دہشت گردی کی شناخت کے بارے ڈاکٹرعائشہ صدیقہ کا مضمون اور فصیح الدین دیوبندی کی لن ترانیاں – طارق قادری

دہشت گردی کی شناخت  کے بارے ڈاکٹرعائشہ صدیقہ کا مضمون اور فصیح الدین دیوبندی کی لن ترانیاں – طارق قادری

db4

 

نوٹ: طارق علی قادری منهاج القرآن یونیورسٹی کی فیکلٹی آف شریعہ کے طالب علم ہیں انہوں نے روزنامہ آج میں فصیح الدین نامی کسی دیوبندی کا مضمون پڑها تو اس کا جواب تحریر کیا جو یہاں شایع ہونے والے اہل سنت بریلوی کے رسالے السعید کو بهیجا گیا تو اس کے مدیر نے مجهے اس کی ایک کاپی ارسال کی ہے جو میں ان کے شکریہ کے ساته شایع کررہا ہوں اور اس میں سے بہت سے مندرجات کو میں بہت عرصہ پہلے پڑه چکا ہوں میں دارالعلوم دیوبند میں مختلف لہروں کے بیک وقت رواں رہنے کا قائل رہاہوں لیکن آج بدقسمتی سے بھارت میں دارالعلوم دیوبند سے لیکر پاکستان میں اکوڑہ خٹک اور بنوری ٹاؤن کراچی تک اور دیگر دیوبندی مدراس میں اعتدال پسندی کی طاقتور روایت کا زوال ہوتے دیکه رہا ہوں اور اب کوئی مولانا طاسین اور قاری طیب جیسے معتدل علماء نظر نہیں آتے -عامر حسینی

***************************

روزنامہ آج میں کوئی صاحب ہیں فصیح الدین، انہوں نے ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی طرف اپنی توپوں کا رخ اس لئے کرلیا کہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے اپنی تحریروں میں دہشت گردی کی شناخت اور اس کی جڑیں تلاش کرنے کے لئے بھارت کے شہر دیوبند میں واقع اس دارالعلوم کا رخ کرلیا جہاں پاکستان میں پائی جانے والی عصر حاضر کی دہشت گردی اور انتہاپسندی کے اولین وائرس پهیلے تهے اور اس پر متعصب دیوبندی مضمون نگار فصیح الدین کو اپنا انگریزی گیٹ اپ یعنی کلین شیو ، تهری پیس سوٹ ، نکٹائی برقرار رکهنا مشکل یوگیا اور ان کے اندر کا دیوبندی تعصب اور شدید قسم کی فرقہ پرستی فوریطور پر برآمد ہوگئی اور انہوں نے اپنے تئیں عائشہ صدیقہ کے مقدمے کے تاروپود بکهیر کر رکھ دیے

http://dailyaaj.com.pk/urdu/?p=31155

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے ناروے کے ایک انسٹی ٹیوٹ سے شایع ہونے والی رپورٹ میں پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان،اہل سنت والجماعت /سپاہ صحابہ پاکستان/لشکر جهنگوی ،جیش محمد ،جنود الحفصہ المعروف پنجابی طالبان ،حرکت الجہادالاسلامی سمیت جتنے بهی دہشت گرد انتہاپسند مذهبی گروپس پاکستان میں سرگرم ہیں کی اکثریت کی فکری اور نظریاتی بنیادیں دیوبندی مکتبہ فکر میں تلاش کیں ہیں اور اس پر دیوبندی دہشت گردوں کے عذرخواہوں کی تکلیف دیدنی ہے اور پیٹ میں مروڑ اٹه رہے ہیں تو کوئی حیرانی مجهے تو ہرگز نہیں ہے بلکہ میں تو کہتا ہوں

آپ فرمائیے کہ مرجاو خود اپنے ہی غیظ کی آگ میں

کیا واقعی ڈاکڑ عائشہ صدیقہ نے پاکستان میں دہشت گردی کی فکری اور نظریاتی جڑیں اور اس کے ابتدائی جراثیم کا دیوبند کی لیبارٹری میں تیار ہونے کی غلط نشاندہی کی ہے؟

