔ وہ شاہ فیصل کے زمانے میں مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں پہنچے تو وہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنھا سے منسوب قبر اور دیگر قبور اہل بیت اطہار کو دیکھ کر انھوں نے دل ہلا دینے والا نوحہ کہا۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:

اس سانحہ سے گنبد خضریٰ ہے پر ملال

لخت دل رسول(ص) کی تربت ہے خستہ حال

دل میں ٹھٹک گیا کہ نظر میں سمٹ گیا

اس جنت البقیع کی تعظیم کا خیال

طیبہ میں بھی ہے آل پیمبر(ع) پہ ابتلا

اس ابتلا سے خاطر کونین ہے نڈھال

سوئے ہوئے ہیں، ماں کی لحد ہی کے آس پاس

پور خلیل، سبط پیمبر، علی کے لال

اڑتی ہے دھول مرقد آل رسول پر

ہوتا ہے دیکھتے ہی طبیعت کو اختلال

افتادگان خاک میں آل ابوتراب

ابتک وہی ہے گردش دوراں کی چال ڈھال

فرشّہی روا ہے؟ پیمبر کے دین میں

لیکن حرام شے ہے؟ مقابر کی دیکھ بھال

اسلام اپنے مولد و منشا میں اجنبی

تیرا غضب کہاں ہے؟ خداوند ذوالجلال

توندیں بڑھی ہوئی ہیں غریبوں کے خون سے

محلوں کی آب و تاب ہے، حکام پر حلال

جس کی نگہ میں بنت نبی کی حیا نہ ہو

اس شخص کا نوشتۂ تقدیر ہے زوال

پھٹتی ہے پو، تو صبح بھی ہوتی ہے بالضرور

پھرتے ہیں روز و شب، تو پلٹتے ہیں ماہ و سال

کب تک رہے گی آل پیمبرلٹی پٹی

کب تک رہیں گے جعفر و باقر خسستہ حال

از بسکہ ہوں غلام غلامان اہل بیت

ہر لحظہ ان کی ذات پہ قربان جان و مال

کیا یوں ہی خاک اڑے مزارات قدس پر!

فیصل کی سلطنت سے ہے شورش مرا سوال

فیض اللہ خان ایک دیوبندی صحافی ہے اور اس کے پروفائل کو اگر مرتب کرنے بیٹھیں تو ایک بات سامنے آجائے گی کہ یہ ان دیوبندی لکھاریوں میں سے ہے جنھوں نے قسم کھارکھی ہے کہ وہ ” سعودی عرب اور اس کی سرکاری مذھبی آئیڈیالوجی ” کے بارے میں اپنے اکابرین کی سوچ اور خیالات کو مسخ کرکے اسے زبردستی ” سنّی اسلام ” کی نمائندہ ریاست اور نمائندہ آئیڈیالوجی ” قرار دیکر دم لیں گے

حال ہی میں فیض اللہ خان نے ایک سٹیٹس سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پہ اپنی دیوار پہ چسپاں کیا جسے ہم اس پوسٹ کے ساتھ ہی اپ لوڈ کررہے ہیں –

22

فیض اللہ خان کہتا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کا جھگڑا ” نسلی اور مذھبی سے ہٹ کر فکری ہے اور فکری اس کے نزدیک یوں ہے کہ ” سعودی عرب ” کا جو فکری دھارا ہے وہ ” سنّی اسلام ” کا فکری دھارا ہے جبکہ “ایران ” کا جو فکری دھارا ہے وہ ” شیعی اسلام ” کا فکری دھارا ہے – سعودی عرب کے فکری دھارے کی علامت فیض اللہ خان کے نزدیک یہ ہے کہ ان کے چینل دن رات ” قرآن کی تلاوت اور احادیث مبارکہ ” کو نشر کرتے رہتے ہیں جبکہ ایران یا عراق کے فکری دھارے کی علامت یہ ہے کہ اس کے ٹی وی چینلز ” نجف اشرف ، کربلاء وغیرہ ” کی زیارات کو ہی نشر کرتے رہتے ہیں تو فیض اللہ یہ مقدمہ قائم کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ” سعودی عرب ” سنّی اسلام کے فکری دھارے کی علامت ہے جس کی بنیاد قرآن و حدیث ہے جبکہ شیعی فکر کا دھارا ” نجف و کربلاء کی زیارات ” ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں

فیض اللہ خان نے اپنے اس سٹیٹس میں بالواسطہ طور پہ یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ ” سنّی اسلام” کے اندر نجف اشرف ، کربلاء وغیرہ میں اہل بیت اطہار اور ان کے ساتھیوں کے جو مزارات ہیں کا کوئی مقام نہیں ہے اور نہ ہی قرآن و سنت سے مقابر و مزارات کے مرکز توجہ ہونے کا ثبوت ملتا ہے ،اسی لئے ” سعودی عرب ” کے ٹی وی چینلز نجف اشرف ، کربلاء تو درکنار مدینۃ المنورہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے دو انتہائی قریبی ساتھیوں حضرت ابو بکر صدیق اور عمر فاروق رضوان اللہ اجمعین کے مزارات بارے کوئی مثبت پروگرام نشر نہیں کرتے جبکہ ان ٹی وی چینلوں پہ جنت البقیع ، جنت معلا کے اندر ہزاروں صحابہ کرام ، اہل بیت اطہار ، تابعین ، تبع تابعین اور صلحائے امت کے مزارات کو مسمار کئے جانے ، وہاں پہ بلڈوزر پھیر دئے جانے ، ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری ، جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مکانات پر بیت الخلاء تعمیر کئے جانے ، مولد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پہ مکّہ میٹرو تعمیر کرنے کازکر تک نہیں کرتے اور اسے فیض اللہ خان ” سنّی اسلام ” کے خلاف قرار دیتے ہیں ، یہ انتہائی جھوٹ اور ” سنّی اسلام ” کو مسمار کرنے کے مترادف ہے –

فیض اللہ خان سے کوئی پوچھے کہ اگر ” قبور اور ان کی زیارات ” ” سنّی اسلام ” کے خلاف ہیں ، اور یہ قرآن و سنت کے منافی دھارے ہیں تو دارالعلوم دیوبند میں بانی دارالعلوم دیوبند قاسم نانوتوی سمیت کئی ایک اکابر کی قبور کیوں بنائی گئیں اور ان کو عام قبرستان میں دفن کیوں نہیں کیا گیا ؟ اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم حقانیہ میں بانی دارالعلوم حقانیہ مولوی عبدالحق حقانی کی قبر کیوں بنائی گئی ؟ دارالعلوم خیر المدارس کے احاطے میں بانی دار العلوم مولوی خیر محمد جالندھری والد قاری حنیف جالندھری جنرل سیکرٹری وفاق المدارس کی قبر کیوں بنائی گئی ؟ دار العلوم کراچی جامعہ بنوریہ مولوی یوسف بنوری کی قبر وہاں احاطے میں کیوں بنائی گئی ؟ سپاہ صحابہ پاکستان کے بانی حق نواز جھنگوی ، ضیاء الرحمان فاروقی ، ایثار الاقاسمی ، اعظم طارق کی قبور جامعہ محمودیہ جھنگ میں مسجد کے قریب چار دیواری کرکے ارد گرد پختہ کرکے کیوں بنائی گئیں ؟ میانی قبرستان لاہور میں موہوی احمد علی لاہوری کی قبر پہ قبہ کیوں بنایا گیا ؟

