شیخ نمر کی سزا اور پاکستانی انسانی حقوق کے چمپینز کی خاموشی – عامر حسینی

nimr693659-1431364304-wide

شیخ نمر النمر سابقہ حجاز اور موجودہ ” سعودی عرب ” کے مشرقی صوبے ” عوامیہ ” سے تعلق رکھتے ہیں اور یہآں کی اکثریتی اثناء عشری شیعہ آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں ، سعودی عرب کا یہ صوبہ وہ واحد سعودی صوبہ ہے جہاں پر شیعہ آبادی اکثریت میں ہے اور یہ تیل کی دولت سے مالا مال صوبہ ہے ، یہاں کی شیعہ آبادی کو تقریبا سوسال سے زبردست جبر و ستم ، ظلم ، حوف کا سامنا ہے ، شیخ نمر النمر عوامیہ کے اندر عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی بازیابی کی تحریک کی سب سے طاقتور آواز بنکر ابھرے اور اس تقریر میں انہوں نے ” عوامیہ کے عوام ” کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھا ہے

ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے حکمران آل سعود 100 سال سے ان پر ظلم و جبر اور ستم کررہے ہیں ، ان کی سیاسی ، معاشی ، مذھبی ، ثقافتی آزادیوں کو سلب کیا جارہا ہے اور اس سب کو کرنے کا ایک سبب ” عوامیہ کے لوگوں ” کی شیعہ شناخت بھی ہے اور انہوں نے اس شناخت سے دستبردار ہونے سے انکار کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ آل سعود ان کی زمین پر پر ان کو مسلسل اس وجہ سے دبارہے ہیں کہ وہ ” شیعہ مذھب سے دست بردار نہیں ہوئے – اور اپنی آزادی پر اصرار کرتے ہیں ، شیخ نمر النمر آل سعود پر واضح کرتے ہیں کہ حجاز میں وہ جس صوبے میں رہتے ہیں وہ ان کا وطن ہے ،ان کی زمین ہے اور اس زمین پر وہ اپنی شناخت کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں ،

انہوں نے کہا کہ ان کے شیعہ ہونے کی وجہ سے ان کو ” ایران “سے نتھی کردیا جاتا ہے اور عوامیہ کے اندر جو نوجوانوں میں آزادی ، جمہوریت اور اپنے حقوق کی بازیابی کی جو تحریک پیدا ہوئی ، اس تحریک کو عوام کی آرزؤں اور خواشہوں کی بجائے ” بیرونی ملک کی سازش ” کہا جاتا ہے اور اس سے مراد ” ایران ” ہی ہوتا ہے – وہ کہتے ہیں کہ آل سعود جب یہ کہتے ہیں کہ ” سعودی عرب ” کے خلاف ایران سازش کررہا ہے تو ایران سے جاکر کیوں نہیں نمٹتے اور آہنی ہاتھوں کو ایران کے خلاف استعمال کیوں نہیں کیا جاتا جبکہ سارا ظلم اور جبر ” عوامیہ صوبے کی عوام پر کیا جاتا ہے یا ” بحرین ” پر سعودی افواج جڑھائی کرڈالتی ہیں -شیخ نمر النمر کہتے ہیں کہ ان کی تحریک کسی اور ملک کی شروع کردہ نہیں ہے اور وہ اس لک میں ایک آزاد شخص کی طرح جینا چاہتے ہیں اور مریں گے تو ایک نیک آدمی کی صورت -شیخ نمر النمر ” عوامیہ صوبے کے عوام کی تحریک کو ” ایرانیوں کی سازش ” قرار دینے والوں کو سخت جواب دیتے ہیں اور وہ اسے ” سعودی – ایران پراکسی کے آئینے میں دیکھنے کے عمل کو آل سعود کا پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں

حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں انکل سام دیسی لبرل کی ایسی تعداد موجود ہے جو پاکستان کے اندر ” شیعہ آبادی کی نسل کشی ” کو ” سعودی – ایران بائنری کی عینک سے دیکھنے پر اصرار کرتی ہے اور وہ کبھی بھی سعودی عرب کے اندر ” شیعہ ، صوفی سنّی کمیونٹیز ” پر ہونے والے جبر ، ظلم اور ریاستی دھشت گردی بارے زبان نہیں کھولتی ، آج جب کہ برطانیہ کی پارلیمنٹ تک میں اپوزیشن لیڈر جرمی کاربین شیخ نمر النمر کو مصلوب کئے جانے کی سزا کے خلاف آواز بلند کررہا ہے اور مغربی میڈیا کے اندر بہت سی آوازیں ” شیخ النمر ” کے لئے بلند ہورہی ہیں تو بھی پاکستان کے دیسی لبرلز کے ہاں اس ” ایشو ” پر مکمل سناٹا چھایا ہوا ہے

پاکستان میں ” انسانی حقوق کیمشن برائے پاکستان ” ، ایمنسٹی انٹر نیشنل ، ہیومن رائٹس واچ ” جیسی تنظیموں نے مسلسل خاموشی اختیار کی ہوئی اور اس حوالے سے کوئی یادداشت تک سعودی سفارت خانے کو ارسال نہیں کی گئی اور پاکستانی حکومت سے بھی مطالبہ نہیں کیا گیا کہ وہ سعودی عرب کے اندر شیخ نمر النمر کو مصلوب کئے جانے کی سزا کو کالعدم کرانے میں اپنا کردار ادا کرے شیخ نمر النمر کی یہ تقریر ” عوامیہ صوبے کا مقدمہ ” پیش کرتی ہے اور آل سعود کے مظالم کو بے نقاب کرتی ہے اور ” بحرین کے عوام ” کی جمہوری جدوجہد کا مقدمہ بھی پیش کرتی ہے

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*