فصیح الدین نے شاہ ولی اللہ اور دارالعلوم دیوبند کے درمیان فکری رشتوں کے بارے میں ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی تحقیق پر جو طنز کے نشتر چلائے ہیں ان سے ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن میں اس حوالے چند انکشافات کرنا چاہتا ہوں

دیوبند مکتبہ فکر کے اکابرین ان لوگوں میں شامل ہیں جنهوں نے شاہ ولی اللہ کو عقائد کے باب میں محمد بن عبدالوهاب نجدی اور اس کے گرو شیخ ابن تیمیہ کے عقائد اور خیالات باطلہ سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی اور وهابی لوگوں نے شاہ ولی اللہ سے غلط طور پر منسوب کرکے جو کتابیں لکهیں ان کو بهی شاہ ولی اللہ کی کتب ہی بتایا جاتا رہا

اور یہ جهوٹ اس قدر بولا گیا کہ خود علمائے اہل سنت کے چند جید لوگوں نے بهی اس کو سچ مان لیا جیسے مولانا محمد عمر اچهروی نے شاہ ولی اللہ کو وهابی لکه دیا – شاہ صاحب کے بارے میں سچ صرف یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ بدقسمتی سے مغلیہ دور میں دربار پر اثر و نفوز حاصل کرنے کی جو جنگ شیعہ اور سنی امراء میں چلی آرهی تهی اس کا اثر قبول کربیٹهے تهے اور عالمگیر کے مرنے کے بعد انہوں نے جب طوائف الملوکی دیکهی اور ہندوستان میں مغلیہ دور میں مرہٹوں ، سکهوں اور خود مغلیہ سلطنت میں مختلف ریاستوں کا ہوتے دیکها تو انہوں نے اپنی امیدیں احمد شاہ ابدالی سے لگالیں اور ان کی تحریروں میں کہیں کہیں وحدت الوجودی صوفیا اور صلح کل کے حامیوں کے ساته ساته خود شیعہ کے خلاف بهی ردعمل دکهائی دیا اور اس کی وجہ اوده دہلی جہاں سے ان کا تعلق تها تو وہاں پر شیعہ امراء کے اثررسوخ کے بڑهنا ہوسکتا ہے لیکن شاہ صاحب کے ہاں شیعہ اور صوفی سنی مخالفت اتنی شدید نہ تهی جتنی وهابی اور دیوبندی لکهاریوں نے بعد میں دکهانے کی کوشش کی

شاہ ولی اللہ کی شخصیت کو مسخ کرنے اور ان کو مکمل طور پر عقائد میں اپنا ہمنوا دکهانے کی کوشش دارالعلوم دیوبند اور وهابیہ کے گروگهنٹال نواب صدیق قنوجی ،ثناءاللہ امرتسری ،داود غزنوی اور دیگر نے اس لئے بهی کی کہ ان کے پوتے اور ان کے بیٹے کی اولاد شاہ اسماعیل دهلوی اور ان کے مرشد نے دو ایسی کتب تحریر کرڈالی تهیں جن کے متون سے نری وہابیت اور محمد بن عبدالوهاب نجدی و ابن تیمیہ کی تقلید ٹپکتی تهی اور یہ کتب تهیں تقویت الایمان و صراط مستقیم اور یہ دونوں کت ایسی تهیں کہ جب منظر عام پر آئیں تو ان کے خلاف دہلی ،رامپور ،بدایوں ،لکهنئو ،سہارنپور ،حیدرآباد دکن ،پنجاب میں سخت ردعمل علمائے اہل سنت کا سامنے آیا اور اس وقت شاہ اسماعیل اور سید احمد بریلوی کے دفاع اور ان کے نظریات کو من وعن مان لینے والوں میں جو لوگ سامنے آئے انهی لوگوں نے آگے چلکر دارالعلوم دیوبند کی بنیادیں رکهیں

