’وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں کوئی ہندو نہ رہے‘

150803202008_pakistan_minorities_hindu_temple_640x360_bbc

پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں کو اکثر یہ شکایت رہی ہے کہ ان کے مذہبی مقامات کو حکومت پاکستان کی جانب سے تحفظ حاصل نہیں ہے۔ ایسی کئی شکایات ریکارڈ پر ہونے اور مذہبی مقامات کو نقصان پہنچائے جانے کے کئی واقعات منظر عام پر آنے کے، باوجود اب تک کوئی سنوائی نہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کےمطابق گذشتہ پچاس سالوں میں پاکستان میں بسنے والے نوے فیصد ہندو ملک چھوڑ چکے ہیں اور اب ان کی عبادت گاہیں اور قدیم مندر، گرجا گھر اور گردوارے، بھی تیزی سے غائب ہو رہے ہیں۔

ایسا ہی ایک معاملہ، گذشتہ بیس سال سے چل رہا ہے اور اب سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود اس پر کوئی عمل نہیں ہوا۔

بات ہے، پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کے ایک چھوٹے سے گاؤں ٹیری میں واقع ایک سمادھی کی، جہاں کسی زمانے میں، کرشن دوارا نامی ایک مندر بھی موجود تھا۔ مگر اب اس کے آثار کہیں نہیں ہیں۔ سمادھی موجود ہے، مگر اس کے ارد گرد ایک مکان کی تعمیر ہو چکی ہے اور اس تک رسائی کے تمام راستے بند ہیں۔ مکان میں بسنے والے مفتی افتخارالدین کا دعویٰ ہے کہ انیس سو اکسٹھ میں حکومت پاکستان نے، سکیم سات کا اجراء کیا تھا جس کے تحت مشرقی اور مغربی پاکستان میں مقامی قابضین کو ایسی دیہی املاک مفت میں دی گئیں جن کی قیمت دس ہزار روپے سے کم تھی۔ اسی سکیم کے تحت انھیں بھی اس جگہ کے مالکانہ حقوق مل گئے اور انیس سو اٹھانوے میں انھوں نے اس مکان کو تعمیر کیا۔

ہندوؤں کے رہنما شری پرم ہنس جی مہاراج انیس سو انیس میں انتقال کر گئے۔ ان کو شردھانجلی دینے دنیا بھر سے کئی ہندو پاکستان کے علاقے ٹیری میں واقع ان کی اس سمادھی پر حاضری دیا کرتے تھے۔ انیس سو اٹھانوے میں یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب کچھ ہندو یہاں پہنچے تو پتہ چلا کہ سمادھی کو توڑنے کی کوشش کی گئی جس پر بات پاکستان ہندو کونسل تک پہنچی اور کونسل نے اس معاملے کا بیڑا اٹھایا۔

کونسل کے چیئرمین اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے بتایا کہ گذشتہ بیس سال کے دوران وہ تمام سیاسی عناصر سے صوبائی اور وفاقی سطح پر بات کر چکے ہیں مگر کسی نے نہیں سنا، بالاآخر انھوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

سپریم کورٹ نے اپریل دو ہزار پندرہ میں تمام حالات کو دیکھتے ہوئے، خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو حکم دیا کہ وہ اس سمادھی میں ہونے والی توڑ پھوڑ کو روک کے ہندؤوں کو ان کی جگہ واپس کروائے۔ مگر آج تک اس پر کوئی عمل نہیں ہوا۔

ڈاکٹر رمیش کہتے ہیں ’مزار تو تاریخی ہوتے ہیں، یہ کوئی مندر تو ہے نہیں کہ مجھے کہیں کہ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب ہے تو میں اسے کہیں اور منتقل کر دوں، یہ تو سمادھی ہے۔ مزار ہے! ایک ایسی ہستی کا مزار جس کے کروڑوں پیروکار ہیں۔‘

