ثمر بداوی سے ریحانہ طباطبائی تک : کچھ بھی تو جرم نہیں ہے – عامر حسینی

12509594_10208580371975131_7539469504738845615_n

یار صحافت کوئی جرم ہے کیا ؟
مرے دوست نے چائے کا کپ اٹھاتے اٹھتے اچانک مجھ سے پوچھ لیا
میں تھوڑا گڑبڑاسا گیا ، اس کا یہ سوال سنکر
ہاں ! صحافت بھی جرم نہیں ہے ، شاعری بھی نہیں ہے ، اور افسانہ لکھنا بھی جرم نہیں ہے اگر یہ کسی بھی طرح کے سٹیٹس کو چیلنچ نہ کرتی ہو یا کسی ریاست کا سٹیٹس کو خود کو اتنا طاقتور خیال کرنے لگے کہ وہ اختلافی آوازوں سے خوف نہ کھاتا ہو اور اسے اپنے پروپیگنڈے کا آپریٹس اتنا مضبوط لگتا ہو کہ وہ اکا ، دکا آوازوں کو اپنی پراپیگنڈا مشینوں کی آوازوں میں دباسکتا ہو تو پھر واقعی صحافت کرنا ، شاعری کرنا ، افسانہ لکھنا ، کسی باغی کی تصویر میں رنگ بھرنا ، کسی کا مسجمہ بناڈالنا اور کسی انتہائی باغیانہ نظم کو اپنی خوش گلو آواز میں گادینا کوئی جرم نہیں ہوا کرتا
میں نے اپنے دوست کو تھوڑی دیر کی گڑبڑاہٹ کے وقفے کے بعد جواب دیا
اس دوران اس نے بڑی بے نیازی سے چائے کا ایک گھونٹ بھرلیا تھا اور ساتھ ہی سگریٹ بھی سلگا کر ایک کش لے لیا تھا ( میں چائے یا کافی کے دوران سگریٹ نہیں پی سکتا ، اس لئے اس کی اس حرکت پر تھوڑا سا تعجب بھی ہوا اور اسی دوران جس ٹی سٹال کے پھٹے پہ بیٹھے ہم تھے اس ٹی سٹال کے مالک نے اچانک ریموٹ سے آڈیو سی ڈی چلادی اور انوپ جلوٹا کی آواز میں سعید راہی کی غزل گونجنے لگی – جام چلنے لگے ، دل مچلنے لگے چہرے چہرے پہ رنگ شراب آگیا – بات کچھ بھی نہ تھی ، بات اتنی ہوئی ، آج محفل میں وہ بے نقاب آگیا
)
میں ایک طرف تو انوپ جلوٹا کی دلکش آواز میں کھویا ہوا تھا تو دوسری طرف جب میں یہ بات کررہا تھا تو صحافت کی دنیا کا ناصر زیدی ، خاور نعیم ہاشمی اگر مری چشم تصور میں کوڑے کھارہے تھے تو میں ساہیوال اور حیدرآباد جیل میں بند فیض صاحب کو دیکھ رہا تھا اور ایف ایم حسین مرحوم کے سٹوڈیو کو بھارت میں آگ کے شعلوں میں جلتا دیکھ رہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ میں امریکہ کی ایک سٹرک پر جان لینن کو گولی کھاکر کرتے دیکھ رہا تھا اور کہیں دور بہت دور میں ترکی کے ایک جیل خانے میں ناظم حکمت کو ننگے ٹھنڈے فرش پر بیٹھے نیم مسکان حالت میں دیکھ رہا تھا ، عجیب کیفیت تھی
نام اپنا کہیں پر لکھا تو نہیں ، بس اسی بات کا آج کرلے یقیں
آؤ راہی زرا پوچھ کر دیکھ لیں ، اپنی دل کی وہ کھولے کتاب آگیا
کہاں کھوگئے کامریڈ
مرے دوست نے اچانک پوچھا تو میں نے اپنی کیفیت چھپائے چھپائے اسے کہا سوچ رہا تھا کہ تم نے اچانک اپنے نئے افئیر کی روداد سناتے سناتے یہ ” صحافت کے جرم ہونے نہ ہونے بارے کیوں سوال کیا ؟
یار مجھے لگا کہ تمہیں مری وارداتوں سے دلچسپی نہیں ہے تو تمہاری دلچسپی کی بات ہی کرلوں ، ،،،، اس نے مری طرف شرارت سے دیکھ کر کہا
کوئی ریحانہ طباطبائی ایرانی نژاد صحافی ہے جسے اسلامی انقلابی عدالت نے ایک سال قید سنائی ہے اور اس پر دو سال کسی بھی میڈیا اور سیاسی جماعت میں شامل ہونے سے روک دیا ہے اور جج کوئی ” صلواتی ” نام کا آدمی ہے ، ہے نا عجیب سا نام ہمارے یہاں سرائیکی میں تو اس کا مطلب اور ہی نکلتا ہے ، ویسے جو ہمارے ہاں مطلب نکلتا ہے یہ مولوی جج نما قاضی عدالت انقلاب اس معنی پر پورا اترتا ہے – مرے دوست نے ایک سانس میں مجھے بتایا