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی جوکہ سلسلہ چشتیہ کے عظیم روحانی پیشوا تهے کے مریدین میں مولوی رشید احمد جوکہ بعد میں قاسم نانوتوی کے بعد دارالعلوم دئوبند کے مہتمم بهی بنے اور ان کے شاگردوں میں آشرف علی تهانوی سمیت کئی ٹاپ کے دیوبندی مولوی شامک تهے ایسے آدمی تهے جنهوں نے پوری طرح سے محمد بن عبدالوهاب نجدی ،شیخ ابن تیمیہ اور شاہ اسماعیل دہلوی کے نظریات کو اپنالیا تها،یہ رشید احمد گنگوہی تهے جنهوں نے محمد بن عبدالوهاب نجدی کو پکا موحد اور عاشق اسلام قرار دیا جبکہ جتنے بهی دیوبند میں مدرسے کے بانیان اور ابتداء سے لیکر آج تک دیوبندی مکتب فکر کے راہنما ہیں وہ شاہ اسماعیل دہلوی کے انتہاپسندانہ اور دہشت گردانہ خیالات کو جہاد مانتے آئے ہیں ،شاہ اسماعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی کا جہاد کیا انگریزوں کے خلاف تها؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب شکیل مصباحی نے اپنی کتاب مین بہت تفصیل سے دیا ہے اور اس حوالے سے مولوی فیض اللہ بدایونی جوکہ 1857ء کی جنگ آزادی کے هیرو ہیں ،مولانا فضل حق خیرآبادی ،ان کے صاحبزادے مولانا عبدالحق خیرآبادی ،حکیم برکات احمد ٹونکوی ،شاہ مظہر اللہ دہلوی مفتی جامع مسجد شاہی دہلی ،ڈاکٹر مسعود اظہر اور خود مولانا حکیماختر شاہجہان پوری اور مفتی عبدالقیوم ہزاروی نے اپنی کتب میں بہت وضاحت سے دیا ہے اور انہوں نے دکهایاہے کہ تحریک جہاد کی تعمیر شاہ اسماعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی نے انگریز سرکار کے مالی اور اخلاقی امداد سے کی اور ان کی کتب مرکنٹائل ہریس دہلی سے حکومت انگلیشیہ نے چهپواکر مفت تقسیم کیں اور ان کو ایک طرف تو سکهوں کے خلاف لڑائی پر اکسایا تو دوسری طرف ان کو خیبرپختونخوا کے مسلمانوں کے خلاف جہاد کرنے پر آمادہ کیا تو یہ شاہ اسماعیل اور ان کی تحریک جہاد بالکل اسی طرح سے مسلمانوں کے خلاف تهی جس طرح آج دیوبندی دہشت گردوں کی تحریک جہاد مسلمانوں کے خلاف ہے

شاہ اسماعیل دہلوی نے برصغیر پاک وہند کے سارے مسلمانوں کو مشرک ،بدعتی قرار دیا اور ان کے خلاف جہاد فرض عین قرار دے دیا اور برصغیر میں مزارات کو گرانے اور قبور کو زمین کے برابر کرنے کو کہا اور دیوبندی مولوی آج تک شاہ اسماریل دہلوی کے تحریک جہاد کے حامی اور اسماعیل دہلوی کو شاہ ولی اللہ کاحقیقی جانشین اور خود کو ان کے حقیقی وارث قرار دیتے ہیں اور اس حوالے سے شاہ اسماعیل کے گناہ شاہ ولی اللہ کے سرتهوپنے کی کوشش بهی کرتے رہے

لیکن شاہ ولی اللہ کے حوالے سے بولے گئے جهوٹ اس وقت بے نقاب ہوگئے جب ابوزیدالحسن دہلوی نے شاہ ولی اللہ کی سوانح عمری جو ان کے کزن نے مولوی عاشق علی روہتکی نے شاہ ولی اللہ سے پوچه پوچه کر تحریر کی تهی القول جلی فی شاہ ولی کے نام سے شایع کی اور یہ شاہ صاحب کے آخری ایام کی کتاب ہے اس سے واضح ہوتا کہ شاہ ولی اللہ وہ نہیں تهے جو ان کو دیوبندی اور وهابی مولویوں نے دکهانے کی کوشش کی

اب اگر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ اگر دارالعلوم دیوبند اور شاہ ولی اللہ کا باہمی رستہ اور تعلق جوڑکر دکهانے کی کوشش کربیٹهی ہیں تو قصور ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا نہیں ہے بلکہ قصور اس جعل سازی کا ہے جو دیوبندی مکتب فکر کے انتہا پسندوں نے شاہ ولی اللہ کے بارے میں کی

