نواز شریف اور شہباز شریف جمہوریت سے زیادہ اہم نہیں ہیں – عمار کاظمی

نواز شریف اور شہباز شریف جمہوریت سے زیادہ اہم نہیں ہیں – عمار کاظمی

Br0b6PwCcAALsgM.jpg medium

اگر کسی کو خورشید شاہ، فلضل الرحمن اور سراج الحق کی ڈرامے بازی کے علاوہ جمہوریت عزیز ہے تو وہ نواز شہباز کے استعفی اور وسط مدتی انتخابات کا مطالبہ کرے۔ چودہ لوگوں کے سر عام قتل کے بعد شہباز کا وزیر اعلی اور چودہ کے چودہ حلقوں میں ہزاروں کی تعداد میں جعلی ووٹوں اور غیر تصدیق شدہ ووٹوں کے ملنے کے بعد نواز کا وزیر اعظم رہنا کسی طور جمہوریت اور ملکی مفاد میں نہیں رہا۔ لوگ اپنی آنکھوں سے سیاسی وابستگیوں کی عینکیں اتاریں اور حقیقت دیکھ کر فیصلے کریں۔ آج اگر محترمہ زندہ ہوتیں تو وہ بھی جمہوریت کے تحفظ کے لیے یہی فیصلہ کرتیں۔ خورشید شاہ ایک پاگل شخص ہے جو شہیدوں کی وراثت میں چھوڑی حریت اور جمہوریت پسندی کو ضیا کے منہ بولے بیٹوں کے دو نمبر مینڈیٹ پر قربان کر رہا ہے۔

اپنی ساکھ کھویا ہوا الیکشن کمیشن جمہوریت سے زیادہ اہم نہیں۔ دستور ساز اسمبلی کے اندر اور باہر تمام فریقین کے اتفاق راءے پر مبنی الیکشن کمیشن اور قومی حکومت کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔ قومی حکومت کے مینڈیٹ میں تین ماہ میں شفاف انتخابات کے انعقاد کے علاوہ کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ قومی حکومت کو تین ماہ سے ایک دن بھی اوپر نہیں ملنا چاہیے۔ فوج اور عدلیہ کے کو بیلٹ پیپرز کی چھپاءی سے لے کر بیلٹ باکسسز کی ترسیل تک ہر طرح کے انتخابی عمل سے باہر رہنا چاہیے۔ اگر کہیں مقناطیسی سیاہی نہ پہنچ سکے تو وہاں انتخابی روک دینا چاہیے۔

جہاں کہیں خواتین کو حق راءے دہی نہ دیا جاءے ایسے علاقوں کے مردوں سے بھی حق راءے دہی چھین لیا جاءے۔ جن علاقوں مین طالبان کی طرز کے دہشت گرد کسی امیدوار پر حلملے کریں وہاں انتخابی عمل غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا جاءے اور جب تک ریاست اپنے ہر شہری کو بلا امتیاز [مذہب، مسلک اور نظریات] تحظ فراہم کرنے کی یقین دھانی نہ کرا دے ایسے علاقوں مین انتخابی عمل کو معطل ہی سمضحا جاءے۔

بے نظیر بھٹو سے زیادہ بہتر سیاسی سمجھ اور بصیرت والا دماغ پاکستان کو کبھی نصیب نہیں ہوا۔ محترمہ شہید نے اپنی زندگی میں دستور ساز اسمبلیوں کی معیاد پانچ سال سے کم کر کے پینتیس ماہ کرنے کی تجویز دی تھی۔ اگر آپ پاکستان کے زمینی حقاءق، جمہوری کلچر اور عوامی مزاج کو انصاف سے پرکھیں تو جمہوریت کے تسلسل کا اس سے بہتر کوءی حل نظر نہیں آتا۔ ویسے تو یہاں لوگ ایک سال میں ہی جمہوری حکومتوں سے تنگ آ جاتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان جیسے مساءل زدہ ملک میں حق حکمرانی ثابت کرنے پینتیس ماہ کی مدت ہر طرح سے کافی سمجھ جانی چاہیے۔

دوسری صورت میں وسط مدتی انتخابات کو دستور کا حصہ بنایا جاءے۔ اتخار چوہدری اور میاں صاحبان کے پسندیدہ جج صاحبان کو آنے والی دستور ساز اسبلیوں کے وجود میں آنے تک معطل سمجھا جاءے۔ دستور ساز اسبلیوں کے وجود میں آتے ہی اتفاق راءے سے صاف ستھری شہرت کے حامل جج صاحبان پر مشتمل ایک نیا جڈیشل کمیشن بنا کر ان تمام جج صاحبان کے خلاف ریفرنس داءر کیے جاءیں۔ اور اگر یہ اس میں اپنی غیر جانبداری ثابت کرنے میں ناکام رہیں تو انھیں ریٹاءر کر کے نظام سے باہر کر دیا جاءے۔