Stop this hatred: No place for Ahmedi body in a Muslim graveyard
BHALWAL: Interred body of an Ahmedi was exhumed here on Sunday from a Muslim graveyard after some local clerics led protest against the burial and the Sargodha tehsil police forced the dead man’s heirs to remove it from the graveyard.
Shehzad Waraich, who died on October 30, was a resident of Chak 24 North.
Shehzad’s brother told The Express Tribune that several members of the family including his grandparents and parents were buried in the same graveyard. He said there never had been any objection or disapproval.
He said that their families were the only two Ahmedi families in Bhalwal, a town with a population of only a few thousands. Chaks 19, 20, 21, 22, 23 and 24 have three government graveyards, shared by the residents of the area, he said.
He said that the people of his village, Chak 24 North, had not objected to his brother’s burial in the Chak 19 graveyard, so he had buried the body there. “Some of our elders are also buried there, we decided to bury him in the same graveyard,” he added. Waraich’s body was buried in the Chak 19 graveyard on the morning of October 30.
He said that on October 31, Sadar Division SHO Azhar Yaqoob and DSP Ghulam Murtaza came to their village along with other police officials and asked his family to remove the body of his brother from the Muslims graveyard of Chak 19.
“I told him that our elders were all buried in the graveyard. Neither the people of my village, nor of Chak 19 had raised any objection,” he said.
He said that the police told him that some local clerics in Sargodha had objected to the burial and in the interest of law and order, asked him to remove the body of his younger brother.
He said that the family, some relatives and the police then exhumed the body from the graveyard on Sunday.
“I don’t think that the police were forced to do this. The way I see it, the police forced us.”
Saleemul Din, an Ahmedi community spokesman condemned the police action. He said, “To this day, 30 Ahmedis’ bodies have been exhumed for similar reasons. The police do have no right to humiliate the dead from our community like this. Yet, they have been doing it since 1984.”
Sadar Division DSP Ghulam Murtaza said that some clerics had approached him and asked him to remove the body. He said that they had threatened him with protest movement against the police if the body of the Ahmedi man was not exhumed. In view of the sensitivity of the situation, he said, he did his best to resolve the matter peacefully by ordering the removal the body from the graveyard.
Published in The Express Tribune, November 2nd, 2010.
A ceremony church became Mosque
http://www.youtube.com/watch?v=Qax5YGqcQcM
لاش قبر سے نکال دی گئی
جون میں لاہور میں احمدیوں کی عبادت گاہ پر حملہ کیا گیا تھا جس میں سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے
پاکستان کے وسطی پنجاب کے ایک گاؤں میں لوگوں کے احتجاج کے بعد ایک احمدی کی لاش کو قبر سے نکلوا کر دوسرے قبرستان میں دفنایا گیا ہے۔
یہ واقعہ ضلع سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے گاؤں چک چوبیس میں پیش آیا ہے۔
احمدیہ تنظیم کے ترجمان سلیم الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ 45 سالہ شہزاد وڑائچ کو گاؤں کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا تھاجو چک 24، 19 اور قرب و جوار کے دوسرے دیہات کا مشترہ قبرستان ہے لیکن علاقے کے بعض مسلمان علماء نے اس پر احتجاج کیا جس پر پولیس نے متوفی کے ورثاء کو حکم دیا کہ وہ لاش کو احمدیوں کے قبرستان میں منتقل کریں۔
پولیس کے حکم کے بعد ان کی قبر کو اکھاڑا گیا اور ان کی میت کو دور واقع احمدیوں کے ایک قبرستان میں دفن کیا گیا۔
سلیم الدین نے بتایا کہ شہزاد وڑائچ کے والدین مسلمان تھے لیکن وہ، ان کے بھائی امتیاز وڑائچ اور دادا دادی احمدی تھے اور ان کے خاندان کے بعض لوگ اسی قبرستان میں دفن ہیں۔
اصل میں شہزاد وڑائچ کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفنایا گیا تھا جو کہ قانوناً جائز نہیں ہے اس پر مسلمانوں نے اعتراض کیا جس پر انہوں نے میت نکلواکر اپنے قبرستان میں دفنا لی۔ اس طرح افہام و تفہیم سے یہ مسئلہ حل ہوگیا۔
ڈی آئی جی جاوید اسلام
سرگودھا کے ریجنل پولیس افسر ڈی آئی جی جاوید اسلام نے ہمارے نامہ نگار احمد رضا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اصل میں شہزاد وڑائچ کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفنایا گیا تھا جو کہ قانوناً جائز نہیں ہے اس پر مسلمانوں نے اعتراض کیا جس پر انہوں نے میت نکلوا کر اپنے قبرستان میں دفنا لی۔ اس طرح افہام و تفہیم سے یہ مسئلہ حل ہوگیا۔‘
اس سوال پر کہ پولیس کو کس نے شکایت کی، ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں تو اس وقت پتہ چلا جب انہوں نے اعتراض کیا۔ گاؤں والوں نے کہا کہ جی احمدی مسلمانوں کے قبرستان میں نہیں دفنایا جاسکتا اور یہ بات ان کی صحیح ہے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بعض سخت گیر مذہبی تنظیموں نے اس تدفین کو ایشو بنایا تھا جس پر پولیس نے متوفی کے ورثاء پر دباؤ ڈال کر لاش قبرستان سے نکلوائی، ڈی آئی جی جاوید اسلام کا کہنا تھا کہ پولیس نے ورثاء پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ’مجلس ختم نبوت والے ہمیشہ اعتراض کرتے ہیں اور ان کا اعتراض غلط بھی نہیں ہوتا کیونکہ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے عیسائیوں کے قبرستان میں مسلمان اور مسلمانوں کے قبرستان میں کوئی عیسائی نہیں دفنایا جاسکتا۔‘
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ’میں اس بات پر رائے نہیں دینا چاہتا کہ یہ غیر اخلاقی حرکت ہے یا نہیں ہے۔ میں تو قانونی بات کرنا چاہتا ہوں۔ قانون میں بعض چیزیں ایسی ہیں جن کی اجازت نہیں ہے۔‘
احمدیوں کی تنظیم کے ترجمان سلیم الدین واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے کہا ہے کہ پاکستان میں احمدیوں کی قبر کشائی کا یہ انتیسواں یا تیسواں واقعہ ہے۔ ’(احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے) جو لوگ زندہ ہیں ان کے ساتھ تو ظلم ہوتا ہے لیکن یہ مُردوں کو بھی نہیں بخشتے۔ میت کا احترام تو ویسے ہی ہمارے مذہب میں بھی ہے اور انسانیت کا تقاضہ بھی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات میں انتظامیہ کا رویہ شروع سے جانبدارانہ رہا ہے۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/11/101102_ahmadi_body_exhumed_as.shtml