کربلا میں سویم امام حسین – مشر علی زیدی

swwwwmunnamed2

پاکستان میں امام حسین کا سوئم 12 محرم کو منالیا جاتا ہے۔ کربلا میں امام کا سوئم 13 محرم کو ہوتا ہے۔ امام حسین اور ان کے رفقا کو قتل کرنے کے بعد تمام شہیدوں کے سر کاٹ لیے گئے تھے۔ پھر لاشوں پر گھوڑے دوڑائے گئے۔ کوئی جسم سلامت نہیں بچا۔ اہل بیت کے جو لوگ بچے، انھیں قیدی بنالیا گیا۔ اب لاشوں کو کون دفن کرتا۔

مقامی قبیلوں کے لوگ امام حسین کے لشکر میں شامل اپنوں کی لاشیں لے گئے۔ امام عالی مقام اور اہل بیت کے شہیدوں کی لاشیں 3 دن بے گور و کفن میدان میں پڑی رہیں۔ کوفے میں ایک قبیلہ بنی اسد آباد تھا۔ حبیب ابن مظاہر کا تعلق بنو اسد ہی سے تھا۔ حاکم ظالم تھا۔ مرد ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔ بنو اسد کی خواتین باہر نکلیں اور انھوں نے 13 محرم کو کفن دفن کا انتظام کیا۔ بعد میں مرد بھی آئے۔

آج کربلا میں 13 محرم ہے۔ اس دن بنو اسد کی خواتین کا جلوس آتا ہے۔ آج امام حسین کا روضہ خواتین کے حوالے۔ آج خواتین آگے ہیں، مرد پیچھے ہیں۔
 
کربلا میں عاشور کے بعد رش چھٹ گیا تھا۔ میں نے ایک صاحب سے کہا، اس بار بہت لوگ آئے۔ انھوں نے کہا، نہیں اس بار کم تھے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 70 لاکھ عزادار آئے۔ ان میں سے 30 لاکھ بین الحرمین دوڑے۔ میرے ہاتھ میں کیلکولیٹر تھا۔ میں نے روضہ حسین کے تمام دروازے دیکھے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ کسی دروازے سے ایک وقت میں پانچ سے زیادہ آدمی نہیں نکل سکتے۔ ایک سیکنڈ میں پانچ افراد نکلیں تو 30 لاکھ افراد کے گزرنے میں 166 گھنٹے لگیں گے۔ یہ پورا جلوس دو تین گھنٹوں میں کیسے گزر جاتا ہے؟

عاشور پر مقامی عراقی اتنے نہیں آئے، جتنے چہلم امام پر آتے ہیں۔ زیارت کے ہر مقام کی کوئی خاص تاریخ ہے۔ اسے یہاں مخصوصی کہتے ہیں۔ چہلم، جسے اربعین کہتے ہیں، کربلا کی مخصوصی ہے۔ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ 2013 میں سوا دو کروڑ اور گزشتہ سال ڈھائی کروڑ عزادار آئے تھے۔ میں 70 لاکھ افراد ایک مقام پر دیکھ کر دم بخود رہ گیا۔ اس کے تین گنا افراد یہاں کیسے سماجاتے ہیں؟

میں دو دن پہلے یہ لکھ بیٹھا کہ حبیب ابن مظاہر کی قبر پر اپنی انگلی سے کسی کا نام لکھ دیں تو کربلا کا بلاوا آجاتا ہے۔ اس کے بعد بہت سے دوستوں نے فرمائش کی کہ ان کا نام وہاں لکھ دوں۔ نام بہت زیادہ تھے۔ وہاں اتنا موقع نہیں ملتا۔ میں نے سب نام ایک کاغذ پر لکھے اور عریضے کی طرح ضریح میں ڈال دیے۔ اب آپ جانیں اور حبیب ابن مظاہر۔
کسی کا بلاوا نہ آئے تو مجھے معاف کردے۔ کسی کا بلاوا آجائے تو پھر اس نے ادھار چکانا ہے۔ یہاں میرا نام لکھنا ہے۔

جس شہر، جس بستی کے نام کے ساتھ مقدس کا لاحقہ لگ جائے، اس سے کچھ معجزے، کچھ کرامات منسوب ہوجاتی ہیں۔ ماحول کا اثر بھی ہوتا ہے، زائرین بھی خاص کیفیت کا شکار ہوتے ہیں۔سلمان بھائی کہتے ہیں، کربلائے معلیٰ انتہائی مقدس ہے، یہاں سوچ سمجھ کر دعا مانگنی چاہیے۔ بولنا بھی سوچ سمجھ کر چاہیے۔ منہ سے نکلی ہوئی بات پوری ہوجاتی ہے۔ ابھی آپ نے کسی دوست کو یاد کیا اور وہ سامنے آگیا۔ ابھی آپ نے کسی چیز کی خواہش کی اور وہ دسترس میں آگئی۔ دنیا بھر کے دکان داروں کی طرح یہاں کے فروش کنندگان بھی اپنی چیزیں بیچنے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں، واللہ خسارہ واللہ خسارہ کہتے ہیں۔ انھیں واقعی کاروبار میں خسارہ ہوجاتا ہے۔