میں نے ٹھنڈی سانس بھری اور اسے بتایا کہ ” ریحانہ طباطبائی : کا جرم فقط یہ ہے کہ وہ اصلاح پسند ایرانی نوجوان نسل سے تعلق رکھتی ہے جو ایران کے سخت گیر ملاؤں سے تنگ آچکی ہے اور ان کو ایران میں بہت گٹھن محسوس ہوتی ہے اور وہ بدلاؤ چاہتے ہیں مگر ایران کی ملاؤں کی رھبر کونسل ان کو مقابلے مین اترنے ہی نہیں دیتی ، ہزاروں کاغذات نامزدگی سرے سے قبول ہی نہیں کئے جاتے اور ایران کی شوری نگہبان بارے بولنا کفر سے کم نہیں ہے اور وہاں ویسے تو مصوری ، ڈرامہ ، فلم ، تھیڑ ، مجسمہ سازی وغیرہ کرنا شرک نہیں ہے لیکن اگر آپ اپنی مرضی سے یہ کریں اور کہیں آپ ” ولایت فقیہ ” پر تنقید کربیٹھیں یا کنٹرولڈ پریس بارے بات کرنے لگ جائیں تو پھر جلد آپ جیل میں ہوں گے اگرچہ اختلافی آواز اگر بہت زیادہ بغاوت نہ ہو پھانسی کی نوبت کم آتی ہے
میں یہ کہہ کر ابھی خاموش ہوا تھا کہ مرے موبائل فون پر میسج بزر ہوئی اور میں نے موبائل میں اپنا مسیح باکس کھولا تو ایک ایم ایم ایس آیا ہوا تھا ، ایک نوجوان عورت کی تصویر تھی جس کی گود میں اس کی کم سن بچی تھی ، میں پہلی نظر میں اسے پہچان نہ پایا ، پھر جیسے دماغ کے کسی گوشے میں بجلی سی چمکی اور مرے سامنے ایک نام آگیا ” ثمر بداوی
سعودی بلاگر رائف بداوی کی بہن ثمر بداوی کو سعودی حکام نے گرفتار کرلیا اور جیل بھجوادیا
ثمر بداوی کے مصائب ہیں کہ کم ہونے کو نہیں آرہے ، دنیا کو اس لڑکی کے بارے میں اس وقت پتہ چلا تھا جب اس نے سعودی عرب کی عدالت میں ایک درخواست دائر کی تھی ، درخواست کیا تھی ، اخلاقیات کے جنازے نکل جانے والی دلخراش داستان کا بیان تھی ، ثمر بداوی نے سعودی قاضیوں کے سامنے فریاد کی تھی کہ اسے اس درندے سے بچایا جائے جو اس کا باپ کہلاتا ہے اور کئی سالوں سے اس کے ساتھ زبردستی ریپ کا مرتکب ہوتا رہا ہے ، جبکہ اس نے سعودی عرب سے کہا تھا کہ اس کا کوئی اور ولی مقرر کیا جائے اور اسے شادی کرنے کی اجازت دی جائے ، عدالت نے بھی جب تحقیقات کیں تو اس کے سامنے یہ بات آگئی کہ ثمر بداوی جو کہہ رہی ہے وہ غلط نہیں ہے لیکن ثمر بداوی کو انصاف ملتے ملتے کئی سال لگ گئے ، اس دوران اس کے سامنے سعودی نظام کی بربریت ، وحشتناکی اور انتہائی ظالمانہ خصوصیات کی قلعی کھلتی چلی گئی ، اس نے ایک سعودی نوجوان ولید سے شادی کرلی جو باقی تو نہیں رہی مگر ولید بھی سعودی عرب میں اختلافی آواز اٹھانے کے جرم میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلا گیا ،
