دیوبندی و وہابی دہشت گردی کا الزام تمام مسلمانوں پر: شرم نہیں آتی جعلی لبرلز کو؟
جو شخص بھی پاکستان میں دیوبندی تکفیری اقلیت اورعالمی طور پر وہابی و دیوبندی تکفیری اقلیت کی دہشت گردی کی مذمت کی آڑ میں تمام اسلامی فرقوں، تمام علماء یا تمام مذاہب کی مذمت کر رہا ہے، اس میں خباثت اور بد دیانتی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، وہ اصل میں دیوبندی و وہابی تکفیری خوارج کا مددگار اور حامی ہے اور ان کی ملکی و عالمی دہشت گردی سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے، اس کی خواہش ہے کہ دیوبندیوں، سلفیوں اور وہابیوں کے جرائم کی سزا تمام سنی و شیعہ مسلمانوں کو ملے، اسلاموفوبیا اور تکفیری دہشت گردی کا کاروبار خوب چمکے، دیوبندی وہابی اقلیت کے خلاف پوری قوم اور اقوام عالم مجتمع نہ ہو سکیں اور دیوبندی و وہابی اقلیت اپنی دہشت گردی جاری رکھے
دیوبندیت اور وہابیت اسلامی معاشرے میں ایک سرطان ہے، اس سرطان کو آپریشن کے ذریعے نکالنا ہی اصلی حل ہے، پورے جسم کے آپریشن کی بجائے اس گلی سڑی اقلیت کو اپنے معاشرتی وجود سے نکال باہر کریں اور ان کے جعلی لبرل ہمدردوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کریں