سلمان بھائی نے یہ بھی سمجھایا کہ اگر کوئی کرشمہ، کوئی کرامات دیکھو تو کسی سے ذکر مت کرو۔ اس کا نقصان بھی بتایا۔ میرا خیال ہے کہ بیشتر لوگ کچھ مانگنے کربلا نہیں آتے۔ بیشتر لوگ کوئی کرشمہ دیکھنے کربلا نہیں آتے۔ بس عشق حسین میں چلے آتے ہیں۔ کیا عشق سے بڑا بھی کوئی کرشمہ ہے؟

پاکستان میں مذہبی تہواروں اور غم کے ایام میں تعطیل مل جاتی ہے۔ لوگ چھٹی کرلیتے ہیں۔ یہاں عاشور کے دن دکانیں کھلی دیکھیں۔ لنگر اور سبیلیں بہت تھیں لیکن کھانے پینے کی دکانیں بھی کھلی تھیں۔ کپڑوں کی دکانیں کھلی تھیں۔ جلوس گزررہا ہے تو دروازہ بند کردیا۔ جلوس گزر گیا تو کھول دیا۔ ہمارے ہوٹل کے سامنے ایک حجام کی دکان ہے۔ وہ عاشور کے دن کھلی تھی۔ جلوس آیا تو وہ روتا ہوا باہر نکل آیا۔ سینے پر ہاتھ مار کے پرسہ دیا۔ جلوس گزر گیا تو اندر جاکر بال کاٹنے لگا۔ یہ لوگ غم حسین کسی خاص دن، کسی خاص وقت نہیں مناتے۔ غم حسین ان کی زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔

میں پچھلی بار آیا تھا تو شارع سدرہ کے ہوٹل المہدی میں قیام تھا۔ ہوٹل تھری اسٹار، فور اسٹار، فائیو اسٹار ہوتے ہیں۔ یہ مائنس اسٹارز میں سے کوئی ہوٹل تھا۔ شکستہ استقبالیہ۔ لابی میں چار آدمی نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ ہمیں جو کمرا ملا اس میں ایک بستر تھا اور ہم تین آدمی۔ ہمارے کمرے میں ایک نوجوان عالم تھے جو اب کراچی کے مشہور ذاکر ہیں۔ ہم نے بااصرار انھیں بیڈ پر سلایا۔ میں اور کینیڈا کا ایک دوست زمین پر سوئے۔ باتھ روم میں سمٹ کر نہانا پڑتا تھا۔

اس بار ہوٹل اسرا و المعراج میں قیام ہے۔ یہ شاہراہ جمہوریہ کی امام علی روڈ پر ہے۔ اچھا ہوٹل ہے، کمرا چھوٹا سہی لیکن چار بیڈ ہیں۔ ایئر کنڈیشنر، ٹی وی اور فریج بھی ہے۔ باتھ روم کشادہ اور گرم پانی دستیاب۔ وائی فائی کا معقول انتظام ہے۔ البتہ سات آٹھ منزلہ ہوٹل میں لفٹ فقط ایک۔ چار افراد سے زیادہ کی گنجائش نہیں۔ لیکن ہماری قوم نے اسے گدھا گاڑی بنالیا ہے۔ ایک وقت چھاپا مارا گیا تو بارہ زائرین نکلے۔ ہوٹل والے بار بار سمجھاتے ہیں کہ لفٹ ٹھیک کرنے والا موجود نہیں۔ لفٹ بند ہوگئی تو ہم ذمے دار نہیں۔ زائرین امام حسین کے روضے کی طرف منہ کرکے سلام کرتے ہیں اور لفٹ میں چڑھ جاتے ہیں۔

کربلا میں بھی بجلی چلی جاتی ہے۔ آج بھی دو بار جاچکی ہے۔ لفٹ میں پھنسے ہوئے لوگ نعرہ حیدری لگاتے ہیں۔ باہر کھڑے لوگ یاعلی چلاتے ہیں۔ ریسپشنسٹ بھاگ کر جنریٹر چلاتا ہے۔ اس کا نام کلب علی ہے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*