پیپلز پارٹی کسی بھی دہشتگرد سے اتحاد نہیں کر سکتی ، پیپلز پارٹی کے ذمہ داران – از حق گو
گزشتہ دنوں پاکستان پیپلز پارٹی کے امید وار قطب شاہ اور دیوبندی تکفیری دہشتگرد لدھیانوی کے درمیان ہونے والی ایک ” اتفاقیہ ” ملاقات کو لے کر سوشل میڈیا پر پیپلز پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا-نواز لیگ کی دیوبندی تکفیری دہشتگردوں کی کھلی اور خفیہ حمایت کے بعد پیپلز پارٹی کے امیدوار کا تکفیری دیوبندی دہشتگرد لدھیانوی سے ملنا پر امن پاکستان کا خواب دیکھنے والے لوگوں کے لئے ایک ڈراؤنی تعبیر سے کچھ کم نہیں تھا-مگر سابقہ وزیر ا عظم یوسف رضا گیلانی کی صاحبزادی محترمہ فضہ بتول گیلانی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اس بات کی سختی سے تردید کی ہے
اس کے علاوہ قطب علی شاہ نے بھی دیوبندی دہشتگردوں سے کسی قسم کے اتحاد کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے
پیپلز پارٹی کے ایک اور ذمہ دار ریاض علی طوری نے بھی ایسے کسی اقدام کی سختی سے تردید کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی ہر قسم کی دہشتگردی کی سختی سے مخالفت کرتی ہے اور کسی بھی دہشتگرد جماعت یا اس کے حامیوں سے کسی قسم کا اتحاد نہیں کر سکتی ان کے کہنا تھا کے پیپلز پارٹی کا منشور ہے ” دہشت سے محفوظ عوام” ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری لیڈر محترمہ بینظیر بھٹو بھی دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہوئی ہیں اور پیپلز پارٹی کا نظریہ بھی دہشتگردوں اور دہشتگردی کی سخت سے سخت مذمت کرتا ہے
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے قائد آصف علی زرداری نے بھی ہر فورم پر دہشتگردی اور دہشتگردوں کی شدید مذمت کی ہے