اس دوران اس کا باپ ” لڑکی ” کو اپنے قابو کرنے میں لانے کی تدبیر کرتا رہا ، یہ منشیات کا استعمال کرنے والا اور چودہ عورتوں کو اپنی بیوی بناکر چھوڑ دینے والا درندہ تھا ، اس کی صحبت اوباش و بدقماش لوگوں کے ساتھ تھا ، یہ عدالت کو معلوم ہوچکا تھا مگر اس کے باوجود جب ثمر بداوی دو پیشیوں پر عدالت کے سامنے پیش ہونے سے قاصر رہی تو اس کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا ، یہ جیل گئی تو اسے سعودی نظام کی لعنت کا اور پتہ چل گیا ، اس کو سعودی عرب کے اندر عورتوں ، بچوں سمیت معاشرے کی کئی پرتوں کی حالت زار کا پتہ چلا تو یہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کی سب سے طاقتور آواز بن گئی ، اس نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی اور جمہوری حقوق کے غیاب پر آواز اٹھانی شروع کردی ، اس نے جینیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل ، یورپی یونین کے کمیشن برائے انسانی حقوق کے سامنے دھائی دی ، یہ امریکی سینٹرز ، کانگریس مین ، سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے عہدے داروں ، عالمی انسانی حقوق کی تںطیموں سے ملی اور سب سے کہا کہ ” سعودی عرب کی عورتوں ” کو بڑے قید خانے سے آزاد کرایا جائے ، اس دوران ثمر بداوی نے بتایا کہ اسے سیکرٹری خارجہ سعودی عرب نے براہ راست دھمکی دی تھی کہ اگر وہ انسانی حقوق کے معاملے میں آواز اٹھانے سے باز نہ آئی تو بہت جلد سلاخوں کے پیچھے ہوگی ، جیسے اس کا بھائی رائف بداوی سزا کاٹ رہا ہے
رائف بداوی کی بیوی اپنے تین بچوں کے ساتھ کینڈا پہنچنے میں کامیاب رہی ورنہ وہ بھی رائف بداوی کی طرح سعودی جیل میں ہوتی ، انصاف حیدر اپنے تین بچوں کو لیکر ایک ایک دروازے پہ گئی ہے اور اس نے آنسوؤں کی جھڑی میں بتایا کہ اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے شوہر کو کوڑے لگتے دیکھے
رآئف بداوی کا بلاگ سعودی حکام کو اپنے اقتدار کے لئے خطرہ لگ رہا تھا ، ان کو شیخ نمر باقر النمر کی تقریر سے ڈر لگتا تھا ، اسے ثمر بداوی سے خوف آتا ہے کہ جب وہ بتاتی ہے اس کے ساتھ اس کے سعودی باپ نے کیا کیا اور جب وہ عدالت گئی تو اسے کونسا اور کیسا انصاف فراہم کیا گیا ، سعودی عرب میں رآئف بداوی ، ثمر بداوی نہ تو عوامیہ صوبے سے تعلق رکھتے تھے ، نہ ہی یہ دونوں آل سعود کے سیاسی مخالف تھے اور نہ ہی انھوں نے اپنی زندگی میں کبھی ایران کا سفر کیا تھا ، یہ سعودی عرب کے ایک سنّی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور سنّی گھرانہ بھی شاید وہ کہ جو ” سلفی حنبلیت ” پر یقین رکھتا ہے ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کہتی ہے کہ ثمر بداؤی کی جیل یاترا نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا ہے کہ سعودی عرب سعودی حکومت سے پرامن طریفے سے اختلاف کرنے والوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے
میں جب یہ سب سوچ رہا تھا تو مجھے جان لینن کا گیت نجانے کیوں یاد آرہا تھا
Imagine
There is no Heaven
It’s easy if you try
No hell below us
Above us only sky
Imagine
All the People
Living for today
Aah , Aah
Imagine there is no countries
It isn’t hard to do
Nothing to kill or die for
And no religion too
Imagine all the people
Living in the peace
Yahoo, ooh
You may say I’m a dreamer
But I’m not only one in this world

Comments

comments

Latest Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*