مگر ٹیری میں واقع واحد یہ ایک سمادھی یا مندر ہی نہیں جو بند ہے۔ پاکستان ہندو کونسل کے مطابق اس وقت ملک بھر میں تمام مذہبی اقلیتوں کی ایسی ایک ہزار چار سو سے زیادہ مقدس جگہیں ہیں جن تک انھیں رسائی حاصل نہیں۔ یا پھر انھیں ختم کر کے وہاں دکانیں، خوراک کے گودام، جانوروں کے باڑوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

ایسا ہی ایک مندر، راولپنڈی کے ایک مصروف بازار میں موجود ہے جسے جمنا دیوی مندر کہا جاتا ہے اور یہ انیس سو انتیس میں بنایا گیا تھا۔ چاروں طرف سے چھوٹی دکانوں میں دھنسا یہ مندر محض اپنے ایک بچے کچھے مینار کے باعث اب بھی سانسیں لے رہا ہے مگر اس کے اندر داخل ہوں تو یہاں فرش پر پڑی اور چھتوں سے باتیں کرتی اونچی اونچی قطاروں میں چاول، دال اور چینی کی بھری بوریاں نظر آتی ہیں۔ محکمہ اوقاف کے چیئرمین صدیق الفاروق کا کہنا ہے کہ ’جو سکیم نائنٹیین سیونٹی فائیو ہے، میں اس کو جانتا ہوں اور اس سے پہلے کیا تھا یہ میرے علم میں نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کی بنائی گئی اس سکیم کے تحت، عبادت گاہ کوئی بھی ہو، وہ کرائے پر نہیں دی جا سکتی، البتہ اس سے ملحقہ اراضی کو کرائے پر دیا جاتا ہے ۔‘

ماہرین کے مطابق حکومت کی عدم توجہ اور غلط پالیسیز کے باعث ملک میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی مذہبی اقلیت ہندو برادری ہے جسے پسماندہ ہونے کے باعث ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔ برصغیر کے بٹوارے کے وقت، مغربی پاکستان یا موجودہ پاکستان میں، پندرہ فیصد ہندو رہتے تھے۔ انیس سو اٹھانوے میں ملک میں کی گئی آخری مردم شماری کے مطابق ان کی تعداد محض ایک اعشاریہ چھ فیصد رہ گئی اور ملک چھوڑنے کی ایک بڑی وجہ عدم تحفظ تھی۔

تحقیق کار ریما عباسی کے نزدیک محض ’گذشتہ چند سالوں میں لاہور جیسی جگہ پر ایک ہزار سے زیادہ مندر ختم کر دیے گئے ہیں۔ پنجاب میں ایسے لوگ بھی دیکھ چکی ہوں جو نام بدل کر رہنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام باتوں کی بڑی وجہ، قبضہ مافیا تو ہے مگر ساتھ ہی ان بے گھر افراد کے لیے تحفظ کی کمی بھی ہے، جو شدت پسندی کے باعث اپنا گھر بار چھوڑ کر پاکستان کے دیگر ایسے علاقوں میں منتقل ہوتے ہیں جہاں ان کی عبادت گاہیں قریب ہیں۔ مگر انھیں وہاں سے ڈرا دھمکا کر نکال دیا جاتا ہے تاکہ وہاں پہلے سے رہایش پذیر افراد کو کوئی مشکل نہ ہو۔‘

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان سے ہجرت کر جانے والے ہندؤوں کا نوے فیصد ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور حکومتِ وقت کی سرد مہری ہے۔

پاکستان کے محکمہ اوقاف میں پجاری کی ملازمت کرنے والے جے رام کے مطابق ’انیس سو اکہتر کے بعد ملک میں ہندو کلچر ہی ختم ہو گیا ۔ کہیں بھی اب شاستروں کو نہیں پڑھایا جاتا، سنسکرت نہیں پڑھائی جاتی، یہاں تک کے سندھ حکومت سے ایک بل پاس کروانے کی کوشش ہوئی کہ سندھ میں نصاب میں سنسکرت کو شامل کیا جائے، ہندو بچوں کے لیے ہمیں ایک ہندی استاد مہیا کیا جائے، مگر وہ بل پاس نہیں ہوا۔ تو اگر اس قسم کا قانون نہیں بن سکتا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں ایک بھی ہندو نہیں رہے گا۔

Source:

http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150803_minorities_places_of_worship_sa

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*