اگر مزارات انبیاء ، اولیاء ، اصحاب کرام اور اہل بیت اطہار کی زیارات شعائر اہلسنت نہیں ہیں تو حال ہی میں مولوی فضل الرحمان سربراہ جے یو آئی ایف سرہند ہندوستان میں مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پہ حاضری دینے کیوں گئے تھے ؟ فیض اللہ خان زرا ” شہاب الثاقب ” اٹھالیں اور دیکھیں تمہارا شیخ الاسلام حسین احمد مدنی کیا کہہ رہا ہے ؟ کہتا ہے کہ ” علمائے دیوبند کا طریقہ ہے کہ جب کبھی روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ حاضری دی جاتی ہے تو الصلوات والسلام علیک یارسول اللہ کہا جاتا ہے قبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے منہ کرکے ، پھر قبر سیدنا صدیق اکبر کی جانب منہ کرکے ” السلام علیک یا خلیفۃ الرسول اللہ ،،،،، ” کہا جاتا ہے ” فیض اللہ خان سے کوئی پوچھے کہ ” شورش کاشمیری ” حج کرنے جب گئے تھے اور جب جنت البقیع میں پہنچے اور جناب رسول اللہ کی پیاری بیٹی سیدۃ النساء خاتون جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی قبر پہ پہنچے اور ان کی قبر کو زمین بوس دیکھا اور وہاں کنکریوں کا ڈھیر اور قبر انور کو بے سایہ ، بے چھت دیکھا تو بے اختیار رو کیوں پڑے تھے اور یہ کیوں کہا تھا کہ ” فاطمہ رضی اللہ عنہ آپ اور آپ کی اولاد آج بھی کربلاء میں ہیں ، اور آل سعود کو کیوں لعن طعن کی تھی ؟

فیض اللہ خان ! تم ریالوں کے بدلے نہ صرف اپنے ضمیر کو بیچ گئے بلکہ تم نے اپنے دیوبندی بڑوں کے طریفے کو بھی مسخ کرڈالا ہے ، تمہارے اندر تکفیری دیوبندیوں کے جملہ اوصاف جمع ہیں اسی لئے تم تصوف کی دشمن ” وہابیت ” کے شعار کو ” اہلسنت کا فکری دھارا ” کہتے ہو- اہلسنت نے کبھی قرآن و سنت کے مقابلے میں مزارات انبیاء ، اہل بیت اطہار ، صحابہ کرام ، صلحائے امت کو کھڑا نہیں کیا اور زیارات قبور کو کبھی سنّی اسلام کے ژحالف خیال نہیں کیا ، ہاں یہ بات درست ہے کہ سعودی وہابیت کے ساتھ سنّی اسلام کے مین سٹریم فکری دھارے کا میلاپ کبھی ہو نہیں سکتا –

تم سچ بولنے سے اس لئے انکاری ہو کیونکہ اس سچ سے آل سعود کا دفاع کیا نہیں جاسکتا – اور آل سعود کا سرکاری مذھب و مسلک سنّی اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا – ویسے تم جیسے کور نظر اور کور بصیرت کو میں کیا کہوں جو اہلسنت کو مزارات جناب علی المرتضی و جناب حسین رضوان اللہ اجمعین سے بے گانہ بتلاتا ہے ، اقبال مدینہ و نجف کو اپنی آنکھ کا نور قرار دیتے تھے اور وہ اسلام کی ابتداء اسماعیل علیہ السلام کو انتہاء حسین رضی اللہ عنہ کو قرار دیتے تھے اور جناب خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے تو دین ہست حسین ، دین پناہ ہست حسین تا حقا کہ بنائے لاالہ ہست حسین کہہ کر بات ختم کردی تھی اور ہم صاف صاف کہتے ہیں کہ ” نجف اشرف اور کربلائے معلا ” سے تم نے سعودی نام نہاد اسلام کو الگ کرکے اور اس سے اپنی محبت جتلاکر ہمیں بتادیا ہے کہ تم اس گروہ کی جانب جھکاؤ رکھتے ہو جسے ” حب علی المرتضی رضی اللہ عنہ گراں گزرتا ہے ” اہلسنت کا شعار اور امتیازی نشان ہے کہ وہ اہل بیت اطہار سے محبت و مودت رکھتے ہیں اور عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا عقیدہ رکھتے ہیں –اور جو اہل بیت اطہار سے گریزاں ہوں ، نجف اشرف اور کربلاء معلا سے بھاگتا ہو اس کے مائل پہ نفاق ہونے میں کوئی شک نہیں ہے

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*