آزادی اظہارو بلاسفمی کارڈ کی آڑ میں حضرت علی و حضرت فاطمہ کے خلاف غلیظ زبان استعمال کرنے والی جعلی لبرل المانه فصیح کا دفاع – خرم زکی

11 12

 

کچھ دیسی لبرلز کا خیال ہے کہ اگر کوئی “لبرل سیکولر” آزادی اظہار رائے کے پردے میں، فریڈم آف ایکسپریشن کی آڑ میں امام علی اور سیدہ فاطمۃ الزھراء کو گالم گلوچ کرے (نعوذ باﷲ من ذالک) تو میں صرف اس لیئے خاموش رہوں اور ایسے شخص کی مذمت میں بھی کچھ نہ کہوں کیوں کہ یہ بلاسفیمی لاء کا معاملہ ہے جس سے ان “دیسی لبرلز” کو چڑ ہے، کوئی شیعہ مسلمانوں کو گالی دے تو بھی میں صرف اس لیئے چپ رہوں کہ یہ بھی بلاسفیمی لاء کا معاملہ جس سے ان دیسی لبرلز کو چڑ ہے۔

گویا ایک فریق کو گالم گلوچ کی اجازت ہے کیوں کہ “آزادی اظہار” کا مسلہ ہے اور اس کا تعلق لبرل کیمپ سے ہے اور مجھے مذمت کی بھی اجازت نہیں، احتجاج کی بھی اجازت نہیں کیوں کہ سارے حقوق اس دیسی لبرل کیمپ کے پاس ہیں اور میں گویا ایک دوسرے درجے کا شہری ہوں جس کو ایک طرف تکفیری دہشتگرد اسلام کے نام پر قتل کر رہے ہیں اور دوسری طرف جس کے عقائد و مقدسات پر یہ “دیسی لبرلز” (البتہ بعض کی بات ہو رہی ہے) آزادی اظہار رائے کے نام پر حملہ آور ہیں، اور مجھ کو زبان کھولنے کی بھی اجازت نہیں۔ جناب میں نے امریکہ لندن سے فنڈ نہیں لینے، نہ ہی امریکہ لندن کے دورے کرنے ہیں، اور نہ شہری اور انسانی حقوق کی یہ جنگ جو میں لڑ رہا ہوں کسی مغربی ایجینڈے اور افکار و اقدار کا کوئی حصہ ہے۔ میری جنگ انسانی اقدار کے لیئے ہیں، مغربی اقدار کے لیئے نہیں۔

انسانی حقوق کی بات کر رہا ہوں، مغربی حقوق کی نہیں۔ میرے مخاطب امریکہ، لندن اور دہلی میں بیٹھے لوگ نہیں بلکہ یہ عام پاکستانی ہیں جن کا ہی میں ایک حصہ ہوں۔ میں کسی امریکہ، کینیڈا اور لندن پلٹ سے ڈکٹیشن لینے والا نہیں۔ اگر کوئی میرے عقائد پر حملہ کرے گا تو مہذب جواب دینا، پر امن احتجاج کرنا میرے بنیادی انسانی حقوق میں سے ہے، جس کو میں کسی امریکی اور مغربی سامعین و ناظرین کے لیئے سرنڈر کرنے والا نہیں۔ کوئی کسی مغالطے میں نہ رہے، میں ڈالر اور امریکی وہزے کے عیوض بکنے والا نہیں۔ اگر توہین فیس بک پر ہوئی ہے تو معافی بھی یہیں سب سے مانگی جائے۔ امام علی، سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام ﷲ علیھا اور خانوادہ رسالت کا احترام تمام مسلمانوں کا مشترکہ عقیدہ اور ورثہ ہے، کوئی میری ذاتی چیز نہیں کہ میں اس پر کمپرومائز کر دوں اور یکطرفہ فیصلہ کر لوں۔

Comments

comments

Latest Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*