دارالعلوم دیوبند کے بانیان اور بعد میں آنے والے عجیب مخمصے میں گرفتار رہے کہ 1866ء میں جب دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکهی گئی تو اس کی بنیاد رکهتے یوئے اسے ہرگز سیاسی اقدام یا سامراج مخالف انسٹیوٹ نہیں ظاہر کیا گیا تها بلکہ اس کے بانیان میں مولوی زوالفقار علی تو ڈپٹی انسپکٹر اسکولز رہ چکے تهے تو اس زمانے میں یہ مدرسہ انگریزوں سے تعاون بلکہ حکیم اختر شاہجہان پوری کے یہ مدرسہ ایک نئے فرقے کی بنیاد ڈالکر جنگ آزادی میں حصہ لینے والے علمائے اہل سنت کی قدیم مذهبی درسگاہوں کے مقابلے میں لانے کے لئے انگریز کے شاطر دماغ کی کارستانی تها

دارالعلوم دیوبند جب مفتی محمود کے ماتحت آیا تو مفتی محمود نے اسے برطانوی سامراج مخالف سیاسی سرگرمیوں کا گڑه بنانے کی کوشش کی اور اگر اپ شاہ اسماعیل دہلوی کے بارے میں مفتی محمود حسن سے پہلے شاہ اسماعیل دہلوی کے جہاد بارے پڑهیں تو وہ سکهوں اور اہل بدعات و شرک کے خلاف جہاد کی کہانیوں پر مشتمل ہے لیکن اس کے بعد کے تزکرہ نگاروں نے تحریک جہاد اور شاہ اسماعیل کو سامراج مخالف بنانے کی کوشش کی اور دیوبندی مولویوں نے بعدازاں دیوبندی مدرسے اور اکابرین دیوبند کو 1857ء کی جنگ آزادی کا هیرو بنانے کی کوشش کی اور اس پول کو بهی ڈاکٹر مسعود سمیت کئی ایک مورخین نے کهولا ہے

مسئلہ یہ ہے کہ دیوبندی مولویوں کے ہاں سیاسی اور فکری لحاظ سے کئی پلٹیاں دیکهنے کو ملیں ،ایک زمانے میں جب مفتی محمود حسن ادیر مالٹا ترک عثمانیوں کے حامی اور برٹش کے مخالف تهے تو وہ ترک عثمانیوں کا زور توڑنے کے لئے سامنے آنے والی وہابی تحریک کے بهی مجالف رہے تو اس زمانے میں جب مولانا شاہ احمد رضا نے حجاز کے علماء کو شاہ اسماعیل دہلوی اوت سید احمد بریلوی اور محمد بن عبدالویاب نجدی کے عقائد سے اکاطرین دیوبند کی شیفتگی بتلائی اور فتوے حاصل کرڈالے تو سب کے سب دیوبندی اکابر نے ملکر المهند کے نام سے مشترکہ فتوی تیار کیا اور اس میں خود کو محمد بن عبدالوهاب کے نظریات سے بری الزمہ بتلایا اور محمد بن عبدالوهاب کو خون خوار مسلمانوں کا قاتل ،گمراہ اور مثل خوارج لکها اور جب حسین احمد مدنی کی مدینہ کے قاضی نت طلبی کی تو حسین احمد مدنی کو خود کو وهابیہ خبیثہ کا دسمن عظیم بتلایا لیکن جب حجاز سعودیہ عرب بنادیا گیا اور تیل کی دولت آئی تو اس وقت سے لیکر آج تک دیوبندی مولویوں کی اکثریت سعودی عرب اورآل سعود کی غلام بنی ہوئی ہے ،حال ہی میں دارالعلوم الندوہ کے صدرالشریعہ مولانا سید سلیمان الحسینی نے مہتمم دارالعلوم دیوبند کے نام کهلا خط لکها اور اس کو سعودی نوازی پر خوب لتاڑا

فصیح دیوبندی دارالعلوم دیوبند کی قلابازیوں اور اس کے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے ساته رشتوں کے تاریخی اور عصری روابط کو ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کو امریکی ایجنٹ اور ان کو غیرملکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کے الزامات لگاکر حقیقت نہیں چهپاسکتے، ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے ٹهیک لکها ہے دیوبند مدرسے سے اکثر جہادی تحریکیں خود مسلمانوں اور غیر حارب غیرمسلموں کے ہی خلاف تهیں اور آج بهی ایسا ہی ہے

db3

 

 

dbdb2